آصف زرداری کے مدمقابل صدارتی امیدوار محمود اچکزئی کون ہیں؟

14mahmoodachakakzaiaiskjsj.png

چیئرمین پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ورکن قومی اسمبلی اور سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف صدارتی الیکشن لڑنے والے محمود خان اچکزئی 8 فروری 2024ء کو ہونے والے انتخابات میں قلعہ عبداللہ چمن کی نشست NA-266 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔

12 دسمبر 1948 کو محمود خان اچکزئی عنایت اللہ کاریز گلستان ضلع قلعہ عبداللہ میں پیدا ہوئے اور پرائمری سطح تک گورنمنٹ پرائمری سکول عنایت اللہ کاریز گلستان سے تعلیم حاصل کی۔


محمود خان اچکزئی نے گورنمنٹ ہائی سکول عنایت اللہ سے میٹرک کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد گورنمنٹ ڈگری کالج (سائنس کالج) کوئٹہ سے انٹرمیڈیٹ کر کے مکینیکل انجینئرنگ کالج یونیورسٹی آف پشاور سے بیچلر آف انجینئرنگ مکمل کی۔ سیاست کا باقاعدہ آغاز زمانہ طالبعلمی سے پشتون سٹوڈنٹس آرگنائزیشن میں شامل ہو کر کیا جو بعد میں پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن بن گئی۔

25 سالہ محمود خان اچکزئی سربراہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی 2 دسمبر 1973ء کو شہادت کے بعد پارٹی فیصلے کے بعد پہلے سربراہ پھر 1989ء میں چیئرمین پشتونخوا ملی عوامی پارٹی منتخب ہو گئے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں 7 اکتوبر 1983ء کو ایم آر ڈی تحریک کے قندھاری بازار میں جلوس کی قیادت کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی پر حملہ ہوا لیکن وہ معجزانہ طور پر محفوط رہے۔

محمود خان اچکزئی کے 4 ساتھی کاکا محمود، رمضان، دائود اور اولس یار اس افسوسناک واقعے میں شہید ہو گئے جس کے بعد محمود خان اچکزئی تقریباً 6 سال تک روپوش رہے۔ 1989ء میں دوبارہ سے منظرعام پر آنے کے بعد محمود اچکزئی نے لویا جرگہ کے انعقاد کی تجویز دی اور اسی بنیاد پر گلستان کی جنگ کا بھی آغاز ہوا۔

1974ء میں محمود خان اچکزئی (قلعہ عبداللہ، چمن گلستان اور دوبندی) کے حلقے سے پہلی دفعہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے، 1990ء میں قلعہ عبداللہ خان پشین اور 1993ء میں پھر سے قلعہ عبداللہ خان پشین اور کوئٹہ چاغی کے حلقے سے منتخب ہوئے تھے۔ 2002ء میں ایک بار پھر سے وہ قلعہ عبداللہ پشین کی قومی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوئے۔

محمود خان اچکزئی نے 2013ء کے انتخابات سے پہلے نگران وزیراعظم بننے سے انکار کردیا بعدازاں انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور حالیہ عام انتخابات میں قلعہ عبداللہ چمن اور کوئٹہ سٹی کے حلقہ NA-266 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ محمود اچکزئی نے جمہوری سیاسی اتحادوں میں ہمیشہ صف اول کا کردار ادا کیا اور آئینی بالادستی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔

محمود خان اچکزئی جمہوری تحریک، پونم، اے پی ڈی ایم، ایم آر ڈی تحریک سمیت پی ڈی ایم کا بھی حصہ رہے اور اصولی موقف پر ڈٹے رہے۔ سردار عطاء اللہ مینگل کے بعد 2006ء میں صدر پونم اتحاد منتخب ہوئے جس میں سرائیگی، سندھی، بلوچ اور پشتون اقوام شامل ہیں۔ محمود اچکزئی مرکزی نائب صدر پی ڈی ایم رہے، ان کے خاندان میں اہلیہ، 3 بیٹے ازل خان، اصل خان اور اٹل خان اچکزئی اور 2 بیٹیاں شامل ہیں۔
 

ek hindustani

Chief Minister (5k+ posts)
...ji ji.
Lekin... jis tarah thook kar chachi 420 chaat-ti hai us ka mazah to Danda wali Sarkaar hi jaan-ti hai.
Haaain jeeee.
Waah bhei wah.
Majo ma majo maaaa