بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو بہت زیادہ منافع مل رہا ہے،ورلڈ بینک

wodl1h1h1121.jpg

ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو بہت زیادہ منافع مل رہا ہے،پاکستان کو امیر طبقے پر ٹیکس استثنیٰ ختم کرنا ہوگا، پاکستان کو امیر طبقے پر ٹیکس استثنیٰ ختم کرنا ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں روشن مستقبل کے عنوان سے ایک سیمینار منعقد کیا گیا جس میں ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نجے بن حسین سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی، سیمینار میں پاکستان کو درپیش چیلنجز اور ان کے حل کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی گئی۔

سیمینار سے اہم شخصیات نے خطاب کیا اور ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ، نجے بن حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان کو امیر طبقے کو ملا ٹیکس استثنیٰ ختم کرنا ہوگا طویل المدتی ٹیکس وصولی جی ڈی پی کے 9اعشاریہ6 فیصد ہوسکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں سالانہ7اعشاریہ 2 کھرب کے بجائے14 سے 15 کھرب روپے اکھٹا کیے جاسکتے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ ٹیکسو ں کی شرح میں 3 فیصد اضافے کیلئے زراعت اور ریئل اسٹیٹ کے شعبوں پر ٹیکس لگایا جائے، تمباکو سمیت سماجی طور پر نقصان دہ اشیاء پر ٹیکس بڑھایا جائے۔

ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو اس وقت انسانی وسائل جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے، یہاں بچوں کی ذہنی نشوونما بھی ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے۔

توانائی کے شعبے کی بحرانی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے نجے بن حسین کا کہنا تھا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں غیر مستعدی اور بدانتظامی سے نقصانات میں اضافہ ہوتا ہے، اس وقت جو نظام پاکستان میں رائج ہے اس میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو بہت زیادہ منافع مل رہا ہے۔
 

ranaji

President (40k+ posts)
شوگر فیکڑیز کے مالک چند جرنیل ، گنجے اور زرداری اور انکے فرنٹ مین۔ ہیں
اسی طرح بجلی بنانے والی کمپنیوں کے مالک بھی یہی حرام خور لٹیرے ہیں جو اس قوم کولوٹ لوٹ کر کھا گپے ستر سال سے جونکوں کی طرح خون چوس رہے ہیں یہ سارے مل کر چند غدار حرامی اور کرپٹ ملک دشمنوں اور جرنیلوں کی سرپرستی میں
 

Dr Adam

Prime Minister (20k+ posts)

اور اگر پاکستانی حکومت نے یہ منافع کم کرنے کی کوشش کی تو اگلے پھر پٹیشنز لے کر اسی ورلڈ بینک کے پاس آئیں گے اور یہی بینک کئی سو ارب ڈالر کا پاکستان پر جرمانہ کر دے گا
 
Sponsored Link