جناب صدر سے بدمعاشی

Afaq Chaudhry

Chief Minister (5k+ posts)


thumbnail.aspx




مظفر اعجاز


بڑے بدمعاش ہیں یہ… جو صدر سے بدمعاشی کررہے ہیں۔ آخر صدر بھی چیخ پڑے۔ انہیں کہنا پڑا شرافت کو کمزور ہی سمجھ لیا گیا۔ دیوار سے لگانے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔ ہر بات تسلیم کرتا رہا تو بہت پیچھے چلا جائوں گا۔ ان کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم گیلانی نے مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ صدر نے یہ بڑی عجیب بات کی ہے کہ مخالفین کی بدمعاشی کا جواب دینے کے لیے راجا رینٹل کو وزیراعظم بنایا۔ بتایئے یہ بھی کوئی بات ہے شرافت کو کمزوری سمجھ لیا گیا ہے وہ بھی جناب صدر سید آصف علی زرداری صاحب کی شرافت… پورا ملک گواہ ہے کہ صدر صاحب ایک شریف آدمی ہیں نہایت شرافت کے ساتھ 5 سال سے صدارت کے منصب پر فائز ہیں۔ انہوں نے کسی کا کیا بگاڑا تھا جو لوگ ان کے خلاف خط لکھوانے پر مصر ہیں۔ اچھے بھلے گیلانی اور زرداری کی جوڑی ملک پر حکمرانی تھی کہ گیلانی صاحب کو نااہل قرار دے دیا گیا۔ پاکستانی عوام کی قسمت بھی عجیب ہے کہ انہیں جو لوگ نصیب ہوتے ہیں وہ جیل سے آتے ہیں یا جیل جانے والے ہوتے ہیں مخدوم شہاب کا نام آیا تو ان کی گرفتاری کے وارنٹ نکلوا دیے اب جو راجا رینٹل آئے ہیں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے قومی خزانے کو 40 ارب کا نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے بھی حلف اٹھاتے ہی گیلانی کی تقلید کا عزم ظاہر کیا ہے گویا نہ خط لکھیں گے نہ لکھنے دیں گے۔ ادھر سپریم کورٹ نے این آر او کی سماعت 27 ججوں کو مقرر کردی ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ نئے وزیراعظم کو بھی سابق وزیراعظم کو دیے گئے حکم پر عملدرآمد کے لیے نوٹس جاری کیا جائے گا۔ آخر راجا پرویز اشرف میں کیا برائی ہے کہ صدر مملکت نے بھی یہ تسلیم کرلیا کہ راجا پرویز قوم کے لیے تحفہ نہیں انتقام ہیں۔ مخالفین کی بدمعاشی کا جواب کسی اچھی خبر سے تو دیا نہیں گیا ہے یقینا صدر مملکت نے بھی راجا رینٹل کے الفاظ استعمال کرکے بتادیا ہے کہ یہ بدمعاشی کا جواب ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ قوم نے تو ان کے ساتھ بدمعاشی نہیں کی تھی اس سے کیوں انتقام لیا جارہا ہے۔ قوم تو بے چاری پہلے ہی گیلانی کی ستم رسیدہ ہے۔ اسے دوسروں کی بدمعاشی کا جواب کیوں دیا گیا۔ صدر صاحب شاید یہ بتاسکیں کہ دوسروں کی بدمعاشی کا بدلہ عوام سے کیوں لیا گیا۔ صدر صاحب یہ بھی بتائیں کہ ان سے بدمعاشی کون کررہا ہے اور وہ شرافت کون سی ہے جس کو کمزوری سمجھ لیا گیا۔ انہیں دیوار سے کون لگا رہا ہے۔ ہمیں نہیں پتا کہ صدر ہر بات کس کی تسلیم کررہے ہیں۔ اگر عدلیہ کی بات کی جائے تو عدلیہ کی کوئی بات تو صدر نے نہیں تسلیم کی۔ پھر کس کی بات مانتے آرہے ہیں، امریکا کی یا فوج کی۔ تو پھر وہ نام لیں کہ ان کے ساتھ کون بدمعاشی کررہا ہے۔ یہ بات تو کوئی ماننے کے لیے تیار نہیں کہ اس ملک کا کوئی حکمران پیچھے چلا جائے گا۔ گیلانی صاحب بھی سابق اور سزا یافتہ وزیراعظم ہونے کے باوجود وی وی آئی پی پروٹوکول کے حقدار ہیں۔ صدر زرداری کیونکر پیچھے چلے جائیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نام نہاد اپوزیشن لیڈر کی تقریر اور تصویر ایک ساتھ دیکھی جائے تو سمجھ میں نہیں آئے گا کہ تصویر جھوٹ بول رہی ہے یا تقریر جھوٹی تھی۔ تقریر میں وہ یہی کہہ رہے ہیں کہ صدر نے راجا پرویز کو وزیراعظم بناکر قوم سے انتقام لیا ہے لیکن تصویر بتارہی ہے کہ چودھری نثار قوم سے انتقام کو مبارک باد دے رہے ہیں اور اتنے خوش ہیں کہ لگتا ہے کہ کہہ رہے ہوں کہ ساڈا وی خیال کریں۔ یہ سب کی ملی بھگت ہے بھائی تقریر کچھ ہے اور تصویر کچھ۔ ان کی پارٹی کے لیڈر میاں نواز شریف حیرت کا اظہار کررہے ہیں کہ راجا پرویز اشرف کا انتخاب حیرت کی بات ہے۔ لیکن ہمیں کوئی حیرت نہیں۔ پہلے تین سال میاں صاحب اس حکومت کے اتحادی تھے اگلے دو سال وہ مخالفت کرکے اتحادی کا رول ادا کررہے ہیں۔ اگر وہ وزیراعظم کے انتخاب کے عمل سے الگ ہوکر یہ کہتے کہ اب نئے الیکشن کرائو، تو شاید صورت حال کچھ بہتر ہوجاتی۔ لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹا پڑا ہے۔ فی الحال تو سارے شریف ایک دوسرے کی مدد کررہے ہیں۔ اب عوام پر ہی منحصر ہے کہ وہ کس طرح اس اتحاد کو توڑتے ہیں۔