جبری مذہب تبدیل کرنے کی پوسٹ وائرل ہونے پر ڈی سی کوئٹہ کی وضاحت

jabrimaha11.jpg


سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ایک غیرمسلم خاندان کی وائرل ہونے والی تصویر کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ایک غیرمسلم خاندان کی مسجد میں بیٹھے ہوئے تصویر وائرل ہو رہی تھی جس کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ کوئٹہ کے علاقے کچلاک کی ایک مقامی مسجد میں ایک ہندو خاندان کو زبردستی اسلام قبول کروایا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اس تصویر پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ محمد حمزہ شفقت نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئےکہا کہ ایسی خبروں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے کوئٹہ تصویر پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا: یہ جھوٹی خبر ہے! یہ جبری مذہبی تبدیلی کا معاملہ نہیں ہے، یہ ایک عوامی تقریب تھی جس میں اس خاندان کو شہریوں کی طرف سے تحائف بھی دیئے گئے۔

انہوں نے لکھا: اس جوڑے کا تعلق نوشکی سے ہے، میں اس خاندان کو لاحق کسی خطرے یا خوف سے متعلقہ کسی بھی امکان کو یقینی طور پر ختم کرنے کے لیے معاملے کی مزید تحقیقات کر رہا ہوں۔ کمنٹس میں اس تقریب کی ایک ویڈیو بھی شیئر کر رہا ہوں جہاں پر اس جوڑے کے ساتھ کچھ افراد بھی بیٹھے ہیں۔
https://twitter.com/x/status/1800469346634084504
انہوں نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا: اس ویڈیو میں پشتو زبان بولی جا رہی ہے جس میں واضح کیا جا رہا ہے کہ مذہب کی تبدیلی کا یہ عمل ان کی اپنی مرضی سے ہو رہا ہے، ان سے کوئی زبردستی نہیں کی گئی جیسا کہ سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جا رہا ہے! ہم اس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ ان حالات کی جانچ پڑتال کی جائے جس میں یہ سب کچھ ہوا اور جبری مذہب تبدیلی جیسے کسی بھی امکان کو رد کیا جا سکے۔
https://twitter.com/x/status/1800469382600245639
واضح رہے کہ فراز نامی ایک شخص کی طرف سے ایکس (ٹوئٹر) پر ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ کوئٹہ کے علاقے کچلاک کی ایک مسجد میں ہندو خاندان کو زبردستی اسلام قبول کروایا جا رہا ہے، پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو تحفظ حاصل نہیں ہے۔ فراز پرویز کی تصویر اڑھائی ہزار دفعہ ری شیئر کی گئی اور اس پر 4 ہزار لائیکس بھی آئے اور متعدد ہندو بھارتی صارفین کی طرف سے تبصرے بھی کیے گئے۔
https://twitter.com/x/status/1799047336209068172
 

ranaji

(50k+ posts) بابائے فورم
ویسے اگر ماں باپ کی مرضی کے بغیر کسی بھی غیر مسلم لڑکی کے مزہب کی تبدیلی ممنوع کردی جائے تو بہت سی ایسی وارداتیں جس میں عاشقی معشوقی کی وجہ یا اپنی غربت یا گھریلو حالات سے تنگ آکر کوئی لڑکی یا عورت مزہب بدل کر مسلمان ہوجاتی ہے اس کو غیر قانونی ڈکلئر کردیا جائے تو اسلام کی یہ بدنامی اور خاص طور پر پاکستان کی بدنامی کا سلسلہ بند ہوسکتا ہے
یہ تقریباً سارئ کی ساری شادیاں کسی اسلام کسی مزہب سے متاثر ہوکر نہیں ہوتیں یہ مزہب کی تبدیلی اسلام کی محب میں نہیں ہوتیں
یہ ہر شادی اور مزہب تبدیلی لڑکی کو سبز باغ دکھانے اسکے گھریلو حالات کی تنگی کا فائدہ اٹھانے غریب عورت اور لڑکی کو محبت کے جال میں پھنسانے اور بیوقوف بنا کر ہی ہوتی ہیں ایسی کسی بھی لڑکی یا عورت کو اگر اسلام قرآن یا نماز کے چند سوال کرکے معلوم کرنا کسی بھئ عدالت کسی بھی وکیل کسی بھی پنچایت کے لئے مشکل نہیں اور معلوم کرنا کوئی راکٹ سائنس نہیں کہ یہ شادی اسلام کے قبول کرنے سے یا اسلام کی محبت میں ہوئی اور یہ ساری شادیاں آپس کے پیار محبت رومانس ناجائز تعلقات یا ورغلانے سے ہوتی ہیں
اس لئے ایسی شادیوں پر پاپندی لگنی چاہیے بلکہ والدین کی مرضی کے بغئر اسکو جرم قرار دینے کی ضرورت ہے
بس اتنی سی بات ہے