بچوں کے سامنے جانور ذبح کرنے کے نقصانات

M_Shameer

MPA (400+ posts)
پاکستان جیسے اسلامی معاشروں میں نہ صرف عید الاضحیٰ کے دن بلکہ عام دنوں میں بھی جانوروں کو کھلے عام ذبح کیا جاتا ہے۔ مارکیٹ میں سب کے سامنے مرغیوں کے گلے کاٹ کاٹ کر ان کو ڈرموں میں پھینکا جارہا ہوتا ہے اور اس بات کا ذرا بھی خیال نہیں رکھا جاتا کہ کم از کم بچوں کے سامنے جانوروں کو ذبح کرنے سے گریز کیا جائے۔ بہت سے ماں باپ تو ثواب سمجھ کر عید الاضحیٰ کے دن اپنے بچوں کو جانور کے پاس لے آتے ہیں چاہے بچے کی عمر جتنی بھی ہو اور اس کے سامنے جانور کا گلا کاٹا جاتا ہے، جانور تڑپتا ہے، خون میں لت پت ہوتا ہے، اور بچے یہ منظر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

بچوں کی نفسیات پر یہ خون خرابا اور وائلنس بہت منفی اثر ڈالتا ہے۔ ایسے معاشرے میں پروان چڑھنے والے بچے رفتہ رفتہ زندگی کے بارے میں بے حس ہوجاتے ہیں، ایسے معاشروں میں انسان کا گلا کاٹنا بھی عام بات ہوجاتی ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جن معاشروں میں جانوروں کو کھلے عام ذبح کیا جاتا ہے، ان معاشروں میں وائلنس زیادہ ہوتا ہے۔ پاکستان کی ہی مثال لے لیں، پاکستان میں کسی انسان کو مارنا کوئی بڑی بات نہیں سمجھی جاتی، بلکہ ایک انسان کی موت تو کوئی خبر ہی نہیں ہوتی۔ لوگ معمولی معمولی بات پر ایک دوسرے کو مار کاٹ دیتے ہیں۔ آئے روز خبریں آتی ہیں کہ فلاں جگہ پچاس روپے کیلئے فلاں کا قتل ہوگیا، یا کھیتوں کو پانی لگانے کے تنازعے پر بیس قتل ہوگئے۔ اس کے مقابلے میں آپ مغربی معاشروں کی مثال لے لیں، وہاں جانوروں کو پبلک میں ذبح نہیں کیا جاتا۔ پرائیویٹ سلاٹر ہاؤسز میں بھی جانور کو تکلیف دے کر ذبح نہیں کیا جاتا بلکہ ان کو پہلے سٹن کیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ان کے معاشروں میں بے حسی نہیں پائی جاتی، زندگی کی قدر کی جاتی ہے، چاہے وہ انسان کی ہو یا جانور کی۔ وہاں آپ کو لوگ آپس میں اس طرح لڑتے بھڑتے یا خون خرابا کرتے نظر نہیں آئیں گے جس طرح ہمارے ملک میں یا دیگر اسلامی ملکوں میں ہوتا ہے۔ ویسٹ میں آپ سوچ نہیں سکتے لوگ جانوروں سے کس قدر پیار کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں اگر کہیں کوئی زخمی کتا یا بلی کا بچہ کہیں نظر آجائے تو ہمارے معاشرے کے بچے اس کو پتھر مار مار کر مار دیتے ہیں جبکہ ویسٹ میں چھوٹے چھوٹے بچے اتنے کیئرنگ ہوتے ہیں کہ کہیں کوئی جانور تکلیف میں ہو تو اس کو بچانے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ ایک چھوٹی سی بچی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس کو جب پتا چلا کہ گوشت کہاں سے آتا ہے تو اس نے ہر قسم کا گوشت کھانے سے ہی انکار کردیا۔ اس کے بقول جانوروں کو مار کر کھانا غلط عمل ہے۔ ہمارے معاشروں میں آپ کو ایسے بچے نظر نہیں آئیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ معاشرے کوالٹی آف لائف کے اعتبار سے ہمارے معاشروں سے 100 سال آگے ہیں۔


اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے معاشروں میں بھی زندگی کو ویلیو کیا جائے تو یہ از حد ضروری ہے کہ جانوروں کو پبلک مقامات پر ذبح نہ کیا جائے ۔ عید الاضحیٰ پر ایک عجیب ماحول بنا ہوتا ہے، ہر شخص ہاتھ میں لمبا سا تیز دھار چھرا پکڑ کر جانوروں کے پیچھے بھاگ رہا ہوتا ہے، گلیوں، بازاروں اور چوکوں میں خون کی ندیاں بہہ رہی ہوتی ہیں، ایسا لگتا ہے اچانک ہم کسی وحشی زمانے میں پہنچ گئے ہیں۔ جب آپ جانوروں کو اس طرح ٹریٹ کریں گے تو آپ کے معاشرے میں انسانوں کی زندگی کی بھی کوئی ویلیو نہیں رہ جائے گی۔ ایک مشہور فلاسفر کا کہنا ہے اگر آپ کسی معاشرے کی کوالٹی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو یہ دیکھیں کہ اس معاشرے میں جانوروں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے۔۔


Animal-sacrifice.jpg
 

Meme

Minister (2k+ posts)
😂
جی بالکل، پاکستان میں قربانی ہی وجہ ہے کہ امریکہ میں سالانہ 600 سے زائد
mass shooting
کے واقعات ہوتے ہیں، مجموعی طور پر روز دو واقعات ۔۔

اور سال میں 200 سے زائد
school mass shooting
کے واقعات ہوتے ہیں۔
 

Meme

Minister (2k+ posts)
پاکستان جیسے اسلامی معاشروں میں نہ صرف عید الاضحیٰ کے دن بلکہ عام دنوں میں بھی جانوروں کو کھلے عام ذبح کیا جاتا ہے۔ مارکیٹ میں سب کے سامنے مرغیوں کے گلے کاٹ کاٹ کر ان کو ڈرموں میں پھینکا جارہا ہوتا ہے اور اس بات کا ذرا بھی خیال نہیں رکھا جاتا کہ کم از کم بچوں کے سامنے جانوروں کو ذبح کرنے سے گریز کیا جائے۔ بہت سے ماں باپ تو ثواب سمجھ کر عید الاضحیٰ کے دن اپنے بچوں کو جانور کے پاس لے آتے ہیں چاہے بچے کی عمر جتنی بھی ہو اور اس کے سامنے جانور کا گلا کاٹا جاتا ہے، جانور تڑپتا ہے، خون میں لت پت ہوتا ہے، اور بچے یہ منظر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

بچوں کی نفسیات پر یہ خون خرابا اور وائلنس بہت منفی اثر ڈالتا ہے۔ ایسے معاشرے میں پروان چڑھنے والے بچے رفتہ رفتہ زندگی کے بارے میں بے حس ہوجاتے ہیں، ایسے معاشروں میں انسان کا گلا کاٹنا بھی عام بات ہوجاتی ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جن معاشروں میں جانوروں کو کھلے عام ذبح کیا جاتا ہے، ان معاشروں میں وائلنس زیادہ ہوتا ہے۔ پاکستان کی ہی مثال لے لیں، پاکستان میں کسی انسان کو مارنا کوئی بڑی بات نہیں سمجھی جاتی، بلکہ ایک انسان کی موت تو کوئی خبر ہی نہیں ہوتی۔ لوگ معمولی معمولی بات پر ایک دوسرے کو مار کاٹ دیتے ہیں۔ آئے روز خبریں آتی ہیں کہ فلاں جگہ پچاس روپے کیلئے فلاں کا قتل ہوگیا، یا کھیتوں کو پانی لگانے کے تنازعے پر بیس قتل ہوگئے۔ اس کے مقابلے میں آپ مغربی معاشروں کی مثال لے لیں، وہاں جانوروں کو پبلک میں ذبح نہیں کیا جاتا۔ پرائیویٹ سلاٹر ہاؤسز میں بھی جانور کو تکلیف دے کر ذبح نہیں کیا جاتا بلکہ ان کو پہلے سٹن کیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ان کے معاشروں میں بے حسی نہیں پائی جاتی، زندگی کی قدر کی جاتی ہے، چاہے وہ انسان کی ہو یا جانور کی۔ وہاں آپ کو لوگ آپس میں اس طرح لڑتے بھڑتے یا خون خرابا کرتے نظر نہیں آئیں گے جس طرح ہمارے ملک میں یا دیگر اسلامی ملکوں میں ہوتا ہے۔ ویسٹ میں آپ سوچ نہیں سکتے لوگ جانوروں سے کس قدر پیار کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں اگر کہیں کوئی زخمی کتا یا بلی کا بچہ کہیں نظر آجائے تو ہمارے معاشرے کے بچے اس کو پتھر مار مار کر مار دیتے ہیں جبکہ ویسٹ میں چھوٹے چھوٹے بچے اتنے کیئرنگ ہوتے ہیں کہ کہیں کوئی جانور تکلیف میں ہو تو اس کو بچانے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ ایک چھوٹی سی بچی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس کو جب پتا چلا کہ گوشت کہاں سے آتا ہے تو اس نے ہر قسم کا گوشت کھانے سے ہی انکار کردیا۔ اس کے بقول جانوروں کو مار کر کھانا غلط عمل ہے۔ ہمارے معاشروں میں آپ کو ایسے بچے نظر نہیں آئیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ معاشرے کوالٹی آف لائف کے اعتبار سے ہمارے معاشروں سے 100 سال آگے ہیں۔


اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے معاشروں میں بھی زندگی کو ویلیو کیا جائے تو یہ از حد ضروری ہے کہ جانوروں کو پبلک مقامات پر ذبح نہ کیا جائے ۔ عید الاضحیٰ پر ایک عجیب ماحول بنا ہوتا ہے، ہر شخص ہاتھ میں لمبا سا تیز دھار چھرا پکڑ کر جانوروں کے پیچھے بھاگ رہا ہوتا ہے، گلیوں، بازاروں اور چوکوں میں خون کی ندیاں بہہ رہی ہوتی ہیں، ایسا لگتا ہے اچانک ہم کسی وحشی زمانے میں پہنچ گئے ہیں۔ جب آپ جانوروں کو اس طرح ٹریٹ کریں گے تو آپ کے معاشرے میں انسانوں کی زندگی کی بھی کوئی ویلیو نہیں رہ جائے گی۔ ایک مشہور فلاسفر کا کہنا ہے اگر آپ کسی معاشرے کی کوالٹی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو یہ دیکھیں کہ اس معاشرے میں جانوروں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے۔۔


Animal-sacrifice.jpg
حضور آپ کے علم میں ہے کہ امریکہ میں
school mass shooting
کے واقعات بچے ہی کیا کرتے ہیں؟؟
😅😂
 

Panthar_pk

Councller (250+ posts)
😂
جی بالکل، پاکستان میں قربانی ہی وجہ ہے کہ امریکہ میں سالانہ 600 سے زائد
mass shooting
کے واقعات ہوتے ہیں، مجموعی طور پر روز دو واقعات ۔۔

اور سال میں 200 سے زائد
school mass shooting
کے واقعات ہوتے ہیں۔

Meme
bhai kia baat hy kis logic baat fact ky saath kre hy , i am so impress

ais ka mutlab sahi ghlat ka suub pata hy phir bhe plmn ko support q bhai
 

M_Shameer

MPA (400+ posts)
حضور آپ کے علم میں ہے کہ امریکہ میں
school mass shooting
کے واقعات بچے ہی کیا کرتے ہیں؟؟
😅😂

جی بالکل۔ دو دو سال کے بچے امریکہ میں سکولوں میں گھس کر قتلِ عام کرتے پھررہے ہیں۔ امریکہ میں تو حالات اس قدر خراب ہیں کہ پوری دنیا کے مسلمان جو امریکہ جانے کیلئے مرتے تھے، اب امریکی ویزے پھاڑ پھاڑ کر پھینک رہے ہیں اور امریکہ یا یورپ کی بجائے پاکستان، افغانستان، عراق، شام اور یمن جیسے اسلامی ملکوں میں رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں، کیونکہ وہ امریکہ یا یورپ کی نسبت مذکورہ بالا ملکوں میں خود کو زیادہ سیف محسوس کرتے ہیں اور مذکورہ بالا ممالک میں کوالٹی آف لائف بھی یورپ اور امریکہ سے بدرجہا بہتر ہے۔۔۔
😉 😉 😊😊
 

saleema

MPA (400+ posts)
Yeh koi retire ranker Fauji k post hai Jo retirement k baad Europe me settle honay k baad musalmano k baray me fikarmand hai..Aghwa, smuggling, rape, police gardi, Fauj gardi, ghaban, money laundering, corruption, maashi naainsafi, patwarism, beghayrate, wasael Ka ghair munsifana taqseem se tashaddad Nahi bartha bas bachay janwaron KO na dhekay...
These kaalay liberal Patwari+Fauji must know that you are not the first one to doubt and get irritated with ahkaame elahi. There have been millions in the last 1400 years and many more will come, you will die in doubts and agar magar but we have to live and die with Emaan Bel Ghaib, cutting hands of thieves, qatal badla qatal, and all ahkaamate elahi.

If we will agree to your silly claim then the next demand will be why do we slaughter or sacrifice animals.
It's our faith and we will do so. You can write as much as you want but you can't create any doubts in our faith and deen.
Major Sahab ayashi Karo botal shotal piyo..Zardari, Tinds and Muneeron k hakoomat hai maal banao choro yeh Jahel Pakistani Jo bachon k samnay bacharay qurbani k janwar zebah kartay Hain..yeh 1400 saak pehlay k zamanay me jee rahay Hain...Eid hai buddies k Saath whiskey red 🍷 Ka koi program banao.
 

atensari

(50k+ posts) بابائے فورم
لگتا ہے بش خاندان کی پرورش کسی مذبح خانے میں ہوئی ہے۔

 

Wake up Pak

President (40k+ posts)
The pagan ritual of sacrificing animals on Eid day is not based on the Quran. If you do want to sacrifice animals, it should be done in a designated place, not in cities or streets.
In our societies, sacrificing an animal is often done to show off status or to make children happy so that they don't feel left out when their neighbors have the sacrificial animals.
 
Last edited:

taban

Chief Minister (5k+ posts)
پاکستان جیسے اسلامی معاشروں میں نہ صرف عید الاضحیٰ کے دن بلکہ عام دنوں میں بھی جانوروں کو کھلے عام ذبح کیا جاتا ہے۔ مارکیٹ میں سب کے سامنے مرغیوں کے گلے کاٹ کاٹ کر ان کو ڈرموں میں پھینکا جارہا ہوتا ہے اور اس بات کا ذرا بھی خیال نہیں رکھا جاتا کہ کم از کم بچوں کے سامنے جانوروں کو ذبح کرنے سے گریز کیا جائے۔ بہت سے ماں باپ تو ثواب سمجھ کر عید الاضحیٰ کے دن اپنے بچوں کو جانور کے پاس لے آتے ہیں چاہے بچے کی عمر جتنی بھی ہو اور اس کے سامنے جانور کا گلا کاٹا جاتا ہے، جانور تڑپتا ہے، خون میں لت پت ہوتا ہے، اور بچے یہ منظر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

بچوں کی نفسیات پر یہ خون خرابا اور وائلنس بہت منفی اثر ڈالتا ہے۔ ایسے معاشرے میں پروان چڑھنے والے بچے رفتہ رفتہ زندگی کے بارے میں بے حس ہوجاتے ہیں، ایسے معاشروں میں انسان کا گلا کاٹنا بھی عام بات ہوجاتی ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جن معاشروں میں جانوروں کو کھلے عام ذبح کیا جاتا ہے، ان معاشروں میں وائلنس زیادہ ہوتا ہے۔ پاکستان کی ہی مثال لے لیں، پاکستان میں کسی انسان کو مارنا کوئی بڑی بات نہیں سمجھی جاتی، بلکہ ایک انسان کی موت تو کوئی خبر ہی نہیں ہوتی۔ لوگ معمولی معمولی بات پر ایک دوسرے کو مار کاٹ دیتے ہیں۔ آئے روز خبریں آتی ہیں کہ فلاں جگہ پچاس روپے کیلئے فلاں کا قتل ہوگیا، یا کھیتوں کو پانی لگانے کے تنازعے پر بیس قتل ہوگئے۔ اس کے مقابلے میں آپ مغربی معاشروں کی مثال لے لیں، وہاں جانوروں کو پبلک میں ذبح نہیں کیا جاتا۔ پرائیویٹ سلاٹر ہاؤسز میں بھی جانور کو تکلیف دے کر ذبح نہیں کیا جاتا بلکہ ان کو پہلے سٹن کیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ان کے معاشروں میں بے حسی نہیں پائی جاتی، زندگی کی قدر کی جاتی ہے، چاہے وہ انسان کی ہو یا جانور کی۔ وہاں آپ کو لوگ آپس میں اس طرح لڑتے بھڑتے یا خون خرابا کرتے نظر نہیں آئیں گے جس طرح ہمارے ملک میں یا دیگر اسلامی ملکوں میں ہوتا ہے۔ ویسٹ میں آپ سوچ نہیں سکتے لوگ جانوروں سے کس قدر پیار کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں اگر کہیں کوئی زخمی کتا یا بلی کا بچہ کہیں نظر آجائے تو ہمارے معاشرے کے بچے اس کو پتھر مار مار کر مار دیتے ہیں جبکہ ویسٹ میں چھوٹے چھوٹے بچے اتنے کیئرنگ ہوتے ہیں کہ کہیں کوئی جانور تکلیف میں ہو تو اس کو بچانے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ ایک چھوٹی سی بچی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس کو جب پتا چلا کہ گوشت کہاں سے آتا ہے تو اس نے ہر قسم کا گوشت کھانے سے ہی انکار کردیا۔ اس کے بقول جانوروں کو مار کر کھانا غلط عمل ہے۔ ہمارے معاشروں میں آپ کو ایسے بچے نظر نہیں آئیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ معاشرے کوالٹی آف لائف کے اعتبار سے ہمارے معاشروں سے 100 سال آگے ہیں۔


اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے معاشروں میں بھی زندگی کو ویلیو کیا جائے تو یہ از حد ضروری ہے کہ جانوروں کو پبلک مقامات پر ذبح نہ کیا جائے ۔ عید الاضحیٰ پر ایک عجیب ماحول بنا ہوتا ہے، ہر شخص ہاتھ میں لمبا سا تیز دھار چھرا پکڑ کر جانوروں کے پیچھے بھاگ رہا ہوتا ہے، گلیوں، بازاروں اور چوکوں میں خون کی ندیاں بہہ رہی ہوتی ہیں، ایسا لگتا ہے اچانک ہم کسی وحشی زمانے میں پہنچ گئے ہیں۔ جب آپ جانوروں کو اس طرح ٹریٹ کریں گے تو آپ کے معاشرے میں انسانوں کی زندگی کی بھی کوئی ویلیو نہیں رہ جائے گی۔ ایک مشہور فلاسفر کا کہنا ہے اگر آپ کسی معاشرے کی کوالٹی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو یہ دیکھیں کہ اس معاشرے میں جانوروں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے۔۔


Animal-sacrifice.jpg
قربانی سے ذہن پر برے اثرات تم جیسے خصی بچوں پر پڑتے ہیں نر بچوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا
 

M_Shameer

MPA (400+ posts)
cutting hands of thieves, qatal badla qatal, and all ahkaamate elahi.

تو آپ آج کے مہذب دور میں بھی انسانوں کے ہاتھ کاٹنے جیسے حیوانی فعل کی حامی ہیں؟ مذہب پر چلنے کا سب سے بڑا یہی نقصان ہے کہ یہ انسانوں کو ایوالو نہیں ہونے دیتا۔ انسانی معاشرے ،وقت کے ساتھ ساتھ جوں جوں انسانوں کا شعور بڑھتا ہے بہتر ہوتے جاتے ہیں اور پرانی ، وحشی قبائلی روایات کو وہ پیچھے چھوڑتے جاتے ہیں۔ مگر مذہب چونکہ ایک جامد چیز ہے، مذہبی تعلیمات کو لوگ خدا کے احکامات سمجھتے ہیں، اس لئے وہ اس کو بدل نہیں پاتے اور دورِ وحشت کی روایات کو ساتھ لئے پھرتے ہیں۔

یہ انسان کا شعوری ارتقاء ہی ہے کہ آج انسانوں کو غلام بنانا غلط سمجھا جاتا ہے، وگرنہ اسلام پر چلا جاتا تو آج بھی انسان غلام بنائے جارہے ہوتے، کیونکہ اسلام نے غلامی کو حرام قرار نہیں دیا، بلکہ غلاموں کی خرید و فروخت اور غلاموں کے ساتھ سلوک کیسا کرنا ہے اس کے طریقے بتائے ہیں۔

یہ انسانی شعور کا ہی نتیجہ ہے کہ ہم آج وحشیوں کی طرح جرائم کی سزا کے طور پر چوکوں چوراہوں میں انسان کے ہاتھ اور گلے نہیں کاٹتے، نہ ہی عورتوں کو کوڑے لگاتے ہیں۔ وگرنہ اسلام تو اسی کی تعلیم دیتا ہے اور افغانستان میں آج بھی ایسا ہی جاری و ساری ہے۔ اسلام نافذ کرنے کا جھنڈا لے کر چلنے والی داعش بھی یہی کچھ کرتی ہے۔

ویسے آج کے مسلمان بھی دنیا کی عظیم ترین منافق قوم بن چکے ہیں، زبانی طور پر تو اسلام کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور جہاں بھی رہتے ہوں وہاں مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم پر اسلامی نظام نافذ کیا جائے، مگر کبھی افغانستان جانے کی ہمت نہیں کرتے جہاں طالبان نے اسلام کو پوری شد و مد کے ساتھ نافذ کررکھا ہے، الٹا امریکہ اور یورپ جیسی سیکولر ریاستوں کی طرف بھاگتے ہیں، بلکہ وہاں جانے کیلئے جان بھی دے دیتے ہیں۔ آئے روز کتنے ہی مسلمان کشتیوں میں سمندر پار کرتے ہوئے مرجاتے ہیں۔ کیا اس رویے کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمان عملی طور پر خود ہی اسلام سے بھاگتے ہیں اور اس کی وجہ بھی ہے، کیونکہ اسلام دورِ حاضر کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔۔
 

M_Shameer

MPA (400+ posts)
The pagan ritual of sacrificing animals on Eid day is not based on the Quran. If you do want to sacrifice animals, it should be done in a designated place, not in cities or streets.
In our societies, sacrificing an animal is often done to show off status or to make children happy so that they don't feel left out when their neighbors have the sacrificial animals.

پرانے مذاہب اور عقائد کی تاریخ پڑھیں تو پتا چلتا ہے کہ انسانوں کے پاس جب شعور اور علم کم تھا تو اپنے تئیں انسان خدا اور دیوتاؤں کو خوش کرنے کیلئے انسانوں کی قربانی بھی کیا کرتے تھے۔ جب کوئی آفت آتی، کہیں کوئی قحط پڑتا، یا کوئی دریا خشک ہوجاتا تو انسان اس آفت کو ٹالنے کیلئے انسانوں کی ہی قربانی دیا کرتے تھے۔ پھر رفتہ رفتہ انسانوں سے وہ جانوروں کی قربانی پر آگئے۔۔۔ موجودہ قربانی کی روایت بھی اسی دور کی یادگار ہے وگرنہ دیکھا جائے تو آج انسان کے پاس اتنا شعور تو ہے کہ یہ کائنات لگے بندھے قدرت کے قوانین کے مطابق کام کرتی ہے اور کہیں بھی کسی بھی آفت کو ٹالنے کیلئے کسی انسان یا جانور کی قربانی کی ضرورت نہیں، نہ ہی خدا کو اس کی کوئی ضرورت ہے یا اسے اس سے کوئی خوشی ملتی ہے۔
 

Wake up Pak

President (40k+ posts)
پرانے مذاہب اور عقائد کی تاریخ پڑھیں تو پتا چلتا ہے کہ انسانوں کے پاس جب شعور اور علم کم تھا تو اپنے تئیں انسان خدا اور دیوتاؤں کو خوش کرنے کیلئے انسانوں کی قربانی بھی کیا کرتے تھے۔ جب کوئی آفت آتی، کہیں کوئی قحط پڑتا، یا کوئی دریا خشک ہوجاتا تو انسان اس آفت کو ٹالنے کیلئے انسانوں کی ہی قربانی دیا کرتے تھے۔ پھر رفتہ رفتہ انسانوں سے وہ جانوروں کی قربانی پر آگئے۔۔۔ موجودہ قربانی کی روایت بھی اسی دور کی یادگار ہے وگرنہ دیکھا جائے تو آج انسان کے پاس اتنا شعور تو ہے کہ یہ کائنات لگے بندھے قدرت کے قوانین کے مطابق کام کرتی ہے اور کہیں بھی کسی بھی آفت کو ٹالنے کیلئے کسی انسان یا جانور کی قربانی کی ضرورت نہیں، نہ ہی خدا کو اس کی کوئی ضرورت ہے یا اسے اس سے کوئی خوشی ملتی ہے۔
Even the Bible has verses on sacrificial animals.
The following is a story in the Bible that the Muslims copied in their ahadith.
Genesis 22:1-19

22 After these things God tested Abraham and said to him, “Abraham!” And he said, “Here I am.” 2 He said, “Take your son, your only son Isaac, whom you love, and go to the land of Moriah, and offer him there as a burnt offering on one of the mountains of which I shall tell you.” 3 So Abraham rose early in the morning, saddled his donkey, and took two of his young men with him, and his son Isaac. And he cut the wood for the burnt offering and arose and went to the place of which God had told him. 4 On the third day Abraham lifted up his eyes and saw the place from afar. 5 Then Abraham said to his young men, “Stay here with the donkey; I and the boy[a] will go over there and worship and come again to you.” 6 And Abraham took the wood of the burnt offering and laid it on Isaac his son. And he took in his hand the fire and the knife. So they went both of them together. 7 And Isaac said to his father Abraham, “My father!” And he said, “Here I am, my son.” He said, “Behold, the fire, and the wood, but where is the lamb for a burnt offering?” 8 Abraham said, “God will provide for himself the lamb for a burnt offering, my son.” So they went both of them together.

9 When they came to the place of which God had told him, Abraham built the altar there and laid the wood in order and bound Isaac his son, and laid him on the altar, on top of the wood. 10 Then Abraham reached out his hand and took the knife to slaughter his son. 11 But the angel of the Lord called to him from heaven and said, “Abraham, Abraham!” And he said, “Here I am.” 12 He said, “Do not lay your hand on the boy or do anything to him, for now, I know that you fear God, seeing you have not withheld your son, your only son, from me.” 13 And Abraham lifted up his eyes and looked, and behold, behind him was a ram, caught in a thicket by his horns. And Abraham went and took the ram and offered it up as a burnt offering instead of his son. 14 So Abraham called the name of that place, “The Lord will provide”;[b] as it is said to this day, “On the mount of the Lord it shall be provided.”[c]

Leviticus 16: The Lord said... Aaron is to offer the bull for his sin offering to make atonement for himself and his household... Aaron shall bring the goat whose lot falls to the Lord and sacrifice it for a sin offering...30...Then, before the Lord, you will be clean from all your sins.

Leviticus 12:6 ESV /​

“And when the days of her purifying are completed, whether for a son or a daughter, she shall bring to the priest at the entrance of the tent of meeting a lamb a year old for a burnt offering, and a pigeon or a turtledove for a sin offering,
 

saleema

MPA (400+ posts)
تو آپ آج کے مہذب دور میں بھی انسانوں کے ہاتھ کاٹنے جیسے حیوانی فعل کی حامی ہیں؟ مذہب پر چلنے کا سب سے بڑا یہی نقصان ہے کہ یہ انسانوں کو ایوالو نہیں ہونے دیتا۔ انسانی معاشرے ،وقت کے ساتھ ساتھ جوں جوں انسانوں کا شعور بڑھتا ہے بہتر ہوتے جاتے ہیں اور پرانی ، وحشی قبائلی روایات کو وہ پیچھے چھوڑتے جاتے ہیں۔ مگر مذہب چونکہ ایک جامد چیز ہے، مذہبی تعلیمات کو لوگ خدا کے احکامات سمجھتے ہیں، اس لئے وہ اس کو بدل نہیں پاتے اور دورِ وحشت کی روایات کو ساتھ لئے پھرتے ہیں۔

یہ انسان کا شعوری ارتقاء ہی ہے کہ آج انسانوں کو غلام بنانا غلط سمجھا جاتا ہے، وگرنہ اسلام پر چلا جاتا تو آج بھی انسان غلام بنائے جارہے ہوتے، کیونکہ اسلام نے غلامی کو حرام قرار نہیں دیا، بلکہ غلاموں کی خرید و فروخت اور غلاموں کے ساتھ سلوک کیسا کرنا ہے اس کے طریقے بتائے ہیں۔

یہ انسانی شعور کا ہی نتیجہ ہے کہ ہم آج وحشیوں کی طرح جرائم کی سزا کے طور پر چوکوں چوراہوں میں انسان کے ہاتھ اور گلے نہیں کاٹتے، نہ ہی عورتوں کو کوڑے لگاتے ہیں۔ وگرنہ اسلام تو اسی کی تعلیم دیتا ہے اور افغانستان میں آج بھی ایسا ہی جاری و ساری ہے۔ اسلام نافذ کرنے کا جھنڈا لے کر چلنے والی داعش بھی یہی کچھ کرتی ہے۔

ویسے آج کے مسلمان بھی دنیا کی عظیم ترین منافق قوم بن چکے ہیں، زبانی طور پر تو اسلام کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور جہاں بھی رہتے ہوں وہاں مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم پر اسلامی نظام نافذ کیا جائے، مگر کبھی افغانستان جانے کی ہمت نہیں کرتے جہاں طالبان نے اسلام کو پوری شد و مد کے ساتھ نافذ کررکھا ہے، الٹا امریکہ اور یورپ جیسی سیکولر ریاستوں کی طرف بھاگتے ہیں، بلکہ وہاں جانے کیلئے جان بھی دے دیتے ہیں۔ آئے روز کتنے ہی مسلمان کشتیوں میں سمندر پار کرتے ہوئے مرجاتے ہیں۔ کیا اس رویے کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمان عملی طور پر خود ہی اسلام سے بھاگتے ہیں اور اس کی وجہ بھی ہے، کیونکہ اسلام دورِ حاضر کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔۔
I told you...leave these barbarians alone..you can't change...Buddies ko bula lo...party Karo
..neat piyo
 

XGhostX

Senator (1k+ posts)
😂
جی بالکل، پاکستان میں قربانی ہی وجہ ہے کہ امریکہ میں سالانہ 600 سے زائد
mass shooting
کے واقعات ہوتے ہیں، مجموعی طور پر روز دو واقعات ۔۔

اور سال میں 200 سے زائد
school mass shooting
کے واقعات ہوتے ہیں۔

Doosron ki gand ke keeray gin ke batao. apni mulk ki maa ke kus main jo azgar hai usko justify karne ke liyeh. Choothiya jahil awam ...
 

XGhostX

Senator (1k+ posts)
Even the Bible has verses on sacrificial animals.
The following is a story in the Bible that the Muslims copied in their ahadith.
Genesis 22:1-19

22 After these things God tested Abraham and said to him, “Abraham!” And he said, “Here I am.” 2 He said, “Take your son, your only son Isaac, whom you love, and go to the land of Moriah, and offer him there as a burnt offering on one of the mountains of which I shall tell you.” 3 So Abraham rose early in the morning, saddled his donkey, and took two of his young men with him, and his son Isaac. And he cut the wood for the burnt offering and arose and went to the place of which God had told him. 4 On the third day Abraham lifted up his eyes and saw the place from afar. 5 Then Abraham said to his young men, “Stay here with the donkey; I and the boy[a] will go over there and worship and come again to you.” 6 And Abraham took the wood of the burnt offering and laid it on Isaac his son. And he took in his hand the fire and the knife. So they went both of them together. 7 And Isaac said to his father Abraham, “My father!” And he said, “Here I am, my son.” He said, “Behold, the fire, and the wood, but where is the lamb for a burnt offering?” 8 Abraham said, “God will provide for himself the lamb for a burnt offering, my son.” So they went both of them together.

9 When they came to the place of which God had told him, Abraham built the altar there and laid the wood in order and bound Isaac his son, and laid him on the altar, on top of the wood. 10 Then Abraham reached out his hand and took the knife to slaughter his son. 11 But the angel of the Lord called to him from heaven and said, “Abraham, Abraham!” And he said, “Here I am.” 12 He said, “Do not lay your hand on the boy or do anything to him, for now, I know that you fear God, seeing you have not withheld your son, your only son, from me.” 13 And Abraham lifted up his eyes and looked, and behold, behind him was a ram, caught in a thicket by his horns. And Abraham went and took the ram and offered it up as a burnt offering instead of his son. 14 So Abraham called the name of that place, “The Lord will provide”;[b] as it is said to this day, “On the mount of the Lord it shall be provided.”[c]

Leviticus 16: The Lord said... Aaron is to offer the bull for his sin offering to make atonement for himself and his household... Aaron shall bring the goat whose lot falls to the Lord and sacrifice it for a sin offering...30...Then, before the Lord, you will be clean from all your sins.

Leviticus 12:6 ESV /​

“And when the days of her purifying are completed, whether for a son or a daughter, she shall bring to the priest at the entrance of the tent of meeting a lamb a year old for a burnt offering, and a pigeon or a turtledove for a sin offering,
That is the Old Testament. In the new Testament there is not concept of Sacrifice. The Old testament is the book of laws. The new Testament is the book of grace which the CHristians follow. Christians don't follow the old testtament. If they were to then the law is the old testament is so raw and brutal that there would be no difference between Islam and Christianity ...
 

Meme

Minister (2k+ posts)
جی بالکل۔ دو دو سال کے بچے امریکہ میں سکولوں میں گھس کر قتلِ عام کرتے پھررہے ہیں۔ امریکہ میں تو حالات اس قدر خراب ہیں کہ پوری دنیا کے مسلمان جو امریکہ جانے کیلئے مرتے تھے، اب امریکی ویزے پھاڑ پھاڑ کر پھینک رہے ہیں اور امریکہ یا یورپ کی بجائے پاکستان، افغانستان، عراق، شام اور یمن جیسے اسلامی ملکوں میں رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں، کیونکہ وہ امریکہ یا یورپ کی نسبت مذکورہ بالا ملکوں میں خود کو زیادہ سیف محسوس کرتے ہیں اور مذکورہ بالا ممالک میں کوالٹی آف لائف بھی یورپ اور امریکہ سے بدرجہا بہتر ہے۔۔۔
😉 😉 😊😊
حضور، انسان تو صدیوں سے بہتر کوالٹی آف لائف کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھاتا رہا ہے۔ ممالک ہوں، خطے ہوں یا سلطنتیں ہوں، تاریخی طور پر لوگ ہمیشہ سے مضبوط معیشتوں، امیر خطوں کی طرف ہجرت کرتے رہے ہیں۔

گوروں نے بھی تو رخ کیا تھا، ساؤتھ آمریکا، مغلیہ سلطنت کا، اپنے وقت کی دنیا کی امیر ترین سلطنتوں کا، سب لوٹ کھسوٹ کر بھاگ گئے سالے۔

بہر طور تھریڈ کا موضوع بچوں کی نفسیات تھا اسی ضمن میں
comparative analysis
پیش کیا تھا۔ کوالٹی آف لائف، امریکہ یاترا کی چاہ کی باتیں کر کے بحث کے دھارے کو کیوں بہلا رہے ہیں؟
😂😅