تینوں بڑی جماعتوں کے پاس کوئی معاشی منشور نہیں، فواد حسن فواد

2fafwfahahshjahfafsjwhdjhdh.png

وفاقی وزیر برائے نجکاری فواد حسن فواد کہتے ہیں ہماری تینوں بڑی جماعتوں کے پاس کوئی معاشی منشور نہیں اگر لوگ معاشی منشور کے بغیر سیاسی جماعتوں کو ووٹ دیں گے تو حکومت میں آنے کے بعد ان جماعتوں سے پوچھنا لوگوں کا حق نہیں رہ جاتا۔

سولہویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روز "معیشت کی دلدل نکلنے کا راستہ" کے عنوان سے منعقدہ اجلاس سے گفتگوکرتے ہوئے کہا ملک کو معیشت کی دلدل سے اس وقت نکالا جا سکتا ہے جب ہم یہ سوچ لیں کہ ہم نے اس سے نکلنا ہے اور اس کے لئے ہمیں انفرادی طورپر کام کرنا ہو گا۔

الیکشن ہونے چاہئیں اوریہی ہمارے آئین کا تقاضہ ہے اگر آئندہ انتخابات میں ریئل اسٹیٹ اور فیوڈل لارڈز کی اسمبلی میں اکثریت ہو گی تو ملک کا معاشی دلدل سے نکلنا مشکل ہو گا لہٰذا آئندہ چند ہفتے پاکستانی عوام کے لیے بہت اہم ہیں۔

فواد حسن فواد نے کہا کہ پرویز مشرف کا لوکل گورنمنٹ کا نظام اس ملک کی ترقی کے لیے بہت اہم تھا لیکن ہم نےاٹھارویں ترمیم میں اس شعبے کو صوبوں کے حوالے کر دیا یہ دیکھے بغیر کہ انہوں نے کیا کرناہے۔


ملک میں معاشی دلدل کی بنیادی وجہ آبادی میں تیزی سے اضافہ ہے، آبادی میں تین فیصد اضافہ کے ساتھ ہم معیشت کی دلدل سے نہیں نکل سکتے، تین فی صد آبادی میں اضافہ ترقی میں رکاوٹ ہے، دوسری چیز بیورو کریسی کا نظام ہے جو بوسیدہ ہو چکا، اس میں ریفارمز کی ضرورت ہے اور تیسری بات ٹیکس جمع کرنے کا کا نظام ہے۔

اگر ہم صحیح معنوں میں آٹھ فیصد ٹیکس ہی جمع کر لیں تو کافی حد تک بہتری ہو جائے۔ آدھا وقت سیاسی جماعتوں نے حکومت کی لیکن صرف ذوالفقار علی بھٹو کا معاشی منشور تھا، اس کے بعد حکومت میں آنے والی کسی سیاسی جماعت کا کوئی معاشی منشور نہیں رہا۔

دوسری جانب نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تاریخی معاہدوں سے معیشت مضبوط ہوگی اور باہمی تعلقات نئی بلندیوں کو چھوئیں گے۔

متحدہ عرب امارات سے اپنے پیغام میں نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان تاریخی معاہدوں سے معیشت مضبوط ہوگی، دونوں ممالک کے باہمی تعلقات نئی بلندیوں کو چھوئیں گے، معاہدوں سے معاشی تعاون کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے، سمجھوتوں پر عمل درآمد کے جلد مثبت اثرات سامنے آئیں گے۔

محسن نقوی نے کہا پاکستانی وفد کو متحدہ عرب امارات میں خصوصی پذیرائی ملی، صدر یو اے ای شیخ محمد بن زاید النہیان کے ساتھ ملاقات انتہائی مفید رہی، معاہدوں کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان کی کاوشیں لائق ستائش ہیں، معاہدوں میں آرمی چیف کا کردار بھی قابل تحسین ہے۔
 

taban

Chief Minister (5k+ posts)
ظاہر ہے معاشی منشور اور ساری معاش تمہارے باس کے باس حافظ الوہسکی کے پاس ہی ہے
 

Faculty

MPA (400+ posts)
They are trying to equalize IMRAN Khan PTI with the same traditional parties like PMLN AND PPP.
DONOT TRUST THEM AND THEIR PROPAGANDA.

This is NOT all IK power/ charisma but ALLAH WiLL THAT ALL EXCEPT IK are getting exposed and disgraced daily.
INSHALLAH, With ALLAH's will we Pakistanis will bring kHAN BACK.


DEATH TO CORRUPT $GENERALS, JUDJES, POLICE, BEUROCRACY AND POLITICIANS