انتخابات میں بلے کا نشان نہ ہوا تو مزید کشیدگی بڑھے گی: پی ٹی آئی

batih111h32.jpg


پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے بلے کا نشان الاٹ کرنے میں تاخیر پر اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔

ترجمان تحریک انصاف نے اپنے اعلامیہ میں کہا ہے کہ ہماری سیاسی جماعت ہر طرح سے بدترین ریاستی جبر اور الیکشن سے پہلے کی جانے والی سیاسی انجینئرنگ کے نشانے پر ہے۔ تمام آثار اور شواہد آئندہ عام انتخابات پر تاریخی ڈاکہ ڈالنے کے ریاستی عزم کا پردہ فاش کر رہے ہیں۔ ہماری جماعت کو ٹیکنیکل ناک آئوٹ جیسی سازش کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ترجمان پی ٹی آئی کے مطابق آئندہ عام انتخابات میں بلے کا نشان نہ ہوا تو ملک میں مزید کشیدگی پھیلنے کا خطرہ ہے۔ ناحق جیل میں قید بانی چیئرمین اور ان کی سیاسی جماعت ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے جسے ووٹ دینے کی اہل تین چوتھائی آبادی کی حمایت حاصل ہے۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کو انتخابات سے باہر کرنے کیلئے غیرقانونی، غیرآئینی اور غیرجمہوری ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

تحریک انصاف کی قیادت کا کہنا تھا کہ اڈیال جیل میں قید عمران خان اور پی ٹی آئی کا مینڈیٹ چھیننے کے مجرمانہ ہدف کے تحت ملک کو غیرجمہوری حکومتوں کے قبضے میں دیکر انتخابات کی بنیادی دستوری ضرورت سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔ 9 مئی کے بعد پی ٹی آئی کو توڑنے، بانی چیئرمین اور ہزاروں معصوم کارکنوں کو جیلوں میں بھرنے کے باوجود پی ٹی آئی کی حمایتی عوام ریاست شر انگیز منصوبہ سازوں کیلئے چیلنج ہے
۔
تحریک انصاف کو سیاست سے بے دخل کرنے کا مرکزی کردار الیکشن کمیشن کے حوالے کر دیا گیا ہے، چیف الیکشن کمشنر اور متنازع اراکین کمیشن کے ذریعے تحریک انصاف کو متعصبانہ فیصلوں، غیرقانونی حکم ناموں، بدنیتی اور امتیاز سلوک سے سیاست سے باہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ ناکام رہے ہیں۔

ترجمان کے مطابق پی ٹی آئی کو سیاست سے باہر کرنے کے خواہشمند غیرسیاسی حلقوں نے ٹیکنیکل ناک آئوٹ کرنے کا ہدف الیکشن کمیشن کو دے دیا گیا۔ اسی مذموم منصوبے کے تحت پی ٹی آئی کو ان کے بلے کے انتخابی نشان کے حق سے محروم کر کے ان کے ووٹرز کو سیاسی شناخت سے محروم کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔

تحریک انصاف نے ڈیڑھ سال پہلے جماعتی آئین کے تحت انٹراپارٹی انتخابات کروائے لیکن بلے کا نشان چھیننے کیلئے انٹراپارٹی الیکشن غیرقانونی طور پر کالعدم قرار دے دیئے۔ الیکشن کمیشن کے 23 نومبر کو جاری کیے گئے غیرقانونی حکم نامے پر تحفظات کے باوجود لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کے باوجود صاف شفاف الیکشن کروائے۔

ملکی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ ملک کی سب سے بڑی جمہوری جماعت کے بانی چیئرمین جمہوریت کی خاطر جماعت کی طرف سے تاحیات چیئرمین کا منصب ملنے کے باوجود خود کو اس سے الگ کر لیا۔ پی ٹی آئی کی چیئرمین شپ گھر میں کسی کو دینے کے بجائے ایک قابل کارکن کو چیئرمین کے منصب کیلئے انٹراپارٹی انتخابات میں بطور امیدوار نامزد کیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے توسط سے انٹراپارٹی الیکشن کے نتائج الیکشن کمیشن میں جمع کروانے کے بعد انتخابات سے 60 دن پہلے تک انتخابی نشان جاری نہ کرنا تشویش کا باعث اور قبل از انتخابات دھاندلی ہے۔ الیکشن کمیشن کے پاس بلے کا نشان روک کر رکھنے کا کوئی قانونی حق نہیں نہ ہی ملکی تاریخ میں پہلے ایسی کوئی مثال ملتی ہے۔

جبری طور پر بلے کا نشان ہتھیانے کی کوشش جمہوریت اور ملک کے کروڑوں عوام سے ان کی سیاسی شناخت چھیننے کے مترادف ہے۔ انتخابات میں بیلٹ پیپر پر بلے کا نشانہ نہ ہوا تو آئندہ عام انتخابات اپنی افادیت کھو دیں گے جس سے ملک میں مزید کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔

الیکشن کمیشن اور پس پردہ سازشی کرداروں کی ایماء پر ووٹ کی حرمت پامال کرنے کی روش کو ترک کر دے اور پی ٹی آئی کو فوری بلے کا نشان جاری کیا جائے۔ ترجمان کا لاہور ہائیکورٹ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ معاملے کی حساسیت مدنظر رکھ کر 30 نومبر 2023ء کی ہماری درخواست کو جلد سماعت کلئے مقرر کرنے کا فیصلہ جاری کرے۔