ایران دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے: او آئی سی

Freedomlover

Minister (2k+ posts)
اسلامی ممالک کی تنظیم آو آئی سی کے پچاس سے زیادہ ارکان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ دہشتگردی کی حمایت کرتا ہے اور شام اور یمن کے معاملات میں بھی دخل اندازی کر رہا ہے۔
آو آئی سی کے رواں ہفتے استنبول میں ہونے والے اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیے میں ایران پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایران نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ بحرین، شام، یمن اور صومالیہ کے اندرونی معاملات میں بھی دخل اندازی کرتا ہے

یمن میں موجود حوثی نامی باغی گروہ کو بھی شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے اسلامی ملک ایران کی حمایت حاصل ہے۔ یہ گروپ سعودی حمایت کی حامل یمن فوج سے لڑ رہا ہے۔ اب تک اس جنگ میں 6000 افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور یہ لڑائی گذشتہ سال مارچ میں شروع ہوئی تھی۔


ایرانی صدر حسن روحانی اور وزیر خارجہ نے اس اختتامی اجلاس میں شرکت نہیں کی۔رواں ہفتے استنبول میں ہونے والی او آئی سی کے اجلاس میں 57 اسلامی ممالک کے سربراہان نے شرکت کی ۔ اس اجلاس میں شام میں انسانی بحران جیسے مسائل زیرِ غور تھے۔کانفرنس میں ایران اور دیگر مسلمان ممالک کے درمیان تعاون پر مبنی تعلقات قائم کرنے اور ایک دوسرے کے خلاف فوج کے استعمال کی دھمکی سے گریز کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
ترکی اور سعودی عرب، جن کے پاس تین سال تک او آئی سی کی صدارت ہے، وہ خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف امریکی اتحاد کا حصہ ہیں۔یہ اتحاد شام کے صدر بشارالاسد کے خلاف بھی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس موقف نے اسلامی ممالک کو صدر اسد کے حامی ایران کو ایک عجیب صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
یمن میں موجود حوثی نامی باغی گروہ کو بھی شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے اسلامی ملک ایران کی حمایت حاصل ہے۔ یہ گروپ سعودی حمایت کی حامل یمن فوج سے لڑ رہا ہے۔ اب تک اس جنگ میں 6000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور یہ لڑائی گذشتہ سال مارچ میں شروع ہوئی تھی۔اگرچہ ترکی کے ایران کے ساتھ شام کے معاملے پر بہت زیادہ اختلافات ہیں لیکن اس کے باوجود دونوں ممالک کے سفارتی اور تجارتی تعلقات قائم ہیں۔دوسری جانب سعودی عرب نے تہران کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر دیے ہیں اور اسے لبنان، شام اور یمن میں تہران کی بڑھتی ہوئی مداخلت پر سخت تشویش ہے۔

او آئی سی کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے سے ایک روز پہلے ایرانی ٹی وی نے صدر حسن روحانی کا ایک بیان نشر کیا جس میں کہا گیا تھا کہ کانفرنس سے کوئی ایسا پیغام نہیں آنا چاہیے جو اسلامی ممالک کے درمیان تقسیم کو ہوا دے۔
اجلاس کے بعد ہونے والی اختتامی پریس کانفرنس میں ترک صدر رجب طیب اردوغان نے کہا تھا کہ ہم مسلمان ہیں اور ہم اسلام کو تقسیم ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔اسلامی ممالک کے رہنماؤں نے آرمینیا کی آذربائجان کے خلاف کارروائی کی بھی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ آرمینیا کی فوج کو بلا کسی شرط نگورنو قرہ باخ سے نکل جانا چاہیے۔جمعرات کو صدر اردوغان نے کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے تمام ممالک نے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے اور پولیس کے وسیع اشتراک کے لیے استنبول میں ایک سینٹر بھی قائم کیا جائے گا۔

http://www.bbc.com/urdu/world/2016/04/160416_fifty_countries_accused_iran_hk
 
Last edited by a moderator:

Freedomlover

Minister (2k+ posts)

ایران شام میں افغانی جنگجو استعمال کر رہا ہے

ایرانی شہروں میں شام میں مارے جانے والے افغان جنگجوؤں کے جنازے تواتر کے ساتھ ادا کیے جاتے ہیں شام میں جاری تنازعے کے پانچ سال مکمل ہو چکے ہیں۔ اس موقعے پر بی بی سی فارسی کو ایسے شواہد ملے ہیں کہ ایران شام میں حکومتی فورسز کے ساتھ مل کر لڑنے کے لیے ہزاروں افغانی بھیج رہا ہے۔
ان افراد میں زیادہ تر ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے ہیں جنھیں ایران میں موجود غریب اور کمزور پناہ گزین برادری میں سے بھرتی کیا گیا ہے۔
انھیں کئی ممالک پر مبنی شیعہ ملیشیا میں شامل ہونے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ یہ سب ایران کی شامی صدر بشار الاسد کی حمایت کا حصہ ہے۔
ایران سے بھیجے جانے والوں میں سے زیادہ تر جنگ زدہ علاقوں کو چھوڑ کر یورپ میں داحل ہونے کی کوشش کرنے والے پناہ گزینوں میں شامل ہو گئے ہیں۔
جرمنی کے ایک چھوٹے قصبے میں ہماری ملاقات نوجوان عامر سے ہوئی جو ایک افغان ہیں۔
ان کے والدین بھی اصفہان میں مہاجر تھے اور اب وہ خود یورپ میں پناہ کے متلاشی ہیں۔
ایران میں رہنے والے تقریباً 30 لاکھ افغانیوں میں سے زیادہ تر کی طرح عامر نے بھی دوسرے درجے کے شہری کی طرح زندگی گزاری ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے تقریباً دس ہزار افغانیوں کو بھرتی کیا ہے ان کے لیے بنا قانونی رہائش اور شناختی کاغذات کے تعلیم یا ملازمت حاصل کرنا بہت مشکل تھا۔ ملک بدری اور گرفتاری کا خوف تو روزانہ کی حقیقت تھی۔
عامر کو ایک دن ایسی پیش کش ہوئی جس کے بعد سب کچھ تبدیل ہو گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ کچھ افغانی جو ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے قریب تھے، ایک مسجد میں میرے اور میرے کچھ ساتھیوں سے ملنے آئے۔
عامر نے مزید کہا کہ انھوں نے ہم سے کہا کہ ہم شام میں خود کو دولت اسلامیہ کہلوانے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف شیعہ مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے شام کی مدد کرنے جا سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہم پاسپورٹ حاصل کر لیں گے اور اس کے بعد ہماری زندگی آسان ہو جائے گی۔ ہم ایرانی شہریوں کی طرح ہوں گے، گھر اور گاڑیاں خرید سکیں گے۔
عامر کو فاطمی بریگیڈ میں شامل کیا گیا اور تمام افغان یونٹوں کی قیادت پاسداران انقلاب کے افسران کر رہے تھے۔
یران کا سرکاری موقف یہ ہے کہ یہ سب افراد رضاکارانہ طور پر مقدس مقامات کے دفاع کے لیے گئے ہیں انھوں نے بتایا کہ تربیت بہت ہی مختصر تھی۔ دو ہفتوں کے دوران حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے اور اسلحے کی بنیادی تربیت فراہم کی گئی اور یہ سب انتہائی رازداری میں کیا گیا۔
جس رات ہم ایرانی صوبے تہران میں ورامن کے قریب قرچک بیس میں داخل ہوئے تو ہمارے تمام موبائل فون لے لیے گئے۔ دو ہفتوں کی بنیادی تربیت کے بعد ہمیں کالے شیشوں والی بسوں میں ایئر پورٹ لے جایا گیا۔
پاسپورٹ نہ ہونے کے باوجود بھرتی کیے جانے والے افغانیوں کو خصوصی طیاروں کے ذریعے براہ راست شام بھیج دیا گیا۔
عامر نے مزید بتایا کہ جب ہم وہاں پہنچے تو ہم نے گولیوں سے پڑنے والے سوراخ اور نقصانات دیکھے۔ یہ جنگ زدہ علاقہ تھا، جو میں نے کیا اور دیکھا اس نے مجھے حیران کر دیا، میں سو نہیں پاتا تھا اور مجھے بلا وجہ غصہ آنے لگا۔
افغان جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ ایرانی کمانڈر ان سے خطرناک آپریشن کرنے کو کہتے تھے برطانیہ میں برمنگھم یونیورسٹی کے پروفیسر سکاٹ لوکس شام میں ایرانی مداخلت کا قریب سے جائزہ لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے افغان ملیشیا کی شام میں سنہ 2012 میں آمد ہوئی۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے فیصلہ کیا کہ شامی فوج خود کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔ فرنٹ لائنز بہت کمزور تھی اور لوگ جبری بھرتیوں سے انکار کر رہے تھے۔
ایرانیوں نے شامی فوج کا ساتھ دینے کے لیے 50 ہزار پر مشتمل مضبوط نیشنل ڈیفنس فورس بنانے کا فیصلہ کیا۔
اس مقصد کے لیے جب شام سے جنگجوؤں کی بھرتی میں مشکل پیدا ہونے لگی تو انھوں نے دوسرے علاقوں میں تلاش شروع کر دی اور ایران سے افغانیوں، لبنانیوں، عراقیوں اور پاکستانی شیعوں کو بھرتی کیا جانے لگا۔
ہم نے پورے یورپ کا سفر کیا جہاں ہمیں کئی عامر جیسے سابق افغان جنگجو ملے اور سب نے ایسی ہی کہانیاں سنائی۔
یونانی جزیرے لیزبوس میں پناہ گزینوں کے کیمپ موریا میں موجود واضح طور پر ٹراما کے شکار ایک نوجوان نے بتایا کہ کیسے افغان فاطمی جنگجوؤں کو فرنٹ لائن پر استعمال کیا گیا اور کامیابی کے ساتھ ان سے کام لیا گیا۔
بعض اوقات ہمارے پاس ضروری اشیا جیسے پانی اور خوراک نہیں ہوتی تھیں۔ ہم صحرا میں بھوکے اور پیاسے ہوتے تھے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ہم پیادہ فوج میں شامل تھے اور ہمیں دشمن کا مقابلہ کرنے اور ان سے لڑنے کے لیے 20 سے 30 کلومیٹر چلنا پڑٹا تھا۔ ہم بھاری قیمت چکا کر زمین پر قبضہ حاصل کرنے کے بعد شامی فوجیوں کے حوالے کر دیتے تھے لیکن عام طور پر ایک یا دو روز میں داعش ان سے واپس قبضہ حاصل کر لیتی تھی۔
انھوں نے ہمیں مزید بتایا کہ ایک رات نخلستان میں ہمیں گھیر لیا گیا اور ہم پر آر پی جی راکٹ داغے گئے۔ میری آنکھوں کے سامنے میرے ایک ساتھی کے ٹکڑے ہوگئے۔ اس کے بعد سے مجھے جنگ سے نفرت ہوگئی اور مجھے جنگ سے خوف آنے لگا۔
وہ ہمیں زبردستی جنگ میں لے گئے، میں بالکل خوش نہیں تھا لیکن ہمیں کہا گیا کہ افغانی ہونے اور شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے مجھے ملک بدر یا گرفتار کیا جا سکتا ہے، اور فورس میں شامل ہونے سے قبل میں نے اصغر آباد حراستی مرکز میں وقت بھی گزارا۔
ہر ہفتے ایران میں فاطمی جنگجوؤں کی آخری رسومات فوجی طور طریقے سے ادا کی جاتی ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے شکایت کی تو مجھ سے کہا گیا کہ آپ کو ایک بار پھر جانا ہوگا، لیکن میں نہیں جانا چاہتا تھا اس لیے میں وہاں سے بھاگ کر یہاں آگیا۔
ایران سے شام بھیجے جانے والے افغانیوں اور ان میں سے مارے جانے والوں کی کل تعداد کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار موجو نہیں ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ حالیہ اندازوں کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے تقریباً دس ہزار افغانیوں کو بھرتی کیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے سرکاری سطح پر افغانیوں کو بھیجے جانے کے الزام کو مسترد کیا ہے۔ ایران کا سرکاری موقف یہ ہے کہ یہ سب افراد رضاکارانہ طور پر مقدس مقامات کے دفاع کے لیے گئے ہیں۔
تاہم ہر ہفتے ایران میں فاطمی جنگجوؤں کی آخری رسومات فوجی طور طریقے کے مطابق ادا کی جاتی ہیں۔
 

Freedomlover

Minister (2k+ posts)
Avr ab aik moderator ka kamal dikhain jo kiss bahanay thread delete kar raha hay
ایران دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے: او آئی سی

Started by Freedomlover, Today 09:13 PM


trashcan_small.gif



Thread deleted by A Abbasi
Reason content not readable. please format your content before posting

’ایران شام میں افغانی جنگجو استعمال کر رہا

Started by waqarforchange, Today 07:30 PM


trashcan_small.gif


Thread deleted by A Abbasi
Reason content not readable. please format your content before posting
 

Aliimran1

Chief Minister (5k+ posts)
(thumbsdown)(thumbsdown)Oh I see------ Look who is saying this ----- The biggest terrorist and terrorist supporter and sponsor of the world [hilar][hilar]
 

JuanM67

Banned
With the exception of Iran, you're on the money. It is time to confront the great Satan, its viceroy sits in your PM house of horrors. His name is Nawaza kunjur, who escaped to JewK.
 

Khair Andesh

Chief Minister (5k+ posts)
صدر حسن روحانی کا ایک بیان نشر کیا جس میں کہا گیا تھا کہ کانفرنس سے کوئی ایسا پیغام نہیں آنا چاہیے جو اسلامی ممالک کے درمیان تقسیم کو ہوا دے
ایران اگر عملی طور پر شام عراق یمن بحرین صومالیہ میں آگ لگائے، تو اس سے اسلامی ممالک کے درمیان تقسیم نہیں ہو گی، لیکن دوسرا اگر صرف بیان ہی دے دے، تواس سے اسلامی ممالک میں تقسیم کا خطرہ ہے۔
 

Freedomlover

Minister (2k+ posts)
صدر حسن روحانی کا ایک بیان نشر کیا جس میں کہا گیا تھا کہ کانفرنس سے کوئی ایسا پیغام نہیں آنا چاہیے جو اسلامی ممالک کے درمیان تقسیم کو ہوا دے
ایران اگر عملی طور پر شام عراق یمن بحرین صومالیہ میں آگ لگائے، تو اس سے اسلامی ممالک کے درمیان تقسیم نہیں ہو گی، لیکن دوسرا اگر صرف بیان ہی دے دے، تواس سے اسلامی ممالک میں تقسیم کا خطرہ ہے۔

Har jaga iran ko zaleel hona parhata hay ye log hameesha say zaleel hin avr zaleel rahaingay InshAllah
 

Humi

Prime Minister (20k+ posts)
It doesn't matter if the mullahs are Iranis or Saudis...they both love to spread their brand of terrorism..
 

allahkebande

Minister (2k+ posts)

Agree all the so called muslim countries including Pakistan and Iran are controlled by jews


آپ تمام اسلامی ممالک پر داعش کا غلبہ چاہتے ہیں تاکہ ایک دوسرے کے گلے کاٹیں ؟
مگر آپ کی خواہش پوری ہونا ممکن نہیں