تم نے اپنے کشمیر میں کتنی یونیورسٹیز اور ائرپورٹس بنائے ؟

Syed Haider Imam

Chief Minister (5k+ posts)
تم نے اپنے کشمیر میں کتنی یونیورسٹیز اور ائرپورٹس بنائے ؟

Logo.png


گزشتہ دنوں میں ٹورنٹو کا ایک انڈین پنجابی ریڈیو چنیل سن رہا تھا . پاکستان سے ایک پنجابی سورما نے انڈین ہوسٹ کو مقبوضہ کشمیر پر للکارا . یہ انڈین ہوسٹ بہت ہی زہین ہے جبکہ جذبہ جہاد سے لبریز اپنے بھائی کے پاس کوئی تیاری نہیں تھی . اس نے صرف دو سوالوں میں اسے بچھا لیا

١- کیا تم کبھی اپنے حصہ کےکشمیر میں گئے ہو ( جواب نہ میں تھا ) ؟
٢- پاکستان نے اپنے حصہ میں کتنے یونیورسٹیز اور ائرپورٹس بنائے ہیں ( اسکا کوئی جواب نہ تھا )؟

کشمیر میں الیکشن مہم کے سلسلے میں بلاول زرداری اور مریم صفدر جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں . آزاد کشمیر کے جلسوں میں دونوں خاندانوں کے مرد و زن کا الیکشن مہم میں شرکت محض تقریریں کر کے میڈیا اور سیاست میں زندہ رہنا ہے ۔ پنجابی میڈیا بھی مصروف رہے گا . ان دنوں پارٹیز نے آزاد کشمیر کے لئے کیا کیا ، نہ یہ خود بتائیں گے نہ میڈیا پوچھے گا. بلاول زرداری کشمیر میں کھڑے ہو کر شریف خاندان پر سیاسی جگتیں کس رہے ہیں اور مریم کو سیلفیوں سے فرصت نہیں . خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو . انڈیا کیا کر رہا ہے اور کیا نہیں کر رہا ، وہ اپنی جگہ لمحہ فکریہ ہے . مگر گزشتہ ٧٣ سالوں سے جو نا انصافیاں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے کی ، سیاسی جگتوں سے فارخ ہو کر ہمیں اپنے گریبانوں میں ضرور جھکنا چاہئے. اپ کے ذھن میں اس
سوال کا کیا جواب ہے ،وہ اپ لکھیں . جو میرے ذھن میں ہے ، وہ میں لکھتا ہوں

١- پنجابی سیاستدانوں نے قومی وسائل کی بندر بانٹ کر کے محرومیوں میں اضافہ کیا

مجھے پتا ہے اپ میں سے بہت لوگوں کو ہیڈلائن سے مرچیں لگیں گیں . ذہنی معذور اصل پوائنٹ کی جگہ اسی میں پھنس جائیں گے . وزیراعظم عمران خان نے حالیہ بلوچستان میں تقریر کرتے ہوا کہا تھا کے ماضی کی حکومتیں پنجاب سے الیکشن جیت جاتی تھیں لھذا کسی نے بھی وہاں تبدیلی کو کوئی شعوری کوشش نہیں کی . اس تلخ حقیقت کی وجہ سے وہاں شورش برپا ہوئی اور حالات کنٹرول سے باہر ہوے . رہی سہی کسر ، ایک عظیم قومی ایونٹ میں طاقت اور شراب کے نشے میں دھت دو پنجابی صحافیوں نے بھی وہاں جا کر نکال دی. انلوگوں کی ذاتی لڑائی ہنوز جاری ہے

یہی حال کشمیر اور گلگت بلدستان کا بھی ہے . کشمیر اور گلگت بلدستان میں سرمایا کاری کر کے ہم ان علاقوں کو سیاحوں کی جنت بنا سکتے تھے مگر بد قسمتی سے ایسا شعوری طور پر نہیں کیا گیا

جب شہباز شریف لاہور میں میٹرو ٹرین کا منصوبہ بنا رہے تھے ، میں نے سوشل میڈیا پر اسکے خلاف آواز اٹھائی تھی . اس منصوبے سے دوسرے صوبوں کی نفرتوں میں اضافہ ہو گا . شہباز شریف نے سی پیک کے ٣ ارب ڈالر اس منصوبہ میں جھونک دئے . سالانہ اخراجات اور سبسڈی ایک علیحدہ درد سر ہے اسکے علاوہ وفاق سے اربوں روپے پنجاب میں خرچ کر کے کمیشن بنائی گی جو آجکل اربوں روپے بینکوں کی ٹی ٹی کی صورت میں نکل رہے ہیں . اگر اتنی خطیر رقم کشمیر گلگت بلدستان میں خرچ کی جاتی تو ٹورسٹ انڈسٹری اپنے پیروں پر کھڑی ہو جاتی اور روزگار کے مواقع لوگوں کو میسر اتے . لوگوں کو ملازمت کے لئے کراچی ، پنجاب اور دوسروں ملکوں میں نہ جانا پڑتا

٢- احمق اسٹیبلشمنٹ

دنیا بھر میں یہ دیکھا جا سکتا ہے دنیا کا نظام تمام احمق اور کریمنل بیک گراؤنڈ کے لعنتی سیاستدانوں کا مافیاز چلا رہے ہیں . جب گلگت بلدستان کے الیکشن ختم ہوے تھے تو میں نے الیکشن کے انعقاد پر سوال اٹھایا تھا . مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت اپنا آخری بجٹ پیش کر چکی ہے . اگلے سال کے بجٹ کے ساتھ پاکستان میں الیکشن کی تیاری شروع ہو جائے گی . کوئی ان کنجروں سے پوچھے کشمیر اور گلگت بلدستان میں ایسے الیکشن کا فائدہ جب ماضی کی دو حکومتیں بدل گئی تھیں . جب الیکشن ہوتے ہیں تو مرکز والی پارٹی ان دونوں جگہوں پر جیت جاتی ہے اور محض دو سال بعد وہ پارٹی اپوزیشن بن جاتی ہے . اسطرح کے احمقانہ الیکشن سے مزید ١٠٠ سال ان علاقوں میں کچھ نہیں ہو گا . مرکزی الیکشن کے دو ، تین سال گزرنے کے بعد آخر ان علاقوں میں الیکشن کا کیا مقصد ہے ؟


٣- گزشتہ ٧٣ سالوں سے پاکستان ان علاقوں میں انویسٹ کیوں نہ کر سکا ؟

جس دور میں ہم رہ رہے ہیں وہ بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح ایک ہائبرڈ گورنمنٹ ہے . ہر آرمی چیف کے پاس ایک ڈنڈہ ہوتا ہے جسے پاکستان کے دشمنوں کی گانڈ میں دینے کی بجائے موصوف اس سے اپنی گانڈ ہی کھرک کے گزارہ کرتے نظر اتے ہیں . کرپشن وہ ناسور ہے جس سے بڑی بڑی دنیا کی امپائرز زمیں بوس ہو چکی ہیں . آجکل چلن یہ ہے کہ آرمی چیف کو کوئی کچھ نہ کہے اور موصوف سے من کے حساب سے این آر او لے کر چلتا بنے . مجھے ان سرکاری افسروں پر شدید افسوس ہوتا ہے جو دن رات ایک کر کے انویسٹیگیشن کرتے ہیں اور ٹنوں کے حساب سے کرپشن پر مبنی والیوم بنا کر عدالتوں کو دیتے ہیں اور عدالتیں شواہد کی موجودگی میں ٹیکنیکل بنیادوں پر فیصلے کرتی ہیں . جیسا کے پاکستان میں کالج / یونیورسٹی کے کامیاب نوجوان کے ساتھ ہوتا ہے . ان سے لاکھوں روپے فیس اینٹھ کر انھیں ڈگری کی بتی بنا کر دے دیا جاتا ہے. اسی طرح عدالتوں میں دیکھا گیا کہ تمام کاغذات کو بوریوں میں بند کر کے دریا برد کر دیا گیا تاکہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں وزیراعظم پاکستان کو سکون سے تقریر کرنے کا موقع ملے

جو قومی دولت بلوچستان ، کشمیر اور گلگت بلدستان میں لگنی چاہئے تھی وہ پنجابی اسٹیبلشمنٹ والے کھا گئے اور دوسری قوموں کے کرپٹ نمائندوں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا



٤- پاکستان متواتر جنگوں میں الجھا رہا

بدقسمتی سے تمام مسائل کے ساتھ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ رہا . افغانستان کی جنگ پاکستان کو لے ڈوبی . ہم گزشتہ ٢٠ سالوں سے اربوں ڈالر اور انسانی جانوں سے محروم ہوے . پاکستان کی جرنلوں نے سیاستدانوں کے ساتھ مل کر ہائبرڈ گوورنمنٹس چلائیں . پاکستان میں احتساب اور انصاف کا گلہ گھونٹ کر پاکستان کو کرپشن اور بد انتظامی کے اوج ثریا پر پونھچایا گیا . ہر سال پاکستان سے ١٠ ارب ڈالر کی قومی دولت منی لانڈرنگ ہوتی رہی اور سالانہ ٢٠ ارب ڈالر سے زیادہ قرضہ پاکستان پر چڑھایا گیا . آئی ایس آئی ستو پی کر سوتی رہی اور فائلز بناتی رہی تاکہ سیاستداؤں کو بلیک میل کر کے پارلیمنٹ میں وزیراعظم کو تقریر کا موقع فراہم کیا جا سکے . آرمی چیفس بنفس نفیس خود بھی اس عمل میں شامل رہے . توانائی کے منصوبوں پر اتنے بڑے گھپلے کے گئے کہ الامان الحفیظ . پاکستان کا اپنا وجود خطرے میں پڑ گیا . جو ریاست خود ناکام ہو گئی ہو وہ صوبوں کا گھنٹہ خیال رکھے گی ؟

یہاں پر تو طاقتوروں کو اپنے تحفظ کی سوچ سے فرصت نہیں ملتی ، پاکستانی زومبیز کی بات ہی چھوڑ دیں
 

Shahid Abassi

Chief Minister (5k+ posts)
ایک تصیح اور ایک بات پر اتفاقی بیانیہ۔

پہلی بات یہ کہ اورنج لائن ٹرین کی ہر ذی شعور نے مخالفت کی تھی لیکن پھر بھی اس بارے لئے گئے قرض کو واپس پنجاب گورنمنٹ نے کرنا ہے وفاق نے نہی۔ یہ قرض سی پیک کے زمرے میں ہی آتا ہے ہیں لیکن چینیوں نے قرض صوبے کو دیا ہے۔ اس لئے یہ بیانیہ کہ یہی پیسے گلگت میں خرچ ہونے چاہئیں تھے، غلط ہے۔

دوسری بات یہ کہ پاکستان میں ہائی لیول کرپشن کے اصل مجرم واقعی اسٹیبلشمنٹ والے ہیں۔ عدالتوں پر سزا نہ دینے کا الزام بھی غلط ہے کہ عدالتیں تو وہی کرتی ہیں جیسا انہی جی ایچ کیو سے حکم دیا جائے۔ اسٹیبلشمنٹ کسی بھی کرپٹ سیاست دان کو سزا نہی ہونے دیتی۔ ان کا مقصد کیسز لٹکائے رکھنا ہے تاکہ وہ ڈرا دھمکا کر اس سیاست دان کو اپنی مرضی کی لائن پر چلا رکھیں۔ میرا ماننا ہے کہ یہ اگر ایک بڑے سیاست دان کو ہی پندرہ بیس سال کی سزا ہو لینے دیتے اور اس کی ہر قسم کی پراپرٹی بھی ضبط کروا دیتے تو کرپشن کا گراف نیچے جانا شروع ہو چکا ہوتا۔ لیکن اب تو ہر سیاست دان کو معلوم ہے کہ جتنا مرضی ہاتھ مارو ہونا کچھ بھی نہی ہے۔​
 

Eyeaan

Chief Minister (5k+ posts)
تم نے اپنے کشمیر میں کتنی یونیورسٹیز اور ائرپورٹس بنائے ؟

Logo.png


گزشتہ دنوں میں ٹورنٹو کا ایک انڈین پنجابی ریڈیو چنیل سن رہا تھا . پاکستان سے ایک پنجابی سورما نے انڈین ہوسٹ کو مقبوضہ کشمیر پر للکارا . یہ انڈین ہوسٹ بہت ہی زہین ہے جبکہ جذبہ جہاد سے لبریز اپنے بھائی کے پاس کوئی تیاری نہیں تھی . اس نے صرف دو سوالوں میں اسے بچھا لیا

١- کیا تم کبھی اپنے حصہ کےکشمیر میں گئے ہو ( جواب نہ میں تھا ) ؟
٢- پاکستان نے اپنے حصہ میں کتنے یونیورسٹیز اور ائرپورٹس بنائے ہیں ( اسکا کوئی جواب نہ تھا )؟

کشمیر میں الیکشن مہم کے سلسلے میں بلاول زرداری اور مریم صفدر جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں . آزاد کشمیر کے جلسوں میں دونوں خاندانوں کے مرد و زن کا الیکشن مہم میں شرکت محض تقریریں کر کے میڈیا اور سیاست میں زندہ رہنا ہے ۔ پنجابی میڈیا بھی مصروف رہے گا . ان دنوں پارٹیز نے آزاد کشمیر کے لئے کیا کیا ، نہ یہ خود بتائیں گے نہ میڈیا پوچھے گا. بلاول زرداری کشمیر میں کھڑے ہو کر شریف خاندان پر سیاسی جگتیں کس رہے ہیں اور مریم کو سیلفیوں سے فرصت نہیں . خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو . انڈیا کیا کر رہا ہے اور کیا نہیں کر رہا ، وہ اپنی جگہ لمحہ فکریہ ہے . مگر گزشتہ ٧٣ سالوں سے جو نا انصافیاں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے کی ، سیاسی جگتوں سے فارخ ہو کر ہمیں اپنے گریبانوں میں ضرور جھکنا چاہئے. اپ کے ذھن میں اس
سوال کا کیا جواب ہے ،وہ اپ لکھیں . جو میرے ذھن میں ہے ، وہ میں لکھتا ہوں

١- پنجابی سیاستدانوں نے قومی وسائل کی بندر بانٹ کر کے محرومیوں میں اضافہ کیا

مجھے پتا ہے اپ میں سے بہت لوگوں کو ہیڈلائن سے مرچیں لگیں گیں . ذہنی معذور اصل پوائنٹ کی جگہ اسی میں پھنس جائیں گے . وزیراعظم عمران خان نے حالیہ بلوچستان میں تقریر کرتے ہوا کہا تھا کے ماضی کی حکومتیں پنجاب سے الیکشن جیت جاتی تھیں لھذا کسی نے بھی وہاں تبدیلی کو کوئی شعوری کوشش نہیں کی . اس تلخ حقیقت کی وجہ سے وہاں شورش برپا ہوئی اور حالات کنٹرول سے باہر ہوے . رہی سہی کسر ، ایک عظیم قومی ایونٹ میں طاقت اور شراب کے نشے میں دھت دو پنجابی صحافیوں نے بھی وہاں جا کر نکال دی. انلوگوں کی ذاتی لڑائی ہنوز جاری ہے

یہی حال کشمیر اور گلگت بلدستان کا بھی ہے . کشمیر اور گلگت بلدستان میں سرمایا کاری کر کے ہم ان علاقوں کو سیاحوں کی جنت بنا سکتے تھے مگر بد قسمتی سے ایسا شعوری طور پر نہیں کیا گیا

جب شہباز شریف لاہور میں میٹرو ٹرین کا منصوبہ بنا رہے تھے ، میں نے سوشل میڈیا پر اسکے خلاف آواز اٹھائی تھی . اس منصوبے سے دوسرے صوبوں کی نفرتوں میں اضافہ ہو گا . شہباز شریف نے سی پیک کے ٣ ارب ڈالر اس منصوبہ میں جھونک دئے . سالانہ اخراجات اور سبسڈی ایک علیحدہ درد سر ہے اسکے علاوہ وفاق سے اربوں روپے پنجاب میں خرچ کر کے کمیشن بنائی گی جو آجکل اربوں روپے بینکوں کی ٹی ٹی کی صورت میں نکل رہے ہیں . اگر اتنی خطیر رقم کشمیر گلگت بلدستان میں خرچ کی جاتی تو ٹورسٹ انڈسٹری اپنے پیروں پر کھڑی ہو جاتی اور روزگار کے مواقع لوگوں کو میسر اتے . لوگوں کو ملازمت کے لئے کراچی ، پنجاب اور دوسروں ملکوں میں نہ جانا پڑتا

٢- احمق اسٹیبلشمنٹ

دنیا بھر میں یہ دیکھا جا سکتا ہے دنیا کا نظام تمام احمق اور کریمنل بیک گراؤنڈ کے لعنتی سیاستدانوں کا مافیاز چلا رہے ہیں . جب گلگت بلدستان کے الیکشن ختم ہوے تھے تو میں نے الیکشن کے انعقاد پر سوال اٹھایا تھا . مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت اپنا آخری بجٹ پیش کر چکی ہے . اگلے سال کے بجٹ کے ساتھ پاکستان میں الیکشن کی تیاری شروع ہو جائے گی . کوئی ان کنجروں سے پوچھے کشمیر اور گلگت بلدستان میں ایسے الیکشن کا فائدہ جب ماضی کی دو حکومتیں بدل گئی تھیں . جب الیکشن ہوتے ہیں تو مرکز والی پارٹی ان دونوں جگہوں پر جیت جاتی ہے اور محض دو سال بعد وہ پارٹی اپوزیشن بن جاتی ہے . اسطرح کے احمقانہ الیکشن سے مزید ١٠٠ سال ان علاقوں میں کچھ نہیں ہو گا . مرکزی الیکشن کے دو ، تین سال گزرنے کے بعد آخر ان علاقوں میں الیکشن کا کیا مقصد ہے ؟


٣- گزشتہ ٧٣ سالوں سے پاکستان ان علاقوں میں انویسٹ کیوں نہ کر سکا ؟

جس دور میں ہم رہ رہے ہیں وہ بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح ایک ہائبرڈ گورنمنٹ ہے . ہر آرمی چیف کے پاس ایک ڈنڈہ ہوتا ہے جسے پاکستان کے دشمنوں کی گانڈ میں دینے کی بجائے موصوف اس سے اپنی گانڈ ہی کھرک کے گزارہ کرتے نظر اتے ہیں . کرپشن وہ ناسور ہے جس سے بڑی بڑی دنیا کی امپائرز زمیں بوس ہو چکی ہیں . آجکل چلن یہ ہے کہ آرمی چیف کو کوئی کچھ نہ کہے اور موصوف سے من کے حساب سے این آر او لے کر چلتا بنے . مجھے ان سرکاری افسروں پر شدید افسوس ہوتا ہے جو دن رات ایک کر کے انویسٹیگیشن کرتے ہیں اور ٹنوں کے حساب سے کرپشن پر مبنی والیوم بنا کر عدالتوں کو دیتے ہیں اور عدالتیں شواہد کی موجودگی میں ٹیکنیکل بنیادوں پر فیصلے کرتی ہیں . جیسا کے پاکستان میں کالج / یونیورسٹی کے کامیاب نوجوان کے ساتھ ہوتا ہے . ان سے لاکھوں روپے فیس اینٹھ کر انھیں ڈگری کی بتی بنا کر دے دیا جاتا ہے. اسی طرح عدالتوں میں دیکھا گیا کہ تمام کاغذات کو بوریوں میں بند کر کے دریا برد کر دیا گیا تاکہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں وزیراعظم پاکستان کو سکون سے تقریر کرنے کا موقع ملے

جو قومی دولت بلوچستان ، کشمیر اور گلگت بلدستان میں لگنی چاہئے تھی وہ پنجابی اسٹیبلشمنٹ والے کھا گئے اور دوسری قوموں کے کرپٹ نمائندوں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا



٤- پاکستان متواتر جنگوں میں الجھا رہا

بدقسمتی سے تمام مسائل کے ساتھ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ رہا . افغانستان کی جنگ پاکستان کو لے ڈوبی . ہم گزشتہ ٢٠ سالوں سے اربوں ڈالر اور انسانی جانوں سے محروم ہوے . پاکستان کی جرنلوں نے سیاستدانوں کے ساتھ مل کر ہائبرڈ گوورنمنٹس چلائیں . پاکستان میں احتساب اور انصاف کا گلہ گھونٹ کر پاکستان کو کرپشن اور بد انتظامی کے اوج ثریا پر پونھچایا گیا . ہر سال پاکستان سے ١٠ ارب ڈالر کی قومی دولت منی لانڈرنگ ہوتی رہی اور سالانہ ٢٠ ارب ڈالر سے زیادہ قرضہ پاکستان پر چڑھایا گیا . آئی ایس آئی ستو پی کر سوتی رہی اور فائلز بناتی رہی تاکہ سیاستداؤں کو بلیک میل کر کے پارلیمنٹ میں وزیراعظم کو تقریر کا موقع فراہم کیا جا سکے . آرمی چیفس بنفس نفیس خود بھی اس عمل میں شامل رہے . توانائی کے منصوبوں پر اتنے بڑے گھپلے کے گئے کہ الامان الحفیظ . پاکستان کا اپنا وجود خطرے میں پڑ گیا . جو ریاست خود ناکام ہو گئی ہو وہ صوبوں کا گھنٹہ خیال رکھے گی ؟

یہاں پر تو طاقتوروں کو اپنے تحفظ کی سوچ سے فرصت نہیں ملتی ، پاکستانی زومبیز کی بات ہی چھوڑ دیں
Pak Kashmir area is 16-17 times smaller than India J&K and further most of AJK area is inaccessible - No. of Kashmiri muhajrine (mostly from Jammu when they were evicted in 47-48) is much more than that in proper IJK - which is about of a district..- actual residency is even less In India J&K has fertile vast valleys with historic agriculture and watering lakes and rivers. Now in IJK there are 2 urban areas Mirpur and Muzaffarabad (both are newly built from small villages) with universities however Kashmiri gets education in whole Pakistan. Look at the actual demographics before going above with political commentary. baaqi aap ki marzi hey - your commentary is most of the times over the top and impulsive..
 
Last edited:

Syaed

MPA (400+ posts)
تم نے اپنے کشمیر میں کتنی یونیورسٹیز اور ائرپورٹس بنائے ؟

Logo.png


گزشتہ دنوں میں ٹورنٹو کا ایک انڈین پنجابی ریڈیو چنیل سن رہا تھا . پاکستان سے ایک پنجابی سورما نے انڈین ہوسٹ کو مقبوضہ کشمیر پر للکارا . یہ انڈین ہوسٹ بہت ہی زہین ہے جبکہ جذبہ جہاد سے لبریز اپنے بھائی کے پاس کوئی تیاری نہیں تھی . اس نے صرف دو سوالوں میں اسے بچھا لیا

١- کیا تم کبھی اپنے حصہ کےکشمیر میں گئے ہو ( جواب نہ میں تھا ) ؟
٢- پاکستان نے اپنے حصہ میں کتنے یونیورسٹیز اور ائرپورٹس بنائے ہیں ( اسکا کوئی جواب نہ تھا )؟

کشمیر میں الیکشن مہم کے سلسلے میں بلاول زرداری اور مریم صفدر جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں . آزاد کشمیر کے جلسوں میں دونوں خاندانوں کے مرد و زن کا الیکشن مہم میں شرکت محض تقریریں کر کے میڈیا اور سیاست میں زندہ رہنا ہے ۔ پنجابی میڈیا بھی مصروف رہے گا . ان دنوں پارٹیز نے آزاد کشمیر کے لئے کیا کیا ، نہ یہ خود بتائیں گے نہ میڈیا پوچھے گا. بلاول زرداری کشمیر میں کھڑے ہو کر شریف خاندان پر سیاسی جگتیں کس رہے ہیں اور مریم کو سیلفیوں سے فرصت نہیں . خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو . انڈیا کیا کر رہا ہے اور کیا نہیں کر رہا ، وہ اپنی جگہ لمحہ فکریہ ہے . مگر گزشتہ ٧٣ سالوں سے جو نا انصافیاں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے کی ، سیاسی جگتوں سے فارخ ہو کر ہمیں اپنے گریبانوں میں ضرور جھکنا چاہئے. اپ کے ذھن میں اس
سوال کا کیا جواب ہے ،وہ اپ لکھیں . جو میرے ذھن میں ہے ، وہ میں لکھتا ہوں

١- پنجابی سیاستدانوں نے قومی وسائل کی بندر بانٹ کر کے محرومیوں میں اضافہ کیا

مجھے پتا ہے اپ میں سے بہت لوگوں کو ہیڈلائن سے مرچیں لگیں گیں . ذہنی معذور اصل پوائنٹ کی جگہ اسی میں پھنس جائیں گے . وزیراعظم عمران خان نے حالیہ بلوچستان میں تقریر کرتے ہوا کہا تھا کے ماضی کی حکومتیں پنجاب سے الیکشن جیت جاتی تھیں لھذا کسی نے بھی وہاں تبدیلی کو کوئی شعوری کوشش نہیں کی . اس تلخ حقیقت کی وجہ سے وہاں شورش برپا ہوئی اور حالات کنٹرول سے باہر ہوے . رہی سہی کسر ، ایک عظیم قومی ایونٹ میں طاقت اور شراب کے نشے میں دھت دو پنجابی صحافیوں نے بھی وہاں جا کر نکال دی. انلوگوں کی ذاتی لڑائی ہنوز جاری ہے

یہی حال کشمیر اور گلگت بلدستان کا بھی ہے . کشمیر اور گلگت بلدستان میں سرمایا کاری کر کے ہم ان علاقوں کو سیاحوں کی جنت بنا سکتے تھے مگر بد قسمتی سے ایسا شعوری طور پر نہیں کیا گیا

جب شہباز شریف لاہور میں میٹرو ٹرین کا منصوبہ بنا رہے تھے ، میں نے سوشل میڈیا پر اسکے خلاف آواز اٹھائی تھی . اس منصوبے سے دوسرے صوبوں کی نفرتوں میں اضافہ ہو گا . شہباز شریف نے سی پیک کے ٣ ارب ڈالر اس منصوبہ میں جھونک دئے . سالانہ اخراجات اور سبسڈی ایک علیحدہ درد سر ہے اسکے علاوہ وفاق سے اربوں روپے پنجاب میں خرچ کر کے کمیشن بنائی گی جو آجکل اربوں روپے بینکوں کی ٹی ٹی کی صورت میں نکل رہے ہیں . اگر اتنی خطیر رقم کشمیر گلگت بلدستان میں خرچ کی جاتی تو ٹورسٹ انڈسٹری اپنے پیروں پر کھڑی ہو جاتی اور روزگار کے مواقع لوگوں کو میسر اتے . لوگوں کو ملازمت کے لئے کراچی ، پنجاب اور دوسروں ملکوں میں نہ جانا پڑتا

٢- احمق اسٹیبلشمنٹ

دنیا بھر میں یہ دیکھا جا سکتا ہے دنیا کا نظام تمام احمق اور کریمنل بیک گراؤنڈ کے لعنتی سیاستدانوں کا مافیاز چلا رہے ہیں . جب گلگت بلدستان کے الیکشن ختم ہوے تھے تو میں نے الیکشن کے انعقاد پر سوال اٹھایا تھا . مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت اپنا آخری بجٹ پیش کر چکی ہے . اگلے سال کے بجٹ کے ساتھ پاکستان میں الیکشن کی تیاری شروع ہو جائے گی . کوئی ان کنجروں سے پوچھے کشمیر اور گلگت بلدستان میں ایسے الیکشن کا فائدہ جب ماضی کی دو حکومتیں بدل گئی تھیں . جب الیکشن ہوتے ہیں تو مرکز والی پارٹی ان دونوں جگہوں پر جیت جاتی ہے اور محض دو سال بعد وہ پارٹی اپوزیشن بن جاتی ہے . اسطرح کے احمقانہ الیکشن سے مزید ١٠٠ سال ان علاقوں میں کچھ نہیں ہو گا . مرکزی الیکشن کے دو ، تین سال گزرنے کے بعد آخر ان علاقوں میں الیکشن کا کیا مقصد ہے ؟

٣- گزشتہ ٧٣ سالوں سے پاکستان ان علاقوں میں انویسٹ کیوں نہ کر سکا ؟

جس دور میں ہم رہ رہے ہیں وہ بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح ایک ہائبرڈ گورنمنٹ ہے . ہر آرمی چیف کے پاس ایک ڈنڈہ ہوتا ہے جسے پاکستان کے دشمنوں کی گانڈ میں دینے کی بجائے موصوف اس سے اپنی گانڈ ہی کھرک کے گزارہ کرتے نظر اتے ہیں . کرپشن وہ ناسور ہے جس سے بڑی بڑی دنیا کی امپائرز زمیں بوس ہو چکی ہیں . آجکل چلن یہ ہے کہ آرمی چیف کو کوئی کچھ نہ کہے اور موصوف سے من کے حساب سے این آر او لے کر چلتا بنے . مجھے ان سرکاری افسروں پر شدید افسوس ہوتا ہے جو دن رات ایک کر کے انویسٹیگیشن کرتے ہیں اور ٹنوں کے حساب سے کرپشن پر مبنی والیوم بنا کر عدالتوں کو دیتے ہیں اور عدالتیں شواہد کی موجودگی میں ٹیکنیکل بنیادوں پر فیصلے کرتی ہیں . جیسا کے پاکستان میں کالج / یونیورسٹی کے کامیاب نوجوان کے ساتھ ہوتا ہے . ان سے لاکھوں روپے فیس اینٹھ کر انھیں ڈگری کی بتی بنا کر دے دیا جاتا ہے. اسی طرح عدالتوں میں دیکھا گیا کہ تمام کاغذات کو بوریوں میں بند کر کے دریا برد کر دیا گیا تاکہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں وزیراعظم پاکستان کو سکون سے تقریر کرنے کا موقع ملے

جو قومی دولت بلوچستان ، کشمیر اور گلگت بلدستان میں لگنی چاہئے تھی وہ پنجابی اسٹیبلشمنٹ والے کھا گئے اور دوسری قوموں کے کرپٹ نمائندوں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا


٤- پاکستان متواتر جنگوں میں الجھا رہا

بدقسمتی سے تمام مسائل کے ساتھ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ رہا . افغانستان کی جنگ پاکستان کو لے ڈوبی . ہم گزشتہ ٢٠ سالوں سے اربوں ڈالر اور انسانی جانوں سے محروم ہوے . پاکستان کی جرنلوں نے سیاستدانوں کے ساتھ مل کر ہائبرڈ گوورنمنٹس چلائیں . پاکستان میں احتساب اور انصاف کا گلہ گھونٹ کر پاکستان کو کرپشن اور بد انتظامی کے اوج ثریا پر پونھچایا گیا . ہر سال پاکستان سے ١٠ ارب ڈالر کی قومی دولت منی لانڈرنگ ہوتی رہی اور سالانہ ٢٠ ارب ڈالر سے زیادہ قرضہ پاکستان پر چڑھایا گیا . آئی ایس آئی ستو پی کر سوتی رہی اور فائلز بناتی رہی تاکہ سیاستداؤں کو بلیک میل کر کے پارلیمنٹ میں وزیراعظم کو تقریر کا موقع فراہم کیا جا سکے . آرمی چیفس بنفس نفیس خود بھی اس عمل میں شامل رہے . توانائی کے منصوبوں پر اتنے بڑے گھپلے کے گئے کہ الامان الحفیظ . پاکستان کا اپنا وجود خطرے میں پڑ گیا . جو ریاست خود ناکام ہو گئی ہو وہ صوبوں کا گھنٹہ خیال رکھے گی ؟

یہاں پر تو طاقتوروں کو اپنے تحفظ کی سوچ سے فرصت نہیں ملتی ، پاکستانی زومبیز کی بات ہی چھوڑ دیں
کتنا فارغ وقت ہے انڈین اور پاکستانیوں کے پاس کہ اپنے اپنے “پسماندہ” ممالک سے بھاگ کر کینیڈا جیسے “فلاحی” ممالک میں پناہ لیتے ہیں اور وہاں جاکر پھر ایک دوسرے کے ساتھ نہ صرف یہ کہ لڑنا شروع کردیتے ہیں بلکہ فضول اور سطحی قسم کے اعتراضات کرکے پاکستان میں رہنے والوں کو بھاشن دیتے رہتے ہیں کہ آپ کو اپنا ملک یوں نہیں بلکہ یوں چلانا چاہیے۔
جب آپ نے ہر آرٹیکل میں ہر بات کا الزام فوج اور پنجاب پر ہی دینا ہوتا ہے تو برادرم ہر دوسرے دن بے پرکی اڑا کر اپنا قیمتی وقت کیوں برباد کرتے ہیں؟ہفتے میں ایک ہی بار آرٹیکل لکھیں اور اس میں لفظ پنجاب اور فوج لکھ کر آج تک پاکستان کے نظام کی ساری خرابیاں لکھیں اور نیچے لکھ دیں کہ ان سب خرابیوں کا ذمہ پنجاب اور فوج کے اوپر ہے۔اتنی زحمت مت اٹھایا کریں بھائی اور جہاں آپ مقیم ہیں ادھر کے معاشرے میں سرائیت کرجانے والی برائیوں اور جرائم کے بارے میں لکھیں تاکہ ہمارے دل میں اپنے ملک کے ساتھ کم از کم اتنی محبت جاگے جتنی اپنے ملک سے باہر رہنے والے ہر انڈین کے دل میں ہوتی ہے اور ہم اپنے ملک کو گالیاں دینے کے بجائے اس کی قدر کرنا سیکھیں۔
میرا سوال آپ سے ہے کہ کیا آپ کشمیر گئے ہیں؟اگر گئے ہیں تو آپ کو یقینی طور پہ نظر آیا ہوگا کہ آزاد کشمیر کا رقبہ مقبوضہ کشمیر کے مقابلے میں کم ہے اور وسائل بھی ادھر کے مقابلے میں کم ہیں کیونکہ آزاد کشمیر میں جو بھی ترقی ہوئی ہے وہ ڈوگرہ راج سے آزادی کے بعد پاکستان کے ساتھ ملنے کے بعد ہوئی ہے۔
پاکستان کی تخلیق کے وقت پاکستان کے پاس انگریزوں کے چھوڑے ہوئے کونسے اثاثے اور کونسی انڈسٹری تھی اور انڈیا کے پاس کتنا کچھ تھا اس کا مقابلہ زمین اور آسمان کے فرق جتنا ہے۔پاکستان نے اپنی فوج نئے سرے سے کھڑی کی اور وسائل نہ ہونے اور بقائی خطرات ہونے کی بنا پہ اسے امریکہ کی مدد سے اپنی فوج کو اس قابل بنانا پڑا کہ وہ انڈیا جیسی بڑی ریاست کے سامنے کم از کم اپنا وجود برقرار رکھ سکے۔اس میں پاکستان بہت حد تک کامیاب رہا ہے۔
اگر دستیاب وسائل کے لحاظ سے انڈیا کو دیکھیں تو استحکام اور نام نہاد جمہوری نظام ہونے کے باوجود آج بھی دنیا میں غرباء اور مفلسین کی ایک بہت بڑی تعداد انڈیا میں رہتی ہے۔ترقی صرف ان لوگوں نے کی جن کے کاروبار اور انڈسٹریز انگریزوں کے دور سے ہی جدت اور ترقی کی جانب جانا شروع ہوگئے تھے اور آج بھی انہی لوگوں کا انڈیا پہ قبضہ ہے۔
باقی نظام کو گالی دینا اور فوج کو رگیدنا بد قسمتی سے پاکستان میں فیشن بن چکا ہے۔یہاں ہر بندہ خود کو دانشور اور باقی بائیس کروڑ لوگوں کو چغد سمجھتا ہے۔پاکستان کی فکر ہے تو سب سے پہلے پاکستان سے محبت کرنا سیکھیں،اس کی تمام لسانی اکائیوں کی قدر کرنا سیکھیں،نظام کے اندر مثبت تبدیلیاں لانے کی سعی کریں اور اگر کچھ اچھا نہیں کرسکتے تو انتشار اور لسانی نفرت کے بیج مت بوئیں۔
میری مادری زبان بلوچی ہے اور پاکستان کے ایک پسماندہ علاقے سے میرا تعلق ہے،ملک سے باہر بھی کام کر چکا ہوں مگر مجھے پنجاب یا فوج سے کوئی شکایت نہیں ہے کیونکہ مجھے پنجاب میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے نہ صرف یہ کہ کوئی رکاوٹ نہیں نظر آئی بلکہ پاکستان کے نظام نے مجھے تمام تر بدعنوانی اور کرپشن کے باوجود مدد فراہم کی ۔میں صرف یہ دیکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں کہ میں اپنے ملک کے لیے اور اس کے نظام کی بہتری کے لیے کیا کرسکتا ہوں،سو وہی کرنے کی سعی کرتا ہوں۔باقی ہمیں عمران خان کی شکل میں ایک لیڈر مل چکا ہے جو ہمیں بہتری کی طرف لے کر جارہاہے اور اس چیز میں فوج بھی اس کا ساتھ دے رہی ہے۔آپ لسانیت کے زہریلے مرض میں مبتلا نظر آتے ہیں اور آپ کا علاج تو ہے مگر آپ خود علاج کروانا ہی نہیں چاہتے اس لیے پاکستانی آپ کو زومبیز ہی دکھائی دیں گے۔ویسے آپ کے آرٹیکل میں سوائے وہی پرانی گھسی پٹی ٹیپ کے اور کچھ بھی تعمیری نہیں ہوتا۔میں نے ۲-۳ ماہ بعد آپ کا آرٹیکل دیکھا مگر یقین کریں کہ آرٹیکل پڑھنے سے پہلے ہی مجھے اندازہ تھا کہ آپ نے کیا لکھا ہوگا ?
And Guess what:You didn’t disappoint me ?
 
Last edited:

kaka4u

Minister (2k+ posts)
سوال تو امرتسری گنجوں سے بنتا ہے جو نام کے کشمیری بنتے ہے سوائے حرام کھانے کے کچھ نہیں کیا
 

rehan459

MPA (400+ posts)
تم نے اپنے کشمیر میں کتنی یونیورسٹیز اور ائرپورٹس بنائے ؟

Logo.png


گزشتہ دنوں میں ٹورنٹو کا ایک انڈین پنجابی ریڈیو چنیل سن رہا تھا . پاکستان سے ایک پنجابی سورما نے انڈین ہوسٹ کو مقبوضہ کشمیر پر للکارا . یہ انڈین ہوسٹ بہت ہی زہین ہے جبکہ جذبہ جہاد سے لبریز اپنے بھائی کے پاس کوئی تیاری نہیں تھی . اس نے صرف دو سوالوں میں اسے بچھا لیا

١- کیا تم کبھی اپنے حصہ کےکشمیر میں گئے ہو ( جواب نہ میں تھا ) ؟
٢- پاکستان نے اپنے حصہ میں کتنے یونیورسٹیز اور ائرپورٹس بنائے ہیں ( اسکا کوئی جواب نہ تھا )؟

کشمیر میں الیکشن مہم کے سلسلے میں بلاول زرداری اور مریم صفدر جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں . آزاد کشمیر کے جلسوں میں دونوں خاندانوں کے مرد و زن کا الیکشن مہم میں شرکت محض تقریریں کر کے میڈیا اور سیاست میں زندہ رہنا ہے ۔ پنجابی میڈیا بھی مصروف رہے گا . ان دنوں پارٹیز نے آزاد کشمیر کے لئے کیا کیا ، نہ یہ خود بتائیں گے نہ میڈیا پوچھے گا. بلاول زرداری کشمیر میں کھڑے ہو کر شریف خاندان پر سیاسی جگتیں کس رہے ہیں اور مریم کو سیلفیوں سے فرصت نہیں . خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو . انڈیا کیا کر رہا ہے اور کیا نہیں کر رہا ، وہ اپنی جگہ لمحہ فکریہ ہے . مگر گزشتہ ٧٣ سالوں سے جو نا انصافیاں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے کی ، سیاسی جگتوں سے فارخ ہو کر ہمیں اپنے گریبانوں میں ضرور جھکنا چاہئے. اپ کے ذھن میں اس
سوال کا کیا جواب ہے ،وہ اپ لکھیں . جو میرے ذھن میں ہے ، وہ میں لکھتا ہوں

١- پنجابی سیاستدانوں نے قومی وسائل کی بندر بانٹ کر کے محرومیوں میں اضافہ کیا

مجھے پتا ہے اپ میں سے بہت لوگوں کو ہیڈلائن سے مرچیں لگیں گیں . ذہنی معذور اصل پوائنٹ کی جگہ اسی میں پھنس جائیں گے . وزیراعظم عمران خان نے حالیہ بلوچستان میں تقریر کرتے ہوا کہا تھا کے ماضی کی حکومتیں پنجاب سے الیکشن جیت جاتی تھیں لھذا کسی نے بھی وہاں تبدیلی کو کوئی شعوری کوشش نہیں کی . اس تلخ حقیقت کی وجہ سے وہاں شورش برپا ہوئی اور حالات کنٹرول سے باہر ہوے . رہی سہی کسر ، ایک عظیم قومی ایونٹ میں طاقت اور شراب کے نشے میں دھت دو پنجابی صحافیوں نے بھی وہاں جا کر نکال دی. انلوگوں کی ذاتی لڑائی ہنوز جاری ہے

یہی حال کشمیر اور گلگت بلدستان کا بھی ہے . کشمیر اور گلگت بلدستان میں سرمایا کاری کر کے ہم ان علاقوں کو سیاحوں کی جنت بنا سکتے تھے مگر بد قسمتی سے ایسا شعوری طور پر نہیں کیا گیا

جب شہباز شریف لاہور میں میٹرو ٹرین کا منصوبہ بنا رہے تھے ، میں نے سوشل میڈیا پر اسکے خلاف آواز اٹھائی تھی . اس منصوبے سے دوسرے صوبوں کی نفرتوں میں اضافہ ہو گا . شہباز شریف نے سی پیک کے ٣ ارب ڈالر اس منصوبہ میں جھونک دئے . سالانہ اخراجات اور سبسڈی ایک علیحدہ درد سر ہے اسکے علاوہ وفاق سے اربوں روپے پنجاب میں خرچ کر کے کمیشن بنائی گی جو آجکل اربوں روپے بینکوں کی ٹی ٹی کی صورت میں نکل رہے ہیں . اگر اتنی خطیر رقم کشمیر گلگت بلدستان میں خرچ کی جاتی تو ٹورسٹ انڈسٹری اپنے پیروں پر کھڑی ہو جاتی اور روزگار کے مواقع لوگوں کو میسر اتے . لوگوں کو ملازمت کے لئے کراچی ، پنجاب اور دوسروں ملکوں میں نہ جانا پڑتا

٢- احمق اسٹیبلشمنٹ

دنیا بھر میں یہ دیکھا جا سکتا ہے دنیا کا نظام تمام احمق اور کریمنل بیک گراؤنڈ کے لعنتی سیاستدانوں کا مافیاز چلا رہے ہیں . جب گلگت بلدستان کے الیکشن ختم ہوے تھے تو میں نے الیکشن کے انعقاد پر سوال اٹھایا تھا . مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت اپنا آخری بجٹ پیش کر چکی ہے . اگلے سال کے بجٹ کے ساتھ پاکستان میں الیکشن کی تیاری شروع ہو جائے گی . کوئی ان کنجروں سے پوچھے کشمیر اور گلگت بلدستان میں ایسے الیکشن کا فائدہ جب ماضی کی دو حکومتیں بدل گئی تھیں . جب الیکشن ہوتے ہیں تو مرکز والی پارٹی ان دونوں جگہوں پر جیت جاتی ہے اور محض دو سال بعد وہ پارٹی اپوزیشن بن جاتی ہے . اسطرح کے احمقانہ الیکشن سے مزید ١٠٠ سال ان علاقوں میں کچھ نہیں ہو گا . مرکزی الیکشن کے دو ، تین سال گزرنے کے بعد آخر ان علاقوں میں الیکشن کا کیا مقصد ہے ؟


٣- گزشتہ ٧٣ سالوں سے پاکستان ان علاقوں میں انویسٹ کیوں نہ کر سکا ؟

جس دور میں ہم رہ رہے ہیں وہ بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح ایک ہائبرڈ گورنمنٹ ہے . ہر آرمی چیف کے پاس ایک ڈنڈہ ہوتا ہے جسے پاکستان کے دشمنوں کی گانڈ میں دینے کی بجائے موصوف اس سے اپنی گانڈ ہی کھرک کے گزارہ کرتے نظر اتے ہیں . کرپشن وہ ناسور ہے جس سے بڑی بڑی دنیا کی امپائرز زمیں بوس ہو چکی ہیں . آجکل چلن یہ ہے کہ آرمی چیف کو کوئی کچھ نہ کہے اور موصوف سے من کے حساب سے این آر او لے کر چلتا بنے . مجھے ان سرکاری افسروں پر شدید افسوس ہوتا ہے جو دن رات ایک کر کے انویسٹیگیشن کرتے ہیں اور ٹنوں کے حساب سے کرپشن پر مبنی والیوم بنا کر عدالتوں کو دیتے ہیں اور عدالتیں شواہد کی موجودگی میں ٹیکنیکل بنیادوں پر فیصلے کرتی ہیں . جیسا کے پاکستان میں کالج / یونیورسٹی کے کامیاب نوجوان کے ساتھ ہوتا ہے . ان سے لاکھوں روپے فیس اینٹھ کر انھیں ڈگری کی بتی بنا کر دے دیا جاتا ہے. اسی طرح عدالتوں میں دیکھا گیا کہ تمام کاغذات کو بوریوں میں بند کر کے دریا برد کر دیا گیا تاکہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں وزیراعظم پاکستان کو سکون سے تقریر کرنے کا موقع ملے

جو قومی دولت بلوچستان ، کشمیر اور گلگت بلدستان میں لگنی چاہئے تھی وہ پنجابی اسٹیبلشمنٹ والے کھا گئے اور دوسری قوموں کے کرپٹ نمائندوں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا



٤- پاکستان متواتر جنگوں میں الجھا رہا

بدقسمتی سے تمام مسائل کے ساتھ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ رہا . افغانستان کی جنگ پاکستان کو لے ڈوبی . ہم گزشتہ ٢٠ سالوں سے اربوں ڈالر اور انسانی جانوں سے محروم ہوے . پاکستان کی جرنلوں نے سیاستدانوں کے ساتھ مل کر ہائبرڈ گوورنمنٹس چلائیں . پاکستان میں احتساب اور انصاف کا گلہ گھونٹ کر پاکستان کو کرپشن اور بد انتظامی کے اوج ثریا پر پونھچایا گیا . ہر سال پاکستان سے ١٠ ارب ڈالر کی قومی دولت منی لانڈرنگ ہوتی رہی اور سالانہ ٢٠ ارب ڈالر سے زیادہ قرضہ پاکستان پر چڑھایا گیا . آئی ایس آئی ستو پی کر سوتی رہی اور فائلز بناتی رہی تاکہ سیاستداؤں کو بلیک میل کر کے پارلیمنٹ میں وزیراعظم کو تقریر کا موقع فراہم کیا جا سکے . آرمی چیفس بنفس نفیس خود بھی اس عمل میں شامل رہے . توانائی کے منصوبوں پر اتنے بڑے گھپلے کے گئے کہ الامان الحفیظ . پاکستان کا اپنا وجود خطرے میں پڑ گیا . جو ریاست خود ناکام ہو گئی ہو وہ صوبوں کا گھنٹہ خیال رکھے گی ؟

یہاں پر تو طاقتوروں کو اپنے تحفظ کی سوچ سے فرصت نہیں ملتی ، پاکستانی زومبیز کی بات ہی چھوڑ دیں
Have you even been to the area where orange train is built?
 

باس از باس

MPA (400+ posts)
کتنا فارغ وقت ہے انڈین اور پاکستانیوں کے پاس کہ اپنے اپنے “پسماندہ” ممالک سے بھاگ کر کینیڈا جیسے “فلاحی” ممالک میں پناہ لیتے ہیں اور وہاں جاکر پھر ایک دوسرے کے ساتھ نہ صرف یہ کہ لڑنا شروع کردیتے ہیں بلکہ فضول اور سطحی قسم کے اعتراضات کرکے پاکستان میں رہنے والوں کو بھاشن دیتے رہتے ہیں کہ آپ کو اپنا ملک یوں نہیں بلکہ یوں چلانا چاہیے۔
جب آپ نے ہر آرٹیکل میں ہر بات کا الزام فوج اور پنجاب پر ہی دینا ہوتا ہے تو برادرم ہر دوسرے دن بے پرکی اڑا کر اپنا قیمتی وقت کیوں برباد کرتے ہیں؟ہفتے میں ایک ہی بار آرٹیکل لکھیں اور اس میں لفظ پنجاب اور فوج لکھ کر آج تک پاکستان کے نظام کی ساری خرابیاں لکھیں اور نیچے لکھ دیں کہ ان سب خرابیوں کا ذمہ پنجاب اور فوج کے اوپر ہے۔اتنی زحمت مت اٹھایا کریں بھائی اور جہاں آپ مقیم ہیں ادھر کے معاشرے میں سرائیت کرجانے والی برائیوں اور جرائم کے بارے میں لکھیں تاکہ ہمارے دل میں اپنے ملک کے ساتھ کم از کم اتنی محبت جاگے جتنی اپنے ملک سے باہر رہنے والے ہر انڈین کے دل میں ہوتی ہے اور ہم اپنے ملک کو گالیاں دینے کے بجائے اس کی قدر کرنا سیکھیں۔
میرا سوال آپ سے ہے کہ کیا آپ کشمیر گئے ہیں؟اگر گئے ہیں تو آپ کو یقینی طور پہ نظر آیا ہوگا کہ آزاد کشمیر کا رقبہ مقبوضہ کشمیر کے مقابلے میں کم ہے اور وسائل بھی ادھر کے مقابلے میں کم ہیں کیونکہ آزاد کشمیر میں جو بھی ترقی ہوئی ہے وہ ڈوگرہ راج سے آزادی کے بعد پاکستان کے ساتھ ملنے کے بعد ہوئی ہے۔
پاکستان کی تخلیق کے وقت پاکستان کے پاس انگریزوں کے چھوڑے ہوئے کونسے اثاثے اور کونسی انڈسٹری تھی اور انڈیا کے پاس کتنا کچھ تھا اس کا مقابلہ زمین اور آسمان کے فرق جتنا ہے۔پاکستان نے اپنی فوج نئے سرے سے کھڑی کی اور وسائل نہ ہونے اور بقائی خطرات ہونے کی بنا پہ اسے امریکہ کی مدد سے اپنی فوج کو اس قابل بنانا پڑا کہ وہ انڈیا جیسی بڑی ریاست کے سامنے کم از کم اپنا وجود برقرار رکھ سکے۔اس میں پاکستان بہت حد تک کامیاب رہا ہے۔
اگر دستیاب وسائل کے لحاظ سے انڈیا کو دیکھیں تو استحکام اور نام نہاد جمہوری نظام ہونے کے باوجود آج بھی دنیا میں غرباء اور مفلسین کی ایک بہت بڑی تعداد انڈیا میں رہتی ہے۔ترقی صرف ان لوگوں نے کی جن کے کاروبار اور انڈسٹریز انگریزوں کے دور سے ہی جدت اور ترقی کی جانب جانا شروع ہوگئے تھے اور آج بھی انہی لوگوں کا انڈیا پہ قبضہ ہے۔
باقی نظام کو گالی دینا اور فوج کو رگیدنا بد قسمتی سے پاکستان میں فیشن بن چکا ہے۔یہاں ہر بندہ خود کو دانشور اور باقی بائیس کروڑ لوگوں کو چغد سمجھتا ہے۔پاکستان کی فکر ہے تو سب سے پہلے پاکستان سے محبت کرنا سیکھیں،اس کی تمام لسانی اکائیوں کی قدر کرنا سیکھیں،نظام کے اندر مثبت تبدیلیاں لانے کی سعی کریں اور اگر کچھ اچھا نہیں کرسکتے تو انتشار اور لسانی نفرت کے بیج مت بوئیں۔
میری مادری زبان بلوچی ہے اور پاکستان کے ایک پسماندہ علاقے سے میرا تعلق ہے،ملک سے باہر بھی کام کر چکا ہوں مگر مجھے پنجاب یا فوج سے کوئی شکایت نہیں ہے کیونکہ مجھے پنجاب میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے نہ صرف یہ کہ کوئی رکاوٹ نہیں نظر آئی بلکہ پاکستان کے نظام نے مجھے تمام تر بدعنوانی اور کرپشن کے باوجود مدد فراہم کی ۔میں صرف یہ دیکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں کہ میں اپنے ملک کے لیے اور اس کے نظام کی بہتری کے لیے کیا کرسکتا ہوں،سو وہی کرنے کی سعی کرتا ہوں۔باقی ہمیں عمران خان کی شکل میں ایک لیڈر مل چکا ہے جو ہمیں بہتری کی طرف لے کر جارہاہے اور اس چیز میں فوج بھی اس کا ساتھ دے رہی ہے۔آپ لسانیت کے زہریلے مرض میں مبتلا نظر آتے ہیں اور آپ کا علاج تو ہے مگر آپ خود علاج کروانا ہی نہیں چاہتے اس لیے پاکستانی آپ کو زومبیز ہی دکھائی دیں گے۔ویسے آپ کے آرٹیکل میں سوائے وہی پرانی گھسی پٹی ٹیپ کے اور کچھ بھی تعمیری نہیں ہوتا۔میں نے ۲-۳ ماہ بعد آپ کا آرٹیکل دیکھا مگر یقین کریں کہ آرٹیکل پڑھنے سے پہلے ہی مجھے اندازہ تھا کہ آپ نے کیا لکھا ہوگا ?
And Guess what:You didn’t disappoint me ?

ماشاءالله ۔۔۔ گڈ اینڈ پازیٹیو رائیٹنگ

اچھا لکھا ہے۔۔۔ کوشش کر کے وقت نکال کے زیادہ نظر آیا کریں فورم پہ
 

Lubnakhan

Minister (2k+ posts)
This article is extremely biased!! By insulting punjabis and establishment, we will gain nothing! People can’t invest in Kashmir because the out sides can’t buy land in Kashmir! Topography is not favourable for building airports, not that Pakistan has enough resources!!kashmir has very high rate of literacy, more than any where in Pakistan.there is no organized deprivation of rights in Kashmir! If anyone ever asks what Pakistan has done in Kashmir , it’s verge human factor development that was only possible because of freedom they enjoy!
 

FahadBhatti

Chief Minister (5k+ posts)
Pak Kashmir area is 16-17 times smaller than India J&K and further most of the area is inaccessible - No. of Kashmiri muhajrine (mostly from Jammu when they were evicted in 47-48) is much more than that in proper IJK - about of a district.. India J&K has fertile valleys with historic agriculture and watering lakes. and There are 2 urban areas Mirpur and Muzaffarabad (both are newly built from small villages) with universities however Kashmiri gets education in whole Pakistan. Look at the actual demographics before going above with political commentary. baaqi aap ki marzi hey - your commentary is most of the times over the top and impulsive..
The area is big as pakistans punjab i think.
 

Syaed

MPA (400+ posts)
The area is big as pakistans punjab i think.
Total area of AJK is:13297 Km2 while Punjab has an area of 205344 Km2.India occupies a territory of 101338 Km2 with a lot of resources,old educational,trade(Jamu) and Tourist(Srinagar) centres.AJK is having a literacy rate in excess of 80%.Please remember that all these areas included in AJK were least developed under Dogra Rule and whatever development and commercialisation has taken place,it’s after independence from the Dogra Rule under Pakistan.
 

FahadBhatti

Chief Minister (5k+ posts)
The area is big as pakistans punjab i think.
Total area of AJK is:13297 Km2 while Punjab has an area of 205344 Km2.India occupies a territory of 101338 Km2 with a lot of resources,old educational,trade(Jamu) and Tourist(Srinagar) centres.AJK is having a literacy rate in excess of 80%.Please remember that all these areas included in AJK were least developed under Dogra Rule and whatever development and commercialisation has taken place,it’s after independence from the Dogra Rule under Pakistan.
I mean the total are of both the kasmirs , jammu and laddakh. Its 2.2 lac sq kms. Slightly more area than pakistans punjab.

if we minus ladakh then it becomes 1.6 lac sq kms.
 

Back
Top