'اندازہ لگائیں،الیکشن بچانے کیلئے حکومت اور الیکشن کمیشن کہاں تک جا رہاہے'

5tribunalaqanaooosazi.png

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور قائم مقام صدر مملکت کی طرف سے الیکشن کمیشن آرڈیننس کی منظوری دے دی گئی ہے جس کے تحت الیکشن ٹربیونل کے قیام سے متعلقہ قانون میں ترمیم کی گئی ہے۔ آرڈیننس کے تحت الیکشن ایکٹ 2023ء میں ترمیم کی گئی ہے جس کے مطابق انتخابات کے حوالے سے عذرداروں سے متعلقہ الیکشن ٹربیونل میں اب حاضر سروس کے ساتھ ساتھ ریٹائر ججز بھی تعینات کیے جا سکیں گے۔

آرڈیننس منظور ہونے کی خبر پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر سیاسی وصحافتی حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل دیا جا رہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل ایکس (ٹوئٹر) ہینڈل سے پیغام جاری کیا گیا کہ: اپنے جعلی مینڈیٹ کو قائم رکھنے کے لئے یہ جعلی حکومت اور اس کے ہینڈلرز کتنے آئین اور قانون بدلیں گے؟

پہلے الیکشن کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے 5 اپریل کو 6 ججز کے دئیے گئے نام دبائے رکھے اور اب حکومت کی طرف سے یہ آرڈیننس جاری کر دیا گیا ہے۔ پورا نظام عوام کا مینڈیٹ چوری کرنے اور عمران خان کو قید رکھنے کے لئے کام کر رہا ہے۔

https://twitter.com/x/status/1795104477160108412
سینئر کورٹ رپورٹر ثاقب بشیر نے لکھا:8 فروری 2024ء کو انتخابات ہوئے، لاہور ہائیکورٹ نے 5 اپریل کو الیکشن کمیشن کی درخواست پر پنجاب میں الیکشن ٹریبونلز کے لیے 6 ججز کے نام بھیجے اور ایک ماہ 22 دن بعد آج 27 مئی تک بھی الیکشن کمیشن نے ناموں کے نوٹیفکیشن نہیں جاری نہیں کئے اور آج حکومت نے یہ آرڈیننس جاری کر دیا ہے۔

انہوں نے لکھا: اندازہ لگائیں الیکشن کمیشن اور حکومت کا آپس میں ربط جوڑ، پلاننگ، آخر خطرہ کیا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے بھیجے گئے ناموں کو پہلے الیکشن کمیشن نے الیکشن ٹریبونل نہیں لگایا اب ریٹائرڈ ججز لیں گے یہ تو 8 فروری 2024ء کے انتخابات کو مزید متنازع کرے گا!

https://twitter.com/x/status/1795103023519150150
ایک اور پیغام میں سوال اٹھاتے ہوئے لکھا:اندازہ لگائیں حکومت کہاں تک جار ہی ہے، الیکشن کمیشن کہاں تک جا رہا ہے؟ الیکشن بچانے کے لئے! پہلے الیکشن کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے 5 اپریل کو دئیے 6 ججز کے نام آج 26 مئی تک دبائے رکھے، نوٹیفکیشن نہیں کیا، اب حکومت نے آرڈیننس جاری کر دیا ہے، کیا حکومت اور الیکشن کمیشن اکٹھے چل رہے ہیں ؟

https://twitter.com/x/status/1795100799267229718
سینئر صحافی اسرار احمد نے طنزاً لکھا: لگتا یہی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے جو نام الیکشن ٹربیونل کے لیے دیے گئے تھے اور ان کو الیکشن کمیشن نوٹیفائی نہیں کر رہا تھا اس کا حل نکالا گیا ہے! ریٹائرڈ ججز کے ساتھ واپڈا سے بھی کسی ریٹائرڈ فرد کے تقرر کی اجازت کا آپشن بھی ہونا چاہیے تھا !

https://twitter.com/x/status/1795097973296181667
احمد وڑائچ نے لکھا: اس آرڈیننس کا واحد مقصد پنجاب میں مرضی کے الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل ہے، الیکشن کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے دیئے ججز کو تعینات نہیں کیا، باقی ہر صوبے میں ٹربیونل بن چکے ہیں۔ بظاہر اب الیکشن کمیشن پنجاب میں ریٹائرڈ ججز کو ٹربیونل میں لگائے گا، فارم 47 والا معاملہ ختم سمجھیں۔

https://twitter.com/x/status/1795102124281393448
انہوں نے لکھا: فارم 45 اور 47 کا مکو ٹھپنے کی کوشش، حکومت نے آرڈیننس جاری کر دیا، ریٹائرڈ ججز دھاندلی کیسز کی سماعت کر سکیں گے، نہ فیصلے ہوں گے اور نہ مینڈیٹ واپسی والی بات ہو گی۔

https://twitter.com/x/status/1795097820380168587
معروف وی لاگر وقار ملک نے لکھا:فارم 47 حکومت نے اپنی چوری بچانے کیلئے فارم 47 جج لگانے کا فیصلہ کرلیا، اب الیکشن کے معاملات بھی فارم 47 جج دیکھیں گے، مطلب پاکستان تحریک انصاف اپنا مینڈیٹ قانونی طور پہ لینا بھول جائے!!

https://twitter.com/x/status/1795100323570213150
تحریک انصاف کے رہنما چودھری فواد حسین نے لکھا:نون لیگ کے منشور میں نیب کو ختم کرنا تھا، پیپلز پارٹی کے رہنما بشمول یوسف رضا گیلانی صاحب نیب قانون کے خلاف دن رات تقریریں کرتے تھے لیکن جوں ہی اقتدار میں آئے تمام تحفظات ہوا ہو گئے اور نیب کا قانون پھر سیاسی مخالفوں کے خلاف پیپلز پارٹی اور نون لیگ کا محبوب ہتھیار بن چکا ہے!

https://twitter.com/x/status/1795102409787904026
عمران افضل راجہ نے لکھا: اپنی بددیانتیوں اور بدکاریوں کو تحفظ دینے کے لیے ہر قانون کو موم کی ناک کی طرح موڑ کر ان میں ترامیم کی جا رہی ہیں! آسان الفاظ میں جو ملزمان ہیں وہی اپنے خلاف ججوں کا تقرر کریں گے ؟؟ کدھر گیا انقلابی منصف اعلیٰ جو اپنی نگرانی میں انصاف کا قتل عام کروا رہا ہے ؟؟

https://twitter.com/x/status/1795105089675202905
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آرڈیننس کے ذریعے الیکشن ایکٹ 2023ء میں ترمیم کر دی گئی ہے اور نیب آرڈیننس کے تحت زیرحراست ملزم کے ریمانڈ کا دورانیہ 14 دنوں سے بڑھا کر 40 دن کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف نیب افسر کی طرف سے بدنیتی پر مشتمل نیب ریفرنس قائم کرنے پر سزا میں 3 سال کی کمی کر دی گئی ہے۔
 

ranaji

(50k+ posts) بابائے فورم
جتنی اپنی ماں چ۔۔۔ ہے چ ۔۔۔ لو
کبھی تو موقع آئے گا جب
پوری قوم ان سب کی ماں چ ۔۔۔ گئ انشا اللہ بہت جلد