تھل یونیورسٹی کی طالبہ سے اجتماعی زیادتی، مقدمہ درج 2 ملزمان گرفتار

thala111h.jpg


ضلع بھکر میں واقع تھل یونیورسٹی میں طالبہ سے اجتماعی زیادتی کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، مقدمے میں نامزد 8 میں سے 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے، طالبہ سے اجتماعی زیادتی کی تصدیق بھی ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق ضلع بھکر کی تھل یونیورسٹی میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں یونیورسٹی طلباء کے ایک گروپ نے طالبہ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے، متاثرہ طالبہ کا کہنا ہے کہ ملزم نے شادی کا جھانسہ دے کر زیادتی کی اور نازیبا ویڈیوز بنائیں بعد میں ان ویڈیوز کے ذریعے دو سال تک بلیک میل کیا۔

ڈی پی او عبداللہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کرکے 8 میں سے 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا ہےجبکہ مزید 6 کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں ،۔

اسپتال ذرائع کے مطابق ابتدائی طبی معائنے میں طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے۔

متاثرہ طالبہ کی جانب سے پولیس کو دیئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزم اسامہ اور دیگر یونولرسٹی کے طالب علم ہں شادی کا جھانسہ دے کر ویڈیو بنائی،ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی دے کر دو سال تک زیادتی کا نشانہ بناتے رہے،بدنامی کے ڈر سے دوسال تک ملزمان کے ظلم کا نشانہ بنتی رہی ملزمان انتہائی بااثر ہںن۔

طالبہ نے کہا کہ ملزمان نے مجھے یونیورسٹی کے باہر سے اغوا کیا اور بوائز ہاسٹل میں لے جاکر آٹھوں لڑکوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد میں چک 27 ٹی ڈی اے کے جنگل مںب چھوڑ دیا، جہاں کےمقامی افراد نے پولسی کو اطلاع دی،ملزمان کی بلکے ملنگ سے تنگ آ چکی ہوں خودکشی کرنا چاہتی تھی کہ پولسم پہنچ گئی۔

واقعہ کے حوالے سے یونیورسٹی کے پی آر او کا کہنا تھا کہ واقعہ یونیورسٹی حدود کے باہر پیش آیا، طالبہ پیپر دینے کے بعد یونیورسٹی سے چلی گئی تھی، جس بوائز ہاسٹل میں لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا وہ یونیورسٹی کی ملکیت نہیں بلکہ پرائیویٹ ہاسٹل ہیں۔

دوسری جانب متاثرہ طالبہ کے بھائی نے حکام بالا سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے پولیس نے تاحال ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

اس سے قبل اوکاڑہ میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا جہاں باپ بیٹے نے لڑکی سے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور اور بعدازاں باپ بیٹا نازیبا تصاویر بناکر لڑکی کو بلیک میل کرتے رہے
https://twitter.com/x/status/1795385775737192658
 

ranaji

(50k+ posts) بابائے فورم
آج تک کسی کو بھی سزا نہیں ہوئی ؟ پولیس کیُ تفتیش اسکا بنایا ہوا چالان اور نظام انصاف پر سوالیہ نشان ہے