بجٹ وپنجاب کے انتظامی امور میں نظرانداز کرنے پر پی پی، ن لیگ میں مذاکرات

mazhak1h11.jpg


پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے بجٹ وانتظامی امور میں نظرانداز کیے جانے پر پاکستان مسلم لیگ ن کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ ن کے ساتھ انتظامی امور کے حوالے سے کیے گئے معاہدے کی کتاب کھولتے ہوئے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ان کی جماعت کے حکومت کا حصہ بننے کے حوالے سے کیے گئے معاہدے پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی نے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت کو صوبہ پنجاب میں درپیش مسائل اس وقت سرفہرست ہیں، دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان ہونے والے مفاہمتی معاہدے پر عملدرآمد پر مسلم لیگ سنجیدہ نظر نہیں آتی، مسلم لیگ ن کو حکومت میں شامل ہوتے وقت کیے گئے مفاہمتی معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنانا چاہیے۔

پیپلزپارٹی کی طرف سے صوبہ پنجاب کے انتظامی امور میں ان کی جماعت کو نظرانداز کرنے کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صوبہ پنجاب میں انتظامی افسران کی تقرریوں کے حوالے سے ان کی جماعت کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ ن پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں پر بھی پیپلزپارٹی کی قیادت کو اعتماد میں نہیں لے رہی۔

ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی نے شکوہ کیا ہے کہ حالیہ بجٹ میں بھی ان کی جماعت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، پیپلزپارٹی کے تحفظات میں بلاول بھٹو زرداری کو اعتماد میں لینے کی افواہیں اور بجٹ تجاویز کو پیپلزپارٹی سے منسوب کرنا شامل ہے۔ مسلم لیگ ن مذاکرات کے دوران پیپلزپارٹی رہنمائوں کو منانے کے لیے ان کی اعلیٰ قیادت سے رابطے میں رہی اور یقین دلایا کہ پیپلزپارٹی کے تحفظات دور کیے جائیں گے۔
 

ranaji

(50k+ posts) بابائے فورم
سندھ کی کرپشن اور لوٹ مار کے ساتھ ساتھ پنجاب اور مرکزکی لوٹ مار میں پیپلز پارٹی کا پورا پورا حصہ نہیں دیا جا رہا اس پر پیپلز پارٹی کو تحفظات ہیں جبکہ جرنیلوں کو اس لوٹ مار میں انکے سٹیک سے زیادہ کا حصہ دیا جارہا ہے
بس یہی اعتراض ہے زلیلداری ڈاکو اور بلاول زلیلداری کو