جج بھی مارتا تھا، انکی بیوی اور بچے بھی تشدد کرتے تھے

1ریزوکاکسنکھدھد.png

اسلام آباد میں جج کے گھرکام کرنے والی تشددکاشکار کمسن بچی رضوانہ کو ڈسچارج کردیا گیا رضوانہ نے دل دہلادینے والے مزید انکشافات کردہئے,کمسن ملازمہ نے بتایا جج بھی مارتا تھا اور انکی بیوی کے علاوہ بچے بھی تشدد کرتے تھے۔

جیو نیوز سے گفتگو میں کمسن رضوانہ کا کہنا تھاکہ امی کی یاد آرہی ہے امی کو بتایا ہے کہ میں اسپتال سے جارہی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ گلا دبا کرماراجاتا تھا اور آنکھوں میں سیدھی انگلیاں ماری جاتی تھی، سرپر ڈنڈے مارتے تھے اورپرانے زخموں پر بھی ڈنڈے مارے جاتے تھے، مجھے کبھی بھی کسی ڈاکٹر یا اسپتال نہیں لے جایا گیا۔


رضوانہ کا کہنا تھاکہ کپڑے برتن دھوتی تھی، دن میں 3 سے 4 بار صفائی کرتی تھی، آٹا گوندھتی تھی اور سبزیاں بھی کاٹ کے دیتی تھی۔

رضوانہ نے مزید بتایامالکن کو جو چیز ملتی تھی اس سے مارتی تھی، مالکن کا خاوند اور بچے بھی مارتے تھے،کھانا بھی نہیں دیا جاتا تھا، میں نے بہت بار کہا بس میں بیٹھا دیں میں گھر چلی جاؤ لیکن جب میری حالت خراب ہوئی تو مالکن صومیہ بس اڈے پر چھوڑنے آئی تھی۔

رضوانہ نے مطالبہ کیا کہ مجھے انصاف چاہیے۔
گھرمیں کام کرنے والی رضوانہ کو اسلام آباد کے سول جج کی بیوی نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور اس کیس میں طلبی کے باوجود جج پیش نہیں ہوئے۔

رضوانہ 5 ماہ جنرل اسپتال لاہور میں زیر علاج رہنے کے بعد آج ڈسچارج ہوگئی جس پر اسے چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے تحویل میں لے لیا۔
 

Storm

MPA (400+ posts)
Allah say umeed hy bus , or dua hy Allah karay agar waqai yea jurm hua hy ais bachi ky saath yea zulm kia hy jis ny bhe yea zulm kia hy ALLAH un suub ko zalil o khuar kr ky suub duniya ky saamnay ibrat ka nishan bana dyor halak kr dy or un ky sahulat karoon ko jo jaan kr ain zalimo ko bachanay ki koshish bhe karain Aay Allah un suub ko bhe zalil o khuar kr ky halaq kr dr
 

Aristo

Minister (2k+ posts)
Judges cannot be questioned, establishments cannot be questioned, property tycoon's cannot be questioned, the media cannot be questioned, and police cannot be questioned. The justice system is for poor, helpless humans. Pakiatan main sahi mano main Jungle ka qanoon chalta hai