امیر بالاج کے قتل میں ملوث دیرینہ دوست احسن شاہ گرفتار

balajah1h112.jpg

امیر بالاج قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں, قتل میں سی آئی اے ٹیم نے مقتول کے دیرینہ دوست احسن شاہ کو گرفتار کر لیا,ذرائع کے مطابق احسن شاہ کو امیر بالاج کی ریکی دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا، قتل کے وقت احسن شاہ پاکستان میں موجود نہیں تھا بلکہ سعودی عرب سے ملزمان کو ریکی دی تھی, احسن شاہ نے یہ بتایا تھا امیر بالاج نے اس شادی پر جانا ہے۔

اہل خانہ کے مطابق احسن شاہ کو انویسٹی گیشن ٹیم نے گھر سے گرفتار کیا اور ان پر تشدد بھی کیا گیا، پولیس کا کہنا ہے کہ احسن شاہ نے اس قتل کے عوض 50 لاکھ روپے لیے ہیں لیکن احسن شاہ نے ایسا کچھ نہیں کیا۔


19 فروری کو لاہور ملتان روڈ پر شادی کی تقریب میں فائرنگ سے ٹیپو ٹرکاں والا کا بیٹا امیر بالاج ٹیپو جاں بحق اور دو افراد زخمی ہوگئے تھے۔ امیر بالاج ٹیپو کے گن مینوں کی فائرنگ سے حملہ آور مظفر حسین بھی موقع پر مارا گیا تھا۔

ملزم مظفر حسین نے شاٹ گن کا لائسنس حاصل کر رکھا تھا اور اپنے والے لائسنس سے ہی امیر بالاج کو قتل کیا,امیر بالاج پر فائرنگ شادی کی تقریب سے باہر نکلتے ہوئے کی گئی، حملے کے وقت لوگ امیر بالاج کے ساتھ سیلفیاں بنانے میں مصروف تھے۔

19 فروری کو لاہور ملتان روڈ پر نجی سوسائٹی میں شادی کی تقریب کے دوران فائرنگ سے ٹیپو ٹرکاں والا کا بیٹا امیر بالاج ٹیپو جاں بحق اور 2افراد زخمی ہوگئے تھے، امیر بالاج ٹیپو کے سیکیورٹی گارڈز کی فائرنگ سے حملہ آور مظفر حسین بھی موقع پر مارا گیا ،

مجرم نے امیر بالاج کے قتل میں شارٹ گن کا استعمال کیا جو کہ اس کا ذاتی اور لائسنس یافتہ نکلا،امیر بالاج پر فائرنگ شادی کی تقریب سے باہر نکلتے ہوئے کی گئی، حملہ آور سیلفی لینےکے بہانے امیر بالاج کے قریب آیا اور فائرنگ کر دی ، حملے کے وقت امیر بالاج نے بلٹ پروف جیکٹ بھی پہن رکھی تھی لیکن اس کے باوجود حملہ اتنے قریب سے کیا گیا کہ وہ ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ گئے ۔