انسانی سمگلنگ کیس:یوٹیوبرز میرا میڈیا ٹرائل کر رہے ہیں: صارم برنی

sarimab1h112.jpg


ذرائع کے مطابق دستاویزات میں ردوبدل اور انسانی سمگلنگ کے ملزم صارم برنی کو آج جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں پر انسانیسمگلنگ کے مقدمے میں ملزم صارم برنی کے خلاف مقدمے میں بچی کو گود لینے والے جوڑے اور اس کی والدہ کے بیانات کو قلمبند کر لیا گیا ہے۔ حیا نامی بچی کی والدہ افشین سمیت اسے صارم برنی کے حوالے کرنے والے بشریٰ اور ایاز کی طرف سے اپنے اپنے بیانات قلمبند کروائے گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مقدمے کے گواہوں کے بیانات چیمبر میں ملزم صارم برنی کی موجودگی میں ریکارڈ کیے گئے جہاں پر حیا نامی بچی کی والدہ افشین نے بتایا کہ ہمیں اس بات کا یقین دلایا گیا تھا کہ بچی کو کسی کے حوالے نہیں کیا جائے گا، اسے ٹرسٹ میں ہی رکھا جائے گا مگر اسے بعد میں امریکہ بھیج دیا گیا۔

عدالت کی طرف سے گواہوں کے بیانات قلمبند کر کے سماعت ملتوی کر دی گئی، ملزم صارم برنی کے وکیل عامر منسوب قریشی ایڈووکیٹ کے مطابق کسی بھی گواہ کے بیان پر جرح نہیں کی، گواہوں کے بیانات مکمل ہونے کے بعد جرح کریں گے۔ ایف آئی اے نے 3 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کروائے ہیں جن پر جرح مناسب نہیں، گواہوں پر جرح ٹرائل کے موقع پر کریں گے۔

عامر منسوب قریشی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ افشین نے عدالت میں بیان دیا ہے کہ وہ حیا کی پیدائش کے بعد اس کے اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہیں تھے، افشین سے بچی ڈاکٹر مدیحہ نے لی اور اخراجات دیتی رہیں بعد میں پتہ چلا کہ اس نے کسی اور کو بچی دے دی ہے جو بعدازاں صارم برنی ٹرسٹ پہنچ گئی، بچی کی واپسی کیلئے صارم برنی ٹرسٹ سے رابطہ کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ نجی ٹی وی پروگرام میں انہیں بتایا گیا کہ بچی ٹرسٹ کے پاس ہی رہے گی کسی کے حوالے نہیں کی جائے گی تاہم بعد میں پتہ چلا کہ انہوں نے بچی کسی امریکی فیملی کے حوالے کر دی ہے۔ عدالت میں بشریٰ نے بیان دیا کہ وہ بے اولاد تھی اور بچہ گود لینا چاہتی تھی، بچے کو گود لینے سے متعلق سوشل میڈیا پر اشتہار دیکھا تو ہم نے بچی گود لے لی۔

بشریٰ کا کہنا تھا کہ ہم سے کچھ دنوں بعد 6 لاکھ روپے کا تقاضا کیا گیا جو ہم ادا نہیں کر سکتے تھے، ہمیں اغوا کا مقدمہ درج کروانے کی دھمکی بھی دی گئی جس کے بعد ہم نے حیا کو صارم برنی ٹرسٹ میں چھوڑ دیا، بعد میں پتہ چلا کہ اسے کسی امریکی فیملی کو دے دیا گیا ہے۔ ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ بشریٰ کے شوہر ایاز نے کہا ہم نے بچہ ایڈاپٹ کیا، ہم سے رقم طلب کی گئی جس پر ایک میڈیا والے کو بتایا کہ یہ بلیک میلرز ہیں۔

بشریٰ کے شوہر ایاز نے میڈیا والے کو بتایا کہ یہ بچے فروخت کرتے ہیں، پھر وہاں پر پولیس نے چھاپہ مار کر 2 بچے ریکور کیے۔ دوسری طرف صارم برنی کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مجھے اپنے ملک کی عدالتوں پر یقین ہے کہ وہ مجھے انصاف دیں گے۔ میں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے، میں اپنے بال کالے نہیں کرتا تو کام کالے کیسے کر سکتا ہوں؟

انہوں نے کہا کہ میرا میڈیا ٹرائل یوٹیوبرز کے ذریعے کیا جا رہا ہے جو اپنی دکان چلانے کے لیے کچھ بھی تیار کر کے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ یوٹیوبر اپنے گھر والوں کو بھی معافی نہیں دیتے ہوں گے۔ مجھے اس ملک کے نظام کی وجہ سے ہتھکڑی لگی ہے کیونکہ پاکستان میں بچے کو گود لینے کا تصور نہیں ہے بلکہ گارجین شپ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے نظام کو دیکھنا ہے تو سڑکوں پر نکل کر دیکھیں کہ کس طرح سے بچوں کو روڈ پر چھوڑا اور پھر پھینک دیا جاتا ہے۔ یورپ کے نظام میں استاد نے اگر کسی بچے کے چہرے پر نشان دیکھ لے تو اس کا مقدمہ اس کے والدین پر قائم کیا جاتا ہے، میں اپنا کام جاری رکھوں گا اور اپنے بیان پر اب بھی قائم ہوں۔