جو الیکشن کمیشن 2 بارانتخابات مؤخر کر چکاکہہ رہاہےتاخیر کی خبریں نہ چلائیں

13shahzaghsbsjhdjdjbdj.png

ذوالفقار علی بھٹو صاحب کو غلط طریقے سے پھانسی دی گئی تو اسے عدالتی قتل قرار دینا چاہیے: سینئر صحافی

سینئر صحافی وتجزیہ کار شہزاد اقبال نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام رپورٹ کارڈ میں ایک سوال "کیا سپریم کورٹ کو ذوالفقار علی بھٹو کی سزا کو عدالتی قتل قرار دینا چاہیے؟" کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جہاں جہاں عدالتی فیصلے میں اور خاص طور پر ذوالفقار علی بھٹو صاحب کو غلط طریقے سے پھانسی دی گئی تو اسے عدالتی قتل قرار دینا چاہیے۔ 2011ء میں بطور صدر آصف علی زرداری نے جب سپریم کورٹ کو یہ ریفرنس بھیجا تھا تو اس میں آرٹیکل 186 کے مطابق جب کوئی رائے لینی ہو تو کسی پوائنٹ آف لاء پر لے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے سپریم کورٹ اس بارے کیا فیصلہ کرے گی کہ عدالتی فیصلہ درست تھا یا غلط تھا اس لیے اسے عدالتی قتل قرار دینا چاہیے یا اس کیس کا ٹرائل دوبارہ سے ہو سکتا ہے، ری وزٹ کیا جا سکتا ہے۔

https://twitter.com/x/status/1732436605443649553
اس کیس کا ٹرائل لاہور ہائیکورٹ سے شروع ہوا پھر سپریم کورٹ میں جا کر ختم ہوا تو اس پوائنٹ آف لاء کیا ہے۔

بابر اعوان یہ کیس لڑ رہے تھے تو اس وقت جسٹس ناصر الملک کا بھی اس بات پر اصرار تھا کہ اس میں پوائنٹ آف لاء کیا ہے؟ کیس کا سکوپ کیا ہے؟ اس پر قانونی طور پر روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے۔ عدالتی گنجائش نکلتی ہے تو جہاں جہاں زیادتی ہوئی ہے اس درست ہونا چاہیے۔

سابق جج سپریم کورٹ نسیم حسن شاہ نے غالباً ٹی وی پروگرام جواب دہ میں یہ بات کی تھی کہ اس وقت عدالت پر دبائو بہت تھا اس لیے عدالت اس فیصلہ پر پہنچی تھی، پہلے یہ فیصلہ 4/3سے آیا تھا جو بعد میں ریویو میں کیس کا متفقہ فیصلہ جاری ہوا۔ اس کیس کا فیصلہ 4/3سے آتا تو پھانسی کی سزا نہ ہوتی لیکن ریویو کے بعد دبائو میں متفقہ فیصلہ جاری ہوا اور پھانسی کی سزا دی گئی۔

جسٹس نسیم حسن شاہ نے اس انٹرویو سے پہلے جو کتاب لکھی تھی اس میں وہ اپنے فیصلے کو درست قرار دیتے رہے تھے، ان کے انٹرویو کے بعد ہی ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے کیس میں اس وقت کے ڈکٹیٹر ضیاء الحق کا انفلوئنس بہت زیادہ تھا۔ اس کیس کی آخری سماعت 2012ء میں ہوئی تھی، ہو سکتا ہے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظر میں یہ اہم معاملہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس کیس کا کوئی فیصلہ آتا بھی ہے تو اس کے بعد بھی ہماری عدالتی تاریخ میں سیاسی طور پر جو غلط فیصلے کیے گئے ان کو ری وزٹ کرنے کیلئے بھی دروازہ کھل جائے گا۔ مسلم لیگ ن کا یہ مطالبہ ہو سکتا ہے کہ پانامہ کیس میں جو فیصلہ آیا اور اب ریویو بھی نہیں ہو سکتا ، پھر اس کو بھی دیکھا جائے۔

شہزاد اقبال کا پیمرا کی طرف سے میڈیا کو جاری ہدایات پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جو الیکشن کمیشن 2 دفعہ انتخابات موخر کر چکا ہے وہ کہہ رہا ہے کہ اگر یہ خبریں چلائیں گے کہ الیکشن میں تاخیر ہو گی تو ہماری تیاریاں متاثر ہوں گی۔ ہم اس ملک میں بیٹھے ہیں جہاں سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود انتخابات نہیں کروائے گئے اور دو صوبوں میں نگران حکومتیں کام کر رہی ہیں اور آئین میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔

https://twitter.com/x/status/1732436796632416261
انہوں نے کہا کہ ملک کا آئین کہتا ہے 90 دنوں میں انتخابات ہونے چاہئیں لیکن نہیں کروائے گئے، اگر آج لوگ الیکشن ہونے یا نہ ہونے پر سوال اٹھا رہے ہیں تو اس کی ذمہ داری الیکشن کمیشن آف پاکستان، پچھلی حکومت اور ریاست پر آتی ہے میڈیا پر نہیں۔ مولانا فضل الرحمن کل کو کہہ دیں کہ موجودہ ماحول میں الیکشن کمپین نہیں چلائی جا سکتی تو میں اس بنیاد پر یہ تجزیہ کیوں نہ کروں کہ الیکشن موخر ہو رہا ہے؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جب الیکشن موخر کروانے کے لیے درخواستیں جائیں گی تو وہ خبر کیوں نہ چھپے اور اس پر بات کیوں نہ ہو؟ سپریم کورٹ نے اپنے تحریری فیصلے میں کوئی پابندی نہیں لگائی، میرے خیال میں 8 فروری کو الیکشن کا فیصلہ ہوا تھا تو سپریم کورٹ کی طرف سے غیرضروری ریمارکس دیئے گئے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا میں سنسرشپ عائد کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، حال ہی میں الیکشن کمیشن کو فنڈز لینے کے لیے میڈیا میں خبر لیک کرنی پڑی۔ نگران حکومت جب فنڈز روک لے گی تو کوئی کیوں بات نہ کرے کہ کیا الیکشن وقت پر ہو رہے ہیں یا نہیں؟ ہم عوام میں جاتے ہیں تو پہلا سوال ہی یہ ہوتا ہے کہ انتخابات ہو رہے ہیں یا نہیں؟ کس کس کو روکیں گے؟