جو بھی جرات کرے گا وہ کردار کشی مہم اور کیس کے لیے تیار رہے

4isaejajamny samnyss.png

سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن نے سپریم کورٹ میں بینچز کی تشکیل پر سوال اٹھادیئے ہیں، قانونی ماہرین و صحافیوں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس اعجاز الاحسن نے ایک خط لکھ کر سپریم کورٹ میں بینچز کی تشکیل پر سوالات اٹھادیئے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ملٹری کورٹس کیس میں سات رکنی بینچ کا فیصلہ ہوا مگر بینچ چھ رکنی بنادیا گیا،جو میٹنگ منٹس جاری کیے گئے وہ بھی غلط تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے دو خصوصی بینچز کی تشکیل کا معاملہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے سامنے نہیں آیا نا ہی اس حوالے سے کوئی کمیٹی تشکیل دی گئی۔

https://twitter.com/x/status/1734173123270910280
جسٹس اعجاز الاحسن کے اس خط نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے،سینئر صحافی و کورٹ رپورٹر عبدالقیوم صدیقی نے کہا کہ کیا کوئی جج خود اپنے لیے جج بن سکتا ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن کیا یہ چاہتے ہیں کہ میرے خلاف فیصلے کے خلاف اپیل کیلئے بینچ بھی میں خود بناؤں؟ شائد وہ ون کانسٹی ٹیوشن والی ترتیب چاہتے ہیں۔

https://twitter.com/x/status/1734176874148794588
https://twitter.com/x/status/1734192535038571001
صدیق جان نے کہا کہ پتا تو پورے پاکستان کو پہلے سے تھا، جسٹس اعجاز الاحسن صاحب نے خط لکھ کر بینچ فکسنگ پر مہر ثبت کردی۔

https://twitter.com/x/status/1734174762488713280
ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ جسٹس اعجاز الاحسن نے منافقوں کے چہروں سے نقاب اتاردیئے۔

https://twitter.com/x/status/1734191806328320341
انوار لودھی نے لکھا کہ سپریم کورٹ کے اندر بنچ بنانے سے متعلق دھاندلی کو بینقاب کرنے پر جسٹس اعجاز الحسن صاحب کا شکریہ، اگر سپریم کورٹ جیسا ادارہ اپنے ہی بنائے اصولوں کی پاسداری نہیں کرتا تو ہھر اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے۔

https://twitter.com/x/status/1734179035687596460
فیصل خان نے کہا کہ جسٹس اعجاز الاحسن نے آج بنچ فکسنگ ایکسپوز کرکے مافیا کو للکارا ہے، مافیا بہت جلد جسٹس اعجاز الاحسن پر حملہ آور ہوکر کردار کشی کریں گے۔

https://twitter.com/x/status/1734186439313650148
عامر خاکوانی نے لکھا کہ جسٹس اعجاز الاحسن نے وہی طریقہ اپنایا جو جناب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کیا تھا، یعنی خط لکھنے کا۔ جسٹس اعجاز کے خطوط اہم اور سنگین مسئلے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

https://twitter.com/x/status/1734188966910599585
راجہ محسن نے کہا اب لگتا ہے جسٹس اعجازالاحسن کی باری ہے، پٹیشن آج آئی کہ کل آئی ، جو بھی جرات کرے گا وہ کردار کشی مہم اور اسی مہم کی بنیاد پر کیس کے لیے تیار رہے۔

https://twitter.com/x/status/1734180861476577377
فیاض راجا نے کہا کہ ابھی سپریم کورٹ کے سینئر جج، جسٹس اعجاز الاحسن نے قاضی صاحب کی دھاندلی پر پہلا خط لکھا ہے، اس خط کے بعد وڈے اینکروں، ویلے کالم نگاروں ، ملازم صحافیوں، چ دانشوروں اور گ تجزیہ کاروں کی آواز بند ہوگئی ہے۔

https://twitter.com/x/status/1734181739571138825
جنید نے لکھا کہ20 اگست 2023 کو صدر پاکستان نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل سے متعلق فراڈ کی نشاندہی کی،11 دسمبر 2023 کو جسٹس اعجاز الاحسن نے بینچ تشکیل میں فراڈ کی نشاندہی کی۔

https://twitter.com/x/status/1734183460749590602
عدنان یعقوب نامی صارف نے کہا کہ جسٹس اعجاز الحسن نے آج #بینچ_فکسنگ کرنے والوں کو بے نقاب کر دیا ،،، ماضی میں خود کو بڑا لبرل ، منصفی اور حلف کا پاسدار ثابت کرنے والے کا اصل چہرہ قوم نے بھی دیکھ لیا۔

https://twitter.com/x/status/1734189275082789024
https://twitter.com/x/status/1734189544701136962
 

Aliimran1

Chief Minister (5k+ posts)
This is what you call bench fixing. Is there any credible institution that we can trust in Pakistan?

The entire country and all institutions are corrupt to the CORE —— Jahiliyat aur maal ki hawas iss Qaom ko barbad KAR CHUKA hai —- There it is NO WAY BACK​

 

sensible

Chief Minister (5k+ posts)
قاضی دو نمبر ہے پورے پاکستان کو پتہ ہے ۔تین جج فیصلہ کریں گے کی بددیانتی اسی لئے رکھی گئی تھی کہ دو کرپٹ مل کر قانون اور آئین کے مطابق فیصلے ہونے میں رکاوٹ بنیں