بے لگام میڈیا

Afaq Chaudhry

Chief Minister (5k+ posts)

images




تجربے کی بات ہے، کوئی ایک واقعہ کسی کی عزت میں اضافے اور کسی کو ذلیل کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ ارسلان افتخارکیس میں بھی ایسا ہی ہوا۔ لوگوں کے دلوں میں چیف جسٹس کا احترام مزید بڑھ گیا، جبکہ سازشی عناصر منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ ارسلان اسکینڈل کو میڈیا کے بعض لوگ منصوبہ بندی کے تحت منظرعام پر لائے تھے۔ ثبوت اور گواہوں کی عدم موجودگی کے باوجود معاملے کو جس طرح اچھالا گیا، اسے کسی بھی معقول شخص نے اچھی نظر سے نہیں دیکھا۔ میڈیا کے اندر کے لوگ بھی اس صورت حال پر خوش نہیں تھے، اندرون خانہ کچھ لوگوں نے زبان بھی کھولی مگر ’’دبنگ‘‘ اینکروں کے سامنے ان کی ایک نہ چلی۔ میڈیا کے اس انتہائی غیرمحتاط کردار پر عدالت عظمیٰ نے بھی تنقید کی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میںمیڈیا کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔

ارسلان اسیکنڈل نے سیاست دانوں، سابق اعلیٰ فوجی افسروں اور بیوروکریٹوں کو تو بے نقاب کیا سو کیا، یہ کیس صحافت پر بھی ایٹم بم بن کر گرا ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے دو معروف ’’اصول پسند‘‘ اینکروں کی خفیہ ویڈیو نے زلزلے کا کام کیا ہے، جس سے صحافت کے درودیوار ہل کر رہ گئے ہیں۔ اب ہر طرف سے احتساب، احتساب کی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔ ایسا نہیں کہ پرنٹ میڈیا میں سارے فرشتے بیٹھے ہیں، اخبارات میں بھی بعض لوگ خبریں لگانے کے لیے پیسے لیتے ہیں، پولیس سب سے ’’منتھلی‘‘ لیتی ہے، مگر ہمارے کئی کرائم رپورٹر بھائی پولیس سے منتھلی وصول کرتے ہیں۔ اس سب کچھ کے باوجود برقی ذرائع ابلاغ نے جو دھماچوکڑی مچائی ہے اس پر اخبارات کے کماؤ پوتوں نے بھی کان پکڑ لیے ہیں۔
پاکستان میںبرقی ذرائع ابلاغ کی عمر تقریباً 10برس ہے، یہ ایک شریر بچے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ جیسے شریر بچہ کسی کا جوتا لے اڑتا ہے، کسی کو چٹکی بھرلیتا ہے، کسی کو پتھر دے مارتا ہے، بدقسمتی سے یہی کچھ الیکٹرانک میڈیا کررہا ہے۔ اس کا مقصد پگڑیاں اچھالنا، معاشرے کے مختلف طبقات کو لڑانا اور منفی رجحانات کو فروغ دینا ہوکر رہ گیا ہے۔ اس صورت حال پر جب بھی کسی نے احتجاج کیا یا احتساب کی بات کی، میڈیا اسے اپنی آزادی کے خلاف سازش قرار دے کر ٹال گیا۔

آج کل ’’بڑے بڑے‘‘ صحافی ملک ریاض سے مال بٹورنے کے الزامات کی زد میں ہیں۔ صحافی خود کو بڑا معتبر سمجھتے ہیں مگر المیہ دیکھیے کم ازکم مجھے تو کوئی ایک بھی ایسا شخص نہیں ملا جو یہ کہتا ہو کہ ان ’’صحافیوں‘‘ نے پیسے نہیں لیے ہوںگے، یعنی ہر شخص کو یقین ہے کہ ان لوگوں نے ملک ریاض کی گنگا میں نہایا نہیں تو ہاتھ منہ ضرور دھویا ہے۔ جو لوگ الزامات کی زد میں ہیں، وہ کالموں اور ٹی وی پروگراموں کے ذریعے اپنی صفائیاں پیش کررہے ہیں۔ ایک صاحب نے لکھا ہے میں 22 گھنٹے کام کرتا ہوں، دنیا کی 10بڑی سافٹ ویئر کمپنیوں میں سے ایک میری ہے، اس کے علاوہ بھی کئی کاروبار ہیں، میری محنت کو ملک ریاض کے کھاتے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ ان ہی صاحب نے ایک جگہ لکھا ہے کہ 12سال پہلے میرے پاس لاہور سے کراچی آنے کا بھی کرایہ نہیں تھا۔ کوئی ان سے پوچھے، کیا یہ کروڑوں کا کاروبار محض اخبارات اور 4سال کی الیکٹرانک میڈیا کی ملازمت سے حاصل ہونے والی تنخواہ سے بنا ہے؟

اخبارات سے وابستہ افراد جانتے ہیں کہ آج کل دوسروں سے کالم لکھواکر اپنے نام سے لگوانا بڑے لوگوں میں ’’فیشن‘‘ بن چکا ہے۔ دو برس قبل ایک اخبار کے گروپ ایڈیٹر نے استعفاء دیتے ہوئے لکھا تھا کہ ہمارے اخبار کے ادارتی صفحے پر معروف صنعت کاروں کے نام سے جو کالم چھپتے ہیں وہ ان کے لکھے ہوئے نہیں ہوتے، مگر عملے کی ملی بھگت سے تاجروں کو بھی کالم کاروں اور صحافیوں کی صف میں کھڑا کردیا گیا ہے۔ ایک اور صاحب جو آج کروڑوں سے کم کی بات نہیں کرتے، انہوںنے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ غربت کی وجہ سے سوکھی روٹی کو پانی میں بھگو کر نمک مرچ ڈال کر کھاتے تھے۔ یہ تو ممکن ہے کوئی شخص مسلسل محنت سے پندرہ، بیس سال میں اچھا کاروبار سیٹ کرلے، مگر حقیقت یہ ہے کہ آج کے کروڑ پتی صحافی اور اینکر چند برس قبل تک لکھ پتی بھی نہیں تھے۔ ٹی وی چینلوں سے پہلے یہ لوگ اخبارات میں کام کرتے تھے، جہاں ان کی تنخواہ زیادہ سے زیادہ 25ہزار تک ہوگی۔ اگر چینلوں میں آکر تنخواہ بڑھی ہے تو اسی حساب سے اخراجات میں بھی تو اضافہ ہوا ہے۔ یہ لوگ لاکھ انکار کریں، وضاحتیں کریں مگر ان کی آمدن اور معیارزندگی میں جو فرق ہے وہ دال کو کالی ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔

سوال یہ ہے اس ساری صورت حال میں کیا کیا جائے؟ اس وقت بطور صحافی جو چہرے صبح وشام عوام کے سامنے ہوتے ہیں، ان میں سے ایسے بھی ہیں جنہیں صحافت کا کوئی تجربہ نہیں، سفارش یا کسی اور وجہ سے یہ اینکر بن بیٹھے اور چند پروگراموں کے بعد خودبخود ’’سینئرصحافی‘‘ بن گئے۔ اب وقت آگیا ہے کہ صحافی کی کوئی واضح تعریف طے کی جائے۔ دوسری بات، صحافیوں کے احتساب کے مطالبے کو منطقی انجام تک پہنچایا جانا ضروری ہے، یہ احتساب شفاف اور نظر آنے والا ہونا چاہیے۔ چند برس قبل مرحوم غلام سرور اعوان ایک پریس کلب میں آئے، جاتے ہوئے انہوںنے رپورٹروں میں لفافے تقسیم کیے، جسے لینے کے لیے یہ حضرات ایسے ٹوٹ پڑے جیسے بچے بارات میں پیسے لوٹتے ہیں، جب شور مچا تو تحقیقاتی ٹیم نے اعوان صاحب کے پریس کلب میں داخلے پر پابندی عاید کردی مگر لفافے وصول کرنے والوں کو کچھ نہیں کہا گیا، وہ آج بھی ’’صحافی رہنما‘‘ بنے ہوئے ہیں۔ اگر اسی طرح کا کوئی احتساب کرنا ہے، جس میں صرف پیسے دینے والے کو مجرم ٹھہرا کر معاملہ لپیٹ دیا جائے تو شاید یہ احتساب ڈراما عوام کو ہضم نہیں ہوپائے گا۔
ہماری قومی روایات کے مطابق عین ممکن ہے کہ ہرگزرتے دن کے ساتھ لوگ ارسلان کیس اور اینکروں کو بھول جائیں، مگر چند افراد کی وجہ سے ہزاروں صحافیوں کی ساکھ کو جو نقصان پہنچا ہے، کیا اہل صحافت کو بھی اسے بھلا دینا چاہیے؟

 
Last edited: