توبہ اور استغفار جدا جدا ہیں

Amal

Chief Minister (5k+ posts)




:توبہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم


فَتَلَقَّىٰٓ اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ ۚ اِنَّهٝ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْـمُ
پس آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے چند کلما ت سیکھ لیے اور اللہ تعالی نے انکی توبہ قبول فرمائی ' بےشک وہی توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے - سورة البقرہ : 37


يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا تُوْبُـوٓا اِلَى اللّـٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًاۖ
اور اللہ تعالی نے فرمایا : " اے مومنو ! اللہ تعالی کی طرف خالص توبہ کر و.
سورة التحریم :8


اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ يُبَدِّلُ اللّـٰهُ سَيِّئَاتِـهِـمْ حَسَنَاتٍ ۗ وَكَانَ اللّـٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا
مگر جس نے توبہ کی اور یقین لایا اور کیا کچھ کام نیک سو ان کو بدل دے گا اللہ
برائیوں کی جگہ بھلایاں ط اور ہے اللہ بخشنے والا مہربان۔ الفرقان , 70


وتوبوا الی اللہ جمیعاً ایہا المومنون لعلکم تفلحون۔
ترجمہ:۔اور توبہ کرو اللہ کے آگے سب مل کر اے ایمان والو تاکہ تم بھلائی پاوٴ۔ نور:۳۱


فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَاَصْلَحَ فَاِنَّ اللّـٰهَ يَتُـوْبُ عَلَيْهِ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ
پھر جس نے اپنے ظلم کے بعد توبہ کی اور اصلاح کرلی تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لے گا، بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
سورۃ المائدہ - 39



توبہ اور استغفار جدا جدا ہیں


استغفروا ربکم ثم توبوا الیہ - ھود:۲۵
گناہ بخشواؤ اپنے رب سے پھر رجوع کرو اس کی طرف
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر استغفار اور توبہ ایک ہی حقیقت رکھتے تو حق تعالیٰ شانہ دونوں کوالگ الگ بیان نہ فرماتے۔


حدیث شریف میں آتا ہے :التوبۃ ندم
یعنی توبہ ندامت اور شرمندگی کا نام ہے۔توبہ کی ایک شرط یہ ہے کہ: اس گناہ کو چھوڑدے، اگر گناہ نہیں چھوڑتاتو یہ صرف زبان سے توبہ اور استغفار کررہا ہے، جو صحیح توبہ نہیں ہے،
استغفار کے ساتھ ساتھ توبہ کا بھی اہتمام ہو، استغفار کا مطلب گناہوں کی مغفرت چاہنا، جب کہ شرعی اصطلاح میں معصیت سے طاعت کی طرف لوٹنے اور رجوع ہونے کا نام توبہ ہے، یعنی توبہ کرتے ہوئے اگر گناہوں کو نہیں چھوڑتا تو یہ حقیقی توبہ نہیں ہے۔


مایوسی گناہ ہے


پس معلوم ہوا کہ آدمی کی خوش بختی اسی میں ہے کہ سابقہ گناہوں سے سچے دل سے معافی مانگ کر اللہ کی طرف رجوع کرلے، وہ مالک سارے گناہ معاف فرمادے گا، چاہے وہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں، اللہ کی رحمت سے کبھی بھی مایوس نہ ہونا چاہئے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کیسے اطمینان اور تسلی دے رہے ہیں
قل یٰعبادی الذین اسرفوا علی انفسہم لا تقنطو من رحمة اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعاً انہ ہو الغفور الرحیم ۔ زمر :۳
ترجمہ:۔(اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ) کہہ دے اے میرے بندو! جنہوں نے کہ اپنی جانوں پر زیادتیاں کی ہیں ،تم خدا تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بے شک اللہ تعالیٰ تمام گناہ بخش دے گا، واقعی وہ بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔








14485022_1201521549906535_4123738544468199410_n.jpg
 

Raaz

(50k+ posts) بابائے فورم
توبہ کا مطلب ہے لوٹنا
لوٹ کر آنا
اتوب الیہ کا مطلب ہے اس کی طرف لوٹ کر آتا ہے

استغفار الله و اتوب الیہ

کا مطلب ہوتا ہے کہ میں معافی مانگتا ہوں غلطی کی اور واپس لوٹ کر آتا ہوں اچھائی کی طرف
 

There is only 1

Chief Minister (5k+ posts)
مغرب کی تین رکعت نماز بھی اسی فلسفے کو بیان کرتی ہے
اس وقت حضرت آدم نے تین رکعت نماز پڑھی تھی
پہلی رکعت میں توبہ ، دوسری میں اپنے لئے استغفار اور تیسری میں حضرت حوا کے لئے استغفار کیا تھا