اندلس سے شام اور ایران تک

Afaq Chaudhry

Chief Minister (5k+ posts)
logo.jpg


مسعود انور

دیکھنے میں تو یہ 13 سو سال پرانی بات لگتی ہے کہ مسلمانوں کا ایک سپہ سالار طارق بن زیاد 5 ہزار مجاہدین کے ساتھ اندلس کے ساحل پر اترتا ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس وقت کا یورپ اسلام کی آغوش میں آگرتا ہے۔ یہ اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کا زمانہ تھا اور موسیٰ بن نصیر شمالی افریقہ کا گورنر تھا جس میں تیونس، طرابلس، الجزائر اور مراکش شامل تھے۔ مراکش کے شمالی ساحل کا شہر اور اردگرد کا علاقہ اسپین کے کنٹرول میں تھا جہاں کاؤنٹ جولین شاہ اسپین کی طرف سے گورنر تھا۔ جولین کی بیٹی فلورندا طلیطلہ کے شاہی محل میں پرورش پارہی تھی جہاں شاہ راڈرک نے اس کی آبروریزی کی۔ اس ظلم پر جوش انتقام میں کاؤنٹ جولین نے موسیٰ بن نصیر کو اسپین پر حملے کی ترغیب دی۔ چنانچہ خلیفہ ولید کی اجازت حاصل کرکے موسیٰ نے بربر نسل کے طارق بن زیاد کو لشکر دے کر بحری کشتیوں میں اسپین روانہ کیا۔ طارق نے ساحل اسپین پر اْتر کر کشتیاں جلوا دیں تاکہ مجاہدین اسلام جزیرہ نما آئی بیریا (اسپین و پرتگال) سے واپسی کا خیال دل سے نکال دیں اور آخر دم تک دشمن کا مقابلہ کرسکیں۔ موسیٰ نے 7 ہزار مزید مجاہدین بطور کمک بھیج دیے۔ دریائے برباط کے کنارے ایک لاکھ کے مسیحی لشکر اور 12 ہزار مسلمانوں میں خونریز جنگ ہوئی جو طارق اور ان کے ساتھیوں کے ایمانی جذبوں نے جیت لی۔ ظالم بادشاہ راڈرک بھاگتے ہوئے مارا گیا۔(بربرمسلمانوں کے ہاتھوں اس شکست پر یورپ نے اسے بربرازم کہہ کر اپنا غصہ نکالااور ہم بھی بربریت کہہ کر اپناہی گریباں چاک کرتے ہیں)۔ مسلمانوں کی اس فتح سے تاریخ اسپین کا وہ 8 سو سالہ سنہری دور شروع ہوا جس میں اہلِ اسلام نے اس سرزمین کو خوشحالی اور ترقی سے ہمکنار کیا اور یہاں تعلیم و حکمت کے وہ چراغ روشن کیے جن سے یورپ کی ظلمت اور تاریکی دور ہوئی۔ وہاں احیائے علوم کا چرچا ہوا اور جدید دور کا آغاز ہوا۔ ابوالقاسم زہراوی (سرجری کا بانی) ابن رشد، امام ابن حزم، ابن زہرابن طفیل، امام قرطبی اور دیگر سیکڑوں علماء و فضلاء اسی دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ تعمیرات میں امیر عبدالرحمن اول کی تعمیر کردہ مسجد قرطبہ ایک ایسا شاہکار ہے جس نے علامہ اقبال کو ''مسجد قرطبہ'' جیسی عمدہ نظم تخلیق کرنے کی راہ دکھائی۔ مگر یہ بھی تاریخ اسلام کا ایک المناک باب ہے کہ مسلمان 8 سو برس کی حکمرانی کے بعد اسپین (اندلس) سے حرفِ غلط کی طرح مٹ گئے۔ اس کی وجہ مسلمانوں کی باہمی نااتفاقیاں اور عرب و بربر کے اختلافات تھے جن کے باعث وہ عیسائی جو شمالی اندلس کے پہاڑوں میں سمٹ کر رہ گئے تھے، دوبارہ دلیر ہوگئے۔ گیارہویں صدی عیسوی میں اندلس کی اموی خلافت کے خاتمے پر وہاں طوائف الملوکی شروع ہوگئی ملک چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹ گیاجن کے حکمرانوں کو مسیحی بادشاہ الفانسو ششم نے اپنی انگلیوں پر نچایا۔ آخر کار مراکش کے امیر یوسف بن تاشقین نے جنگ زلاقہ میں الفانسو کو شکست دے کر وہاں مسلمانوں کو سنبھلنے کا موقع دیا مگر اس کے باوجود ریاستی خانہ جنگیوں نے مسلمانوں کو زوال کی راہ پر ڈال دیا حتیٰ کہ اندلس کا ہیرا شہر قرطبہ مسلمانوں کے ہاتھ سے چھن گیا اور عیسائیوں نے مسجد قرطبہ کو گرجا بنالیا۔ سقوط قرطبہ اور اشبیلیہ کے بعد اسپین میں مسلمانوں کی آخری ریاست غرناطہ رہ گئی جہاں بنواحمر 250 برس تک شمال سے عیسائیوں کے حملوں کا مقابلہ کرتے رہے۔ حتیٰ کہ شاہ فرڈیننڈ اور ملکہ ازابیلا کی فوجوں نے غرناطہ کا محاصرہ کرلیا اور ڈیڑھ ماہ بعد غرناطہ کے آخری حکمران ابو عبداللہ نے شہر کی کنجیاں فرڈیننڈ کے حوالے کردیں۔ سقوط غرناطہ کے بعد سوا سو برس کی مدت میں اسپین سے مسلمانوں کا مکمل صفایا کردیا گیا، انہیں جلاوطن کیا گیا۔ رومن کیتھولک عیسائی حکمرانوں اور تور قماچہ جیسے ظالم اور جنونی پادریوں کے حکم پر اَن گنت مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا۔ انھیں تعزیر و تعذیب کے شکنجوں میں کسا گیا اور بیشتر کو جبراً عیسائی بنالیا گیا حتیٰ کہ وہاں ایک مسلمان متنفس بھی باقی نہ رہا۔ یورپ میں مسلمانوں کے عروج و زوال کی یہ المناک داستان آج کل مجھے بار بار یاد آتی ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ میں ماضی کے خوبصورت دریچوں میں پناہ حاصل کرکے حال کی خوفناک حقیقتوں سے فرار چاہتا ہوں۔ اس کی وجہ ایران پر ممکنہ حملوں اور شام کے خلاف میڈیا وار کے حوالے سے میرے گزشتہ کالموں پر کئی مہربانوں کا ردعمل ہے۔ان مہربانوں کا خیال یہ ہے کہ چونکہ بشارالاسد ایک ظالم آمر ہے اور وہ اپنی حکومت کی بقاء کے لیے شیعہ اقلیت کو استعمال کرتا ہے اور سنی اکثریت پر ظلم ڈھاتا ہے اس لیے اس کی مخالفت کرنا عین ثواب کا کام ہے اور اس کی حمایت کرنا مشرف بہ شیعہ ہونا ہے۔ ان مہربانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایرانی حکمراں پاکستان میں بھی اور پاکستان سے باہر دیگر اسلامی ممالک میں بھی سنی حکمرانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف رہتے ہیں، اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ ان ایرانیوں کو پٹنے دیا جائے۔ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے، اس لیے جو بھی ان شیعہ حکمرانوں کو مارے گا وہ قدرتی طور پر ہمارا دوست ٹھیرا۔ جناب عالی، میں نے ایک دفعہ بھی یہ نہیں کہا کہ بشارالاسد جو کرتا رہا ہے وہ ٹھیک ہے یا ایرانی حکمراں جو کررہے ہیں وہ ٹھیک ہے۔ ہمارے زرداری و گیلانی کچھ بھی کرتے پھریں وہ کہیں سے بھی پاکستانی عوام کے جذبات کی عکاسی نہیں کرتے۔ جس طرح ہم پر زرداری و گیلانی مسلط کردیے گئے ہیں اسی طرح کئی مسلم ممالک کے حکمران عوام پر مسلط کردہ ہیں اور یہ بھی ان ہی عالمی طاقتوں کے اتنے بڑے ایجنٹ ہیں جتنے ہمارے حکمراںلیکن اس کا کہیں سے یہ مطلب نہیں کہ ہم ایران و شام پر اسرائیلی و امریکی حملوں پر بغلیں بجاتے پھریں۔ اچھی طرح سے سمجھ لیجئے، یہ طاغوت ہمیشہ سے مسلمانوں کے مابین اختلافات سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اسپین میں عرب و بربر کے اختلافات کو ابھارا گیا اور اب شیعہ و سنی۔ میرے سامنے کرسچن سائینس مانیٹر کا گزشتہ سنیچر کا شمارہ موجود ہے جس میں پورے ہفتہ کی بہترین خبروں کا خلاصہ ہے۔ اور اس میں سرفہرست جو خبر ہے وہ یہ ہے کہ لبنان کے سربرآوردہ سنی مجاہدین وادی بقاع میں سنی نوجوانوں کو فوجی تربیت فراہم کررہے ہیں جو جلد ہی شام میں اسد حکومت کے خاتمے کے لیے عملی جدوجہد میں حصہ لیں گے۔ اس خبر میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ لبنان میں شیعہ و سنی اختلافات کس طرح پیدا ہوئے اور شیعہ فرقہ نے کس طرح سنیوں کو دھوکا دیا۔دیکھا آپ نے، ان کا پورا زور آپ کے اختلافات پر ہے۔ دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کے لیے وہ سنی اکثریت کا کندھا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ وقت بہت تیزی کے ساتھ گزر رہا ہے۔ سمجھ لیجئے، ہشیار ہوجائیے، یہ لوگ شیطان کے ماننے والے ہیں۔ پہلے تو اسپین سے مسلمانوں کا نام ختم ہوا تھا۔ وہاں نہ عربوں کو چھوڑا گیا تھا اور نہ بربروںکو بخشا گیا تھا۔ اب یہی سازشی پوری دنیا سے مسلمانوں کے نام کو ختم کرنے کے مشن پر نکلے ہیں۔ یہ نہ سنیوں کو چھوڑیں گے اور نہ ہی اہل تشیع کو بخشیں گے۔ سمجھ جائیے، خود بھی خبردار ہوجائیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی اس سازش سے ہشیار کیجئے۔ ہشیار باش۔

http://www.jasarat.com/epaper/index.php?page=03&date=2012-06-07


 
Last edited: