تفتیش میں پیشی سے مستثنیٰ

Geek

Chief Minister (5k+ posts)
283689-NAWAZSHEHBAZcopy-1409292421-578-640x480.JPG


وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت دیگر 21افراد کے خلاف مقدمہ کی تفتیش آج انویسٹی گیشن انچارج کے سپرد کی جائے گی۔


انویسٹی گیشن انچارج آج اپنی پہلی ضمنی لکھے گا اس میں مقدمہ کے اندارج مختصر حالات اور وقوعہ کے بارے میں لکھا جائے گا۔ اس کے بعد وہ اپنے نوٹ میں لکھے گا کہ کیونکہ ایف آئی آر میں اعلیٰ افسران نامزد ہیں اس لیے وہ یہ تفتیش نہیں کرسکتا، تفتیش سرکل افسر کے پاس آئے گی اور وہ بھی یہی تحریر کرے گا، اس کے بعد تفتیش ڈی آئی جی انویسٹی گیشن، ایڈیشنل آئی جی جو کہ سی سی پی او لاہور کے پاس جائے گی جو اس کو کسی ایس پی یا پھر اس سے اوپر رینک کے افسر یا پھر کرائم برانچ میں ٹرانسفر کریں گے جہاں باقاعدہ تفتیش شروع ہوگی، مقدمہ میں وزیر اعظم، وزیراعلی، ارکان اسمبلی کو نامزد کیا گیا ہے جن کو قانون کے مطابق استثنیٰ حاصل ہوگا کہ وہ خود شامل تفتیش نہ ہوں، وہ اپنا بیان وکیل کے ذریعے تفتیشی افسر کو بھجوا سکتے ہیں جبکہ پولیس افسران کو خود شامل تفتیش ہونا پڑے گا، دوسری طرف بتایا گیا ہے کہ عام حالات میں کوئی قتل ہو تو دہشت گردی کی دفعات نہیں لگائی جاتیں۔



آج تک ایسے مقدمات میں دہشتگردی کی دفعات صرف مقدمہ کو مضبوط کرنے اور ملزمان کو ڈرانے دھمکانے کیلیے لگائی گئیں جنھیں عدالت نے ختم کردیا، پولیس ذرائع کے مطابق دفعہ155سی جلد بازی میں لگائی گئی، یہ دفعہ صرف انکوائری ہونے کے بعد قصور وار پائے جانے پر لگائی جاتی ہے جبکہ جس مقدمہ کی ابھی انکوئری شروع ہی نہیں ہوئی اس میں یہ دفعہ کیسے لگی، پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیش اور فوٹیج کے دوران فائرنگ کرتے نظر آنے والے تمام افسران ٹرائل کے بعد بری ہوجائیں گے کیونکہ اس بات کا تعین نہیں کیا جا سکے گا کہ کس کا فائر کس کو لگا ہے اور کونسی گولی کس گن سے چلی اور اس سے کوئی ہلاکت بھی ہوئی کہ نہیں، قانون ثبوت مانگتا ہے اور یہ ثبوت تاحال نہیں مل سکے، تفتیش کے آخر تک دونوں پارٹیوں میں صلح بھی ہوسکتی ہے کیونکہ دونوں اطراف سے مقدمات درج ہیں جس میں دونوں پارٹیوں کے افراد ملزمان ہیں، دونوں پارٹیوں کو تفتیش کا سامنا کرنا پڑے گا اور آخر کار خون بہا اداکرکے مقدمہ خارج کیا جائے گا۔

http://www.express.pk/story/283689/​
 

Admiral

Chief Minister (5k+ posts)
موجودہ قانون آڈیو یا ویڈیو ریکارڈنگ کو ثبوت تسلیم نہیں کرتا، کیونکہ موجودہ قانون ایک صدی پرانا ہے
اسی نقطے کو بنیاد بنا کر گلّو بٹ نے رہائی حاصل کی، ان کو بھی اسی طرح رہائی مل جائے گی


اسی قانونی سقم کی بِنا پر پاکستان میں عدالتیں طالبان کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دے سکیں
 

kakajee

Minister (2k+ posts)
Khhon-e-Nahaq kabhi zayaa nahin jata. This is what that has been promised by Allah and his passnger(PBUH) in the book too. There is a force that's keeping the universe intact by doing justice because otherwise murderers like Nawaz and Showbaaz would have made hell here. Inshallah their end is very very near and it will be a fitting one, Ibratnaak ( Inshallah)
 

Absent Mind

MPA (400+ posts)
موجودہ قانون آڈیو یا ویڈیو ریکارڈنگ کو ثبوت تسلیم نہیں کرتا، کیونکہ موجودہ قانون ایک صدی پرانا ہے
اسی نقطے کو بنیاد بنا کر گلّو بٹ نے رہائی حاصل کی، ان کو بھی اسی طرح رہائی مل جائے گی


اسی قانونی سقم کی بِنا پر پاکستان میں عدالتیں طالبان کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دے سکیں


Apki baat mein wazn hai.
 

jagga9

Chief Minister (5k+ posts)
پچھلی حکومت زرداری کو بچاتی رہی اور نواز لیگ زرداری کو بچاتی رہی


یہ حکومت گلو بٹ کو بچا رہی ہے اور اب زرداری ان کو بچا رہا ہی ..


یہ مک مکا نہیں ہے تو اور کیا ہے


ویسے بھی میاں صاحب کو کون سا فرق پڑتا ہے. مہران بینک سکینڈل سے لے کر آئی ایس آئی سے پیسے کھانے تک سبھی مقدموں سے بری تو ہو گئے .. نہیں ہوۓ تو سپریم کورٹ پر حملہ کر دیا . تو کیا ہوا یہی تو ہے جمہوریت . میں تمہارا چوری بچاؤں گا تم میری بچانا
 

Saeed4Truth

Minister (2k+ posts)
موجودہ قانون آڈیو یا ویڈیو ریکارڈنگ کو ثبوت تسلیم نہیں کرتا، کیونکہ موجودہ قانون ایک صدی پرانا ہے
اسی نقطے کو بنیاد بنا کر گلّو بٹ نے رہائی حاصل کی، ان کو بھی اسی طرح رہائی مل جائے گی


اسی قانونی سقم کی بِنا پر پاکستان میں عدالتیں طالبان کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دے سکیں
phr mubasher lucman ko kyon ragra gaya??? udhar b to video evidence hi tha.........
 

Admiral

Chief Minister (5k+ posts)
phr mubasher lucman ko kyon ragra gaya??? udhar b to video evidence hi tha.........

وہ تو اس نے جج کی دم پر پاؤں رکھ دیا تھا، جب ججز کا ذاتی مسئلہ ہو تو پھر ویڈیو کے بغیر بھی کام بن جاتا ہے
 

Night_Hawk

Siasat.pk - Blogger
وزیراعظم، وزیراعلیٰ، وزرا تفتیش میں پیشی

[h=1]وزیراعظم، وزیراعلیٰ، وزرا تفتیش میں پیشی سے مستثنیٰ ہونگے
[/h] سید مشرف شاہ جمعـء 29 اگست 2014

283689-NAWAZSHEHBAZcopy-1409292421-578-640x480.JPG

انویسٹی گیشن انچارج آج اپنی پہلی ضمنی لکھے گا اس میں مقدمہ کے اندارج مختصر حالات اور وقوعہ کے بارے میں لکھا جائے گا۔ فوٹو:فائل

لاہور: وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت دیگر 21افراد کے خلاف مقدمہ کی تفتیش آج انویسٹی گیشن انچارج کے سپرد کی جائے گی۔
انویسٹی گیشن انچارج آج اپنی پہلی ضمنی لکھے گا اس میں مقدمہ کے اندارج مختصر حالات اور وقوعہ کے بارے میں لکھا جائے گا۔ اس کے بعد وہ اپنے نوٹ میں لکھے گا کہ کیونکہ ایف آئی آر میں اعلیٰ افسران نامزد ہیں اس لیے وہ یہ تفتیش نہیں کرسکتا، تفتیش سرکل افسر کے پاس آئے گی اور وہ بھی یہی تحریر کرے گا، اس کے بعد تفتیش ڈی آئی جی انویسٹی گیشن، ایڈیشنل آئی جی جو کہ سی سی پی او لاہور کے پاس جائے گی جو اس کو کسی ایس پی یا پھر اس سے اوپر رینک کے افسر یا پھر کرائم برانچ میں ٹرانسفر کریں گے جہاں باقاعدہ تفتیش شروع ہوگی، مقدمہ میں وزیر اعظم، وزیراعلی، ارکان اسمبلی کو نامزد کیا گیا ہے جن کو قانون کے مطابق استثنیٰ حاصل ہوگا کہ وہ خود شامل تفتیش نہ ہوں، وہ اپنا بیان وکیل کے ذریعے تفتیشی افسر کو بھجوا سکتے ہیں جبکہ پولیس افسران کو خود شامل تفتیش ہونا پڑے گا، دوسری طرف بتایا گیا ہے کہ عام حالات میں کوئی قتل ہو تو دہشت گردی کی دفعات نہیں لگائی جاتیں۔
آج تک ایسے مقدمات میں دہشتگردی کی دفعات صرف مقدمہ کو مضبوط کرنے اور ملزمان کو ڈرانے دھمکانے کیلیے لگائی گئیں جنھیں عدالت نے ختم کردیا، پولیس ذرائع کے مطابق دفعہ155سی جلد بازی میں لگائی گئی، یہ دفعہ صرف انکوائری ہونے کے بعد قصور وار پائے جانے پر لگائی جاتی ہے جبکہ جس مقدمہ کی ابھی انکوئری شروع ہی نہیں ہوئی اس میں یہ دفعہ کیسے لگی، پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیش اور فوٹیج کے دوران فائرنگ کرتے نظر آنے والے تمام افسران ٹرائل کے بعد بری ہوجائیں گے کیونکہ اس بات کا تعین نہیں کیا جا سکے گا کہ کس کا فائر کس کو لگا ہے اور کونسی گولی کس گن سے چلی اور اس سے کوئی ہلاکت بھی ہوئی کہ نہیں، قانون ثبوت مانگتا ہے اور یہ ثبوت تاحال نہیں مل سکے، تفتیش کے آخر تک دونوں پارٹیوں میں صلح بھی ہوسکتی ہے کیونکہ دونوں اطراف سے مقدمات درج ہیں جس میں دونوں پارٹیوں کے افراد ملزمان ہیں، دونوں پارٹیوں کو تفتیش کا سامنا کرنا پڑے گا اور آخر کار خون بہا اداکرکے مقدمہ خارج کیا جائے گا۔