تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کا فوادچوہدری سے رابطے کاانکشاف

fah11i3hh36.jpg


پی ٹی آئی کے سابق وزیر فواد چوہدری کی جانب سے پی ٹی آئی کی سینئر قیادت پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے,جس پر موجودہ سینئر قیادت نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری سے رابطہ کرکے پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت پر تنقید نہ کرنے کی درخواست کردی, فواد چوہدری نے موجودہ پالیسی کے تحت سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی رہائی کو ناممکن قرار دے دیا۔

سینئر قیادت نے کہا ہمارا ایجنڈا سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو جلد رہا کرنا اور عوامی مینڈیٹ واپس دلانا ہے، جس پر فواد چوہدری اور پی ٹی آئی قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ صورتحال میں اپوزیشن کا متحد ہونا ضروری ہے۔پی ٹی آئی قیادت نے فواد چوہدری کی مثبت تجاویز پر غور کرنے کی یقین دہانی کراوئی۔

فواد چوہدری نے کہا بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے باہر نکلنے کا مطلب یہ نظام ہیک اپ ہے،جب وہ باہر آئے تو پشاور سے لاہور تک سر ہی سر ہوں گے,یہ نظام بانی چیئرمین کی رہائی برداشت نہیں کرسکتا,ہمیں بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو زبردستی نکالنا پڑے گا،اوورسیز پاکستانیوں کو سیلیوٹ پیش کرتے ہیں جس طرح وہ پی ٹی آئی کے لیے کھڑے ہوئے۔

فواد چوہدری نے پی ٹی آئی رہنماوں سے متعلق گفتگو میں کہا اسد قیصر، علی امین گنڈاپور نے مجھ سے رابطہ کیا،موجودہ پالیسی کے تحت اگلے 13 ماہ بھی بانی چیئرمین پی ٹی آئی جیل سے باہر نہیں نکل سکتے,اپوزیشن نے حکومت کو مجبور کرنا ہے کہ وہ آپ سے بات کرے,یہ حکومت سیاسی، اخلاقی اور قانونی اعتبار سے ہار چکی ہے،موجودہ قیادت بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو نہ کوئی مشورہ دے سکتی ہے نہ یہ معلومات صیحح پہنچا رہے ہیں،انہوں نے احتجاج کا موقع ضائع کردیا،9 مئی کو احتجاج کرنا بنتا تھا۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ شبلی فراز کی بانی چیئرمین پی ٹی آئی سے وفاداری میں کوئی شک نہیں،شبلی فراز خان صاحب کا بہت وفادار ہےلیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس میں صلاحیت کی کمی ہے,شبلی فراز ، روف حسن جیسے لوگوں نے کوئی قربانی نہیں دی،بیرسٹر گوہر ایک شریف آدمی ہیں لیکن ان میں سیاست کی اتنی صلاحیت نہیں ہے،شاہ محمود قریشی اور چوہدری پرویز الٰہی جیسے لوگوں کو تھوڑی سی بھی سپیس ملے تو حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا تحریک انصاف آج جو کچھ بھی ہے وہ نیشنل اسمبلی اور پنجاب اسمبلی سے باہر نکلنے کی وجہ سے ہے،نظام کے اندر رہ کر نہیں لڑا جاسکتا،اسمبلیاں توڑنے کا فیصلہ بہترین تھا,جہاں اسمبلیاں تحلیل نہیں کیں وہاں کیا حال ہوا پارٹی کا؟؟