بجلی چوری کیخلاف کارروائی کیلئے جانیوالے آئیسکو اہلکار پر برہنہ کرکے تشدد

iescoh11i2h1.jpg


بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان شہریوں کو ملک بھر میں عیدالاضحی کے دنوں میں بھی لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا جبکہ خیبرپختونخوا اور وفاقی بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ کے معاملے پر آمنے سامنے ہے۔ دوسری طرف ایسے میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے ایک اہلکار پر راولپنڈی میں گوجر خان کے نواحی قصبے جنڈگجراں میں تشدد کرنے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ آئیسکو اہلکار بجلی چوری کرنے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد موقع پر معائنے کے لیے وہاں پہنچا تھا۔

ذرائع کے مطابق آئیسکو اہلکار نے جنڈگجراں کے علاقے میں جا کر ملزم سے بجلی کا بل مانگا تھا جس پر گلفام نامی ملزم طیش میں آ گیا اور اسے کپڑے اتار کر برہنہ کرنے کے بعد تشدد اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر تشدد کر تا رہا اور اس کی مونچھیں بھی کاٹ ڈالیں۔ تھانہ گوجر خان پولیس کی طرف سے گلفام نامی ملزم اور تشدد میں اس کا ساتھ دینے والے دیگر ساتھیوں پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
https://twitter.com/x/status/1803762477848526932
گلفام نامی ملزم اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر آئیسکو اہلکارکو تاروں سے مارتا رہا اور اسے گھسیٹ کر اپنے گھر لے کر چلا گیا جہاں پر اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ تھانہ گوجر خان پولیس نے آئیسکو اہلکار پر تشدد کرنے والے گلفام سمیت 3 ملزموں کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ باقی ملزموں کو گرفتار کرنے کے لیے مختلف جگہوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

گلفام نے آئیسکو اہلکار کو حبس بے جا میں رکھا اور ریزر سے سرکے بالوں کے علاوہ مونچھیں اور بھنویں بھی کاٹ دیں اور اس پر پستول تان کر اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے رہے۔ آئیسکو اہلکار جاوید بشیر کے مطابق سوہاوہ سب ڈویژن کے ایس ڈی او نے وٹس ایپ پیغام کے ذریعے بجلی چوری کی ویڈیو بھیجی تھی جس کے بعد و ہ سرکاری ڈیوٹی پر جنڈگجراں پہنچا تھا اور گلفام کا میٹر چیک کر کے بل طلب کیا تھا۔

ملزم گلفام نے گھر سے نکل کر گالم گلوچ شروع کر دی اور پتھر مارے، بھاگ کر تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ وہ اپنے ساتھیوں محمد ارباب، شان قمر،قمر ظفیر الحق، محمد عرفان، محمد عمران اور 5 نامعلوم افراد کے ساتھ آگیا اور مجھے تاروں سے مارنا شروع کر دیا۔ میں گر گیا تو مجھے گھسیٹ کر گلفام کے ڈیرے پر لے گئے جہاں سب نے مل کر تشدد کیا اور شان قمر پستول نکال کر مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا رہا۔
 

ranaji

(50k+ posts) بابائے فورم
ننگا کرکے مارنے کا سلسلہ تو انڈیا نے مشرقی پاکستان میں شروع کیا تھا بعد میں اس سلسلے کو مغربی پاکستان میں ایجنسیوں نے شروع کیا اور پھر ننگا کرکے پھلترو چیک کرکے جنسی تشدد شروع کرنے کا کلچر چند زابی شرابی حرامی کنجروں مثلیوں میراثی کالے کالے نطفہ حراموں نے اس کو اپنے لیے اور گھر والوں کے لئے عیاشی کے سامان کا زریعہ بنا لیا
 

Dr Adam

Prime Minister (20k+ posts)

اگر اس طرح کا قابل مذمت واقعہ کے پی کے میں پیش آیا ہوتا تو اب تک مریم سمیت اسکی کنیزوں، مرکزی و صوبائی وزراء اور پٹواریوں نے سوشل میڈیا پر ناچ ناچ کر گھنگرو توڑ دیے ہوتے
اس غریب کو مارنے کا کیا فائدہ؟؟ مارنا ہے تو پُلسیوں اور خاکیوں کو مارو