ایف بی آر میں رجسٹرڈ نہ ہونیوالے تاجروں کو قید وجرمانے کی سزا دینے کافیصلہ

handcu111i1h12.jpg


وفاقی حکومت نے ایف بی آر میں رجسٹرڈ نا ہونے والے تاجروں اور ایف بی آر کو معلومات نا دینے والے بینک افسران کو قید اور جرمانے کی سزائیں دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے ٹیکس دہندگان کے بارے میں معلومات فراہم نا کرنےوالے بینک افسران اور انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ نا ہونے والے تاجران و ٹیکس دہندگان کو جرمانے اور ایک سال قید کی سزا دینے کا فیصلہ کرلیا ہے، اس حوالے سے ایک قانون تیار کرنے کیلئے فنانس بل کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترامیم کی تجاویز دی گئی ہیں۔

حکومت نے ایسے تاجران جنہیں سیکشن 99 بی کے تحت انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ ہونا چاہیے مگر وہ اپنی رجسٹریشن نہیں کرواتے، ان تاجران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے، ایسے تاجران کو چھ ماہ قید یا جرمانے کی سزائیں یا دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جاسکتی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون کے تحت اگر کوئی بینک، کمپنی ٹیکس دہندگان کے بارے میں ایف بی آر کو معلومات فراہم کرنے سے انکار کرے تو ان کے خلاف کارروائی کیجائے گی اور ایسے شخص پر جرمانہ، ایک سال تک کی قید یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔

تجاویز میں نادرا ڈیٹا بیس میں موجود ڈیٹا کو ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کیلئے استعمال کیےجانے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جبکہ کسٹمز ایکٹ میں ترامیم کی تجاویز بھی زیر غور ہیں جن کے مطابق کسٹمز سے متعلق کیسوں میں کسی شخص کی گرفتاری کیلئے پولیس کے علاوہ انٹیلی جنس بیورو کی خدمات بھی حاصل کی جاسکے گی۔
 

tahirmajid

Chief Minister (5k+ posts)
karo karo, main to kahta hoon jo tax na de us ki shop, us ka business government kay qabza mein le lo, ager koi boley to us ko phansi lagao.
Logo ko maaro, roads pe ghaseeto, itna zulm karo keh history sharma jay
 
  • Like
Reactions: TMT

ranaji

(50k+ posts) بابائے فورم
جرمانے کے بعد بھی رجسٹر نا ہوئے تو پھانسی کی سزا دی جائے گی
وہ بھی ایک غیر ملک میں یعنی
بقول موجودہ گورنمنٹ اور جرنیلوں کے نمائندے اور اٹارنی جنرل کے
جس نے عدالت میں بیان دیا تھا

کہ آزاد جموں و کشمیر تو ایک غیر ملک ہے اور وہاں پاکستان کا قانون لاگو نہیں ہوتا
تو بہتر ہے پھانسی بھی اسی
غیر ملک میں دو