جس کی اچھی پیش کش ایم کیوایم اسی کی ہو گی : تجزیہ کار

bainzair-shah-and-others.jpg


ملک بھر میں سیاسی گرما گرمی چل رہی ہے، حکومت، اپوزیشن اور اتحادی جیت کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں، آگے کیا ہونے والا ہے کوئی نہیں جانتا لیکن یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کون سی جماعت کس کا ساتھ دے گی،ایم کیو ایم کے حوالےسے بھی انکشافات کئے جارہے ہیں۔

جیو نیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان علینہ فاروق شیخ کے پہلے سوال ایم کیوا یم پاکستان کے نزدیک کون پاکستان کا ساتھ دے رہا ہے؟ سینیئر تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا کہ ایم کیو ایم کنفیوژن کا شکار ہے ایک فیصلہ کرے حکومت کی اتحادی ہے یا نہیں ہے، ایم کیو ایم حکومت کا ساتھ نہیں چھوڑیگی دوسری صورت میں ان کیلئے مشکل صورتحال پیدا ہوجائیگی، اپوزیشن نے اپنے پتے ابھی تک ظاہر نہیں کیے ہیں، تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد ہی اتحادی کوئی حتمی فیصلہ کرینگے۔


ارشا دبھٹی نے بھی اپنا تجزیہ دیا کہ ایم کیوا یم نے چار دہائیوں تک کراچی پر راج کیا مگر کراچی کو کیا دیا، ایم کیوا یم کی جمہوریت اور پاکستانی کی بہتری کا مطلب صرف اقتدار اور اپنا مفاد ہے، ایم کیو ایم کو جس نے اچھی پیشکش کی یہ جمہوریت اور پاکستان کیلئے اس کیساتھ ہونگے۔


بینظیر شاہ نے کہا کہ ایم کیو ایم کے نزدیک وہی پاکستان کا ساتھ دیگا جو انہیں اچھی پیشکش کریگا، دیکھنا ہوگا وزیراعظم کراچی جاکر ایم کیو ایم کو کیا پیشکش کرتے ہیں، اس معاملہ میں سب سے اہم چیز اشارہ ہے جب اشارہ آئے گا تو تمام اتحادی فیصلہ کرلینگے۔

اطہر کاظمی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم اور دیگر اتحادی اگر حکومت سے خوش نہیں ہیں تو حکومت میں کیا کررہے ہیں، حکومت ہو ، اپوزیشن ہو یا اتحادی ہوں سب کے اپنے اپنے مفادات ہیں،انہیں جہاں اپنا فائدہ نظر آئے گا وہاں پاکستان کا بھی فائدہ نظرآئے گا۔


انہوں نے کہا کہ مختلف لوگوں کی نظر میں مختلف پاکستان ہیں، کچھ لوگوں کی نظر میں بلاول، مریم، جنید صفدر،آصفہ، مولانا کے صاحبزادے پاکستان ہیں، ایم کیو ایم نے فیصلہ کرنا ہے کہ یہ پاکستان ہیں یا سندھ کے وہ کروڑوں لوگ پاکستان ہیں جن کا انتہائی برا حال ہے۔

میزبان نے سوال کیا کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ یا پی ٹی آئی سے اتحاد، پرویز الٰہی کیلئے زیادہ اہم کیا ہوگا؟ کگا جس پر بینظیر شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی ن لیگ پر جلد فیصلہ کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہی ہے، پرویز الٰہی کو پنجاب کا وزیراعلیٰ بنانے سے متعلق ن لیگ میں دو مختلف آراء ہیں، ایک کیمپ اس کیلئے تیار ہے جبکہ دوسرا کیمپ سخت مخالف ہے۔

تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کیلئے جہاں اپوزیشن ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے وہیں حکومت بھی متحرک ہوچکی ہے، سیاسی قیادت سے مشورے شروع کردیے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارنے وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور سینیٹر عبدالقادر نے مشورے کیے ہیں۔ چاروں رہنماؤں کے درمیان اسلام آباد میں میٹنگ ہوئی، جس میں تحریک عدم اعتماد سے نمٹنے کے لیے ممبران اسمبلی سے رابطے کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

اپوزیشن قیادت نے حکومتی اتحادی ق لیگ اور متحدہ قومی موومنٹ سے ملاقاتیں کی ہیں، چوہدری برادران سے آصف زرداری، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان وفود کی صورت میں اور الگ الگ ملاقاتوں میں عدم اعتماد کے لیے ووٹ مانگ چکے ہیں۔
 

Dr Adam

Prime Minister (20k+ posts)

اپوزیشن نے اپنے چوریوں کے مقدمے ختم کروانے کے لیے ایک عرصے سے ملک کو سولی پر چڑھایا ہوا ہے . ان کو شرم بھی نہیں آتی کہ ان کی ان حرکتوں سے ملک کی معاشی حالت پر کتنا برا اثر پڑ رہا ہے
ایسے مردود لوگ چلائیں گے پاکستان کو . بیغرت کہیں کے
 

hello

Minister (2k+ posts)
ذرا سوچیے ایم کیو ایم اس وقت اقتدار میں شراکت دار ہے اور اپوزیشن انہیں کیا بڑی قیمت دے سکتی ہے کہ یہ اقتدار چھوڑ کر ان کی کشتی میں سوار ہوجائیں کیوں کہ اپوزیشن کہتی ہے ادھر سے تحریک عدم اعتماد آئے اور پھر یہ گورنمنٹ ختم ہو جائے نتیجہ الیکشن شروع ہو جائے کون پاگل اپوزیشن والو کے لیےاقتدار چھوڑ کر انہیں منہ لگا ئے گا ہے کوئی بات یہ سب ٹوپی ڈرامہ ہے جو انہوں نے ساڑھے تین سال سے جاری رکھا ہوا ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اگر گورنمنٹ کو گھر بھیجنا چاہتے ہیں مل کر استعفی دیں اودھر سندھ اسمبلی توڑ دی جائے سب گھر چلے جائیں لیکن نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں انہیں اپنی طرف متوجہ رکھنے کے لیے بس ڈرامے بازی چاہیے
 
Sponsored Link