برے نام سے پکار - قرآن و سنت

پرفیکٹ سٹرینجر

Chief Minister (5k+ posts)
بہ شکریہ جناب زیڈ اے چودھری ۔ جماعت اسلامی والے کی پوسٹ یہاں تھریڈ بنا کر پوسٹ کررہا ہوں۔ شاید ہم سب کلمہ گو کی اصلاح ہو جائے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک بات سب دوستوں سے اگر محسوس نہ کریں ، کون سے ممبر اپنے لئے یہ الفاظ برداشت کرے گا ؟؟؟؟؟ پرفیکٹ سے میری بھی اکثر شدید قسم کی گفتگو ہوتی ہے لیکن چند دوستوں سے ہی آخر لڑائی کس وجہ سے ہوتی ہے ، قران میں الله واضح طور پر ایمان والوں کی ایک دوسرے کو برے القاب سے پکارنے سے روکتا ہے ، اب پتا نہیں ہم سبق کہاں سے حاصل کریں گے

ایک مضمون میں بھی شئیر کر رہا ہوں ،اس پر سب غور کیجئے ، ہو سکے تو سب الله سے معافی مانگ لیجئے جو معاف کرنے والا ہے
__________________________________________________ ____________________


نامناسب القاب سے منسوب کرنا
(تحقیق و تحریر: پروفیسر محمد عقیل)

کسی کی تحقیر کرنے اور اذیت پہنچانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اسے ایسے لقب سے منسوب کیا جائے جس سے اسے تکلیف یا اذیت پہنچے۔ مثال کے طور پر کسی کو لنگڑا یا لولا کہہ کر اسے دکھ پہنچایا جائے۔ اس روئیے سے تعلقات متاثر ہوتے اور تلخی پیدا ہوجاتی ہے۔ اگر مخاطب کمزور ہو تو نتیجہ اس کی دل آزاری اور نفسیاتی اذیت کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ دوسری جانب اگر مخاطب طاقتور ہو تو وہ بھی اسی قسم کے القابات سے بولنے والے کو نوازتا ہے اور بات لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے۔ اسی بنا پر مہذب معاشروں میں اس قسم کا رویہ قابل مذمت ہوتا ہے۔ اس اخلاقی قباحت کی بنا پر اس روئیے کی قرآن و حدیث
میں سختی سے مذمت کی گئی ہے۔

جیسا کہ سور ہ الحجرات میں بیان ہوتا ہے:
“اور نہ(ایک دوسرے کو) برے القاب سے پکارو۔ ایمان کے بعد گناہ کا نام لگنا برا ہے۔اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم لوگ ہیں”۔(الحجرات۔۴۹:۱۱)
اس آیت میں واضح طور پر اس روئیے کو برا سمجھا گیا اور اس کی مذمت کی گئی ہے اور جو لوگ اس سے باز نہ آئیں انہیں ظالموں کی صف میں شامل کیا گیا ہے۔
برے القاب سے کسی کو پکارنا درحقیقت ایک اذیت دینے کا عمل ہے اور اذیت دینے کی احادیث میں سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ جیسا کہ اس حدیث میں بیان ہوتا ہے:
“مسلمان کو اذیت نہ دو انہیں عار نہ دلاؤ اور ان میں عیوب مت تلاش کرو۔ کیونکہ جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیب جوئی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی عیب گیری کرتا ہےاور جس کی عیب گیری اللہ تعالیٰ کرنے لگے وہ ذلیل ہو جائے گا۔ اگرچہ وہ اپنے گھر کے اندر ہی کیوں نہ ہو۔( جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 2121 )

اسی طرح ایک اور جگہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان ایذا نہ پائیں۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 9 )
برے القابات سے پکارنا بدگوئی کا ایک پہلو ہے جس کے بارے میں حدیث میں بیان ہوتا ہے ۔”جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہئے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے”۔( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 977 )

برے ناموں سے منسوب کرنا درحقیقت مسلمان کی عزت کی اس قدر حرمت ہے کہ جو کوئی اس حرمت کو نقصان پہنچائے ، اس کی نمازیں تک قبول نہیں ہوتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔
“جو کوئی کسی مسلمان کی آبروریزی کرتا ہے تو اس پر اللہ فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوتی ہے اس کی نفل اور فرض عبادت قبول نہیں ہوتی”۔( صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 440 )

نامناسب القاب سے منسوب کرنے کا مفہوم
برے القاب سے منسوب کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ کسی متعین شخص کو ایذا پہنچانے کی نیت سے کوئی لقب دینا یا کسی ایسےلقب سے منسوب کرنا جس سے مخاطب کو ناحق تکلیف پہنچے یا کوئی ایسا نام یا لقب استعمال کرنا جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر اخلاقی ہو ۔

شرائط
برےلقب سے موسوم کرنے کے لئے درج ذیل میں سے کسی ایک شرط کا پورا ہونا لازمی ہے۔
۱۔ لقب کو کسی شخص کو اذیت دینے کی نیت سے موسوم کرنا یا
۲۔ کسی کو اس لقب سے ناحق اذیت ہو یا
۳۔لقب اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر موزوں ہو۔

وضاحت:
کسی نام سے منسوب کرنے کی تین شرائط میں سے کوئی ایک بھی پوری ہوجائے تو یہ گناہ سرزد ہوجائے گا۔ پہلی شرط یہ ہے کہ کسی کو نام سے منسوب کیا جائے اور اس کا مقصد اس شخص کی تحقیر وتذلیل کرکے اس کو اذیت دینا ہو۔ مثال کے طور پر زاہد نے فرحان کو اس کی پستہ قامتی کا احساس دلانے کے لئے اور اسے اذیت پہنچانے کے لئے جملہ کہا” اور بونے صاحب ! کہاں چل دئیے”۔ یہاں بونے صاحب کہنے کا مقصد چونکہ ایذا رسانی اور تنگ کرنا ہے اس لئے یہ برے لقب سے منسوب کرنے کا عمل ہے۔
دوسر ی شرط یہ ہے کہ لقب سے کسی کو ناحق اذیت پہنچے۔ یعنی کہنے والے کی نیت تو اذیت پہنچانے کی نہیں تھی لیکن سننے والے کو یہ لقب جائز طور پر برا لگا۔ مثلا الیاس نےغفار سے کہا ” اور ملا جی ! کہاں غائب تھے اتنے دنوں سے؟” الیاس کا مقصد ایذا پہنچانا نہیں تھا لیکن غفار کو ملا کے نام منسوب ہونا برا لگا تو یہ بھی ممنوع ہے۔

تیسری شرط یہ ہے لقب اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر موزو ں اور غیر اخلاقی ہو۔ مثال کے طور پر سلمان نے عزیر سے بے تکلفی میں کہا” او کمینے! بات تو مکمل کرنے دے، پھر اپنی کہنا”۔ یہ سن کر عزیر ہنسنے لگا۔ یہاں سلمان نے بے تکلفی میں جملہ کہا اور عزیر نے بھی مائنڈ نہ کیا یعنی اوپر بیان کی گئی دونوں شرائط پوری نہیں ہورہی ہیں لیکن کمینہ کہنا ایک غیر اخلاقی لقب ہے جس سے احتراز لازمی ہے۔

استثنیٰ
ہر سوسائٹی میں عرفیت کا رواج ہوتا ہے یا پھر لوگوں کو اس کی کسی علامت کی بنا پر مشہور کردیا جاتا ہے جیسے کسی کو لنگڑا، چھوٹو ، موٹو، کانا، چندا، کلو، لمبو وغیرہ کہنا یا پپو، گڈو، منا،چنا، بے بی، گڈی، گڑیا،چنی وغیرہ کے نام سے منسوب کرنا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لوگوں کو ان ناموں سے منسوب کرنا کیسا ہے؟
اگر ان ناموں میں کوئی اخلاقی و شرعی قباحت نہیں اور ان میں ایذا کا کوئی پہلو موجود نہیں تو اس طرح مخاطب کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن عام طور پر یہ دیکھا یہ گیا ہے کہ ایسے افراد جب بچپن کی حدود سے نکلتے اور پختگی کی جانب مائل ہوتے ہیں تو انہیں ان ناموں سے مخاطب ہونا اچھا نہیں لگتا۔خاص طور پر ایسےافراد اجنبی لوگوں کے سامنے ان ناموں کو پسند نہیں کرتے جو ان کی عرفیت سے ناواقف ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس صورت میں انہیں ان کے اصل نام ہی سے پکارنے میں عافیت ہے بلکہ اصل نام سے مخاطب کرنے میں اس قسم کے لوگ بالعموم بڑی عزت محسوس کرتے ہیں۔

دوسری جانب کچھ القاب ایسے ہوتے ہیں جو کسی شخص کو عزت دینے، اس کا رتبہ بڑھانے یا بیان کرنے یا اسے عزت و توقیر کے لئے دئیے جاتے ہیں۔ جیسے فاروق، صدیق، غنی، قائد اعظم ،علامہ وغیر۔ ان میں کسی قسم کا کوئی حرج نہیں۔

القاب کی اقسام
عام طور پر ہمارے معاشرے میں درج ذیل بنیادوں پر القاب استعمال ہوتے ہیں۔
۱۔ جسمانی بنیادوں پر القاب جیسے چھوٹو، موٹو، ٹھنگو، لمبو، کلو، چٹا، منا، کبڑا، لنگڑا، ٹنٹا ، اندھا، کانا وغیر کہنا۔
۲۔ مذہبی حوالے سے القابات جن میں منافق، فاسق، کافر، بنیاد پرست، یہودی، نصرانی، مشرک ، بدعتی ، وہابی وغیرہ شامل ہیں۔
۳۔قومیت کی بناد پر القاب میں پناہ گیر، مکڑ، پینڈو ، چوپایا ، اخروٹ ، ڈھگا، بھا ئو غیرہ مشہور ہیں۔
۴۔ جنسی بے راہروی کی نشاندہی کرنے والے ناموں میں حرافہ، بدذات، طوائف، کال گرل، لونڈا، ہیجڑا، زنخا وغیرہ ہی قابل تحریر ہیں۔ اس ضمن میں ایک بات یہ جملہ معترضہ کے طور پر یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ کچھ الفاظ کے معنی زمانے کے لحاظ سے بدل جاتے ہیں ۔ اس صورت میں اعتبار زمانی معنوں ہی کا ہوگا۔ مثال کے طور پر بھڑوا درحقیقت مڈل مین کو کہتے ہیں جو کرایہ وصول کرتا ہے۔ یہ لفظ شاید اپنی ابتدا میں اتنا معیوب نہ تھا لیکن آج یہ معیوب سمجھا جاتا ہے چنانچہ اس لفظ کے استعمال کا فیصلہ آج کے معنوں کے لحاظ سے ہوگا۔

۵۔ کسی برے عمل سے منسوب کرنا جیسے شرابی، زانی، قاتل، لٹیرا، دہشت گرد،چور وغیرہ
۶۔ کسی جانور سے منسوب کرنا جیسے کتا، گدھا، سور، الو، لومڑی ، بھیڑیا وغیرہ کہنا
۷۔ کسی غیر مرئی مخلوق سے منسلک کرنا جیسے شیطان ، چڑیل، بھوت، جن، بدروح وغیرہ کہنا
۸۔ کسی برے روئیے سے منسوب کرنا جیسے مغرور، بدخصلت، لالچی، بخیل، ذلیل، چمچہ، کنجوس،خودغرض ، فضول خرچ، عیاش وغیرہ کہنا۔
۹۔عمر کی بنیاد پر القاب بنانا جیسے کسی کو انکل ، آنٹی، چچا، ماموں، ابا ، اماں ، باجی وغیرہ کہنا۔ خاص طور پر خواتین اس معاملے میں زیادہ حساس ہوتی ہیں ۔ چنانچہ لوگوں مخاطب کرتے وقت ایسے القاب سے گریز کیا جائے جو ان کی عمر کی زیادتی کی علامت ہوں اور وہ اس سے چڑتے ہوں۔
۱۰۔ کسی کی چڑ بنالینا اور وقتا فوقتا اس چڑ سے اسے تنگ کرنا
۱۱۔ پیشے کی بنیاد پر القاب سے نوازناجیسے کسی کوموچی ،بھنگی، ڈنگر ڈاکٹر، ماسٹر،ہاری وغیرہ کہنا۔

اسباب و تدارک
چونکہ برے القاب سے منسوب کرنا بدگوئی کی ایک قسم ہے اس لئے اس فعل کے اسبا ب و تدارک جاننے کے لئے بدگوئی میں بیان کی گئی تحریر کا مطالعہ کرلیں۔

اسائنمنٹ
صحیح یا غلط بیان کریں:
۱۔ کسی کو عرف یعنی نک نیم سے پکارنا بالکل جائز نہیں۔
۲۔ برے لقب سے پکارنے کا گناہ سرزد ہونے کے لئے اوپر بیان کی گئی تینوں شرائط کا بیک وقت پورا ہونا لازمی ہے۔
۳۔برے لقب سے مخاطب کرنے کا مقصد کسی کی عزت افزائی ہوتا ہے۔
۴۔ اگر نیت ایذا دینےکی نہ ہو اور سننے والے کو بھی لقب برا نہ لگے تو اس صورت میں کسی بھی لقب سے بلانا جائز ہے۔
۵۔ ابو داؤد کی حدیث کے الفاظ ہیں” مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان ایذا نہ پائیں”۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 9)
۶۔ایک شخص بہت کالا ہے اور کلو کے لقب سے مشہور ہے۔ اسے کوئی شخص طنز و تحقیر کی نیت سے مخاطب کرتا ہے ” ابے او کلو! ذرا ادھر تو آ”۔ اس طرح کلو کہنا برے لقب سے مخاطب کرنا ہے کیونکہ مقصد تحقیر ہے۔
۷۔نگہت نے رضیہ کی چالاکی کو بیان کرنے کے لئے اسے لومڑی کہا۔ یہ برے نام سے منسوب کرنے کا عمل ہے۔
۸۔ غزالہ نے اپنی کزن فرحانہ کے حسن کی تعریف کرتے ہوئے کہا ” بھئی آج تو تم چاند لگ رہی ہو”۔ فرحانہ سمجھی کہ غزالہ نے چاند کہہ کر اس کا مذاق اڑایا ہے اور وہ برا مان گئی۔ غزالہ کا چاند سے موسوم کرنا برے القاب سے پکارنے میں نہیں آتا کیونکہ نہ تو غزالہ کی نیت تحقیر کی تھی ، نہ چاند کہنے میں کوئی برائی ہے ۔ جبکہ فرحانہ کا برا ماننا ناحق ہے اورغلط فہمی کی وجہ سے ہے۔
۹۔ ذیشان نے مسلکی فرق کی بنا پر اپنے پڑوسی کو اس کی غیر موجودگی میں غلط طور پر “کافر ” کہہ دیا۔ یہ کلام غیبت بھی ہے اور اس میں برے لقب سے منسوب کرنے کا گناہ بھی شامل ہے۔
۱۰۔ اسکول میں بچوں نے ایک موٹے عینک والی بچی کو” پروفیسر ” کے لقب سے موسوم کردیا جس سے وہ بچی چڑتی تھی۔ بچی کو پروفیسر کہنا غلط لقب سے موسوم کرنے کے مترادف نہیں ہے۔
https://aqilkhans.wordpress.com/2013/09/04/2301/


 
Last edited by a moderator:

HORUS

Chief Minister (5k+ posts)
Re: برے نام سے پکاراا۔ قرآن و سنت

yo-dawg-i-heard-you-got-banned-lol.jpg
 

SAIT_

Senator (1k+ posts)
Re: برے نام سے پکاراا۔ قرآن و سنت

ہن سکون ای - چل نارنجی چولا پہن کر اس بات پر رو کہ کیوں اڑتا تیر بغل میں لیا تھا
 

جمہور پسند

Minister (2k+ posts)
Re: برے نام سے پکاراا۔ قرآن و سنت

سائٹ بھائی اس دینو کو کہا تھا
کہ گیدڑ کی موت آتی ہے تو شہر کا رخ کرتا ہے
ادھر آنا ہی اس کے لیے کافی تھا


ہن سکون ای - چل نارنجی چولا پہن کر اس بات پر رو کہ کیوں اڑتا تیر بغل میں لیا تھا
 

uturninqlab

Chief Minister (5k+ posts)
Re: برے نام سے پکاراا۔ قرآن و سنت

ایڈمن ، میجارٹی فورم ممبرز کا دباو برداشت نہیں کر سکی بالاآخر پرفیکٹ سٹرینجر کو بین کر دیا گیا ۔ اختلافات اپنی جگہ مگر جس طرح کردار کشی اور نام بگاڑنے کی مہم منظم طریقہ سے چلائی گئی وہ افسوس ناک ہی نہیں قابل مذمت بھی ہے۔
 

uturninqlab

Chief Minister (5k+ posts)
Re: برے نام سے پکاراا۔ قرآن و سنت

باقی کوایک طرف رہے یہاں سمی جیسے دانشور اور ایڈمنسٹریٹر بھی جانوروں کی تصاویر اور نام لے لے کر ذاتی حملے کریں گے تو میرا نہیں خیال کہ فورم پہ کو ئی اچھی مثالیں قائم کی جا رہی ہیں ، زیڈ اے چوہدری سے میرے نظریاتی اختلافات ہیں مگر میں اس شخص کی اعلیٰ ظرفی کی تعریف کئے بنا نہیں رہ سکتا۔
 

کک باکسر

Minister (2k+ posts)
Re: برے نام سے پکاراا۔ قرآن و سنت

باقی کوایک طرف رہے یہاں سمی جیسے دانشور اور ایڈمنسٹریٹر بھی جانوروں کی تصاویر اور نام لے لے کر ذاتی حملے کریں گے تو میرا نہیں خیال کہ فورم پہ کو ئی اچھی مثالیں قائم کی جا رہی ہیں ، زیڈ اے چوہدری سے میرے نظریاتی اختلافات ہیں مگر میں اس شخص کی اعلیٰ ظرفی کی تعریف کئے بنا نہیں رہ سکتا۔

اللہ آپ کو دکھ کی اس گھڑی میں صبر اور حوصلہ دے، آمین
 

SAIT_

Senator (1k+ posts)
Re: برے نام سے پکاراا۔ قرآن و سنت

سائٹ بھائی اس دینو کو کہا تھا
کہ گیدڑ کی موت آتی ہے تو شہر کا رخ کرتا ہے
ادھر آنا ہی اس کے لیے کافی تھا


ٹاکر بھائی یہ اپنی طرف ہوشیاری دیکھا رہا تھا پر اسکو پنگا الٹا پڑ گیا ہے - کسی کے بین پر کیا خوش ہونا میری اڈمن صاحب سے گزارش ہے کہ اسکو بھی رہا کر دیں اور باقی قیدیوں کو بیڑیاں بھی کھول دیں - بات بات پر بین لگانا کوئی اچھی پالیسی نہیں - یہ رہتا تو لوگ اسکو خود ہی جواب دے لیتے اڈمن صاحب کی مداخلت ضروری نا تھی - سب لوگ پڑھے لکھے ہیں انتظامیہ کو سکول ماسٹروں والا رویہ اپنانے کی ضرورت نہیں
 

جمہور پسند

Minister (2k+ posts)
Re: برے نام سے پکاراا۔ قرآن و سنت

سائٹ بھائی میری دانست میں یہ دلبرداشتہ ہو چکا تھا اور خود کشی کا موقع ڈھونڈ رہا تھا
اس کے اپنے مداح بھی اس سے نفرت کرنے لگے تھے

ٹاکر بھائی یہ اپنی طرف ہوشیاری دیکھا رہا تھا پر اسکو پنگا الٹا پڑ گیا ہے - کسی کے بین پر کیا خوش ہونا میری اڈمن صاحب سے گزارش ہے کہ اسکو بھی رہا کر دیں اور باقی قیدیوں کو بیڑیاں بھی کھول دیں - بات بات پر بین لگانا کوئی اچھی پالیسی نہیں - یہ رہتا تو لوگ اسکو خود ہی جواب دے لیتے اڈمن صاحب کی مداخلت ضروری نا تھی - سب لوگ پڑھے لکھے ہیں انتظامیہ کو سکول ماسٹروں والا رویہ اپنانے کی ضرورت نہیں
 

uturninqlab

Chief Minister (5k+ posts)
Re: برے نام سے پکاراا۔ قرآن و سنت

اللہ آپ کو مزید توفیق دے ذاتی حملے کرنے کی ،نام بگاڑنے کی ۔ اس طرح کی حرکتوں سے آپ کی انا اور دل کو سکون ملتا ہے تو جاری رکھیں اس عظیم مشن کو ۔


اللہ آپ کو دکھ کی اس گھڑی میں صبر اور حوصلہ دے، آمین
 

کک باکسر

Minister (2k+ posts)
Re: برے نام سے پکاراا۔ قرآن و سنت

اللہ آپ کو مزید توفیق دے ذاتی حملے کرنے کی ،نام بگاڑنے کی ۔ اس طرح کی حرکتوں سے آپ کی انا اور دل کو سکون ملتا ہے تو جاری رکھیں اس عظیم مشن کو ۔
بہت دلبراشتہ لگ رہے ہو دوست، بری حرکتوں کا یہی انجام ہوتا ہے. اب دیکھیں یہاں کیسا تھریڈ شروع کیا تھا اور دوسرے میں ماں بہن کی گالیاں. آپ مجھے اچھے شخص لگتے ہیں. ایسی بری صحبت سے دور رہیں جس میں بین ہونے کا امکان ہو.
 

khan27

Minister (2k+ posts)
Re: برے نام سے پکاراا۔ قرآن و سنت

boht hi farig admi hai yeh takur burger isi ke cheley hein
 

SAIT_

Senator (1k+ posts)
Re: برے نام سے پکاراا۔ قرآن و سنت

سائٹ بھائی میری دانست میں یہ دلبرداشتہ ہو چکا تھا اور خود کشی کا موقع ڈھونڈ رہا تھا
اس کے اپنے مداح بھی اس سے نفرت کرنے لگے تھے


اسکو خود پسندی کی بیماری لاحق ہے - یہ دن رات لوگوں کے لائک گنتا رہتا تھا کہ کون کس کو لائک دے رہا ہے - اگر اسکے کسی مداح نے یا حامی نے کسی ایسے بندے کو لائک دے دیا جس کے ساتھ اسکی نہیں بنتی تھی یہ اپنے اس حامی کا ہی مخالف بن جاتا تھا - باوا جی کو میں اس فورم پر آنے سے بہت پہلے کا جانتا ہوں - ایک دن میری اس سے منہ ماری ہو گئی تو باوا جی نے جان پہچان کی بنا پر میرا ایک کومنٹ جو اسکے خلاف تھا اسکو لائک کر دیا - یہ مجھے چھوڑ کر باوا جی کے دوالے ہو گیا اور اس وقت تک باز نہیں آیا جب تک باوا جی کے ہاتھوں اسکی تاریخی چھترول نا ہوئی- اس وقت برگر بھائی اور ڈیموکریٹک بھائی نے اسکی جان بخشی کا کھا - آپ خود دیکھ لو کہ اس نے اس بات کا کیا صلہ دیا برگر بھائی کو
 

Zia Hydari

Chief Minister (5k+ posts)
Re: برے نام سے پکاراا۔ قرآن و سنت

اسکو خود پسندی کی بیماری لاحق ہے - یہ دن رات لوگوں کے لائک گنتا رہتا تھا کہ کون کس کو لائک دے رہا ہے - اگر اسکے کسی مداح نے یا حامی نے کسی ایسے بندے کو لائک دے دیا جس کے ساتھ اسکی نہیں بنتی تھی یہ اپنے اس حامی کا ہی مخالف بن جاتا تھا - باوا جی کو میں اس فورم پر آنے سے بہت پہلے کا جانتا ہوں - ایک دن میری اس سے منہ ماری ہو گئی تو باوا جی نے جان پہچان کی بنا پر میرا ایک کومنٹ جو اسکے خلاف تھا اسکو لائک کر دیا - یہ مجھے چھوڑ کر باوا جی کے دوالے ہو گیا اور اس وقت تک باز نہیں آیا جب تک باوا جی کے ہاتھوں اسکی تاریخی چھترول نا ہوئی- اس وقت برگر بھائی اور ڈیموکریٹک بھائی نے اسکی جان بخشی کا کھا - آپ خود دیکھ لو کہ اس نے اس بات کا کیا صلہ دیا برگر بھائی کو

محض لائک مچمح نظر نہ ہونا چاہئے کسی تھریڈ کو لکھتے وقت۔ میں ایک اصطلاح استعمال کرتا ہوں رونگ نمبر ملّا، اور میں نے اس کی وضاحت بھی کی ہوئی ہے کہ اس سے کس قماش کے ملّا مراد ہیں، جو دین میں تحریف کے مرتکب ہورہے ہیں، اس سے یقینا انھیں اور ان کے مقلدین کو تکلیف ہوتی ہوگی۔ کیا کہتے ہیں جناب بیچ اس مسئلہ کے
 

ifteeahmed

Chief Minister (5k+ posts)
Re: برے نام سے پکاراا۔ قرآن و سنت

یہ بات درست ھے کہ یہ بندہ تقریباّ ہر کسی سے لڑتا رھا۔ تاری اور عاطف سے بھی لڑچکا ھے۔ مگر اسکا بین ھونا مناسب نہیں۔
اسکو اپنی بات کرنے کی پوری آزادی ھونی چاہیئے بس تھوڑی سے ھارش لینگویج سے پرہیز کرھے تو اسکے کمنٹس پڑھنے والے ھوتے ھیں۔
 

SAIT_

Senator (1k+ posts)
Re: برے نام سے پکاراا۔ قرآن و سنت


محض لائک مچمح نظر نہ ہونا چاہئے کسی تھریڈ کو لکھتے وقت۔ میں ایک اصطلاح استعمال کرتا ہوں رونگ نمبر ملّا، اور میں نے اس کی وضاحت بھی کی ہوئی ہے کہ اس سے کس قماش کے ملّا مراد ہیں، جو دین میں تحریف کے مرتکب ہورہے ہیں، اس سے یقینا انھیں اور ان کے مقلدین کو تکلیف ہوتی ہوگی۔ کیا کہتے ہیں جناب بیچ اس مسئلہ کے



آپ نے جو میرا کومنٹ قوٹ کیا ہے اسکا آپکے سوال سے کوئی تعلق نہیں سوائے پہلے جملے کے اور اس سے میں متفق ہوں


دوسری بات میرا اس دھاگے پر فرقہ پرستی کی بحث کا کوئی ارادہ نہیں - کلمے والا دھاگا کوئی اور ہے


پس تحریر
مطمع نظر ہوتا ہے ناکہ مچمع نظر -
 

Zia Hydari

Chief Minister (5k+ posts)
Re: برے نام سے پکاراا۔ قرآن و سنت

[/size]

آپ نے جو میرا کومنٹ قوٹ کیا ہے اسکا آپکے سوال سے کوئی تعلق نہیں سوائے پہلے جملے کے اور اس سے میں متفق ہوں


دوسری بات میرا اس دھاگے پر فرقہ پرستی کی بحث کا کوئی ارادہ نہیں - کلمے والا دھاگا کوئی اور ہے


پس تحریر
مطمع نظر ہوتا ہے ناکہ مچمع نظر -
پس تحریر نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے
 

miafridi

Prime Minister (20k+ posts)
Re: برے نام سے پکاراا۔ قرآن و سنت

Pashto ki Kahawat hai jiska Tarjuma hai " Moulvi dusro ko targheeb deta hai lakin Khud Amal nai karta".
 

چھومنتر

Minister (2k+ posts)
Re: برے نام سے پکاراا۔ قرآن و سنت

ye din b anay they JAMAT k THREAD le k yar log apni BIBTA sunatey phirty...........(omg)