بزدل سیاستدان

Qarar

MPA (400+ posts)
قرار نامہ
8/27/2014
...
حالیہ سیاسی شور و غل اور لونگ مارچ و آزادی مارچ کے زیر اثر پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیڈران کے کچھ بیانات تواتر سے میڈیا میں آرہے ہیں اور اخبارات کی زینت بن رہے ہیں.....میڈیا کے کچھ دانشور بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں ...مثلاً




  • [*=right]کل رات امپائر انگلی کھڑی کر دے گا
    [*=right]فریقین سمجھوتہ کرلیں ورنہ یہ نہ ہو کہ سب فارغ ہو جائیں
    [*=right]کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر سمجھوتہ کرلیا جائے ورنہ مارشل لاء آسکتا ہے
    [*=right]آئندہ اڑتالیس گھنٹوں میں فوج فیصلہ کرنے والی ہے
    [*=right]سسٹم بچانے کے لیے تیس دن کے لیے عھدے سے استعفیٰ دے دیں
    [*=right]نظام لپیٹنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور فوج کا آنا ناگزیر ہو گیا ہے
    [*=right]سیاستدان ناکام ہو گئے ہیں ...بحران سے نکلنے کا واحد حل تیسری قوت ہے
    [*=right]فوج کو چاہئیے کہ وہ آئے، نظام سدھارے اور صاف شفاف الیکشن کروا کر اقتدار سیاستدانوں کے حوالے کر کے گھر چلی جائے


گویا کچھ سیاستدان بشمول دانشور یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ فوج موقع کی تاک میں ہے اور سیاستدانوں کے آپس کے جھگڑے کو بنیاد بنا کر آئندہ دس سال کے لیے اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتی ہے.....اگر یہ واقعی سچ ہے تو کیا یہ ضروری نہیں کہ تمام سیاستدان، سول سوسائٹی ، صحافی اور وکلاء بیک زبان ہوکر ... فوج کو بھی ایک تنبیہ کریں کہ اگر ایسا کیا گیا تو بھرپور مزاحمت کی جائے گی اور فوج کو اقتدار پر قبضے کی اجازت نہیں دی جائے گی؟ لیکن نہیں ..ایسا نہیں ہو رہا.....وکلاء تو ضرور جمہوریت کے تحفظ کے لیے سامنے آئے ہیں مگرکافی سیاستدانوں، صحافیوں اور کالم نویسوں کا رویہ افسوسناک بلکہ قابل مذمت ہے ....کچھ جماعتوں کی طرف سے فوج کا حوصلہ بلواسطہ طور پر بڑھایا جارہا ہے...حکومت کو مشورہ دیا جارہا ہے کہ فوج کو باہر رکھنے کے لیے...قبل از وقت انتخابات ، درمیانی مدت کے انتخابات ، وزیراعظم کا استعفیٰ، وزیراعلیٰ کا استعفیٰ، مائنس ون فارمولا وغیرہ جیسے مطالبات مان لیے جائیں ....کیونکہ .... ان نامرد ٹائپ سیاستدانوں کے بقول ....جمہوریت کا تسلسل اسی صورت میں قائم و دائم رہ سکتا ہے اگر سیاستدان وقت پڑنے پر اقتدار کی قربانی دیں ....فوج کے سامنے اپنے آپ کو سر نگوں کرلیں ....مارشل لاء کے ممکنہ خطرے کو منڈلاتا دیکھ کر ...کان پکڑ لیں ، ہاتھ جوڑ لیں یا زمین پر ناک سے لکیریں نکالیں


ان نام نہاد سیاستدانوں اور دانشوروں کے نزدیک فوج یا اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی کا کوئی فائدہ نہیں ...اور غیر آئینی اقدام کو روکنے کا واحد راستہ سیاستدانوں کا فوج کے سامنے غیر مشروط سرنڈر ہے....بارہا کہا جارہا ہے کہ حکومت لچک دکھائے ..... حکومت کو "لچک" دکھانے کا مشورہ دینے سے کیا مراد ہے؟ قادری کا مطالبہ تو یہ ہے کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم استعفیٰ دیں ...اسمبلیاں توڑی جائیں...اور قومی حکومت قائم کی جائے (اور ساتھ ساتھ ماڈل ٹاؤن واقعہ پر مقدمہ چلائے بغیر وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کو پھانسیاں دی جائیں) ...........جبکہ عمران کا مطالبہ یہ ہے کہ اسمبلیاں طور کر ٹیکنو کریٹس کی حکومت قائم کی جائے جو ایسی اصلاحات کرے جس سے عمران کی اگلے الیکشن میں کامیابی یقینی ہو ......شریف و بھٹو خاندان کو سیاست سے بیدخل کر دیا جائے اور ان کی جائیداد ضبط کرلی جائے


اب مجھے بتایا جائے کہ حکومت مندرجہ بالا کون سے مطالبات پر "لچک" دکھائے اور اپنے آپ کو سیاسی طور پر ختم کرلے؟ ........یہ تو وہی بات ہوئی کہ ایک شخص اپنے دو چار بندے لے کر ایک گھر کا محاصرہ کر لیتا ہے اور مکان پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتا ہے .... محلے والے مالک مکان کو مشورہ دیتے ہیں کہ گھر کا آدھا حصہ ..محاصرہ کرنے والے چھوٹے غنڈے کے حوالے کردو ورنہ علاقے کا جگا بدمعاش دونوں کو نکال کر پورے مکان پر قبضہ کرلے گا اور دونوں کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آئے گا


میڈیا اور سیاست میں موجود ایسے سیاسی بزدلوں اور فکری ٹٹ پونجیؤں سے میرا یہ سوال ہے کہ بزدلی اور نامردی کی بھی کوئی حد ہے؟ کیا تم لوگ اتنے ہی گئے گزرے ہو کہ جمہوریت کی حمایت میں کھل کر بول بھی نہیں سکتے؟ .... ایسی لولی لنگڑی جمہوریت جس میں اقتداراعلیٰ کسی غیر منتخب قوت کے پاس ہو... کا کیا فائدہ ہے؟ ایسی بدنما جمہوریت کو برقرار رکھنے سے بہتر نہیں کہ تیسری قوت کو آنے دیا جائے؟ ...ان کے کرتوت ایک دفعہ اور قوم کے سامنے آجائیں ....قوم کو چوتھی دفعہ یہ تجربہ کرنے دیں کہ جرنیل صرف اور صرف اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے مارشل لاء لگاتے ہیں ....اور ان کے پیش نظر کوئی اور مقصد نہیں ہوتا
ایک اور دس سالہ آمریت کے بعد نمودار ہونے والی جمہوریت زیادہ شاید بہتر ہو اور زیادہ بڑی عوامی حمایت بھی رکھے


.....آخر میں کچھ الفاظ فیس بک، ٹویٹر اور دوسرے سوشل میڈیا پر موجود نوجوانوں سے
کیا تم لوگوں کی عقل بلکل ہی گھاس کھا گئی ہے؟ موجودہ حکومت سے پرخاش کی بنا پر فوجیوں کو یا جنرل راحیل کو آئے دن بلاوے دینا کہاں کی سیاسی سوجھ بوجھ اور دانشمندی ہے؟ کسی بھی ملک کو اٹھا کر دیکھ لو ...نوجوان طبقہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہے اور جمہوریت کا ایک بڑا محافظ ...مگر پاکستان میں الٹی گنگا بہ رہی ہے ....مشرف ان کا ہیرو ہے اور راحیل مستقبل کا نجات دہندہ اور مسیحا ....نوجوان سوشل میڈیا پر جمہوریت کو لتاڑتے اور آمریت کی خوش آمدید کہتے پائے جاتے ہیں ....عمران کو وزیراعظم دیکھنے کی خواہش میں ان کو کوئی اعتراض نہیں کہ اگر فوجی ایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیں...جس ملک کے نوجوانوں کو آمریت اور جمہوریت میں فرق محسوس نہ ہو اور وہ ایک ہی سانپ (جنرل ) سے بار بار ڈسے جانے کے خواہش مند ہوں ...اس ملک کا خدا ہی حافظ ہے

 
Last edited by a moderator:

jony1

MPA (400+ posts)
pa ji ye btain ke NS se kesay jan churain? noora to isifa nehi day ga. agar fouj awam ki maded karti hai to ismay harj kia hai
 

Qarar

MPA (400+ posts)
pa ji ye btain ke NS se kesay jan churain? noora to isifa nehi day ga. agar fouj awam ki maded karti hai to ismay harj kia hai

جناب ....فوج عوام کی مدد کے لیے نہیں بلکہ ہمیشہ اقتدار کے لالچ کے لیے آئی ہے ....ایوب ، ضیاء اور مشرف میں سے کس کے دل میں قوم کا درد تھا؟
گھر کے افراد کے درمیان اگر لڑائی ہوجائے تو وہ پولیس کے پاس نہیں جاتے ...اور اگر جائیں تو جگ ہنسائی ہی کرواتے ہیں