جرمن فوجی حکام کی آڈیو لیک، روس پر سیاسی انتشار پیدا کرنے کا الزام

8germnyrsssvggj.png

روسی سرکاری ٹیلیویژن چینل کی طرف سے جرمنی کی اعلیٰ فوجی قیادت کے اجلاس کی آڈیو لیک کی گئی

جرمنی کی حکومت نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر جرمنی میں سیاسی انتشار پیدا کرنے کا الزام لگا دیا۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق روس کے سرکاری ٹی وی نے جرمنی کے اعلیٰ فوجی حکام کی ایک آڈیو لیک کر دی ہے جس میں کرائمیا پر حملے کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا تھا۔

آڈیو لیک ہونے کے بعد جرمن حکومت کی طرف سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن جرمنی میں سیاسی انتشار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

روسی سرکاری ٹیلیویژن چینل کی طرف سے جرمنی کی اعلیٰ فوجی قیادت کے ایک اجلاس کی آڈیو منظرعام پر آنے کے بعد جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریس نے اپنے بیان میں کہا کہ روس کی قیادت جرمنی میں سیاسی انتشار پیدا کر کے یوکرین جنگ کے حوالے سے مسائل پیدا کرنا چاہتی ہے۔

بنڈیشویئر کے علاقے میں جرمنی کے اعلی فوجی حکام کے اجلاس کی آڈیو روس کے سرکاری نشریاتی ادارے رشیا ٹوڈے (آر ٹی) کی سربراہ مارگریٹا سمونیا کی طرف سے جاری کی گئی ہے۔ اجلاس میں جرمنی کی اعلیٰ فوجی قیادت جرمن ساختہ ٹورس میزائلوں کے ساتھ کریمیا میں روسی فوج پر حملے کے حوالے سے تبادلہ خیال کر رہی ہے۔


اجلاس میں جرمن فضائیہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل انگوگر ہارٹمز بھی شریک تھے، جرمن جریدے ڈیراسپیگل کے مطابق ماہرین کی طرف سے اس آڈیو کے اصلی ہونے کی تصدیق کی جا چکی ہے۔ جرمن کے اعلیٰ فوجی حکام کے اجلاس کی آڈیو لیک ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے جرمن چانسلر اولف شولز کی طرف سے تحقیقات کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔

روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں یوکرین کے صدر کی طرف سے متعدد بار جرمن حکومت سے استدعا کی جا چکی ہے کہ روس کی فوج کا سامنا کرنے کے لیے اسے جدید ٹورس میزائل فراہم کیے جائیں۔ 2014ء میں روس نے کرائمیا پر اپنا قبضہ قائم کر لیا تھا، لیک ہونے والی آڈیو میں جرمن فوجی حکام اجلاس میں جزیرہ نما کرائمیا کو روس سے ملانے والے آبنائے کرچ کے پل کو تباہ کرنے بارے بھی بات چیت کر رہے تھے۔