تحریک انصاف نومئی سے کچھ بڑا کرنے کے درپے ہے،انصارعباسی

Kashif Rafiq

Prime Minister (20k+ posts)
9mayapti1h1.jpg


اگر عمران خان بند گلی میں کھڑے نظر آتے ہیں تواسٹیبلشمنٹ کیلئے بھی صورتحال کوئی زیادہ بہتر نہیں۔ ان دونوں کی لڑائی میں اگرچہ عمران خان ہی کمزور نظر آتے ہیں لیکن یہ کہنا کہ اسٹیبلشمنٹ یہ لڑائی جیت چکی غلط تجزیہ ہوگا۔

اسٹیبلشمنٹ کیلئے سیاسی معاملات سے پیچھے ہٹنا ہی سب سے بہترین رستہ ہے لیکن عمران خان اور پی ٹی آئی فوج اور فوج کی اعلیٰ قیادت سے لڑائی ختم کرنے پر تیار ہی نہیں جس کی وجہ سے یہ لڑائی تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ 9 مئی کے واقعہ پر معافی مانگنا تو کجا، اب تو عمران خان اور تحریک انصاف کے سوشل میڈیا بیانات اور پوسٹس کو دیکھ کر خوب محسوس ہوتا ہے کہ تحریک انصاف 9 مئی سے بھی کچھ بڑا کرنے کے درپے ہے، جس خطرے کا میں نے اپنے گزشتہ کالم میں بھی اظہار کیا تھا۔

ایک سال گزرنے کے بعد بھی فوج 9 مئی کے ملزمان کو عدالتوں کی طرف سے سزائیں دیے جانے کے انتظار میں ہے لیکن ایسا ہوتا بھی نظر نہیں آ رہا بلکہ عدلیہ کی طرف سے دوسرے مقدمات کی طرح عمران خان سمیت 9 مئی کے واقعات میں نامزد ملزمان کو ریلیف ملتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

گزشتہ ہفتہ ایک طرف فارمیشن کمانڈرز کانفرنس (جو فوج کی تمام اعلیٰ قیادت پر مشتمل ہوتی ہے) نے مطالبہ کیا کہ 9 مئی کے ملزمان کو سزائیں دی جائیں تو دوسری طرف اسلام آباد کی ایک عدالت نے عمران خان کو 9 مئی کے دو مقدمات میں بری کر دیا۔ 9 مئی کس نے کیا، کس کس کی وڈیوز اور آڈیوز سامنے آئیں، کس کس نے عوام کو اشتعال دلایا اور جی ایچ کیو، لاہور کور کمانڈر ہاؤس اور دوسرے فوجی علاقوں میں احتجاج کی کال دی، وہاں جلائو گھیرائو کیا سب کچھ سب پر واضح ہے لیکن ہمارا عدل وانصاف کا نظام کس قابل ہے یہ بھی سب پر عیاں ہے۔

ایک ایسی صورتحال میں جب عمران خان اور پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا فوج اورفوجی قیادت پر نئے نئے حملے کر رہا ہے، اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے پیچھے ہٹنا ممکن نظر نہیں آتا اور یوں یہ لڑائی آگے ہی آگے بڑھتی جا رہی ہے۔ اس لڑائی، جس کا نقصان دونوں فریقوں کے ساتھ ساتھ یقیناً پاکستان کو بھی ہو رہا ہے، کو روکنے کیلئے ضروری ہے کہ عمران خان ٹکراؤ کی اس پالیسی سے پیچھے ہٹیں، جو ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔

ان حالات میں اسٹیبلشمنٹ کیلئے جو چوائس بچتی ہے وہ صرف یہی ہے کہ معاشی طور پر پاکستان کو مشکلات سے نکالا جائے۔ موجودہ حکومت، جسے اسٹیبلشمنٹ کی ایکسٹینشن کے طور پر دیکھا جاتا ہے، کو مجبور کیا جائے کہ وہ معیشت کو سدھارنے کیلئے دن رات ایک کر دے، جو بڑے اور مشکل فیصلے کرنے ہیں کرے، جو جو اصلاحات لانی ہیں وہ لائے۔ عوام کو ریلیف دینے کیلئے اگر ایک طرف مہنگائی میں کمی لائی جائے تو دوسری طرف گورننس کو بہتر بنایا جائے تاکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی عوام دوست ہو اور وہ لوگوں کے روزمرہ مسائل حل کرنے کیلئے یکسو ہوں۔

اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد عمران خان اور پی ٹی آئی کی کوشش رہی اور اب بھی ہے کہ معاشی بحران بڑھے، معیشت نہ سنبھلے، نہ آئی ایم ایف پاکستان کو قرضہ دے، نہ دوست ممالک یہاں سرمایہ کاری کریں تاکہ ایک بحران پیدا ہو جس کا تحریک انصاف سیاسی فائدہ اُٹھائے اور موجودہ حکومت اوراسٹیبلشمنٹ ناکام ہو کر پیچھے ہٹ جائیں۔

ایس آئی ایف سی بھی عمران خان اور تحریک انصاف کے نشانے پر ہیں۔

گویا معیشت اور گورننس کی کامیابی یا ناکامی کا عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان لڑائی سے گہرا تعلق ہے۔ اگر معیشت اچھی ہوتی ہے اور گورننس بہتر ہوتی ہے تواسٹیبلشمنٹ یہ لڑائی جیت سکتی ہے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو عمران خان کا سیاسی بیانیہ ہی چلے گا اور اُنہیں آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

 

Dr Adam

Prime Minister (20k+ posts)

منافق صاب! آپکا نو مئی چوہدری نظام دین، اسکے غنڈوں، نواز شریف/مریم نواز اور انکے گلو بٹوں نے کیا تھا، اس سے پی ٹی آئی کا دور پرے کا بھی واسطہ نہیں . اب بھی اگر کچھ ہوا تو یہی غنڈے کریں گے . تحریک انصاف ایک مہذب اور امن پسند سیاسی جماعت ہے
 

rizhussain44

MPA (400+ posts)
Lekin 9 May PTI nay to kiya hi nabi... Matlab jinho nay asal mai 9 May kiya woh ab ek aur false flag operation karnay walay hain.
 

Salman Mughal

Minister (2k+ posts)
May 9th Kerwaya Bagairattt Khussrroon ne hai toh Maafffii be Khussron ko he Mangni chahye

Khussraay Sachay Dil se Maafi Maanagain aur apni chowkidari ka kaam sambhalain so Awaaam Maaaf be ker de gi Magar ab Mazeeeed bewaqqooof nahi banaya jasakta Awaaam ko.

Badshah ko NanGa naachtay beech chorahay per sab ne dekh lia hai so Badshah mazeeed apna aur Awaaam ka waqt zaaya nah karay. Zaleeel o Khuwaaarr he hoga.

Badshah ko shoqq hai toh ek baar Pechlaay Khusray Badshah ko World Cup dekhanay bhej de Amreeeekkaa Lag pata jaye gha
 

exitonce

Chief Minister (5k+ posts)
اسٹبلشمنٹ وڑ گئی اور اسکے پالتو کتے بھی وڑ جائیں گے انشا اللہ۔ جنرل نانی اور جنرل زانئ سب وڑ جائیں گے جہاں سے نکلے تھے
Ya sub ho jaiye ga, bus awam zara housla kar lay.
 

crankthskunk

Chief Minister (5k+ posts)
Pakistan's biggest shame and problem is that Abbasi, Sethi and Fat arse licker are its "Senior Journalists".
How did they reached there, is the main reason Pakistan is in doldrums. Their odour has polluted the atmosphere so much for so long that now everything in Pakistan stinks. No chance of betterment, unless the slates are wiped clean and these criminals are moved to the side.
 

Design2282

Citizen
یہ سیاسی غلاظت میں لتھڑے ہُوۓ بکاؤ دانشور پوری کوشش کر رہے ہیں کہ عمران خان باہر نہ آنے پاۓ ، یہ حرام خور بابے میاں سانپ کے پالے ہُوۓ ہیں
 

Azpir

MPA (400+ posts)
9mayapti1h1.jpg


اگر عمران خان بند گلی میں کھڑے نظر آتے ہیں تواسٹیبلشمنٹ کیلئے بھی صورتحال کوئی زیادہ بہتر نہیں۔ ان دونوں کی لڑائی میں اگرچہ عمران خان ہی کمزور نظر آتے ہیں لیکن یہ کہنا کہ اسٹیبلشمنٹ یہ لڑائی جیت چکی غلط تجزیہ ہوگا۔

اسٹیبلشمنٹ کیلئے سیاسی معاملات سے پیچھے ہٹنا ہی سب سے بہترین رستہ ہے لیکن عمران خان اور پی ٹی آئی فوج اور فوج کی اعلیٰ قیادت سے لڑائی ختم کرنے پر تیار ہی نہیں جس کی وجہ سے یہ لڑائی تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ 9 مئی کے واقعہ پر معافی مانگنا تو کجا، اب تو عمران خان اور تحریک انصاف کے سوشل میڈیا بیانات اور پوسٹس کو دیکھ کر خوب محسوس ہوتا ہے کہ تحریک انصاف 9 مئی سے بھی کچھ بڑا کرنے کے درپے ہے، جس خطرے کا میں نے اپنے گزشتہ کالم میں بھی اظہار کیا تھا۔

ایک سال گزرنے کے بعد بھی فوج 9 مئی کے ملزمان کو عدالتوں کی طرف سے سزائیں دیے جانے کے انتظار میں ہے لیکن ایسا ہوتا بھی نظر نہیں آ رہا بلکہ عدلیہ کی طرف سے دوسرے مقدمات کی طرح عمران خان سمیت 9 مئی کے واقعات میں نامزد ملزمان کو ریلیف ملتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

گزشتہ ہفتہ ایک طرف فارمیشن کمانڈرز کانفرنس (جو فوج کی تمام اعلیٰ قیادت پر مشتمل ہوتی ہے) نے مطالبہ کیا کہ 9 مئی کے ملزمان کو سزائیں دی جائیں تو دوسری طرف اسلام آباد کی ایک عدالت نے عمران خان کو 9 مئی کے دو مقدمات میں بری کر دیا۔ 9 مئی کس نے کیا، کس کس کی وڈیوز اور آڈیوز سامنے آئیں، کس کس نے عوام کو اشتعال دلایا اور جی ایچ کیو، لاہور کور کمانڈر ہاؤس اور دوسرے فوجی علاقوں میں احتجاج کی کال دی، وہاں جلائو گھیرائو کیا سب کچھ سب پر واضح ہے لیکن ہمارا عدل وانصاف کا نظام کس قابل ہے یہ بھی سب پر عیاں ہے۔

ایک ایسی صورتحال میں جب عمران خان اور پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا فوج اورفوجی قیادت پر نئے نئے حملے کر رہا ہے، اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے پیچھے ہٹنا ممکن نظر نہیں آتا اور یوں یہ لڑائی آگے ہی آگے بڑھتی جا رہی ہے۔ اس لڑائی، جس کا نقصان دونوں فریقوں کے ساتھ ساتھ یقیناً پاکستان کو بھی ہو رہا ہے، کو روکنے کیلئے ضروری ہے کہ عمران خان ٹکراؤ کی اس پالیسی سے پیچھے ہٹیں، جو ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔

ان حالات میں اسٹیبلشمنٹ کیلئے جو چوائس بچتی ہے وہ صرف یہی ہے کہ معاشی طور پر پاکستان کو مشکلات سے نکالا جائے۔ موجودہ حکومت، جسے اسٹیبلشمنٹ کی ایکسٹینشن کے طور پر دیکھا جاتا ہے، کو مجبور کیا جائے کہ وہ معیشت کو سدھارنے کیلئے دن رات ایک کر دے، جو بڑے اور مشکل فیصلے کرنے ہیں کرے، جو جو اصلاحات لانی ہیں وہ لائے۔ عوام کو ریلیف دینے کیلئے اگر ایک طرف مہنگائی میں کمی لائی جائے تو دوسری طرف گورننس کو بہتر بنایا جائے تاکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی عوام دوست ہو اور وہ لوگوں کے روزمرہ مسائل حل کرنے کیلئے یکسو ہوں۔

اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد عمران خان اور پی ٹی آئی کی کوشش رہی اور اب بھی ہے کہ معاشی بحران بڑھے، معیشت نہ سنبھلے، نہ آئی ایم ایف پاکستان کو قرضہ دے، نہ دوست ممالک یہاں سرمایہ کاری کریں تاکہ ایک بحران پیدا ہو جس کا تحریک انصاف سیاسی فائدہ اُٹھائے اور موجودہ حکومت اوراسٹیبلشمنٹ ناکام ہو کر پیچھے ہٹ جائیں۔

ایس آئی ایف سی بھی عمران خان اور تحریک انصاف کے نشانے پر ہیں۔

گویا معیشت اور گورننس کی کامیابی یا ناکامی کا عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان لڑائی سے گہرا تعلق ہے۔ اگر معیشت اچھی ہوتی ہے اور گورننس بہتر ہوتی ہے تواسٹیبلشمنٹ یہ لڑائی جیت سکتی ہے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو عمران خان کا سیاسی بیانیہ ہی چلے گا اور اُنہیں آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

Munafiq e azam. Ansar Abbasi