امت کے سردار (سید) رسولؐ کی زبانی

Zoq_Elia

Senator (1k+ posts)
اُمت کے سردار (سید) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبانی

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جن ہستیوں کو اپنی زبان مبارک سے سید کہا اور فرمایا۔ اُن کا تذکرہ کرنے کا جی چاہا۔ ذیل میں صرف اُن صحیح احادیث کو بیان کیا ہے جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مخصوص خوش نصیب اور عظیم ہستیوں کو سید فرمایا ہے۔ کوشش کی ہے کہ صرف صحیح احادیث سے استفادہ کیا جائے۔ انسان کا علم نامکمل ہوتا ہے۔ اگر ممبران میں سے کوئی ایسی صحیح احادیث سے واقف ہوں جس میں کُچھ اور ہستیوں کو بھی سید کہا ہو جن کا ذکر میں تھریڈ میں نہ کرسکا ہوں تو اُن سے گزارش ہے کہ وہ اُن صحیح احادیث کی نشاندہی بمعہ ریفرنس (حوالہ) کردیں میں مشکور ہوں گا اور اُن احادیث کو بھی اصل تھریڈ میں شامل کردوں گا۔ شکریہ

۔1. حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام لوگوں، تمام بنی آدم اور تمام اولاد آدم کے سردار ’سید‘ ہیں۔

سید الناس
تمام لوگوں کا سردار

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلا فَخْرَ ، مَا مِنْ أَحَدٍ إِلا وَهُوَ تَحْتَ لِوَائِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَنْتَظِرُ الْفَرَجَ ، وَإِنَّ مَعِي لِوَاءَ الْحَمْدِ ، أَنَا أَمْشِي وَيَمْشِي النَّاسُ مَعِي حَتَّى آتِيَ بَابَ الْجَنَّةِ فَأَسْتَفْتِحُ , فَيُقَالُ : مَنْ هَذَا ؟ , فَأَقُولُ : مُحَمَّدٌ ، فَيُقَالُ : مَرْحَبًا بِمُحَمَّدٍ ، فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي خَرَرْتُ لَهُ سَاجِدًا أَنْظُرُ إِلَيْهِ " . هَذَا حَدِيثٌ كَبِيرٌ فِي الصِّفَاتِ وَالرُّؤْيَةِ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ ۔
أخرجه الحاکم في المستدرک، کتاب الإيمان، 1 /83، الرقم:82، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 /376، والزيلعي في تخريج الأحاديث والآثار، 2 /171۔
Source


حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: میں روزِ قیامت (بھی) لوگوں کا سردار (سید) ہوں گا اور میں یہ بطور فخر نہیں کہتا، اس دن ہر کوئی میرے جھنڈے تلے ہوگا اور وہ (غم و الم کی کیفیت سے) نجات کا منتظر ہوگا اور بے شک حمد کا جھنڈا (لِوَاءَ الْحَمْدِ) میرے ہاتھ میں ہوگا۔ میں چلوں گا تو میرے ساتھ لوگ چلیں گے، یہاں تک کہ میں جنت کے دروازے پر آؤں گا اور اسے کھولنے کا کہوں گا۔ پوچھا جائے گا: کون؟ میں کہوں گا: محمد ( صلی اللہ علیہ والہ وسلم )۔ پس کہا جائے گا: محمد ( صلی اللہ علیہ والہ وسلم ) خوش آمدید۔ پس جب میں اپنے ربّ کو دیکھوں گا تو اُسکی طرف نظر کرتے ہوئے سجدہ ریز ہو جاؤں گا۔
حاکم کہتے ہیں کہ یہ روایت شیخین (بخاری و مسلم) کی شرط کے مطابق صحیح ہے مگر اُنھوں نے بیان نہیں کی۔

نوٹ
یہ حدیث (أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلا فَخْرَ) با اختلاف الفاظ صحیح بخاری، جامع ترمذی، سنن نسائی الکبرٰی، مسند احمد بن حنبل، مصنف ابن ابی شیبہ اور دوسری کتب حدیث میں بھی موجود ہے۔ اور یہ حدیث سنداً صحیح ہے۔ دیکھیے یہ لنک اور یہ لنک


سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ
تمام اولاد آدم کا سردار

حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا هِقْلٌ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَأَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ ، وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ " . ۔
أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الفضائل، باب تفضيل نبينا صلی الله عليه واله وسلم علی جميع الخلائق، 4 /1782، الرقم: 2278، و أبو داود في السنن ، کتاب السنة، باب في التخيير بين الأنبياء عليهم الصلاة والسلام، 4 /218، الرقم: 4673، و أحمد بن حنبل في المسند ، 2 /540، الرقم: 10985، وابن أبي شيبة في المصنف، 7 /257، الرقم: 35849، و ابن حبان عنعبد اﷲ في الصحيح ، 14 /398، الر قم: 6478، و أبو يعلی عن عبد اﷲ بن سلام رضی الله عنه في المسند ، 13 /480، الرقم: 7 493، و ابن أبي عاصم في السنة ، 2 /369، الرقم: 792، و اللالکائي في اعتقاد أهل السنة ، 4 /788، الرقم: 1453، و الب يهقي في السنن الکبری ، 9 /4، وأيضًا في شعب الإيمان، 2 /179، الرقم: 1486 .۔
Source


حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں گا، اور سب سے پہلا شخص میں ہوں گا جس سے قبر شق ہو گی، اور سب سے پہلا شفاعت کرنے والا بھی میں ہوں گا اور سب سے پہلا شخص بھی میں ہی ہوں گا جس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ ، وَبِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ يَوْمَئِذٍ آدَمُ فَمَنْ سِوَاهُ إِلَّا تَحْتَ لِوَائِي ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۔

جامع الترمذي كِتَاب الدَّعَوَاتِ أبوابُ الْمَنَاقِبِ بَاب فِي فَضْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ و آلہ وسلم۔ رقم الحديث: 3577
Source


حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ’’ میں تمام اولاد آدم کا سردار ہوں قیامت والے دن اور میں اس پر فخر نہیں کرتا۔ اور میرے ہاتھ میں لوائے حمد کا جھنڈا ہو گا اور نہیں فخر کرتا اس پر اور آدمؑ سمیت تمام انبیأ میرے اس پرچم کے نیچے ہوں گے اور میں ہی سب سے پہلا ہوں گا جس سے زمین شق ہوگی اور میں یہ اظہار فخر کیلیے نہیں کہتا‘‘۔۔۔ ابو عیسٰی ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔



عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما ذَکَرَ حَدِيْثًا طَوِيْـلًا قَالَ فِيْهِ: قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه واله وسلم : وَأَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ فِي الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ الْأَرْضُ عَنِّيْ وَعَنْ أُمَّتِيْ وَلَا فَخْرَ، وَبِيَدِيْ لِوَاءُ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَآدَمُ وَجَمِيْعُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ وَلَدِ آدَمَ تَحْتَه، وَإِلَيَّ مَفَاتِيْحُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَبِيْ تُفْتَحُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ سَائِقِ الْخَلْقِ إِلَی الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا إِمَامُهُمْ وَأُمَّتِيْ بِالْأَثْرِ. رَوَاهُ إِسْمَاعِيْلُ الْأَصْبَهَانِيُّ وَالسُّيُوْطِيُّ وَالثَّعَالِبِيُّ۔
أخرجه إسماعيل الأصبهاني في دلائل النبوة، 1 / 6، الرقم: 25، والسيوطي في الخصائص الکبریٰ، 2 /388، والثعالبي في الکشف والبيان،7 /468۔

حضرت عبد اﷲ بنِ عباس رضی اﷲ عنہما ہی سے طویل حدیث مروی ہے جس میں اُنہوں نے بیان کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:’’میں دنیا اور آخرت میں ساری اولادِ آدم ں کا سردار ہوں اور میں یہ بطور فخر نہیں کہتا، سب سے پہلے مجھ سے اور پھر میری اُمت سے زمین شق ہوگی اور میں یہ بطور فخر نہیں کہتا، میرے ہاتھ میں قیامت کے دن (اللہ تعالیٰ کی) حمد کا جھنڈا (لِوَاءُ الْحَمْدِ) ہوگا جس کے نیچے آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد میں سے تمام انبیاء علیھم السلام ہوں گے، قیامت کے دن میرے ہاتھ میں جنت کی کنجیاں ہوں گی اور میں یہ بطور فخر نہیں کہتا، قیامت کے دن مجھ سے ہی شفاعت کا آغاز کیا جائے گا اور میں یہ بطور فخر نہیں کہتا، اور میں ہی سب سے پہلا شخص ہوں جو قیامت کے دن مخلوق کو جنت کی طرف لے کر جائے گا اور میں یہ بطور فخر نہیں کہتا، اور میں ہی اُن کا پیشوا ہوں گا اور میری اُمت میرے پیچھے ہو گی۔‘‘ اِسے امام اسماعیل اصبہانی، سیوطی اور ثعالبی نے روایت کیا ہے


أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْكِلابِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلا فَخْرَ ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَمُشَفَّعٍ ، بِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ ، تَحْتِي آدَمُ فَمَنْ دُونَهُ

أخرجه ابن حبان في الصحيح، 14 /398، الرقم: 6478، وأبو يعلی في المسند، 13 /480، الرقم: 7493، وابن أبي عاصم في السنة، 2 /369، الرقم: 793، واللالکائي في اعتقاد أهل السنة، 4 /789، الرقم: 1456، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 9 /455، الرقم: 428، والهيثمي في موارد الظمآن، 1 /523، الرقم: 2127، وأيضًا في مجمع الزوائد، 8 /254.۔
رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ وَأَبُوْ يَعْلٰی وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ. وَقَالَ الْأَلْبَانِيُّ فِي ’الظِّـلَالِ‘: إِسْنَادُه صَحِيْحٌ، رِجَالُه کُلُّهُمْ ثِقَاتٌ
Source
Source


حضرت عبد اللہ بن سلامؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ’’میں ساری اولادِ آدمؑ کا سردار ہوں قیامت والے دن اور اس کا اظہار بطور فخر نہیں کر رہا، سب سے پہلے مجھ سے زمین شق ہو گی، میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول کی جائے گی، میرے ہاتھ میں (اللہ تعالیٰ کی) حمد کا جھنڈا ہوگا جس کے نیچے حضرت آدم علیہ السلام اور ان کے علاوہ تمام لوگ (انبیا) ہوں گے۔‘‘۔ اسے امام ابنِ حبان، ابو یعلی اور ابنِ ابی عاصم نے روایت کیا ہے۔ البانی نے ’ظلال الجنۃ‘ میں کہا ہے: اِس کی اِسناد صحیح ہے اور اس کے تمام رِجال ثقہ ہیں۔


نوٹ
یہ حدیث (انا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ) اس کے علاوہ دوسری کتب حدیث میں بھی موجود ہے۔ دیکھیے یہ لنک اور یہ حدیث صحیح ہے دیکیھے یہ لنک



۔2. حضرت علی کرم اللہ وجہہ دنیا اور آخرت میں سید (سردار) ہیں اور سید العرب ہیں اور سید المسلمین ہیں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد تمام مومنین کے ولی ہیں اور جس کے بھی مولا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں اُس کے مولا علی کرم اللہ وجہہ ہیں۔


سَيِّدٌ فِي الدُّنْيَا ، وَسَيِّدٌ فِي الآخِرَةِ
دنیا اور آخرت میں سردار

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قثنا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ , فَقَالَ : " أَنْتَ سَيِّدٌ فِي الدُّنْيَا ، وَسَيِّدٌ فِي الآخِرَةِ ، مَنْ أَحَبَّكَ فَقَدْ أَحَبَّنِي ، وَحَبِيبُكَ حَبِيبُ اللَّهِ ، وَعَدُوُّكَ عَدُوِّي ، وَعَدُوِّي عَدُوُّ اللَّهِ ، الْوَيْلُ لِمَنْ أَبْغَضَكَ مِنْ بَعْدِي "۔
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل أَخْبَارُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طالبؑ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ ...۔رقم الحديث: 948


حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے علی ابن ابی طالبؑ کی طرف بھیجا (جب ہم آئے تو) پس آپ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا، ’’تم دنیا میں بھی سید (سردار) ہو اور آخرت میں بھی سید (سردار) ہو۔ جس نے تم سے محبت رکھی پس اُس نے مجھ سے محبت رکھی اور تمھارا حبیب اللہ کا حبیب ہے اور تمھارا دُشمن میرا دُشمن ہے اور میرا دُشمن اللہ کا دُشمن ہے۔ تباھی اور ہلاکت ہے اُس کیلیے جس نے میرے پردہ کر جانے کے بعد تم سے بغض رکھا‘‘۔
fshaba_0000.jpg

fshaba_0795.jpg

fshaba_0796.jpg


حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقِتْبَانِيُّ ، وَحَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ الْخَضِرِ الشَّافِعِيُّ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُمَيَّةَ الْقُرَشِيُّ بِالسَّاقَةِ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ إِسْحَاقَ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالُوا : ثنا أَبُو الأَزْهَرِ ، وَقَدْ حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الْمُزَكِّي ، عَنْ أَبِي الأَزْهَرِ ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : نَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَلِيٍّ ، فَقَالَ : " يَا عَلِيُّ ، أَنْتَ سَيِّدٌ فِي الدُّنْيَا ، سَيِّدٌ فِي الآخِرَةِ ، حَبِيبُكَ حَبِيبِي ، وَحَبِيبِي حَبِيبُ اللَّهِ ، وَعَدُوُّكَ عَدُوِّي ، وَعَدُوُّي عَدُوُّ اللَّهِ ، وَالْوَيْلُ لِمَنْ أَبْغَضَكَ بَعْدِي " . صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ ، وَأَبُو الأَزْهَرِ بِإِجْمَاعِهِمْ ثِقَةٌ ، وَإِذَا تَفَرَّدَ الثِّقَةُ بِحَدِيثٍ فَهُوَ عَلَى أَصِلِهِمْ صَحِيحٌ۔

المستدرك على الصحيحين كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ... وَمِنِ مَنَاقِبِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ ابی طالب ذِكْرُ إِسْلامِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٍّ رَضِيَ ...۔رقم الحديث: 4577
Source

متعدد (3) اسناد سے حاکم نے حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہ کی طرف دیکھا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، ’’ ائے علیؑ تم دنیا میں بھی سید (سردار) ہو اور آخرت میں بھی سید (سردار) ہو۔ آپکا حبیب میرا حبیب ہے اور میرا حبیب اللہ کا حبیب ہے۔ اور آپکا دُشمن میرا دُشمن ہے اور میرا دُشمن اللہ کا دُشمن ہے۔ ہلاکت اور تباہی ہے اُس کیلیے جس نے میرے پردہ کرنے کے بعد تم سے بغض رکھا‘‘۔ حاکم کہتے ہیں کہ یہ حدیث شیخین (بخاری و مسلم) کی شرط کے مطابق صحیح ہے۔

نوٹ
یہ حدیث اسکے علاوہ دوسری کتب میں بھی موجود ہے۔ دیکیے یہ لنک
اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ جیسا کہ حاکم نے مستدرک میں کہا اور ذھبی نے بھی تخلیص میں اقرار کیا اور فضائل صحابہ امام احمد کے محقق وصی اللہ نے حاشیے میں لکھا (دیکھیے اوپر دیا گیا سکین)۔ پس یہ روایت سنداً صحیح ہے جیسا کہ حاکم نے مستدرک میں کہا۔

اسکے باوجود محدثین نے اس حدیث میں اختلاف کیا کُچھ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔ کُچھ نے اسی سند کی ثقاہت کا اقرار کرتے ہوئے اسے ضعیف اور منکر گردانا اور کُچھ نے اسے باطل اور موضوع قرار دیا مگر سند میں کسی ایک راوی کی تضعیف نہ کرسکے۔ اور نہ ہی درایتاً اس حدیث کے کسی جملے پر اعتراض کرسکے جیسا کہ اس حدیث کے تمام جملے علیحدہ علیحدہ دوسری صحیح احادیث سے ثابت ہیں جنھیں یہ اعتراض کرنے والے محدثین بھی صحیح قرار دیتے ہیں۔

اس حدیث پر جنھوں نے اعتراض کیا وہ یہ ہے کہ معمر کے ایک بھائی کا بیٹا
رافـضی(نام نامعلوم) تھا۔ ہوسکتا ہے کہ (ثبوت ندارد) اُس نے یہ حدیث معمر کے صحیفے میں داخل کردی ہو۔ پس یہ ہے اس حدیث پر کُل جرح جو کہ سب خیالی ہے۔ حالانکہ اس حدیث کی اسناد میں تمام راوی ثقہ ہیں اور اس حدیث میں کسی صحابیؓ (خاص طور پر اصحاب ثلاثہ) کو بُرا بھی نہیں کہا گیا، جس میں رافـضی بدنام ہیں، جس کی وجہ سے ایسا شک کیا جاسکے۔۔۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہی وہ ہیں جن کی بیوی فاطمہ سلام اللہ علیھا عالمین کی عورتوں اور جنت کی عورتوں اور مومنین عورتوں کی سردار ہیں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی سیدۃ النساء العالمین بیٹی کا نکاح بحکم خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کیا پس آپ کرم اللہ وجہہ بضعة النبی فاطمہ سلام اللہ علیھا کے کفو (ہم پلہ) ہیں۔ اور آپ ہی کے بیٹے حضرت امام حسن اور حُسین علیھما السلام جوانان جنت کے سردار ہیں جیسا کہ آگے بیان ہو گا اور خود آپ کرم اللہ وجہہ صحیح احادیث کے مطابق تمام مومنین کے مولا اور ولی ہیں۔


سَيِّدُ الْمُسْلِمِينَ
تمام مسلمانوں کا سردار

أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ السَّمَرْقَنْدِيِّ ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ ، الْبَرَكَاتِ يَحْيَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْمَدَائِنِيُّ ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدٌ ، وَأَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ ابْنَا أَحْمَدَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ دَحْرُوجٍ ، قَالُوا : أنا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ النَّقُّورِ ، نا عِيسَى بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : قُرِئَ عَلَى أَبِي الْحَسَنِ بْنِ نُوحٍ ، وَأنا أَسْمَعُ ، قِيلَ لَهُ : حَدَّثَكُمْ جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَوْسَجِيُّ ، نا أَبُو بِلالٍ الأَشْعَرِيُّ ، نا يَعْقُوبُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ ، عَنِ ابْنِ أَبْزَى ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَقْبَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ يَوْمًا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا سَيِّدُ الْمُسْلِمِينَ " ، فَقُلْتُ : أَلَسْتَ سَيِّدُ الْمُسْلِمِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟فَقَالَ : " أنا خَاتِمُ النَّبِيِّينَ ، وَرَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ "۔
تاريخ دمشق لابن عساكر حرف الضاد فارغ علي بْن أبي طالب واسمه عَبْد مناف بْن عَبْد المطلب ...۔رقم الحديث: 44435
Source


حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالبؑ دن کو ملنے آئے۔ پس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اُن فرمایا، ’’ یہ تمام مسلمانوں کا سردار ہے۔‘‘ پس میں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا آپ تمام مسلمانوں کے سردار نہیں؟؟؟ پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، ’’میں خاتم النبین ہوں اور رب العالمین کا رسول ہوں‘‘۔
(یہ حدیث سنداً صحیح یا کم ازکم حسن ہے راویوں کا حال دیکھنے کیلیے اُن کے نام پر کلک کریں۔)





حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُفَضَّلٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ الأَحْمَرُ ، عَنْ هِلالٍ أَبِي أَيُّوبَ الصَّيْرَفِيِّ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسْعَدَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْتَهَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي إِلَى السِّدْرَةِ الْمُنْتَهَى ، فَأُوحِيَ إِلَيَّ فِي عَلِيٍّ بِثَلاثٍ : أَنَّهُ إِمَامُ الْمُتَّقِينَ ، وَسَيِّدُ الْمُسْلِمِينَ ، وَقَائِدُ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِينَ إِلَى جَنَّاتِ النَّعِيمِ " ، رَوَاهُ رَبَاحُ بْنُ خَالِدٍ ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ الأَحْمَرِ مِثْلَهُ ، وَرَوَاهُ غَسَّانُ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ هِلالٍ الْوَزَّانِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ ، وَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْحُسَيْنِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْعَلاءِ ، عَنْ هِلالٍ الْوَزَّانِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ ، عَنْ أَبِيهِ . ۔
معرفة الصحابة لأبي نعيم حَرْفُ الأَلِفِ مَنِ اسْمُهُ أَنَسٌ وَأَنَسُ بْنُ ظُهَيْرٍ الأَنْصَارِيُّ رقم الحديث: 3642
Source


عبد اللہ ابن سعدؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، ’’معراج والی رات جب مجھے سدرۃ المنتھٰی کی سیر کروائی جا رہی تھی تو اللہ تعالٰی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں مجھے تین باتوں کی وحی کی۔ بے شک وہ امام المتقین ہے اور تمام مسلمانوں کا سردار ہے اور اُس گروہ کا قائد (سالار) ہے جسے سنوار کر نعمتوں بھری جنت کی طرف لایا جائے گا‘‘۔ اس حدیث کو ایک دوسری سند سے بھی روایت کیا گیا ہے

نوٹ: معرفة الصحابہ کی اس حدیث کی سند پر تفصیل سے بحث نیچے پوسٹ بعنوان ضمیمہ میں ملاحظہ کریں۔


یہ حدیث (هَذَا سَيِّدُ الْمُسْلِمِينَ) دوسری کتب احادیث میں بھی موجود ہے دیکھیے یہ لنک

شواھد احادیث
جیسا کہ ممبران کے سامنے یہ بات آچکی ہوگی کہ مولا علی کرم اللہ وجہہ کے فضائل میں لوگ مختلف ہو جاتے ہیں حتٰی کہ محدثین کی رائے بھی مختلف ہو جاتی ہے جس سے پڑھنے والے کیلیے حقیقت کو سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس لیے اوپر بیان کردہ احادیث کے ثبوت میں کُچھ احادیث پیش خدمت ہیں جن کو محدثین کی کثیر تعداد نے صحیح مانا ہے اور وہ اوپر والی احادیث میں حضرت علیؑ کے بیان کردہ مقام سے بھی بڑھ کر حضرت علی کی فضیلت بیان کرتی ہیں۔

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ الْقَطِيعِيُّ، بِبَغْدَادَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ثنا أَبُو بَلْجٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْتَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي وَمُؤْمِنَةٍ ۔
قال حاکم هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ
قال ذھبی فی التعلیق 4652 - صحيح

المستدرك على الصحيحين كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ... وَمِنِ مَنَاقِبِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ ... ذِكْرُ إِسْلامِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٍّ رقم الحديث: 4652

حضرت عبداللہ ابن عباس سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علی کرم اللہ وجہہ سے فرمایا، ’’آپ میرے بعد ہر ایمان والے مرد اور عورت کے ولی ہیں‘‘۔



أنَّ النبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم حضَر الشجرةَ بخمٍّ ثم خرَج آخذًا بيدِ عليٍّ فقال: ألستُم تَشهَدونَ أنَّ اللهَ ربُّكم ؟ قالوا: بَلى قال: ألستُم تَشهَدونَ أن اللهَ ورسولَه أولى بكم مِن أنفسِكم وأنَّ اللهَ ورسولَه مولاكم ؟ قالوا: بَلى قال: فمَن كان اللهُ ورسولُه مَولاه فإنَّ هذا مَولاه وقد تركتُ فيكم ما إن أخَذتُم به لن تَضِلُّوا كتابُ اللهِ سببُه بيدِه وسببُه بأيديكم وأهلُ بيتي۔
الراوي : علي بن أبي طالب المحدث : البوصيري
المصدر : إتحاف الخيرة المهرة الصفحة أو الرقم: 7/210 خلاصة حكم المحدث : سنده صحيح
الراوي : علي بن أبي طالب المحدث : ابن حجر العسقلاني
المصدر : المطالب العالية الصفحة أو الرقم: 4/252 خلاصة حكم المحدث : إسناده صحيح

حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خم کی وادی میں ایک درخت کے نیچے قیام کیا۔ ہھر حضرت علیؑ کا ہاتھ پکڑے ہوئے باہر آئے۔ پس صحابہؓ سے مخاطب ہوئے،’’کیا تم گواھی دیتے ہو کہ اللہ تمھارا رب ہے؟‘‘ سب نے کہا،’’ ہاں گواھی دیتے ہیں‘‘۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا،’’ کیا تم گواھی دیتے ہو کہ اللہ اور اُس کا رسول تمھاری جانوں پر تم سے بھی بڑھ کر حق رکھتے ہیں اور یہ کہ اللہ اور اُسکا رسول تمھارے مولا ہیں‘‘۔ سب نے کہا،’’ ہاں ہم گواھی دیتے ہیں‘‘۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا،’’پس جسکے اللہ اور اُسکا رسول مولا ہیں اُسکے یہ علی بھی مولا ہیں۔ اور میں تمھارے درمیان وہ چیز چھوڑے جاتا ہوں اگر تم اسے مضبوطی سے تھامے رکھو تو میرے بعد کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔ اللہ کی کتاب جس کا ایک سرا اُس اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا تمھارے ہاتھ میں اورمیرے اہل بیت‘‘۔



فَذَكَرَ مَا قَدْ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، يَعَنْي ابْنَ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ مُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ , قَالَ : أَخَبَرَتْنِي عَائِشَةُ ابْنَةُ سَعْدٍ , عَنْ سَعْدٍ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إِلَيْهَا , فَلَمَّا بَلَغَ غَدِيرَ خُمٍّ وَقَفَ النَّاسُ , ثُمَّ رَدَّ مَنْ مَضَى ، وَلَحِقَهُ مَنْ تَخَلَّفَ , فَلَمَّا اجْتَمَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ ، قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ , هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ , قَالَ : " اللَّهُمُ اشْهَدْ " ، ثَلاثَ مَرَّاتٍ يَقُولُهُا , ثُمَّ قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ , مَنْ وَلِيُّكُمْ ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثَلاثًا . ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَأَقَامَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلِيَّهُ ، فَهَذَا وَلِيُّهُ , اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالاهُ , وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ "۔
مشكل الآثار للطحاوي بَابُ بَيَانِ مُشْكِلِ مَا رُوِيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ رقم الحديث: 1528
Source

حضرت سعد بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ہم مکہ کے پاس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ جب غدیر خم کا مقام آیا تو لوگوں میں منادی کردی گئی کہ رُک جائیں۔ جو آگے نکل گئے تھے انھیں بلا لیا گیا اور جو پیچھے رہ گئے تھے اُن کا انتظار کیا گیا۔۔ پس جب تمام لوگ جمع ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا،’’اے لوگو کیا میں نے اللہ کا دین پہنچا دیا؟‘‘۔ سب بولےِ’’ہاں آپ نے پہنچا دیا‘‘۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کہا،’’ ائے اللہ تو گواہ رہنا‘‘۔ تین بار یہی کہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا،’’تمھارا ولی کون ہے؟‘‘ سب نے کہا،’’اللہ اور اُسکا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم‘‘۔آپ نے تین بار پوچھا لوگوں نے تین بار جواب دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ہاتھ پکڑ کر بلند کیا اور بولے،’’ جس کے اللہ اور اُسکا رسول ولی ہیں پس اُس کا یہ علی ولی ہے۔ ائے اللہ دوست رکھ اُسے جو علی کو دوست رکھے اور دشمن ہو جا اُس کا جو علی سے عداوت رکھے‘‘۔

زیادہ تفصیل کیلیے ملاحظہ کیجیے تھریڈ مولود کعبہ اور رکن یمانی کی پوسٹ #6 اور اُس میں ٹاپک نمبر (12) کو ملاحظہ کیجیے۔
اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اپنا نفس (اپنی جان) قرار دیا ہے اِسکے لیے اُسی پوسٹ میں ٹاپک نمبر (9) ملاحظہ کیجیے۔




۔3. حضرت فَاطِمَةُ الزہرا سلام اللہ علیھا سیدۃ النساء العالمین ہیں اور سیدۃ النساء الجنة ہیں اور سیدۃ النساء المومنین ہیں۔


زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدٍ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ : وَهُوَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ : " يَا فَاطِمَةُ ، أَلا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ ، وَسَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الأُمَّةِ ، وَسَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ ؟ " . هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ هَكَذَا .۔
المستدرك على الصحيحين كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ... وَمنْ مَنَاقِبِ أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ذِكْرُ مَنَاقِبِ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔ رقم الحديث: 4684
Source
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیمار تھے جس میں انھوں نے وصال کیا پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، ’’اے فاطمہ (سلام اللہ علیھا) کیا آپ راضی نہیں ہیں اس پر کہ آپ تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں اور اس امت کی عورتوں کی سردار ہیں اور مومنین کی عورتوں کی سردار ہیں‘‘۔ حاکم کہتے ہیں کہ اس کی اسناد صحیح ہیں لیکن اسے انھوں نے بیان نہیں کیا



أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : أَخْبَرْتِنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا ، مَا تُغَادِرُ مِنَّا وَاحِدةٌ ، فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي ، وَلا وَاللَّهِ إنْ تُخْطِئَ مِشْيَتُهَا مِشْيَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى انْتَهَتْ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " مَرْحَبًا يَا بِنْتِي ، فَأَقْعَدَهَا عَنْ يَمِينِهِ ، أَوْ عَنْ يَسَارِهِ ، ثُمَّ سَارَّهَا بِشَيْءٍ ، فَبَكَتْ بَكَّاءً شَدِيدًا ، ثُمَّ سَارَّهَا بِشَيْءٍ ، فَضَحِكَتْ ، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ لها : خَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِنَا بِالسِّرَارِ ، وَأَنْتَ تَبْكِينَ ؟ ! أَخْبِرِينِي مَا قَالَ لَكِ ؟ قَالَتْ : مَا كُنْتُ لأُفْشِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرَّهُ ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ لَهَا : أَسْأَلُكِ بِالَّذِي لِي عَلَيْكِ مِنَ الْحَقِّ ، مَا سَارَّكِ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ : أَمَّا الآنَ فَنَعَمْ ، سَارَّنِي المَرَّةَ الأُولَى ، فَقَالَ : إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُنِي بِالْقُرْآنِ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً ، وَإِنَّهُ عَارَضَنِي بِهِ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ ، وَلا أَرَى الأَجَلَ إِلا قَدِ اقْتَرَبَ ، فَاتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي ، فَبَكَيْتُ ، ثُمَّ قَالَ لِي : يَا فَاطِمَةُ ، أَلا تَرْضَيْنَ أَنَّكِ سَيِّدَةُ نِسَاءِ هَذِهِ الأمَّةِ ، أَوْ سَيِّدَةُ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ ؟ فَضَحِكْتُ ". ۔
السنن الكبرى للنسائي كِتَابُ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ و آلهِ وسلم ذِكْرُ مَا اسْتَدَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ و آلهِ وسلم رقم الحديث: 6810
Source

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ہم سب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اکٹھے تھے۔ پس حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا تشریف لائیں۔ اللہ کی قسم اُن کے چلنے کا انداز بالکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چلنے کا انداز تھا حتی کہ وہ آپ صلی اللہ علہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچ کر رک گئیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، ’’خوش آمدید ائے میری بیٹی‘‘۔ پس فاطمہ سلام اللہ علیھا اُن کے دائیں جانب یا بائیں جانب (راوی کو اسمیں شک ہے) بیٹھ گئیں۔ پس آپ نے اُن کو آہستہ سے کُچھ کہا۔ جس پر فاطمہ نے شدید گِریا کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اُنھیں آہستہ سے کُچھ کہا۔ پس وہ مُسکرا دیں۔ پس جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چلے گئے تو میں نے حضرت فاطمہؑ سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو ہم سب کے درمیان ایسا کیا کہا کہ آپ یوں رو دیں۔ آپ ہمیں بتائیں کہ انھوں نے کیا فرمایا۔ تو فاطمہؑ نے کہا کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا راز فاش نہیں کروں گی۔ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوگیا تو حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت فاطمہ سے کہا کہ میں اُس حق کے واسطے آپ سے سوال کرتی ہوں جو کہ میرا آپ پر ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ سے وہ کیا بات کی تھی۔؟ پس فاطمہؑ بولیں ہاں اب میں بتاؤں گی ۔ پہلی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے فرمایا، ’’بے شک جبرائیل ہر سال مجھے قرآن ایک بار پیش کرتا تھا لیکن اس سال اُس نے دو مرتبہ قرآن پیش کیا ہے۔ پس میرا آخری وقت قریب آن پہنچا ہے پس تم اللہ سے ڈرنا اور صبر کرنا‘‘۔ پس میں یہ سن کر رو پڑی پھر آپ نے مجھ سے فرمایا، ’’ اے فاطمہؑ کیا آپ اس پر راضی نہیں کہا آپ اس امت کی عورتوں کی سردار ہیں یاعالمین کی عورتوں کی سردار ہیں‘‘ (راوی کو شک ہے) پس میں مسکرا دی۔


حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ عَنْ فَاطِمَة فَقَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا فَاطِمَةُ أَمَا تَرْضَيْ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ ، أَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ ، قَالَتْ : فَضَحِكْتُ ضَحِكِي الَّذِي رَأَيْتِ " ۔
صحيح مسلم كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ بَاب فَضَائِلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ النَّبِيِّ عَلَيْهَا السلام رقم الحديث: 4494 صحيح البخاري كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ بَاب مَنْ نَاجَى بَيْنَ يَدَيِ النَّاسِ وَمَنْ لَمْ ... رقم الحديث: 5839
حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جناب سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا نے فرمایا کہ پس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، ’’اے فاطمہؑ کیا آپ اس پر راضی نہیں کہ آپ تمام مومنین کی عورتوں کی سردار ہیں یا فرمایا کہ اس امت کی عورتوں کی سردار ہیں‘‘ (راوی کو شک ہے) پس فاطمہؑ کہتی ہیں کہ یہ سُن کر میں مسکرا دی۔



حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ بَعْدَ مَرْيَمَ ابْنَةِ عِمْرَانَ وَآسِيَةَ امْرَأَةِ فِرْعَوْنَ وَخَدِيجَةَ ابْنَةِ خُوَيْلِدٍ " ۔
مصنف ابن أبي شيبة كِتَابُ الْفَضَائِلِ مَا ذُكِرَ فِي فَضْلِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا رقم الحديث: 31594
عبد الرحمٰن بن ابی لیلٰیؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، ’’ فاطمہ سلام اللہ علیھا آسیہؑ زوجہ فرعون، مریم بنت عمرانؑ اور خدیجہؑ بنت خویلدؓ کے بعد تمام عالمین کی عورتوں کی سردار ہیں‘‘۔



نوٹ: جناب مریم سلام اللہ علیھا اور جناب آسیہ سلام اللہ علیھا آخرت میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ ہوں گی اور جناب خدیجۃ الکبرٰیؑ جناب فاطمہ سلام اللہ علیھا کی والدہ گرامی ہیں۔ اورصحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جناب سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا اِن سب سے افضل ہیں۔



أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : أنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو أَحْمَدَ ، قَالَ : أنا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، قَالَ : " سَأَلَتْنِي أُمِّي مُنْذُ مَتَى عَهْدُكَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ لَهَا : مُنْذُ كَذَا وَكَذَا ، فَنَالَتْ مِنِّي وَسَبَّتْنِي ، فَقُلْتُ لَهَا : دَعِينِي فَإِنِّي آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُصَلِّي مَعَهُ الْمَغْرِبَ ، وَلا أَدَعُهُ حَتَّى يَسْتَغْفِرَ لِي وَلَكِ ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِبَ ، فَصَلَّى إِلَى الْعِشَاءِ ، ثُمَّ انْفَتَلَ وَتَبِعْتُهُ ، فَعَرَضَ لَهُ عَارِضٌ ، وَأَخَذَ وَذَهَبَ فَاتَّبَعْتُهُ ، فَسَمِعَ صَوْتِي ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ فَقُلْتُ : حُذَيْفَةُ ، فَقَالَ : مَا لَكَ ، فَحَدَّثْتُهُ بِالأَمْرِ ، فَقَالَ : غَفَرَ اللَّهُ لَكَ وَلأُمِّكَ ، أَمَا رَأَيْتَ الْعَارِضَ الَّذِي عَرَضَ لِي قَبْلُ ، قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : هُوَ مَلَكٌ مِنَ الْمَلائِكَةِ لَمْ يَهْبِطْ إِلَى الأَرْضِ قَطُّ قَبْلَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ ، اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ ، وَبَشَّرَنِي أَنَّ الْحَسَنَ , وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَأَنَّ فَاطِمَةَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ "۔
السنن الكبرى للنسائي كِتَابُ : الْمَنَاقِبِ مَنَاقِبُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ علیهِ و آلهِ وسلم حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Source

۔(صرف اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قول سے ترجمہ شروع کیا ہے) حضرت حذیفہ بن یمانؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری آواز سُنی تو فرمایا کہ یہ کون ہے؟ پس میں نے کہا حذیفہ ہوں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، ’’ تمھارا کیا حال ہے۔‘‘ پس میں نے اُنھیں اپنی بات بیان کی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، ’’ اللہ تمھاری اور تمھاری ماں کی مغفرت کرے۔ کیا تم نے اُسے نہیں دیکھا جو تم سے پہلے مجھ سے بات کر رہا تھا؟‘‘ میں نے عرض کی جی یا رسول اللہ۔ آپ صلی اللہ علیہ و االہ وسلم نے فرمایا، ’’ وہ فرشتہ ہے اور اُن ملائکہ سے ہے جو کبھی زمین پر نہیں آئے۔ وہ بھی اس رات سے پہلے کبھی زمین پر نہیں آیا۔ اُس نے اپنے رب سے اجازت لی کہ مجھے سلام کرنے آئے۔ اور اُس نے مجھے بشارت دی ہے کہ بے شک حسن اور حُسین علیھما السلام جوانان جنت کے سردار ہیں اور بے شک فاطمہؑ تمام جنتی عورتوں کی سردار ہے‘۔

نوٹ
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا کا سیدۃ النساء ہونا بہت سی کتب حدیث میں درج ہے اور اکثر احادیث سنداً صحیح ہیں۔ اس حدیث کا دوسری کتب حدیث میں (124 روایات) مطالعہ کیلیے یہاں کلک کریں



۔4. حضرت امام حسن اور حُسین علیھما السلام جوانان جنت کے سردار ہیں۔ اور حضرت حسن کے بارے میں فرمایا میرا یہ بیٹا سید ہے

سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ
جوانان جنت کے سردار

(الحدیث المتواتر)


۔235-(الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة)
- أورده في الأزهار من حديث (1) أبي سعيد (2) وحذيفة بن اليمان (3) وعمر بن الخطاب (4) وعلي (5) وجابر بن عبد الله (6) والحسين بن علي (7) وأسامة بن زيد (8) والبراء بن عازب (9) وقرة بن إياس (10) ومالك بن الحويرث (11) وأبي هريرة (12) وابن عمر (13) وابن مسعود (14) وأنس (15) وبريدة (16) وابن عباس ستة عشر نفساً.۔
۔(قلت) ورد أيضاً من حديث (17) الحسن بن علي ونقل أيضاً في فيض القدير وفي التيسير عن السيوطي أنه متواتر


نظم المتناثر من الحدیث المتواتر المؤلف: محمد بن جعفر الكتاني أبو عبد الله حدیث نمبر235
Source
Source

حضرت حسن اور حضرت حُسین علیھما السلام جوانان جنت کے سردار ہیں۔
اس حدیث کو علامہ جلال الدین سیوطی نے الازھارالمتناثرہ فی الاحادیث المتواترہ میں لکھا ہے اور ذکر کیا ہے کہ یہ حدیث مندرجہ ذیل 16 صحابہؓ سے مروی ہے

۔(1) أبي سعيدؓ
۔(2) وحذيفة بن اليمانؓ
۔(3) عمرؓ بن الخطاب
۔(4) عليؑ
۔(5) جابر بن عبد اللهؓ
۔(6) الحسين بن عليؑ
۔(7) أسامة بن زيدؓ
۔(8) البراء بن عازبؓ
۔(9) قرة بن إياسؓ
۔(10) مالك بن الحويرثؓ
۔(11) أبي هريرةؓ
۔(12) ابن عمرؓ
۔(13) ابن مسعودؓ
۔(14) أنسؓ
۔(15) بريدةؓ
۔(16) ابن عباس رضی اللہ عنھم


میں (جعفر الکتانی) کہتا ہوں کہ یہ حدیث
۔(17) حسن بن علیؑ

سے بھی مروی ہے اور اسے قاضی عیاض نے فیض القدیر میں اور التیسر کے مؤلف نے سیوطی سے نقل کیا۔



حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْعَدْلُ ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُرِّيُّ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : " الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا " . هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ بِهَذِهِ الزِّيَادَةِ ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَشَاهِدَهُ . ۔
المستدرك على الصحيحين كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ... وَمنْ مَنَاقِبِ أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ و آلهِ وسلم وَمِنْ مَنَاقِبِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ابْنِي بِنْتِ ...۔ رقم الحديث: 4722
Source


حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، ’’ حسن اور حُسین علیھما السلام جوانان جنت کے سردار ہیں اور اُن کا باپ اُن سے بہتر ہے‘‘۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، ثنا أَبُو الأَسْوَدِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْهَاشِمِيُّ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ، قَالَ : رَأَيْنَا فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّرُورَ يَوْمًا مِنَ الأَيَّامِ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ رَأَيْنَا فِي وَجْهِكَ تَبَاشِيرَ السُّرُورِ ، قَالَ : " وَكَيْفَ لا أُسَرُّ وَقَدْ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ فَبَشَّرَنِي أَنَّ حَسَنًا وَحُسَيْنًا سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَأَبُوهُمَا أَفْضَلُ مِنْهُمَا
المعجم الكبير للطبراني بَابُ الْحاءِ حَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ ...۔ رقم الحديث: 2540
Source

حذیفہ بن حسیلؓ سے روایت ہے کہ میں نے پہلے دنوں کی نسبت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ مبارک خوشی سے مسرور دیکھا پس ہم نے کہا ائے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم آپ کے چہرے پر کسی خوشخبری کی وجہ سے مسرت کے آثار دیکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، ’’کیسے مسرت نہ ہو۔ اور جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے پس انھوں نے مجھے بشارت دی ہے کہ یقیناً حسن اور حُسین علیھما السلام جوانان جنت کے سردار ہیں اور اُن کا والد اُن دونوں سے افضل ہے‘‘۔

یہ حدیث اس اضافے کے ساتھ (أَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا) بہت سی کتب حدیث میں موجود ہے دیکھیے یہ لنک اور یہ اضافہ صحیح ہے۔ دیکھیے یہ لنک اور یہ لنک اور یہ لنک ۔اوپر بیان کردہ دونوں احادیث بھی سنداً حسن اور صحیح ہیں روات کا حال دیکھنے کیلیے ناموں پر کلک کیجیے۔


حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَسَنُ , وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , عَنْ يَزِيدَ نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَابْنُ أَبِي نُعْمٍ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ الْبَجَلِيُّ الْكُوفِيُّ وَيُكْنَى : أَبَا الْحَكَمِ
جامع الترمذي كِتَاب الدَّعَوَاتِ أبوابُ الْمَنَاقِبِ بَاب مَنَاقِبِ الْحَسَنِ , وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عنھما رقم الحديث: 3730
Source

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، ’’حسن اور حسین علیھما السلام جوانان جنت کے سردار ہیں‘‘۔ ابو عیسٰی ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔



وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ " ، رُوَاتُهُ ثِقَاتٌ . ۔
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية لابن حجر ... كِتَابُ الْمَنَاقِبِ بَابُ فَضَائِلِ فَاطِمَةَ علیھا السلام رقم الحديث: 4097
Source
مصنف ابن أبي شيبة كِتَابُ الْفَضَائِلِ مَا جَاءَ فِي الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ ...۔ رقم الحديث: 31498
Source

حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، ’’حسن اور حسین علیھما السلام جوانان جنت کے سردار ہیں‘‘۔ ابن حجر کہتے ہیں کہ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں

یہ حدیث (سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ) بہت سی دوسری کتب میں بھی موجود ہے دیکھیے یہ لنک



حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَخْرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ الْحَسَنَ فَصَعِدَ بِهِ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : " ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ "
صحيح البخاري كِتَاب الْمَنَاقِبِ بَاب عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ رقم الحديث: 3380
Source
ابی بکرۃؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت حسنؑ کو ساتھ لیے جھر سے نکلے اور اُن کو گود لیے منبر پر آکر بیٹھ گئے پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، ’’میرا یہ بیٹا سید ہے اور ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کروائے‘‘۔

یہ حدیث بھی صحیح بخاری سمیت بہت سی دوسری حدیث کی کتب میں موجود ہے دیکھیے یہ لنک


۔5. حضرت حمزہ بن عبدالمطلب علیہ السلام سید الشہداء ہیں۔

سید الشہداء
شہدا کے سردار

سيدُ الشهداءِ حمزةُ بنُ عبدِ المطلبِ
الراوي : علي بن أبي طالب | المحدث : ابن حجر العسقلاني | المصدر : فتح الباري لابن حجر
الصفحة أو الرقم: 7/425 | خلاصة حكم المحدث : ثابت

سيِّدُ الشُّهداءِ حمزةُ بنُ عبدِ المطَّلبِ ، ورجلٌ قام إلى إمامٍ جائرٍ فأمره ونهاه فقتله
الراوي : جابر بن عبدالله | المحدث : الألباني | المصدر : السلسلة الصحيحة
الصفحة أو الرقم: 374 | خلاصة حكم المحدث : صحيح

سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ المُطَّلِبِ ، ورجلٌ قام إلى إمامٍ جَائِرٍ فأمرَهُ ونَهاهُ ، فَقَتَلهُ
الراوي : جابر بن عبدالله | المحدث : الألباني | المصدر : صحيح الترغيب
الصفحة أو الرقم: 2308 | خلاصة حكم المحدث : صحيح

سيدُ الشهداءِ حمزةُ بنُ عبدِ المطلبِ ، ورجلٌ قامَ إلى إمامٍ جائرٍ فأمرَهُ ونهاهُ ، فقتَلَهُ
الراوي : جابر بن عبدالله | المحدث : الألباني | المصدر : صحيح الجامع
الصفحة أو الرقم: 3675 | خلاصة حكم المحدث : حسن

سيدُ الشهداءِ عندَ اللهِ يومَ القيامَةِ حمزةُ بنُ عبدِ المطلِبِ
الراوي : جابر بن عبدالله و علي بن أبي طالب | المحدث : الألباني | المصدر : صحيح الجامع
الصفحة أو الرقم: 3676 | خلاصة حكم المحدث : حسن
Source


جابر بن عبداللہ انصاریؓ اور علی کرم اللہ وجہہ سے مرعی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، ’’سید الشھداء حضرت حمزہ بن عبد المطلب علیھما السلام ہیں اور وہ شخص ہے جو ظالم امام کی طرف قیام کرے اور پس اسے نیکی کا حکم کرے اور اُسے ظلم سے منع کرے۔ پس اس جرم میں اُسے قتل کردیا جائے‘‘۔
ایک اور حدیث میں بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ، ’’ قیامت کو اللہ کے نزدیک شھداء کے سردار حضرت حمزہ بن عبدالمطلب علیھما السلام ہوں گے‘‘۔


یہ حدیث دوسری کتب احادیث میں بھی پائی جاتی ہے دیکھیے یہ لنک





۔(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِإِسْنَادِهِ ، وَبِإِسْنَادِهِ ، عَنْ عَلِيٍّ السَّلَامُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : " الْحُسَيْنُ سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ يُقْتَلُ مَظْلُومًا مَغْصُوبًا عَلَى حَقِّهِ " . ۔
الأمالي الخميسية للشجري فِي فَضْلِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ ...۔ رقم الحديث: 595، 582
Source


حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، ’’حسین سید الشھداء (تمام شھدا کے سردار) ہیں اور مظلومی اور مغضوبی کی حالت میں اپنے حق کیلیے قتل ہوں گے‘‘۔


اللھم صلی علی محمد و آل محمد

 
Last edited:

Zoq_Elia

Senator (1k+ posts)
ضمیمہ
معرفة الصحابة لابي نعيم الأصبهاني کی پیش کردہ حدیث میں روات کی بحث

۔(3642)- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُفَضَّلٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ الأَحْمَرُ، عَنْ هِلالٍ أَبِي أَيُّوبَ الصَّيْرَفِيِّ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسْعَدَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم: " انْتَهَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي إِلَى السِّدْرَةِ الْمُنْتَهَى، فَأُوحِيَ إِلَيَّ فِي عَلِيٍّ بِثَلاثٍ: أَنَّهُ إِمَامُ الْمُتَّقِينَ، وَسَيِّدُ الْمُسْلِمِينَ، وَقَائِدُ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِينَ إِلَى جَنَّاتِ النَّعِيمِ
رَوَاهُ رَبَاحُ بْنُ خَالِدٍ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ جَعْفَرٍ الأَحْمَرِ مِثْلَهُ، وَرَوَاهُ غَسَّانُ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ هِلالٍ الْوَزَّانِ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ، وَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْعَلاءِ، عَنْ هِلالٍ الْوَزَّانِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ أَبِيهِ۔
ابي نعيم الأصبهاني (متوفاي430هـ)، معرفة الصحابة، ج3، ص1587

ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس رات مجهے سیر کرائی گئی اس رات جب میں سدرۃ المنتہی پہ پہنچا تو مجھے علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں تین باتوں کی وحی کی گئی: یہ کہ وہ امام المتقين ( متقین کا امام ) ہے اور سيد المسلمين (مسلمانوں کا سردار ) ہے اور اس گروہ کا قائد ہے جس کو سنوار کر جنت نعیم کیطرف لیا جائے گا








روایت کے راوی اور جرح



۔1. مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ
1281 محمد بن محمد بن أحمد أبو جعفر المقرئ.
سكن البصرة وحدث بها عن أبى شعيب الحراني والحسن بن على المعمري والحسين بن الكميت الموصلي وخلف بن عمرو العكبري والاحوص بن المفضل الغلابي حدثنا عنه الحسين بن على النيسابوري ومحمد بن على بن حبيب المتوثي وعيسى بن غسان ثلاثتهم بالبصرة وأبو نعيم الأصبهاني وكان ثقة.
تاريخ بغداد، ج 3، ص
221




muhammad%2Bbin%2Bmuhammad%2Bbin%2Bahmad%2B%283%29.jpg

۔2. مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ
۔682 مطين الحافظ الكبير أبو جعفر محمد بن عبد الله بن سليمان الحضرمي الكوفى رأى أبا نعيم وسمع أحمد بن يونس ويحيى الحماني ويحيى بن بشر الحريري وسعيد بن عمرو الأشعثى وكان من أوعية العلم حدث عنه أبو بكر النجاد وأبو القاسم الطبراني وأبو بكر الإسماعيلي علي بن حسان الدمي وعلي بن عبد الرحمن البكائي وعدة وقد صنف المسند وغير ذلك وله تاريخ صغير قال أبو بكر بن أبي دارم الحافظ كتبت عن مطين مائة ألف حديث وسئل عنه الدارقطني فقال ثقة جبل قلت ولد سنة اثنتين ومائتين ومات في شهر ربيع الآخر سنة وعدد له نحوا من ثلاثة أوهام فلا يلتفت إلى كلام الأقران بعضهم في بعض وبكل حال فمطين ثقة مطلقا وليس كذلك العبسي.
تذكرة الحفاظ، ج2،* ص662






۔3. أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ
۔439 خ م د س ق أبو بكر بن أبي شيبة الحافظ عديم النظير الثبت النحرير عبد الله بن محمد بن أبي شيبة …۔
قال أحمد أبو بكر صدوق هو أحب الي من أخيه عثمان وقال العجلي ثقة حافظ وقال الفلاس ما رأيت احفظ من أبي بكر بن أبي شيبة وكذا قال أبو زرعة الرازي
وقال أبو عبيد انتهى الحديث إلى أربعة فأبو بكر بن أبي شيبة اسردهم له وأحمد افقههم فيه وابن معين اجمعهم له وابن المديني أعلمهم به وقال صالح بن محمد اعلم من أدركت بالحديث وعلله علي بن المديني واحفظهم له عند المذاكرة أبو بكر بن أبي شيبة وعن أبي عبيد قال احسنهم وضعا لكتاب أبو بكر بن أبي شيبة وقال الخطيب كان أبو بكر متقنا حافظا صنف المسند والاحكام والتفسير …۔
تذكرة الحفاظ، ج 2، ص 432






۔4. اَحْمَدُ بْنُ مُفَضَّلٍ الكوفي
۔88 أحمد بن المفضل الكوفي عن الثوري وإسرائيل وعنه الحنيني وأبو زرعة وطائفة شيعي صدوق د س
الكاشف، ج 1، ص 203


ahmad%2Bbin%2Bmufzl%2Bkofi%2B%281%29.jpg
ahmad%2Bbin%2Bmufzl%2Bkofi%2B%282%29.jpg

أحمد بن المفضل . أبو عليّ الكوفيّ . عن : وكيع ، وأسياط بن نصر . وعنه : يعقوب الفسويّ ، وأهل الكوفة . قال ابن حبّان : ثقة،
تاريخ الإسلام، ج 16، ص 54






۔5. جَعْفَرٌ الأَحْمَرُ
940 جعفر بن زياد الأحمر الكوفي صدوق يتشيع من السابعة مات سنة سبع وستين ل ت س
تقريب التهذيب، ج 1، ص140






۔941 ل ت ص (عس) : جعفر بن زياد الاحمر أبو عَبد الله ، ويُقال : أبو عبد الرحمن ، الكوفي والد علي بن جعفر ، وجد الحسين بن علي بن جعفر الاحمر. ….۔
قال عَبد الله بن أحمد بن حنبل ، عَن أبيه : صالح الحديث.
وَقَال عَباس الدُّورِيُّ وأبو بكر بن أَبي خيثمة ومحمد بن عثمان بن أَبي شَيْبَة ، عن يحيى بن مَعِين : ثقة ، زاد محمد : وكان من الشيعة. ….۔
وَقَال يعقوب بن سفيان : ثقة. وَقَال أبو زُرْعَة : صدوق.
تهذيب الكمال، ج 5 ، ص 38






۔6. هِلالٍ أَبِي أَيُّوبَ الصَّيْرَفِيِّ
11527 هلال الصيرفي أبو أيوب يروى عن أبى كثير روى عنه جعفر الأحمر .
الثقات، ج 7 ، ص572






۔8. أَبِي كَثِيرٍ الأَنْصَارِي

549 أفلح مولى أبي أيوب الأنصاري أبو عبد الرحمن وقيل أبو كثير مخضرم ثقة من الثانية مات سنة ثلاث وستين م
تقريب التهذيب، ج 1، ص 114






۔9. عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسْعَدَ،
صحابی



 
Last edited:

Zoq_Elia

Senator (1k+ posts)

سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ

جنت کے ادھیڑ عمر لوگوں کے سردار


حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ , لَا تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ
جامع الترمذي كِتَاب الدَّعَوَاتِ أبوابُ الْمَنَاقِبِ بَاب فِي مَنَاقِبِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ ...۔ رقم الحديث: 3626
Source


حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابو بکرؓ اور عمر کیلیے فرمایا، ’’ اولین اور آخرین میں انبیاء اور مرسلین کو چھوڑ کر یہ دونوں جنت کے اڈھیر عمر یا بوڑھوں کے سردار ہیں۔ ائے علی ان دونوں کو یہ نہ بتانا‘‘۔ ابو عیسٰی ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔


حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ يَعْنِي الْيَمَامِيَّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْيَمَامِيِّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَقَالَ : " يَا عَلِيُّ ، هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَشَبَابِهَا بَعْدَ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ " . ۔
مسند أحمد بن حنبل مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ ... مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ وَمِنْ مُسْنَدِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ ...۔ ۔
رقم الحديث: 588
Source



حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھا پس ابوبکرؓ اور عمرؓ تشریف لائے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، ’’ ائے علی یہ دونوں انبیاء اور مرسلین کے بعد جنت کے بوڑھوں اور اُس کے جوانوں کے سردار ہیں۔‘‘۔

نوٹ
یہ حدیث کئی کتب احادیث میں وارد ہوئی ہے اور کُچھ روایات کو محدثین نے سنداً صحیح بھی قرار دیا ہے۔ لیکن درایتاً اس حدیث میں بہت سے اشکال موجود ہیں۔ جن کے جواب میں آج تک نہیں پا سکا۔ جب یہ حدیث میں نے اپنے اھل تشیع حلقہ احباب کے سامنے رکھی تو اُنکی طرف سے کئی ایسے اعتراض سامنے آئے جن کے آگے میں بھی لاجواب ہو گیا۔ اور پھر کئی سوالوں کا جواب مجھے کہیں سے بھی نہ مل پایا۔ میں اُن میں سے کُچھ اشکالات ممبران کے سامنے رکھ رہا ہوں اگر کوئی بھائی سنجیدگی اور متانت سے اُن اشکالت کے شافی جواب دے دے گا تو میں بہت مشکور ہوں گا۔

جنت میں کوئی اڈھیر عمر یا بوڑھا یا بچہ نہیں ہو گا اور اس بات پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے اور یہ بات صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ اور جنت میں جن نوعمر لڑکوں (غلمان) کا ذکر قرآن میں ہے وہ حورالعین کی طرح جنت ہی کی مخلوق ہیں۔

اسکے جواب میں کہا جاتا ہے کہ بے شک جنت میں سب نوجوان حالت میں ہوں گے لیکن یہ حدیث اُن اھل ایمان کے بارے ہے جو 40 سال کی عمر میں یا بعد میں فوت ہوئے۔ لیکن اس جواب میں بھی کافی اشکال ہیں
یعنی حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ صرف اڈھیر عمر اور بوڑھوں کے سردار ہیں وہ اُن کے سردار نہیں جو جوانی یا لڑکپن یا بچپنے میں گزر گئے۔

پھر یہ جواب زبردستی سے خالی نہیں کیونکہ اگر حدیث پر غور کیا جائے تو صاف الفاظ ہیں کہ جنت کے اڈھیر عمر یا بوڑھے ( سیدا کھول اھل الجنہ)۔ جبکہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ جنت میں تو صرف نوجوان ہیں۔ ہاں جہنم میں جو لوگ جائیں گے اگر اُن میں سے کوئی جوان بھی ہوئے تو وہ مارے مایوسی اور افسوس کے بوڑھے ہو جائیں گے۔

پھر ہم کوئی ایک حدیث بھی ایسی نہیں پاتے جس میں کسی صحابیؓ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا ہو کہ آپ ہی کا تو فرمان ہے کہ جنت میں تو صرف نوجوان ہوں گے تو پھر اس حدیث کا مطلب کیا ہے؟ جو کہ ایک فطری سوال تھا۔ پھر اگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اُس سوال کا جواب دیتے تو یہ سب کیلیے کافی ہوتا۔

پھر ہم سید شباب کی متواتر حدیث پاتے ہیں اور یہ سید کھول کی حدیث بھی پاتے ہیں لیکن تمام ذخیرہ حدیث سید اطفال سے مکمل خالی ہے۔

الحسن والحسین سید شباب اھل الجنہ والی حدیث متواتر ہے جبکہ یہ حدیث متواتر بھی نہیں اور دوسری صحیح احادیث سے ٹکراتی بھی ہے جن میں بالوضاحت بیان ہے کہ جنت میں جو بھی جائے گا وہ نوجوانی کی حالت میں ہی جائے گا۔ اور اُسکی یہ حالت ہمیشہ قائم رہے گی۔ مطلب جنت میں کُھُول (بڑھابہ) کا تصور بھی نہیں اور نہ وہاں بچپنہ ہے۔

پھر جناب سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا کو نساء العالمین اور نساء الجنہ کا سردار کہا گیا ہے اور وہاں ہم کوئی ایسی حدیث نہیں پاتے جس میں بڑھاپے وغیرہ کی بات کی گئی ہو۔ کہ کوئی اور بوڑھی خواتین کی بھی سرداری پر فائز ہو۔

جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت امام حسن اور حضرت امام حُسین علیھما السلام کے جوانان جنت کے سردار ہونے کی خبر دی اُس وقت وہ طفل (بچے) تھے۔ اور جب وہ شھید ہوئے تو وہ 40 سال سے زیادہ عمر کے تھے۔

حضرت حمزہ علیہ السلام سید الشہدا ہیں۔ اب شھدا میں بچے، جوان اور بوڑھے سب شامل ہیں اور آپ سب کے سردار ہیں جبکہ آپ جب شہید ہوئے اُس وقت آپ ادھیڑ عمر تھے۔

الغرض جس طرح بھی سوچیں اس حدیث پر اشکال قائم رہتے ہیں۔ ہاں پڑھنے والے دوستوں میں اگر کوئی اس پہیلی کو سُلجھا سکے تو میں مشکور ہوں گا۔ اسی لیے اس حدیث کو تھریڈ سے علیحدہ درج کیا اگر مجھے شافی جواب دستیاب ہوگیا تو میں اس کو بھی اصل تھریڈ میں بمعہ جواب شامل کردوں گا شکریہ۔
 
Last edited:

Nauman Ghauri

Councller (250+ posts)
@ Mods!

This thread has been started for nothing but childish sectarian debate. The thread must must must be deleted.

Thread starter seems like a cope-paste collector and has pasted this all for God knows what reason but there is very little hope to get anything except hatred out of this debate.
 

Pakistani1947

Chief Minister (5k+ posts)
(Quran, 49:13): "Verily the most honoured of you in the sight of Allah is the most righteous of you"

Islam came and destroyed the concept of hereditary (موروثی) rank. The Quran declares that people are created inherently equal and differ only based on their Taqwa (piety):


يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ (Quran, 49:13)
Yusuf Ali 13:
O mankind! We created you from a single (pair) of a male and a female, and made you into nations and tribes, that ye may know each other (not that ye may despise (each other). Verily the most honoured of you in the sight of Allah is (he who is) the most righteous of you. And Allah has full knowledge and is well acquainted (with all things).
ا ے لوگو ہم نے تمہیں ایک ہی مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہارے خاندان اور قومیں جو بنائی ہیں تاکہ تمہیں آپس میں پہچان ہو بے شک زیادہ عزت والا تم میں سے الله کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہے بے شک الله سب کچھ جاننے والا خبردار ہے

The Quran repeatedly holds each individual responsible for his or her own conduct. The actions of one soul cannot affect another, neither positively nor negatively. Is their anyone wish to go against the egalitarian (سب انسان برابر ہیں) spirit of Islam, and would instead be a reflection of Jahiliyyah custom in which people thought they would be saved based on their familial connections as opposed to their Taqwa. The Quran categorically declares that on the Day of Judgement a persons familial connections will be cut off:

وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَىٰ كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكْتُم مَّا خَوَّلْنَاكُمْ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ ۖ وَمَا نَرَىٰ مَعَكُمْ شُفَعَاءَكُمُ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَكَاءُ ۚ لَقَد تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنكُم مَّا كُنتُمْ تَزْعُمُونَ (Quran, 6:94)
Yusuf Ali 94: "And behold! ye come to us bare and alone as We created you for the first time: ye have left behind you all (the favours) which We bestowed on you: We see not with you your intercessors whom ye thought to be partners in your affairs: so now all relations between you have been cut off, and your (pet) fancies have left you in the lurch!"
اور البتہ تم ہمارے پاس ایک ایک ہو کر آ گئے ہو جس طرح ہم نے تمہیں پہلی دفعہ پیدا کیا تھا اور جو کچھ ہم نے تمہیں دیا تھا وہ اپنے پیچھے ہی چھوڑ آئے ہو اور تمہارے ساتھ ان کی سفارش کرنے والوں کو نہیں دیکھتے جنہیں تم خیال کرتے تھے کہ وہ تمہارے معاملےمیں شریک ہیں تمہارا آپس میں قطع تعلق ہو گیا ہے اور جو تم خیال کرتے تھے وہ سب جاتا رہا

And then Allah says:

وَاتَّقُوا يَوْمًا لَّا تَجْزِي نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَيْئًا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ (Quran, 2:48)
Yusuf Ali 48: Then guard yourselves against a day when one soul shall not avail another nor shall intercession be accepted for her, nor shall compensation be taken from her, nor shall anyone be helped (from outside).

اوراس دن سے ڈرو جس دن کوئی شخص کسی کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ ان کے لیے کوئی سفارش قبول ہو گی اورنہ اس کی طرف سے بدلہ لیا جائے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی

And again:

وَاتَّقُوا يَوْمًا لَّا تَجْزِي نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَيْئًا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلَا تَنفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ (Quran, 2:123)
Yusuf Ali 123: Then guard yourselves against a-Day when one soul shall not avail another, nor shall compensation be accepted from her nor shall intercession profit her nor shall anyone be helped (from outside).
اوراس دن سے ڈرو جس دن کوئی بھی کسی کے کام نہ آئے گا اور نہ اس سے بدلہ قبول کیا جائے گا اور نہ اسے کوئی سفارش نفع دے گی اور نہ وہ مدد دیے جائیں گے

The Quran categorically states that no soul shall have an effect on another:

قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ ۚ وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ (Quran, 6:164)
Yusuf Ali 164: Say: "Shall I seek for (my) Cherisher other than Allah, when He is the Cherisher of all things (that exist)? Every soul draws the meed of its acts on none but itself: no bearer of burdens can bear the burden of another. Your goal in the end is towards Allah. He will tell you the truth of the things wherein ye disputed."

کہہ دو کیا اب میں الله کے سوا اور کوئی رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے اور جو شخص کوئی گناہ کرے گاتو وہ اسی کے ذمہ ہے اور ایک شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تمہارے رب کے ہاں ہی سب کو لوٹ کر جانا ہے سو جن باتو ں میں تم جھگڑتے تھے وہ تمہیں بتلاد ے گا

And again, Allah repeats it: (Quran, 53:38-39)
أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ (Quran, 53:38)
Yusuf Ali 38: Namely, that no bearer of burdens can bear the burden of another;
وہ یہ کہ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا



وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ (Quran, 53:39)
Yusuf Ali 39: That man can have nothing but what he strives for;
اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جو کرتا ہے

As well as: (Quran, 6:70)
وَذَرِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَعِبًا وَلَهْوًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۚ وَذَكِّرْ بِهِ أَن تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا كَسَبَتْ لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ اللَّهِ وَلِيٌّ وَلَا شَفِيعٌ وَإِن تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا يُؤْخَذْ مِنْهَا ۗ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِمَا كَسَبُوا ۖ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ (Quran, 6:70)
Yusuf Ali 70:Leave alone those who take their religion to be mere play and amusement, and are deceived by the life of this world. But proclaim (to them) this (truth): that every soul delivers itself to ruin by its own acts: it will find for itself no protector or intercessor except Allah. if it offered every ransom, (or reparation), none will be accepted: such is (the end of) those who deliver themselves to ruin by their own acts: they will have for drink (only) boiling water, and for punishment, one most grievous: for they persisted in rejecting Allah.
اور انہیں چھوڑ دو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور دنیاکی زندگی نے انہیں دھوکہ دیا ہے اور انہیں قرآن سے نصیحت کرتا تاکہ کوئی اپنے کیے میں گرفتار نہ ہو جائے کہ اس کے لیے الله کے سوا کوئی دوست اور سفارش کرنے والا نہ ہوگا اور اگر دنیا بھر کا معاوضہ بھی دے گا تب بھی اس سے نہ لیا جائے گا یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے کیے میں گرفتار ہوئے ان کے پینے کے لیے گرم پانی ہوگا اور ان کے کفر کے بدلہ میں دردناک عذاب ہو گا
The Hadiths
The Prophet (صلّى الله عليه وآله وسلّم) declared that people were born inherently equal except by piety and good action (Taqwa). Indeed the best among you is the one with the best character (Taqwa). Listen to me. Did I convey this to you properly?Each one of you who is here must convey this to everyone not present. (Excerpt from the Prophets Last Sermon as in Baihiqi)

The Prophet (صلّى الله عليه وآله وسلّم) said:There are indeed people who boast of their dead ancestors; but in the sight of Allah they are more contemptible than the black beetle that rolls a piece of dung with its nose. Behold, Allah has removed from you the arrogance of the Time of Jahiliyyah (Ignorance) with its boast of ancestral glories. Man is but an Allah-fearing believer or an unfortunate sinner. All people are the children of Adam, and Adam was created out of dust. [At-Tirmidhi and Abu Dawud]

The Prophet (صلّى الله عليه وآله وسلّم) said further: Undoubtedly Allah has removed from you the pride of arrogance of the age of Jahiliyah (ignorance) and the glorification of ancestors. Now people are of two kinds. Either believers who are aware or transgressors who do wrong. You are all the children of Adam and Adam was made of clay If they do not give this up (i.e. pride in ancestors) Allah will consider them lower than the lowly worm which pushes itself through Khara (dung). [Abu Dawud and Tirmidhi]

'A'isha, the wife of Allah's Apostle (may peace be upon him), reported that the Quraish were concerned about the woman who had committedtheft during the lifetime of Allah's Apostle (may peace be upon him), in the expedition of Victory (of Mecca). They said: Who would speak to Allah's Messenger (may peace be upon him) about her? They (again) said: Who can dare do this but Usama b Zaid, the loved one of Allah's Messenger (may peace be upon him)? She was brought to Allah's Messenger (may peace be upon him) and Usama b. Zaid spoke about herto him (interceded on her behalf). The colour of the face of Allah's Messenger (may peace be upon him) changed, and he said: Do you intercede in one of the prescribed punishments of Allah? He (Usama) said: 'Messenger of Allah, seek forgiveness for me. When it was dusk. Allah's Messenger (may peace be upon him) stood up and gave an address. He (first) glorified Allah as He deserves, and then said: Now to our topic. This (injustice) destroyed those before you that when any one of (high) rank committed theft among them, they spared him, and when any weak one among them committed theft, they inflicted the prescribed punishment upon him. By Him in Whose Hand is my life,even if Fatima daughter of Muhammad were to commit theft, I would have cut off her hand. He (the Holy Prophet) then commanded about that woman who had committed theft, and her hand was cut off. 'A'isha (further) said: Hers was a good respentance, and she later on married and used to come to me after that, and I conveyed her needs (and problems) to Allah's Messenger (may peace be upon him). [Sahih Muslim, Book# 017, Hadeeth# 4188]

After reading above verses of Quraan and hadith it would be accusation on Prophet Muhammad
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) if some insists that Prophet Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) praised and exalted his progeny (آل اولاد) and lineage (حسب نسب). After all, how could the Prophet Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) praise and exalt (مرتبہ) his progeny (آل اولاد) and lineage (حسب نسب) whilst forbidding anyone else from glorifying their lineage?
 

Pakistani1947

Chief Minister (5k+ posts)
Dear Members, please try to avoid quoting Hadeeths from books other than "Siha Sitta Books" of Hadeeths.

The Six Authentic Hadeeth Books
(Sihah Sitta)

- Sahih al-Bukhari
- Sahih Muslim
- Sunan an-Nasa'i al-Sughra
- Sunan Abu Dawood
- Sunan al-Tirmidhi
- Sunan ibn Majah

A hadith is a saying of Muhammad or a report about something he did. Over time, during the first few centuries of Islam, it became obvious that many so-called hadith were in fact spurious sayings that had been fabricated for various motives, at best to encourage believers to act righteously and at worse to corrupt believers' understanding of Islam and to lead them astray. Since Islamic legal scholars were utilizing hadith as an adjunct to the Qur'an in their development of the Islamic legal system, it became critically important to have reliable collections of hadith. While the early collections of hadith often contained hadith that were of questionable origin, gradually collections of authenticated hadith called sahih (lit. true, correct) were compiled. Such collections were made possible by the development of the science of hadith criticism, a science at the basis of which was a critical analysis of the chain of (oral) transmission (isnad) of the hadith going all the way back to Muhammad pbuh.

The two most highly respected collections of hadith are the authenticated collections the Sahih Bukhari and Sahih Muslim. (Sahih literally means "correct, true, valid, or sound.")

In addition to these, four other collections came to be well-respected, although not to the degree of Bukhari and Muslim's sahih collections.These four other collections are the Sunan of Tirmidhi, Nasa'i, Ibn Majah, and Abu Da'ud. Together these four and the two sahih collections are called the "six books" (al-kutub al-sitta). Two other important collections, in particular, are the Muwatta of Ibn Malik, the founder of the Maliki school of law, and the Musnad of Ahmad ibn Hanbal, the founder of the Hanbali school of law.
 

Amal

Chief Minister (5k+ posts)
Scientific Quran Proofs Destroy Atheism Evolution



[video]https://www.facebook.com/TheDeenShowTV/videos/vb.207242941103/10152845728926104/?type=2&theater[/video]​
 

alibaba007

Banned

ماشا اللہ! ذوق ایلیا صاحب
ان تمام متفق علیہ احادیث کی روشنی میں یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ محمد (صل اللہ علیہ وآل وسلم)وآل محمد (علیہ السلام )کی عظمت اور بزرگی میں کوئی ہمسر نہیں ہے دعاء ہے کہ اللہ ہمیں در محمد (ص)وآل محمد (ع)سے وابسطہ رکھے آمین! مگر افسوس ان بدبخت مسلمانوں نے بعد وفات رسول(ص) آل محمد پر مظالم کی انتہا کردی حتی' کہ نوجوانان جنت کے سردار امام حسن علیہ السلام کو زہر دے کر شہید کیا گیا اوروقت تدفین ان کے جنازے پر تیر برسائے گئے امام حسین علیہ السلام کا سجدے میں سوکھا گلا کاٹا گیا ان کی لاش پر گھوڑے دوڑائے گئے نبی زادیوں کو یزیدی فوج نے قیدی بنا کر رسن بستہ کوچہ و بازار میں پھرایا ایک عرصہ تک یہ نبی زادیاں اور امام زین العابدین علیہ السلام دمشق میں یزید ملعون کی قید میں رہے

شامیاں بستند بازو زینب وکلثوم را

اے فلک آں ابتدا ایں انتہا ئے اہلبیت

 
Last edited:

karachiwala

Prime Minister (20k+ posts)

ماشا اللہ! ذوق ایلیا صاحب
ان تمام متفق علیہ احادیث کی روشنی میں یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ محمد (صل اللہ علیہ وآل وسلم)وآل محمد (علیہ السلام )کی عظمت اور بزرگی میں سوائے خدائے بزرگ وبرتر کوئی ہمسر نہیں ہے دعاء ہے کہ اللہ ہمیں در محمد (ص)وآل محمد (ع)سے وابسطہ رکھے آمین! مگر افسوس ان بدبخت مسلمانوں نے بعد وفات رسول(ص) آل محمد پر مظالم کی انتہا کردی حتی' کہ نوجوانان جنت کے سردار امام حسن علیہ السلام کو زہر دے کر شہید کیا گیا اوروقت تدفین ان کے جنازے پر تیر برسائے گئے امام حسین علیہ السلام کا سجدے میں سوکھا گلا کاٹا گیا ان کی لاش پر گھوڑے دوڑائے گئے نبی زادیوں کو یزیدی فوج نے قیدی بنا کر رسن بستہ کوچہ و بازار میں پھرایا ایک عرصہ تک یہ نبی زادیاں اور امام زین العابدین علیہ السلام دمشق میں یزید ملعون کی قید میں رہے

شامیاں بستند بازو زینب وکلثوم را

اے فلک آں ابتدا ایں انتہا ئے اہلبیت



تو ایک انتہائی بدبودار کھٹمل ہے۔ جب کسی نے کچھ لکھا تو تم کو اس میں اپنی گند ضرور ڈالنی تھی۔ یا تو تعریف کر یا چپ رہ۔ بکواس مت کر۔
 

karachiwala

Prime Minister (20k+ posts)
The love Abubakr(as) had for Ahlelbayt(as)

Sahi bukhari 5.93: Narrated `Uqba bin Al−Harith: I saw Abu Bakr carrying Al Hasan and saying, Let my father be sacrificed for you; you resemble the Prophet and not `Ali, while `Ali was laughing at this.
Ahmad bin Abi Yaqoob (a shiah author) mentioned in his book titled: Tareekh al Yaqoobi: Abu Bakr meet Al Hasan bin Ali bin Abi Taalib while he was playing in an area in Al Madinah. Upon seeing him, Abu Bakr said: I swear, you resemble the Prophet (may the peace and blessings of Allah be upon him), and you dont resemble Ali. (Shia book, Tareekh al Yaqoobi vol.2 pg.117)
Sahi Bukhari 5.368: Narrated `Aisha: Fatima and Al−`Abbas came to Abu Bakr, claiming their inheritance of the Prophets land of Fadak and his share from Khaibar. Abu Bakr said, I heard the Prophet saying, Our property is not inherited, and whatever we leave is to be given in charity. But the family of Muhammad can take their sustenance from this property. By Allah, I(Abubakr) would love to do good to the Kith and kin of Allahs Apostle rather than to my own Kith and kin. Bukhari narrated from Abu Bakr: Please Muhammad(saw) by doing good to his family( Saheeh, bab fadail ashab. #3541).

إن أبا بكر لما رأى غضب فاطمة قال لها : أنا لا أنكر فضلك ولا قرابتك من رسول الله عليه السلام ، ولم أمنعك من فدك إلا امتثالاً بأمر رسول الله ، واشهد الله على أني سمعت رسول الله يقول : نحن معاشر الأنبياء لا نورث ، وما تركنا إلا
الكتاب والحكمة والعلم ، وقد عملت هذا باتفاق المسلمين ولست بمتفرد في هذا ، وأما المال فإن تريدينه فخذي من مالي ماشئت لأنك سيدة أبيك وشجرة طيبة لأبنائك ولا يستطيع أحد أن ينكر فضلك

When Abubakar(ra) saw that Fatima(ra) was unhappy so he said to her: I dont deny your virtues and your closeness to prohet(Saw) , I just obeying the command of prophet(saw) didnt give you fadak. I make Allah my witness that I have heard prophet(Saw) saying we prophets dont leave inheritance , except the book and hikma and knowledge. In this issue Im not alone , I have done this act on the agreement of muslims. If you want wealth then you can take as much as you want from my mine wealth, you are the leader of women , you are the shajra taiba for your children, No one can deny your virtues.(Shia book, haq ul yaqeen page 201, 202 )
Comment: Though this report is from shia book which is not hujjah upon Ahlesunnah, but on shias and this shows the love, care and concern Abubakr(ra) had for Fatima(ra). He did all possibile things in a best manner inorder to please Fatima(ra). He reminded her virtues and her high status inorder to please her.

The role of Abubakr(ra) in marriage of Ali(ra) and Fatima(ra)

We read in Shia scholar, Shaikh Tusis book Amali: The Prophet gave money to Abu Bakr and said Bring clothes and other things needed for Fatima, and sent with him Ammar bin Yasir and some other Sahaba. Then they went to market, whatever they wanted to buy, they would first show it to Abu Bakr. After he agreed , than only that thing would be purchased. (Afterwards thing purchased are mentioned). Then they purchased the things , Abu Bakr took few things, the other companions took the other things and came back to the Prophet (s) and showed the things they bought to him. He checked the things and said May Allah put blessings in it for the Ahlel Bayt.
We read in Kitaab al Amalee by Abu Jafar al Towsee (a shiah scholar and writer) that Ali bin Abi Taalib informed that Abu Bakr and Umar were responsible for his marriage to the Prophets daughter Fatimah!

Al Dahaaq bin Muzahim said: I heard Ali bin Abi Taalib mention: I was visited by Abu Bakr and Umar, and they said to me during their visit: Why dont you approach the Prophet (may the peace and blessings of Allah be upon him) and request to marry his daughter Fatimah? I did as they suggested and when I entered upon the Prophet (may the peace and blessings of Allah be upon him), he smiled and said: What has brought you here oh Ali? I then mentioned to him my nearness (in relation) to him and my early acceptance of Islam. I also mentioned my support and assistance of him. He agreed with my statement, at which point I said: Would you marry me to Fatimah (Kitaab al Amalee vol.1 pg.38)

This is also mentioned in Mulla Baqir Majlisis book, Jila ul Ayun (Chapter the marriage of Fatima to Ali)
One day , Abu Bakr , Umar and Saad bin Muadh were sitting in the masjid nabwi. Abu Bakr said that the nobles of Quraish asked the Prophet (s) about the hand of Fatima (i.e they wanted to marry her), he replied that the matter of Fatima is with Allah, whomever He wills, He will marry her to him. And Ali hasnt talked to the Prophet (s) about this , and in my opinion, nothing is stopping Ali except poverty. Then Abu Bakr said to Umar and Muadh, stand up and lets go to Ali and convince him for asking the hand of Fatima , if poverty is stopping him, than we shall help him. Saad said You are absolutely correct O Abu Bakr. So they stood up and then went to Ali. Ali was not present at his home, He had gone to the garden of an Ansari to water it for wages. They reached there, Ali inquired the reason for their coming , upon which Abu Bakr said You have excelled others in good deeds and you are close to the Prophet (s) also, what is prohibiting you from asking the hand of Fatima. When Ali heard this, his eyes filled with tears. He said Who doesnt want to marry Fatima? But due to poverty, I feel shy to express my sentiments. So they convinced him for this matter and he agreed to go to the Prophet (s). Ali came back to his home, and then went towards the Prophet (s). (Jila ul Ayun, p. 122-123) ; Similar tradition is present in Bihar al Anwar , Vol. 10, p. 37-38.
The Prophet gave money to Abu Bakr and said Bring clothes and other things needed for Fatima, and sent with him Ammar bin Yasir and some other Sahaba. Then they went to market, whatever they wanted to buy, they would first show it to Abu Bakr. After he agreed , than only that thing would be purchased. (Afterwards thing purchased are mentioned). Then they purchased the things , Abu Bakr took few things, the other companions took the other things and came back to the Prophet (s) and showed the things they bought to him. He checked the things and said May Allah put blessings in it for the Ahlel Bayt
This is also mentioned in Jila ul Ayun, p. 126, chapter the marriage of Fatima to Ali, and in Manaqib ibn Shehr Ashoob, Vol. 4, p. 20.
Comment: These narrations taken from Shia books illustrates the tremendous love and concern present in the hearts of Abu Bakr and Umar for their young brother Ali, and how they intended all good for him by advising him to seek marriage to the Prophets daughter Fatimah.


Love and Respect of Ahlebayt(ra) for Abubakr(ra)


طلبة الرافضة من زيد ابن علي التبرؤ من أبو بكر و عمر فقال: إنهما وزيرا جدي, فقالوا له: إذا نرفضك, فقال لهم: إذهبوا فأنتم الرافضة.

The Rafidah amongst the Shia told Zaid ibn Ali ibn al-Hussein (rah) during his revolution that he has to abandon the love of Abu Bakr and Umar and he replied: They are the Companions of my grandfather, they said to him: Then we shall refuse you so he said:Go! for you are the Rejectionists(al-Rafidah).[Tuoun Rafidat al-Yaman fi Sahabat al-Rassul, p17 by Abu Nasr Muhammad ibn Abdullah al-Imam and he said: SAHIH]


أنه دخل على علي بن أبي طالب في إمارته فقال: إني مررت بنفر يذكرون أبا بكر وعمر، يرون أنك تضمر لهما مثل ذلك، منهم عبد الله بن سبأ، فقال علي: مالي ولهذا الخبيث الأسود، ثم قال: معاذ الله أن أضمر لهما إلا الحسن الجميل، ثم أرسل إلى ابن سبأ فسيّره إلى المدائن،و قال: لا يساكنني في بلاد أبدا, ونهض إلى المنبر حتى إذا اجتمع الناس أثنى عليهما خيراً، ثم قال: أو لا يبلغني عن أحد يفضلني عليهما إلا جلدته حد المفتري

Suwaid ibn Ghaflah: I entered on Ali ibn abi Talib during his emirate and said: I passed by some folks who were talking about Abu Bakr and Umar and saying that you have a deep hatred for both of them, one of those folks is Abdullah ibn Saba, Ali said: I do not understand this wicked black man(Ibn Saba), I seek refuge in Allah from this matter and I only have deep beautiful respect for them. Then he sent after Ibn Saba and exiled him to al-Madaen(In Yemen) and said: He will not live in the same land with me. He then went to his Mimbar and when the people gathered he complimented both of them and said nothing but good things about them. then he said: If it reaches me that anyone prefers me over them then I shall lash them as they do with the slandering liar.[al-Khateeb made Takhreej for it in al-Kifayah p376 and said that Abu Abdullah al-Boushanji graded it as Sahih, Abu Nasr Muhammad ibn Abdullah al-Imam said in the commentary: It is narrated through other chains, it is Thabit.]


أجمع بنو فاطمة عليهم السلام على أن يقولوا في أبي بكر وعمر أحسن ما يكون من القول

From Jabir, from Mohammed bin Ali (Al-Baqir), There is a consensus amoing the children of Fatima (as) to say the best possible praise for Abu Bakr and Omar. (Fadhail Al-Sahaba by Al-Daraqutni, p. 83)


سألت أبا جعفر محمد بن علي : هل كان أحد من أهل البيت يسب أبا بكر وعمر ؟ قال : معاذ الله بل يتولونهما ، ويستغفرون لهما ، ويترحمون عليهما

Fadhail Al-Sahaba (p. 86), Jabir said: I asked Abu Jaafar Mohammed bin Ali if anyone from ahlul bayt cursed Abu Bakr and Omar? He said: God-forbid! Rather, they follow them, pray for forgiveness to them, and ask for mercy for them.


عن أبي سريحة سمعت عليا عليه السلام يقول على المنبر ألا إن أبا بكر أواه منيب القلب إلا إن عمر ناصح الله فنصحه
طبقات ابن سعد ، ج ۳ ص ۱۲۱ ، تذکرہ صدیق اکبرؓ

Abu Sariha said that I heard Ali saying on the pulpit Indeed Abu Bakr was very kind hearted person and indeed Umar was a well wisher of Gods religion, hence Allah did good to him.(tabqat ibn saad, vol 3, page 121)


عن بسام بن عبدالله الصيرفي قال : سألت أباجعفر قلت : ماتقول في أبي بكر وعمر رضي الله عنهما ، فقال : والله إني لأتولاهما وأستغفر لهما وما أدركنا أحد من أهل بيتي إلا وهو يتولاهما . [ حسن ] .

From Bassam bin Abdullah al-Sayrafi: I asked Abu Jaafar: What do you say about Abu bakr and Umar may Allah be pleased with them? He replied: By Allah I am loyal to them and I ask Allah to forgive them and we never met anyone from my family who was not loyal to them. (Fadael al-Sahaba wa Manaqibihim wa Qawl Baadihim fi Baad by the famous scholar of Hadith al Darqutni)
Grading: Hasan.
عن عيسى بن دينار المؤذن مولى عمرو بن الحارث الخزاعي قال : سألت أباجعفر عن أبي بكر وعمر فقال : مسلمين رحمهما الله .
فقلت له : أتولاهما وأستغفر لهما .
فقال : نعم .
قلت : أتأمرني بذلك .
قال : نعم ثلاثاً ، فما أصابك فيهما فعلى عاتقي ، وقال بيده على عاتقيه ،
وقال : كان بالكوفة علي رضي الله عنه خمس سنين فما قال لهما إلا خيراً ولا قال لهما أبي إلا خيراً ولا أقول إلا خيراً . [ صحيح ]
.

From Isa bin Dinar al-Muatthin the mawla of Amro bin al-Harith al-Khuzaee: I asked Abu Jaafar about Abu bakr and Umar and he answered: Muslims, may Allah have mercy on them.
I told him: Should I be loyal to them and ask Allah to forgive them?
He said: Yes.
I said: Do you order me to do so?
He said: Yes, Yes, Yes three times and I take responsibility for what I say.
He continued saying: Ali may Allah be pleased with him was in al-Kufa for five years and he always spoke good of them and so did my father and so do I.(Fadael al-Sahaba wa Manaqibihim wa Qawl Baadihim fi Baad by the famous scholar of Hadith al Darqutni)
Grading: Sahih.


عن هلال بن خباب عن الحسن بن محمد بن الحنفية أنه قال : يا أهل الكوفة اتقوا الله ولاتقولوا في أبي بكر وعمر ماليسا له بأهل ، إن أباكر الصديق رضي الله عنه كان مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في الغار ثاني اثنين ، وإن عمر أعز الله به الدين . [ حسن ] .

From Hilal bin Khabab from al-Hassan ibn Muhammad bin al-Hanafiyyah that he said: O people of Kufa fear Allah and do not say bad things about Abu Bakr and Umar, Abu bakr was al-Siddiq may Allah be pleased with him and he was the second of the two in the cave with the Prophet PBUH, and as for Umar, Allah had strengthened Islam with Umar. .(Fadael al-Sahaba wa Manaqibihim wa Qawl Baadihim fi Baad by the famous scholar of Hadith al Darqutni)
Grading: Hasan.
عن أبي خالد الأحمر قال : سألت عبدالله بن حسن عن أبي بكر وعمر فقال : صلى الله عليهما ولا صلى على من لايصلي عليهما . [ حسن ] .

From Abu Khaled al-Ahmar: I asked Abdullah bin al-Hassan about Abu bakr and Umar so he said: May the peace of Allah be upon them and no peace on those who dont send peace upon them. (Fadael al-Sahaba wa Manaqibihim wa Qawl Baadihim fi Baad by the famous scholar of Hadith al-Darqutni)
Grading: Hasan.
بحار الأنوار للعلامة المجلسي الجزء 29 صفحة 650.
ابن محمد بن أبي بكر الصديق ، وأمها : أسماء بنت عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق ،
ولذلك قال جعفر عليه السلام : ولقد ولدني أبو بكر مرتين . وانظر : إحقاق الحق 1 / 64 و 66 67 . فلفظ
.

Bihar al Anwar by al Majlisi 29/650:
Ibn Muhammad bin abu bakr al Siddiq, her mother: Asmaa bint Abdul Rahman bin Abu bakr al Siddiq, for this Jaafar PBUH said: I was born twice of Abu Bakr, look in Ihqaq al Haqq 1/66,64,67″
In Kasfhul ghumma Shia scholar Arbili quoted al-Hafith Abdulaziz, which said: Abu Abdullah Jafar ibn Muhammad ibn Ali ibn al-Hussain ibn Ali ibn Abu Talib (a), as-Sadiq, his mother was Ummu Farwa bintul Qaseem ibn Muhammad ibn Abu Bakr as-Siddiq (radiAllahu anhu), and her mother was Asma bintu Abdurrahman ibn Abu Bakr as-Siddiq, and due to that Jafar said: Abu Bakr as-Siddiq born me twice.
Its narrated from Abu Abdullah jafar sadiq(as) that he used to say: Abubakar have given me birth twice. Because that his mother umme farwa was the daughter of qasim bin muhammed bin abubaker and his grand mother asma was daughter of abdul rahman bin abubakar. (firq al shia , page 78)
Dhahabi said in Siyari 6 volume at page 255:


وأمه هي أم فروة بنت القاسم بن محمد بن أبي بكر التيمي، وأمها هي أسماء
بنت عبدالرحمن بن أبي بكر ولهذا كان يقول: ولدني أبو بكر الصديق مرتين.


And his mother was Ummu Farwa bintul Qaseem ibn Muhammad ibn Abu Bakr at-Taymi, and her mother was Asma bintu Abdurrahmanibn Abu Bakr, thats why he use to say: Abu Bakr as-Sadiq born me twice.


أبو بصير: كنت جالساً عند أبي عبد الله عليه السلام إذ دخلت علينا أم خالد التي كان قطعها يوسف بن عمر تستأذن عليه. فقال أبو عبد الله عليه السلام: أيسرّك أن تسمع كلامها؟ قال: فقلت: نعم، قال: فأذن لها. قال: وأجلسني على الطنفسة، قال: ثم دخلت فتكلمت فإذا امرأة بليغة، فسألته عنهما (أي أبى بكر وعمر) فقال لها : توليهما، قالت : فأقول لربي إذا لقيته : إنك أمرتني بولايتهما؟ قال : نعم [الروضة من الكافي ج8 ص101 ط إيران تحت عنوان حديث أبي بصير مع المرأة].
A woman came to Ja`far As-Sadiq the Six Imam and asked him about Abu Bakr and
`Umar; whether to give them her loyalty.
Yes, he said.
And when I meet my Lord, shall I say that you told me to follow them? she inquired.
Again, he said, Yes. (shia book, Al-Kf, Ar-Rawdah, 8:101)

In Siyar page 259 Dhahabi narrated:


وبه عن الدارقطني، حدثنا إسماعيل الصفار، حدثنا أبويحيى جعفر بن محمد الرازي، حدثنا علي بن محمد الطنافسي، حدثنا حنان بن سدير، سمعت جعفر بن محمد، وسئل عن أبي بكر وعمر، فقال: إنك تسألني عن رجلين قد أكلا من ثمار الجنة

By it by Al Daraqutni, which said: narrated Ismail el Saffar, which said: narrated Abu Yahya Jaafar Bin Mohammad Al Razi, which said narrated Ali Bin Mohammad Al Tanafsi, which said: narrated Hanan Sadir: I heard Jaafar Bin Mohammad and he was asked about Umar and Abu Bakr He said: You Ask me of two Men who ate from the fruits of heaven.
In At-tuyuriyyaat, jafar ibn muhamad reports on the authority of his father that a man said to Ali: We hear you say in your khutbah:O Allah! Grant us righteousness through the means you granted it to the rightly- guided caliphs; who are these caliphs? Alis eyes became wet with tears, and he said: The are my beloved ones, abubakr and umar the exemplars of guidance, the sheikhs of Islam, the two notables of the tribe of Quraysh who deserved to be followed after the death of the prophet(saw). He who followed them is safeguarded, and anyone who treads their path is guided to the path of righteousness. A person who clings to them becomes a members of Alls party. (Biographies of the rightly guided caliphs page 344)
Imam Jafar bin muhammed used to love Hz abubakar and hz umar such that, its narrated from him that :When he used to visit the grave of prophet(Saw) , Conveying salam on the grave of prophet(Saw) he used to Convey salam on hz abubakar and hz umar also. (sharah nahjul balagha, vol 4, page 140, Beirut)


و جاء عن الإمام السادس جعفر الصادق (ع) انه سئل عن أبى بكر وعمر رضي الله عنهما ففي الخبر ان رجلاً سأل الإمام الصادق (ع) , فقال : يا ابن رسول الله ! ما تقول فى حق أبى بكر و عمر ؟ فقال (ع) : إمامان عادلان قاسطان , كانا على الحق , وماتا عليه , فعليهما رحمة الله يوم القيامة إحقاق الحق للشوشترى 1/16

One man asked imam sadiq(as) , o son of prophet(saw) , what do you say about abubakar(ra) and umar(ra) ? Imam sadiq said: Both imams were aadil, and just , both were on truth, and on truth they died, May allah shower his mercy until qayamah on them.( Ahqaq-ul-Haq , vol 1, page 16, misr)
Imaam adh-Dhahabee said in his Siyaar Alaam an-Nubalaa (5/390):

قال عيسى بن يونس جاءت الرافضة زيدا فقالوا تبرأ من أبي بكر وعمر حتى
ننصرك قال بل أتولاهما قالوا إذا نرفضك فمن ثم قيل لهم الرافضة
Eesaa bin Yoonus said: The Raafidah came to Zayd and said to him,Free yourself from Abee Bakr and Umar so that we can aid you. He replied,Rather I will give allegiance to them (i.e. Aboo Bakr and Umar). They said, Then we reject you. So then it was said to them, ar-Raafidah (the rejecters).

It is reported from Sufyān b. ʿUyainah that a man once asked ʿAlī b. Ḥusayn b. ʿAlī b. ʾAbī Ṭālib(rah), What was the status of Abū Bakr and ʿUmar with Rasūlullāh Allāhs praise and peace be upon him? He replied, Their place with him is like their place with him today (i.e. where they are in their graves). [Abū Bakr Al-Daynūrī, Al-Mujālasah wa Jawāhir Al-ʿIlm 4:254]


Zaid bin ali bin hussain(ra) who holds an honor of very pious and respectable personality among the shias was asked by his companions about Abubakar(ra) and umar(ra) he replied:I always speak good of them and I have never heard any members of the family of the prophet speak badly of them. They have never persecuted us nor did they maltreat any other citizen. Both of them strictly followed the quran and sunnah of the prophet(Saw). Hearing this they said you are not our companion , they separated from him. He said today they have left us , from today they will be called rafidah. (Nasikh al tawaarikh vol 2, page 590.(under the heading zain ul abedins saying) this book is popular and regarded as a reliable shiiah document, see ayyan ush shiah (vol 2) page 132)


The care Ahlelbayt(ra) had for Abubakr(ra)

خرج شاهرا سيفه إلى ذي القصة ، فجاءه علي وأخذ بزمام راحلته وقال له : أين يا خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم ! أقول لك ما قال لك رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم أحد : شم سيفك ، لا تفجعنا بنفسك ، فوالله لئن أصبنا بك لا يكون للإسلام نظام . فرجع وأمضى الجيش

He (i.e Abu Bakr) went towards Dhil Qissa with his sword then Ali came and stopped him and said O Caliph of Prophet (s), where are you going? I want to say the same thing to you which the Prophet (s) said to you on the day of Uhud. Put your sword in its sheath and dont put us in trouble regarding yourself. By God, if we got trouble regarding you, then the system of Islam will not stay correct, so Abu Bakr returned and sent an armed group.

[Tarikh ibn Kamil

Similarly we read:

أن بعد شهرين و أيام من وفاة الرسولعليه الصلاة و السلام خرج أبو بكر الصديق إلى بلدة ذي القصة بضواحي المدينة المنورة ، شاهرا سيفه لمحاربة المرتدين ، فاعترضه بعض الصحابة و نصحوه بالرجوع إلى المدينة على أن يتولوا هم المهمة ، فكان من بينهم علي بن أبي طالب .
عن ابن عمر قال لما برز أبو بكر إلى القصة واستوى على
راحلته أخذ علي بن أبي طالب بزمامها و قال له : إلى أين يا خليفة رسول الله ، أقول لك ما قاله رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم أحد : لَم سيفك ، و لا تفجعنا بنفسك ، و أرجع إلى المدينة ، فوالله لئن فُجعنا بك لا يكون للإسلام نظام أبدا ، فسمع منه و رجع .
ابن كثير : البداية ، ج 6 ص: 707 .و السيوطي : تاريخ الخلفاء ، ص: 75 .

Two months after the demise of the Messenger peace be upon him Abu Bakr Al-Siddeeq went out and unsheathed his sword to fight the apostates (Ahl ar-Ridda) himself (In the Battel of Al-Qassah, when the Bedouins circled the Madina to siege it and get back at the Muslims while the army of Usama Ibn Zaid was at the outskirts of Al-Sham (Jordan). Some Sahaba objected that and advised him to come back to Madinah, for his presence in Madinah (as the Khalifah) was of more importance (i.e. the Sahaba themselves will deal with the apostates). Among those who advised Abu Bakr was Ali Ibn Abi Talib who prevented him from his journey and said to him: Where are you heading, o Khalifatul-Rasulullah (Caliph of the Messenger of Allah!). Then Ali Ibn Aby Talib May Allah be pleased with him said to Abu Bakr, I will tell you what the Messenger of Allah said in the battle of Uhud, sheathe your sword and dont stun us with your death, head back to Madina. By Allah, if you die Islam wont see the light again. [An authentic narrationby Ibn Katheer, Al-Bidaya wa Al-Nihaya (6/314-315 )]

That is why Ahlelbayt named their children Abubakr.

Ali showed his great love for the three Rightly-guided Caliphs who preceded him by naming three of his sons after them. The Shia books mention Abu Bakr Ibn `Ali Ibn Abu Talib, `Umar Ibn `Ali Ibn Abu Talib, and `Uthman Ibn `Ali Ibn Abu Talib[See At-Tubras, I`lm Al-War, p. 203, Al-Mufd, Al-Irshd, p. 186, Al-Ya`qb, Trkh, 2:213, Abul-Faraj Al-Asfahn, Maqtil At-Tlibiyyn, p. 142, Al-Arbl, Kashful-Ghummah, 2:64, and Al-Majlis, Jal Al-`Uyn, p. 182.]


Abu Bakr Bin Ali Bin Abi Talib(son of Ali):
Died with Hussein RAA in Karbala, his mother is Layla Bint Masood Al Nahshaliyah. Mentionned by Al Mufid in Al Irshad P 248 186, Also in Tareekh el Yaaqoobi Fi Awlad Ali, Muntaha el Amal for Abbas el Qummi 261/1 He mentions that his name is Mohammad and his surname is Abu Bakr محمد يكنى بأبي بكر p 544/1 and bihar el anwar for Majlisi 120/42.


Abu Bakr Bin Al Hassan Bin Ali Bin Abi Talib(son of Hassan):

died with his uncle Hussein in Karbala, Mentioned by Sheikh Al Mufid in Al Irshad under Deaths In Karbala قتلى كربلاء P 248 and Tareekh al Yaaqoobi Fi awlad el Hassan and Muntaha el Amal for Abbas el Qummi 544/1 under Martyrdom of the Bani Hashim Youths in Karbala استشهاد فتيان بني هاشم في كربلاء.

Al-Husayn named his sons Abu Bakr and `Umar, and his sons did the same after him. This is an obvious expression of love for and affection for the Companions of the Prophet. This, too, is recorded in the Shia books.[ See At-Tubras, I`lm Al-War, p. 213, Al-Ya`qb, At-Trkh (History), 2:228, Abul-Faraj Al-Asfahn, Maqtil At-Tlibiyyn, pp. 78, 119, Al-Mas`d, At-Tanbh wal-Ishrf, p.263, and Al-Majlis, Jal Al-`Uyn, p. 582.]

Abu Bakr Ali Zainul Abedeen:
The Nickname for Ali Zainul Abedeen RAA was Abu bakr and this was mentioned in many locations Specially in Al Anwar el Nuumaniyah for Niimatullah Al Jazaeree الأنوار النعمانية للجزائري.

As for Imam Musa Ibn Ja`far, the Seventh Imam, one of his sons was also named Abu Bakr[Al-Arbl, Kashful-Ghummah, vol 2, page 217, and Abul-Faraj Al-Asfahn, Maqtil At-Tlibiyyn, p. 561.]

Abu Bakr Ali Bin Musa el Kathim Bin Jaafar el Sadik:
Ali Al Redah RAA was nicknamed Abu Bakr and this is mentioned in Noori al Tabrasis Book Al Noor Al Thakib fi Alqab wa Asmaa Al Hujjah al Ghaeb:


أبو بكر وهي إحدى كُنى الإمام الرضا كما ذكرها أبو الفرج الأصفهاني في مقاتل الطالبيين.

Abu Bakr is a nickname of Imam al Redah as Abu AlFaraj al Asfahani Mentioned in his book مقاتل الطالبيين.

Abu Bakr Mohammad al Mahdi al Mountazar ibn Al Hassan Al Askari:

Noori el Tabrasi said The Nickname of Al Mahdi Al Mountazar(Born before 1250 yrs according to twelvers) is Abu Bakr and this is mentioned in the exact same source as above.

Abu Bakr Ibn Abdullah Ibn Jaafar ibn Abi Talib:
mentioned by The writer of Ansab el Ashraf أنساب الأشراف P68: Sons of AbduLLah Ibn JaafarAnd Abu Bakr died with Hussein and thier mother Al Khawsaa from Rabiah

ولد عبد الله بن جعفر. . . وأبا بكر قُتِلَ مع الحسين وأمهم الخوصاء من ربيعة. . .

And he was mentioned by Khalifah bin Khiyat In His History book P240 In Naming Those who died from bani Hashim in The Day of Hurrah تسمية من قُتِلَ يوم الحرة من بني هاشم.

Abdullah Ibn Ja`far Ibn Abu Talib had a son named Abu Bakr[Ab Faraj Al-Asfahn, Maqtil At-Tlibiyyn, p. 123.]

Comment:
Thus we find that Ahlelbayt(ra) named their children Abubakr due to their immense love for Abubakr Siddiq(ra). It should be noted that Abubakr was the not the real name of Abubakr Siddiq(ra), it was his nick name. His real name was Abdullah as stated by Imam Nawawi in his Tahdheeb. And we dont find any other companion of Prophet(saw) who shared the nick name Abubakr, and this wasnt even a common kuniya during the lifetime of Abubakr(ra). Thus we ask the unbiased Shias to ponder over the fact that why did so many members of Ahlelbayt gave this name to their Children? Which Abubakr was so virtues that it compelled Ahlelbayt to name their children Abubakr? Can the Shia bring forth another Abubakr(ra) other than Abubakr Siddiq(ra) who had countless virtues? Some deceptive Shias have tried to portray the name Abubakr was a very common name in Arabia and they provided few names to support this deceit. But the fact is that none of these men who had the name Abubakr were born before Ali(ra) named his son Abubakr. So the question still remains that who was that personality with the name Abubakr, who had so many virtues that Ahlelbayt named their children on his name? Please refer this article which refutes the Shia arguments regarding the issue of Ali(ra) naming his son Abubakr.{Response to: The Names of Imam Ali (as)s Sons**


The relationships that took place between family of Ali(ra) and family of Abubakr(ra)

History tells us that relationships between the two families remained for a long time, hence we come to know from the history that Alis son Hasan married the grand daughter of Abu Bakr, i.e Hafsa bint Abdur Rahman bin Abu Bakr.
Similarly Hussain bin Alis grandson Imam Baqir bin Ali married Muhammad bin Abu Bakrs grand daughter Umm Farwah bint Qasim. Out of this historical marriage, Imam Jafar was born , to whom Shias attribute their fiqh (jurisprudence).
Three other marriages are also noteworthy to be mentioned.
Umm Salma bint Muhammad bin Talha bin Abdullah bin Abdur Rahman bin Abu Bakr married Musa bin Abdullah bin Hasan bin Hasan bin Ali.
Umm Hakim bint Qasim bin Muhammad bin Abu Bakr married Ishaq bin Abdullah bin Abu Jafar bin Abu Talib
Ishaq bin Abdullah bin Ali bin Hussain bin Ali married Kulthum bint Ismail bin Abdur Rahman bin Qasim bin Muhammad bin Abu Bakr.
Kitab ul Irshad, p. 270
Aalam un Nisa, p. 278
Ummadatut Talib, p. 225
Asili by Ibn Taqtaqi, p. 149
Nasb Quraish, by Musab Zubairi

Abu Bakr and Ali were related by marriage. Shaykh Ehsan Elahi Zaheer writes:
Asma bint Umais, as is already mentioned, was the wife of Alis real brother, Jafar ibn Abi Talib. When he died, she was married to Abu Bakr. She also gave birth to Abu Bakrs son named Muhammad. Ali (may Allah be pleased with him) appointed him the governor of Egypt. After the death of Abu Bakr, Ali ibn Abi Talib married her. A son named Yahya was born out of the marriage.
Shia References:
(1) Haqq al-Yaqeen, by Majlisi
(2) Kitab al-Irshad, by Mufid
(3) Jila ul-Uyoon, by Majlisi
(4) Majalis-il-Mumineen, by Shoshtri
(Source, ash-Shia Wa Ahlul-Bayt, p. 121)

al-Qassem ibn Muhammad ibn Abu Bakr (ra) he was one of the greatest scholars in Madinah, When Abu Bakr (ra) died his son Muhammad was very young so Ali (ra) took him and raised him with love, then when Ali (ra) and Muhammad bin Abu Bakr (ra) both died it was Aisha bint Abubakr(ra) who raised his son al-Qassem (rah).


The superiority of Abubakr(ra) attested by Ahlelbayt(ra).


عن سالم بن أبي الجعد أنه كان مع محمد بن علي بالشعب قال : فقلت له يوماً : يا أبا عبدالله أكان أبوبكر أول القوم إسلاماً .
قال : لا ، فقلت : فبأي شيء علا وسبق حتى لايذكر أحد غيره .
قال : لأنه كان خيرهم إسلاماً يوم أسلم ثم لم يزل كذلك حتى قبضه الله على ذلك . [ حسن ] .

From Salim bin abu al-Jaad that he was with Muhammad bin Ali in al-Shuab: I told him one day: O Abu Abdullah was Abu Bakr the first of the people to accept Islam?
Muhammad bin Ali replied: No he was not.

Then I asked: So how is it that he holds such a high status that everyone keeps speaking of him?
He answered me: Because he was the best of them in Islam when he accepted it and he remained like that until Allah took his soul. (Fadael al-Sahaba wa Manaqibihim wa Qawl Baadihim fi Baad by the famous scholar of Hadith al-Darqutni)
Grading: Hasan.


Imam Darimi narrated in his Sunnan (#1915) Darul kutub al-Arabi, Beirut, 1407, 1-st edition; Nasai Sunnan al-Kubra #3984; Beyhaki Sunnan al-Kubra #9220, Maktabatul Baaz, Mecca, 1414.

From Jabir ibn Abdullah, that when Ali reached Abu Bakr, as-Siddiq asked him: (You came) as a commander or as a messenger? Ali said: Like a messenger.(Sheikh Husain Sulaim Asad said chain is saheeh. )
Comment: In accordance to one of the customs of Arabs, making or severing any agreement between them could be done only by chief of that tribe (one of the sides) or by closest family member of him. They would not accept that from anyone other than these two (types). Year after Meccan peace treaty, Prophet (sallalahu alaihi wa ala alihi wa sallam) send Abu Bakr with group (of Muslims) for haj. When pilgrims left Madina, prophet (sallalahu alaihi wa ala alihi wa sallam) send Ali with verse 28 of surah at-Tawba, to announce that treaty with pagans was annulated. This shows us that Abubakr(ra) was the FIRST choice of Prophet(Saw) in that issue, hadnt it been that it was to be done by closest family member then it would have been done by Abubakr(ra), who was the first choice of Prophet(Saw).

Sahi bukhari 2.333:Narrated Abu Salama from Ibn `Abbas : Abu Bakr came out and `Umar , was addressing the people, and Abu Bakr told him to sit down but `Umar refused. Abu Bakr again told him to sit down but `Umar again refused. Then Abu Bakr recited the Tashah−hud (i.e. none has the right to be worshipped but Allah and Muhammad is Allahs Apostle) and the people attended to Abu Bakr and left `Umar. Abu Bakr said, Amma badu, whoever amongst you worshipped Muhammad, then Muhammad is dead, but whoever worshipped Allah, Allah is alive and will never die. Allah said: Muhammad is no more than an Apostle and indeed (many) Apostles have passed away before him ..(up to the) grateful. (3.144) (The narrator added, By Allah, it was as if the people never knew that Allah had revealed this verse before till Abu Bakr recited it and then whoever heard it, started reciting it.)

Ali(ra) narrates : Never did I compete with Abubakar in doing good deeds but found that he outdid me.(reported by At tabarani) (Biographies of the rightly guided caliphs page 22)

وعن صلة بن زفر قال: كان علي إذا ذكر عنده أبو بكر قال: السباق يذكرون السباق قال: والذي نفسي بيده ما استبقنا إلى خير قط إلا سبقنا إليه أبو بكر
یاض الضرۃ ، ج ۱ ص ۱۵۶
تاریخ الخلفاء ص ۴۴


کنز العمال ج ۶ ص ۸۱۳

Sila bin Nadhar narrates when Abu Bakr was mentioned in front of Ali , then he would say a person who excelled others greatly is being mentioned, by the One in whose hand is my life, whenever we intended to do a good work, then Abu Bakr excelled us in that[ Riyadh al Nazirah, vol1, pg 156 ; Kanzul Amal, vol 6, page 813; Tareekh al-Khulafa, pg 44]


قيل لعلي ألا تستخلف قال ما استخلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فأستخلف عليكم وإن يرد الله تبارك وتعالى بالناس خيرا فسيجمعهم على خيرهم كما جمعهم بعد نبيهم على خيرهم
الراوي: شقيق المحدث: الهيثمي المصدر: مجمع الزوائد الصفحة أو الرقم: 9/50
خلاصة حكم المحدث: رجاله رجال الصحيح غير إسماعيل بن أبي الحارث وهو ثقة


They said to Ali: Will you not appoint a successor? He said: The Prophet PBUH did not appoint a successor so that I may do so, If Allah wishes that something good happens to you then he will make you all gather around the best (Man) amongst you just like he made them gather around the best Man (i.e Abu bakr) after their prophet PBUH.
Narrator: Shaqeeq.
Source: Al haythami in Mujamaa al Zawaed.
Rank: All narrators are that of the SAHIH except Ismail bin Abi al Harith and he is Trustworthy.


İbn Asakir in his Tareeh madenatool dimashk 30/361 narrated:
جاء رجل إلى علي بن أبي طالب فقال يا خير الناس بعد رسول الله ( صلى الله عليه و سلم ) قال له رأيت أبا بكر وعمر قال لا قال لو قلت إني رأيتهما لحددتك ثم قال خير هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر وعمر نحن أهل بيت لا يقاس بنا أحد


A man came to Ali and said to him: O the best of the people after prophet (sallalahu alaihi wa ala alihi wa salam). Ali asked:Have you seen Abu Bakr and Umar? He said: No. Ali said: If you would reply positively i would implement hadd upon you. And then he said: The best of this nation after prophet (sallalahu alaihi wa ala alihi wa salam) are Aby Bakr and Umar, and we are ahle-bayt no one can compared with us.

في خطبة علي رضي الله عنه على منبر الكوفة : ألا إنه بلغني أن قوما يفضلونني على أبي بكر وعمر رضي الله عنهما ، ولو كنت تقدمت في ذلك لعاقبت فيه ، ولكن أكره العقوبة قبل التقدم . من قال شيئا من ذلك فهو مفتر ، عليه ما على المفتري . وخير الناس كان بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم أبو بكر ثم عمر ، ثم أحدثنا بعدهم أحداثا يقضي الله فيها ما شاء
الراوي: علقمة المحدث: الحكمي المصدر: معارج القبول الصفحة أو الرقم: 1181/3
خلاصة حكم المحدث: مشهور عنه من طرق لا تحصى


In the Khutbah of Ali on the Mimbar of Kufah he said: it had reached me that some folks have preferred me over Abu Bakr and Umar may Allah be pleased with them () Whoever says anything of the sort is a slanderer and his punishment will be that of a slanderer. The best of people after the Prophet PBUH was Abu Bakr and then Umar, Then things happened after them in which it is for Allah to pass his judgement.
Muhaddiths are al Hakami in Maarij al Qubool and al Bayhaqi in Al Iitiqad.
Hadith rank: Famous, was narrated from him through countless chains and has many Shawahid.


Hafiz ibn Katheer in Bidaya wal Nihaya vol 7, chapter شيء من فضائل أمير المؤمنين علي بن أبي طالب wrote:

وقد ثبت عنه بالتواتر أنه قال على منبر الكوفة‏:‏ أيها الناس‏!‏ إن خير هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر ثم عمر، ولو شئت أن أسمي الثالث لسميت‏

And its proven from him [Ali] in tawatur form, that He said on the minbaar in Kufa: O people! The best one in this Ummah after her Prophet is Abu Bakr [ra] , then Umar [ra] . And if I wanted to say you the third name, I would do that.


Sahi bukhari 5.20: Narrated Muhammad bin AlHanafiya: I asked my father (`Ali bin Abi Talib), Who are the best people after Allahs Apostle ? He said, Abu Bakr. I asked, Who then? He said, Then `Umar. I was afraid he would say Uthman, so I said, Then you? He said, I am only an ordinary person.


REFUTATION OF SHIA ARGUMENT TO REJECT SUPERIORTY OF ABUBAKR(ra):

Argument 1:
The above ahadeeth which we quoted where Ali(ra) himself stated that Abubakr(ra) and Umar(ra) were the best people after Prophet(Saw) are authentic and even Mutawattir(narrated through many different chain with different narrators, which makes it 100% authentic). Those narrations cant even be rejected by Shias with the lame excuse of Taqiyya, because Ali(ra) narrated those reports in his sermons after he became Caliph. And in the above hadeeth from bukhari we find that Ali(ra) stated this fact to his own son, Muhammad bin Hanafiya, Thus only a biased ignorant could reject these reports claiming them to be Taqiyya.
1.We know that no sane person could reject these mutawattir narrations, but there are some ignorants who claim that, the reason Ali(ra) said that Abubakr(ra) and Umar(ra) were the best people after Prophet(Saw) was due to humbleness, where as Ali(ra) didnt believe in it. This argument is illogical and stupid because the argument of humblesness would have been valid, if the questions would have asked Ali(ra) the question of superiority provided with the options. Like to whom does Ali(ra) consider to be the best of people after Prophet(saw), Whether Abubakr or Umar or Ali. If this would have been then case then the claim that the reply of Ali(ra) was out of humbleness would have been considerable, but in the narration which we provided from Sahi Bukhari, there we find that Ali(ra) wasnt given any Choice, that whether he considers himself superior or ABubakr(ra) superior or not. The Son of Ali(ra) just asked him that who were the best people after prophet(saw), WITHOUT ANY Choices given to him. Yet even then Ali(ra) named Abubakr(ra) and Umar(ra), this shatters the weak argument of Shias.

2.Further we notice that, Ali(ra) didnt name any other companion. If he was being humble then he(ra) should have said that all sahaba are at same level. We find Ali(ra) specificaly naming Abubakr and Umar.


3.Why did Ali(ra) differentiate between Abubakr and Umar ? If he was being humble, then he should have applied the same rule towards Abubakr(ra) and Umar(ra), that both were at same level, but he said after Prophet(Saw) Abubaklr is the best and then after him, Umar.


4. The Shias sometimes quote a narration from Bukhari inorder to prove that what Ali(ra) said was out of humbleness. Here is that narration: {Sahi bukhari 6.128:Narrated Abu Huraira: The Prophet said, Whoever says that I am better than Jonah bin Matta, is a liar.**
This report can be explained in the way that, there are no quotation marks in Arabic. Therefore the hadith could be read as **Whoever says I am better than Yunus b. Matta, but it could very well also read as Whoever says, I am better than Yunus b. Matta is a liar.** Infact, the intent of the hadith is that some people might read the story of Yunus(as) in the Quran and think poorly of him because of the punishment he received because of his mistake. This is a warning to such jahil people to not look down upon this great prophet or to think highly of themselves. So what prophet(Saw) meant was that, Whoever considers himself to be better than Yunus(as) is a liar. Also the other way to understand this hadeeth is that Muslims shouldnt argue with the Ahle-Kitab regarding the superiority of Prophets or in their comparision of one with another, because they could end up belittling the other Prophets of Allah(swt).


5. Shias also quoted a fabricated hadeeth to reject the authentic and mutawattir hadeeth which states that according to Ali(ra) the best people after Prophet(Saw) were Abubakr(ra) and Umar(ra). The fabricated hadeeth used by Shias is hadeeth of bird(Tayr), This hadeeth which is present in Sunni books is fabricated according to Sunnis standards and this report is even weak in Shia books as per Shia standards.


Argument 2:

Imam Abu Nuaym isfahani (d.430) in hilyatul awliya reports with asnaad from abul bakhtari and also reported in kanzul ummal by muttaqi hindi (d. 975) volume 13, page 5:

عن أبي البختري قال: خطب علي فقال: ألا! إن خير هذه الأمة بعد نبيها ابو بكر و عمر فقال رجلٌ: وأنت يا أمير المؤمنين? فقال: نحن أهل البيت لا يوازينا أحد.
abul bakhtari says that Imam Ali gave a khutba that best of the ummah is Abu bakr and Umar. And a man asked him: what about you Amir al-muminin? He replied: we are Ahl al-bayt and no one can be compared with us!

Answer:

The narrator from Shubah, Abu Qatada al-Harrani was matrook(abandoned). Thats why Abu Nuaim after relating this narration said: This is Ghareeb as a hadith of Shubah from Ataa bin Saaib. Abu Qatadah is alone in narrating it. Moreover, Abul bakhtari didnt hear it from Ali according to Yahya bin Maeen. So the most obvious weakness in this report is disconnection. Lastly it even goes against the established authentic report from Sahi bukhari, which we quoted above where Ali(ra) didnt say anything as such, infact what he said is completely opposite to this extremely weak hadeeth.

Argument 3:

Abdullāh bin Ahmad bin Hanbal quotes his father as saying: No narration with genuine isnād (chain of authority) has been related on the merits of anyone else (of the companions), as in the case of Alī. He further states: I asked my father what credence he had concerning the preferential merits of the companions? He replied: In the matter of caliphate, Abū Bakr, Umar and Uthmān are superior to all others. I asked him what about Alī? He answered: O my son! Alī bin Abī Tālib is from a family concerning whom (whose merits) no one can deliberate.Reference: Ibn al-Jawzī, Manāqib al-Imam Ahmad bin Hanbal .

Answer:

Weak due to Ahmad bin Qaasim bin Rayyaan who narrate this from Abdullah bin AHmed. Allah knows best.
Moreover, authentic reports from imam Ahmed shows that he was very harsh against those that put Ali in front of Uthman

وأخبرنا محمد بن أبي هارون قال ثنا إسحاق أن أبا عبدالله سئل عن الرجل لا يفضل عثمان على علي قال ينبغي أن نفضل عثمان على علي لم يكن بين أصحاب رسول الله اختلاف إن عثمان أفضل من علي رحمهما الله

Ishaq reported that Aba Abdullah (Ahmad ibn Hanbal) was asked about a man who doesnt prefer Uthman on Ali. He (ibn Hanbal) replied: It is must to prefer Uthman over Ali, there was no disagreement amongst the companions of the prophet (p.b.u.h) about Uthman being better than Ali may Allah mercy be upon them.[The isnaad is Sahih. As Sunnah, Volume 2 page 392 Hadith 559]


Virtues of Abubakr(ra) narrated by Ahlelbayt(ra)

قال لي النبي صلى الله عليه وسلم ولأبي بكر يوم بدر مع أحدكما جبريل ومع الآخر ميكائيل وإسرافيل ملك عظيم يشهد القتال أو يكون في الصف

al-Hakim says: Ali bin Himshath al-Adl told me: Muhammad bin Suleiman al-Wasiti told us: abu Naeem and Khallad bin Yahya both told me: Masar bin abi Aoun al-Thaqafi from abi Salih al-Hanafi from Ali bin abi Talib (ra) that he said: The Prophet SAWS told me and Abu Bakr (ra) on the day of Badr: With one of you will be Jibreel and with the other will be Mickaeel, and Israfeel is a great angel that will oversee the entire battle.
sources:
-Ahmad Muhammad Shakir said Sahih in Musnad Ahmad 2/308.
-al-Haythami said Narrators are those of the Sahih in Majmaa al-Zawaed 6/85.
-al-Hakim said Isnad is Sahih in al-Mustadrak #4492.



عن مسعدة بن اليسع عن جعفر بن محمد عن أبيه : إن آل أبي بكر كانوا يدعون على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم آل محمد صلى الله عليه وسلم [ حسنٌ لأبي جعفر ] .​

From Musadah bin al-Yasii from Jaafar bin Muhammad from his father: During the time of the Prophet SAWS the Family(Aal) of Abu bakr used to be also called the Family(Aal) of Muhammad SAWS. (Fadael al-Sahaba wa Manaqibihim wa Qawl Baadihim fi Baad by the famous scholar of Hadith al-Darqutni)
Grading: Hasan li-Abu Jaafar.


عن علي رضي الله عنه قال : قيل يا رسول الله : من يؤمر بعدك قال : إن تؤمروا أبا بكر رضي الله عنه تجدوه أمينا زاهدا في الدنيا راغبا في الآخرة وإن تؤمروا عمر رضي الله عنه تجدوه قويا أمينا لا يخاف في الله لومة لائم وإن تؤمروا عليا رضي الله عنه ولا أراكم فاعلين تجدوه هاد مهدي يأخذ بكم الطريق المستقيم

الراوي: زيد بن يثيع المحدث: أحمد شاكر المصدر: مسند أحمد الصفحة أو الرقم: 2/158
خلاصة حكم المحدث: إسناده صحيح

عن علي قال : قيل يا رسول الله من نؤمر بعدك ؟ قال : إن تؤمروا أبا بكر تجدوه أمينا زاهدا في الدنيا راغبا في الآخرة ، وإن تؤمروا عمر تجدوه قويا أمينا لا يخاف في الله لومة لائم ، وإن تؤمروا عليا وما أراكم فاعلين تجدوه هاديا مهديا يأخذ بكم الطريق المستقيم
الراوي: علي بن أبي طالب المحدث: ابن حجر العسقلاني المصدر: الإصابة الصفحة أو الرقم: 2/509
خلاصة حكم المحدث: إسناده جيد

Zaid bin Yathii narrated: from Ali (ra) that he said: it was said to the messenger of Allah PBUH: Who becomes Ameer/Ruler after you? He PBUH replied: If you(Muslims) choose Abu Bakr (ra) you will find him to be honest, a Zahed in this life and always seeking the afterlife. If you(Muslims) choose Umar (ra) you will find him honest and strong, he does not fear anyone other than Allah. If you(Muslims) choose Ali (ra) and I do not see you doing this but if you do you will find him rightly guided and he will lead you to a straight path.
[Musnad Ahmad 2/158, Ahmad Shakir said: SAHIH.
al-Isabah 2/509, Ibn Hajar al-Asqalani said: Has a good Isnad.]


Ali bin abi Talib (RA) said: I was with the Prophet PBUH then Abu Bakr and Umar may Allah be pleased with them arrived so he PBUH told me: O Ali these two are the Masters of the elderly of the people of paradise and its youth after the Prophets and the messengers.
(Musnad Ahmad 2/38.
Hadith Grading: SAHIH.)


We read in Fadail al-Siddeeq by abu Talib al-`Ushari pg.51:



حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَهَلْ أَنَا إِلا حَسَنَةٌ مِنْ حَسَنَاتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا


A
li ibn abi Talib (ra) said: [Am I anything other than a part of the goodness of Abu Bakr.]


إن لي وزيرين من أهل السماء، و وزيرين من أهل الأرض، فوزيراي من أهل السماء جبريل و ميكائيل، و وزيراي من أهل الأرض أبو بكر و عمر

Ibn Abbas (ra)
and Abu Saeed al Khudri (ra) both narrated: The Prophet PBUH said: I have two viziers from the people of the sky and two viziers from the people of the earth, those from the sky are Jibreel and Michaeel, those of the earth are Abu Bakr and Umar.(al-Suyuti said Sahih in al Jamii al Sagheer 2438)

Ibn Asakir in his Arbain fi manaqib ummahatil muminin (#24) narrated from Ali, that prophet (Peace be upon him) said: May Allah have mercy on Abu Bakr. He married me to his daughter, took me the the Abode of Hijrah, and freed Bilal with his own property. May Allah have mercy on Umar. He spoke the truth even if he were to suffer on account of it , and he observed the truth which made people hate him and caused his loss of friends. May Allah have mercy on Uthman. The angels are shy before him. May Allah have mercy on Ali. O Allah, make him observe the truth wherever he goes. (Ibn Asakir said: This is a al-Hasan saheeh tradition.)

Sahi bukhari 1.456: Narrated Ibn `Abbas: Allahs Apostle in his fatal illness came out with a piece of cloth tied round his head and sat on the pulpit. After thanking and praising Allah he said, There is no one who had done more favor to me with life and property than Abu Bakr bin Abi Quhafa. If I were to take a Khalil, I would certainly have taken Abu Bakr but the Islamic brotherhood is superior. Close all the small doors in this mosque except that of Abu Bakr.
In Siyar page 259 Dhahabi narrated:


وبه عن الدارقطني، حدثنا إسماعيل الصفار، حدثنا أبويحيى جعفر بن محمد الرازي، حدثنا علي بن محمد الطنافسي، حدثنا حنان بن سدير، سمعت جعفر بن محمد، وسئل عن أبي بكر وعمر، فقال: إنك تسألني عن رجلين قد أكلا من ثمار الجنة

By it by Al Daraqutni, which said: narrated Ismail el Saffar, which said: narrated Abu Yahya Jaafar Bin Mohammad Al Razi, which said narrated Ali Bin Mohammad Al Tanafsi, which said: narrated Hanan Sadir: I heard Jaafar Bin Mohammad and he was asked about Umar and Abu Bakr He said: You Ask me of two Men who ate from the fruits of heaven.

Sahi bukhari 5.26: Narrated Ibn `Abbas: While I was standing amongst the people who were invoking Allah for `Umar bin Al−Khattab who was lying (dead) on his bed, a man behind me rested his elbows on my shoulder and said, (O `Umar!) May Allah bestow His Mercy on you. I always hoped that Allah will keep you with your two companions, for I often heard Allahs Apostle saying, I, Abu Bakr and `Umar were (somewhere). I, Abu Bakr and `Umar did(something). I, Abu Bakr and `Umar set out. So I hoped that Allah will keep you with both of them. I turned back to see that the speaker was `Ali bin Abi Talib.

Comment:
From this report of Ali(ra) we come to know the closeness of Abubakr(ra) and Prophet(saw).



قال ابوعقيل عن رجل قال سُئل علي بن ابي طالب رضي الله عنه عن ابي بكر وعمر رضي الله عنهما فقال كانا امامي هدى راشدين مصلحين منجيين خرجا من الدنيا خميصين
طبقات ابن سعد ج ۳ ص ۱۴۹

Ubaidullah bin Mussa narrates from Abu Aqeel that a man asked Ali about Abu Bakr and Umar, he said Indeed they were Imams of guidance, and righteous ones and guiders.(tabqat ibn saad, vol3, page 139)


عن عبد الله بن مُليل قال: سمعت علياً يقول: أعطي كل نبي سبعة نجباء من أمته، وأعطي النبي صلى الله عليه وسلم- أربعة عشر نجيباً من أمته، منهم: أبوبكر وعمر
مسند احمد ، ج ۱ ص ۱۴۲
حلیۃ الاولیاء ج ۱ ص ۱۲۸


Abdullah narrates that I heard Ali saying : Every Prophet is given 7 Najeeb from his Ummah, and Prophet (s) was given 14 Najeeb in his Ummah, and amongst them are Abu Bakr and Umar.(musnad ahmed, vol 1, page 132)



و عن الباقر (ع) قال و لست بمنكر فضل أبى بكر , ولست بمنكر فضل عمر , و لكن أبابكر أفضل من عمر
الاحتجاج للطبرسى تحت عنوان احتجاج أبى جعفر بن على الثاني فى الأنواع الشتى من العلوم الدينية

Imam baqir said: Neither I deny the virtues of abubakar(ra) nor I deny the virtues of umar(ra), but the abubakar(ra) was superior that umar(ra).(Al-Ihtijaj, page 330, under title ehtijaaj abi jafar bin ali al saani fi al anwaaa al shati min al aloom al diniyat, mashad)


Abd Khair narrates from Ali that he said the first one to enter the jannah(from companions) will be Abu Bakr and Umar. A man said O Amir al Momineen , will they enter the jannah even before you? He said By thee One who created every particle and every soul, indeed they will enter the jannah before me (Al Kunii, By Ad Dawlabi , vol 1, page 120)(azaala al khulafa, vol1, page 317)


Abul Mutamir says that someone asked Ali bin Abi Talib about Abu Bakr and Umar. He replied that they are included amongst those 70 men who will come to Almighty Allah with the Prophet (s) And Musa (as) had asked them from Allah , but he gave them to Prophet (s). (kanzul amal, vol 9, page 399)

Hz Abdullah ibn abbas(ra) said regarding hz abubakar(ra): May Allah have mercy on Abubakar, He used to have mercy on beggers , he was the one: who used to recite quran, who used to recognize deen, who used to fear Allah, who used to be scold on unlawful things, who used to command for good things, who used to spent nights praying to Allah, who used to keep fast on day time. He was on the high rank of the sahaba regarding taqwa and taharat.(Nasikh al tawareekh, vol 5, book 2, page 143, 144, Tehran)
Ibn abbas(ra) notes that the verse ..and consult with them upon the conduct of affairs ( ale imran , verse 158) refers to abubakar(ra) and umar(ra)(reported by Al haakim) (Biographies of the rightly guided caliphs page 9)

Ibn abbas(ra) is reported to have explained the verse then Allah sent down his peace upon him(at tawba, verse 40) saying : upon him means upon Abubakar(ra), as serenity was already inherent in the prophet(saw)(reported by ibn abi haatim) (Biographies of the rightly guided caliphs page 7).


Ahlelbayt states Abubakrs(ra) excellence and restraint from the worldly matters.


قَالَ أَبُو بَكْرٍ عِنْدَ مَوْتِهِ حَيْثُ قِيلَ لَهُ أَوْصِ فَقَالَ أُوصِي بِالْخُمُسِ وَ الْخُمُسُ كَثِيرٌ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ رَضِيَ بِالْخُمُسِ فَأَوْصَى بِالْخُمُسِ وَ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ لَهُ الثُّلُثَ عِنْدَ مَوْتِهِ وَ لَوْ عَلِمَ أَنَّ الثُّلُثَ خَيْرٌ لَهُ أَوْصَى بِهِ ثُمَّ مَنْ قَدْ عَلِمْتُمْ بَعْدَهُ فِي فَضْلِهِ وَ زُهْدِهِ سَلْمَانُ وَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا

Imam Jafar(as) said: Abu Bakr at the time of his death, when asked to make a will, made a will about one-fifth of his legacy saying, One-fifth is a great deal. Allah, most High, has approved wills about one-fifth. So he made a will about one-fifth. Allah, most Majestic, most Glorious, had given the right to make a will about one-third of ones legacy at the time of ones death. If he knew that one-third is better for him he would have made a will for one-third. People other than abu Bakr, as you know their excellence and restraint from the worldly matters, were Salman and abu Dharr, may Allah be happy with them.(Al-Kafi, vol 5, page 68).


وعن صلة بن زفر قال: كان علي إذا ذكر عنده أبو بكر قال: السباق يذكرون السباق قال: والذي نفسي بيده ما استبقنا إلى خير قط إلا سبقنا إليه أبو بكر

Sila bin Nadhar narrates when Abu Bakr was mentioned in front of Ali , then he would say a person who excelled others greatly is being mentioned, by the One in whose hand is my life, whenever we intended to do a good work, then Abu Bakr excelled us in that.(Riyadh al Nazirah, vol1, pg 156 ; Kanzul Amal, vol 6, page 813)


The reliability of Abubakr(ra) in the sight of Ahlelbayt(ra)

Narrated Abu Bakr as-Siddiq: Asma bint al-Hakam said: I heard Ali say: I was a man; when I heard a tradition from the Apostle of Allah (saw), Allah benefited me with it as much as He willed. But when some one of his companions narrated a tradition to me I adjured him. When he took an oath, I testified him. AbuBakr narrated to me a tradition, and AbuBakr narrated truthfully. He said: I heard the apostle of Allah (saw) saying: When a servant (of Allah) commits a sin, and he performs ablution well, and then stands and prays two rakahs, and asks pardon of Allah, Allah pardons him. He then recited this verse: And those who, when they commit indecency or wrong their souls, remember Allah (iii.134). (Dawood Book 8, Number 1516)
Comment: We find in this narration that Ali(ra) used to take narrations from Abubakr(ra) because of the truthfulness of Abubakr(ra).


Ahlelbayt(ra) affirmed that Abubakr(ra) was titled as Siddiq


حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ السَّبِيعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِلالُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ هِلالٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِمٍ ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ الْهِلالِيِّ ، قَالَ : وَافَقَنَا مِنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَاتَ يَوْمٍ طِيبُ بِشْرٍ وَمُزَاحٌ ، قُلْنَا لَهُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، حَدِّثْنَا عَنْ أَصْحَابِكَ . قَالَ : مَا كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَاحِبًا إِلا كَانَ لِي صَاحِبًا . قُلْنَا : حَدِّثْنَا عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : سَلُونِي . قُلْنَا : حَدِّثْنَا عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : ذَلِكَ امْرُؤٌ سَمَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ صِدِّيقًا عَلَى لِسَانِ جِبْرِيلَ ، وَلِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّلاةِ ، رَضِيَهُ لِدِينِنَا فَرَضِينَاهُ لِدُنْيَانَا .

Uthman bin Jaafar bin Muhammad bin Ismael al Subeiee told us: Hilal bin al Alaa bin Hilal al Bahili told us: my father told me: Ishaq al Azraq told us: Abu Sinan told us: al-Dahhaq bin Muzahim told us from al Nazzal bin Sabrah al Hilali: We were with Ali bin abi Talib (ra) one day and we told him: O Ameer al Mumineen, tell us about your companions. He said:Every companion of the Prophet PBUH was also my companion. They said: then tell us about the companions of the Prophet PBUH He said: Ask me we said: Tell us about Abu bakr He replied: That is a Man called al-Siddiq by Allah through Gabriel and Muhammad PBUH, He was the successor of the messenger of Allah in leading the prayer, He PBUH had accepted him for our religion so we accepted him for our life.[al-Lalikaee made Takhreej for this in #2455, , Abu Nasr Muhammad ibn Abdullah al-Imam said in the commentary: Isnaduhu Hasan.]


عن عروۃ بن عبد ﷲ قال: سألت أبا جعفر محمد بن علی (علیہ السلام) عن حلیۃ السیوف فقال لا بأس بہ قد حلی أبو بکر الصدیق رضی ﷲ عنہ سیفہ قلت فتقول الصدیق قال فوثب وثبۃ و استقبل القبلۃ و قال نعم الصدیق نعم الصدیق نعم الصدیق فمن لم یقل لہ الصدیق فلا صدق ﷲ لہ قولا فی الدنیا و لا فی الآخرۃ ۔ کشف الغمۃ فی معرفۃ الأئمۃ؛ از: أبی الحسن علی بن عیسی بن أبی الفتح الإربلی؛ الجزء الثانی ؛ ص ١٤٧؛ باب ذکر الإمام الخامس أبی جعفر محمد بن علی بن الحسین بن علی بن أبی طالب؛ طبع : جدید ؛ شبکۃ نور الاسلام

Urwa bin Abdullah says: I asked Imam Baqir [A.S], how is to do ornamentation on sword? He (Imam Baqir) replied: It is fine (legitimate) since Abu Bakr Siddiq [R.A] had also costumed (ornamented) his sword. I asked, do you also call him as Siddiq? Imam Baqir stood up in awe and facing towards the Qiblah, said: Yes he is Siddiq! Yes he is Siddiq! Yes he is Siddiq; the one who not say him (Abu Bakr) a Siddiq, may Allah falsify his sayings both in the world and hereafter. (shia book, Kashf-ul-Ghumma fi Marifat-il Aaima; by: Isa bin Irbili; vol 2, pg 147; Chapter: Imam abi Jafar (Imam Baqir), the 5th Imam) (Bihaar al-Anwaar, al-Majlisi, vol. 92 p. 651)


A narration similar to above one is even present in the book of Ahlesunnah, Imam Ahmad ibne Hanbal narrated it in Fadhail-e-Sahaba:


حدثنا إبراهيم بن محمد ، قال : حدثنا عقبة بن مكرم ، قال : حدثنا يونس بن بكير ، عن أبي عبد الله الجعفي ، عن عروة بن عبد الله ، قال : أتيت أبا جعفر محمد بن علي ، فقلت : ما قولك في حلية السيوف ؟ فقال : لا بأس ، قد حلّى أبو بكر الصديق سيفه ، قال : فقلت وتقول الصدّيق ؟ قال : فوثب وثبة واستقبل القبلة ثم قال نعم الصديق ، نعم الصديق ، نعم الصديق ، ثلاث مرات ، فمن لم يقل له الصديق فلا صدّق الله له قولاً في الدنيا ولا في الآخرة

The saying shows that Allah swt gave Abu bakr[ra] this title of SIDDIQ [true believing person or the person who never doubted anything] according to the Hadith of Ali Ibn Abi Talib[ra]:



أنه كان يحلف أن الله أنزل اسم أبي بكر من السماء الصديق
الراوي: علي بن أبي طالب المحدث: ابن حجر العسقلاني المصدر: فتح الباري لابن حجر الصفحة أو الرقم: 7/11
خلاصة حكم المحدث: رجاله ثقات

Ali used to swear That Allah sent The Name of Abu bakr from sky as al Siddiq

source: Fath al Bari Fi Sharh Sahih al bukhari.
Hadith Rank: Ibn Hajar al Asqalani said: The narrators are trustworthy.

Usayd ibn safwaan reports that Ali(ra) said concerning the verse And he who brings that truth and he who confirms(and supports) it such are the men who do right (az zumar :33) he who brings the truth refers to prophet(Saw) and he who confirms(and supports) it refers to Abubakar as sideeq(ra). (reported by al bazzaar and ibn Asakir) (Biographies of the rightly guided caliphs page 10)


تفسير علي بن إبراهيم حدثني أبي عن بعض رجاله رفعه إلى أبي عبد الله عليه السلام قال : لما كان رسول الله صلى الله عليه وآله في الغار قال لأبي بكر : كأني انظر إلى سفينة جعفر وأصحابه تقوم في البحر ، وأنظر إلى الأنصار محتبين في أفنيتهم، فقال أبو بكر : وتريهم يا رسول الله ؟ قال : نعم قال : فأرنيهم ، فمسح على عينه فرآهم، فقال له رسول الله : أنت الصديق

In the Tafseer of Ali bin Ibrahim, my father told me from some of his rijal to abi abdullah (as) that he said: When the prophet SAWS was in the cave he told Abu Bakr: It is as if I see the ship of Jaafar and his companions in the sea and I see the Ansars sitting in the gardens of their houses, so Abu Bakr said: You see them Ya Rassul-Allah? he said: yes he said: will you show me so he wiped on his eyes and he saw them so the prophet said: You are al-Siddiq.[Shia book, Tafseer Noor al-Thaqalayn sheikh al-Huweizi (d. 1112 AH) vol 2 pg 220]

Comment: Due to the hatred Shias possess for Abubakr(ra), they werent able to digest the presence of this hadeeth which shows the virtue of Abubakr(ra), that is why the Shias have attempted to tamper their books. To know more about this tampering of Shias please follow this link. [Click Here]

However, due to the established historical fact that Abubakr(ra) was titled as Siddiq, The Shia Scholars have called Abu Bakr(ra) by his title al Siddiq in their books and do not deny it:
 

Zoq_Elia

Senator (1k+ posts)
Quran mein siraf hz. Yahya (AS) ko syed kaha gia hai .

فَنَادَتْهُ الْمَلآئِكَةُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمِحْرَابِ أَنَّ اللّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَـى مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّهِ وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِّنَ الصَّالِحِينَ
سورۃ آلعمران (3) آیت نمبر 39

ابھی وہ حجرے میں کھڑے نماز ہی پڑھ رہے تھے کہ انہیں فرشتوں نے آواز دی: بیشک اﷲ آپ کو (فرزند) یحیٰی (علیہ السلام) کی بشارت دیتا ہے جو کلمۃ اﷲ (یعنی عیسٰی علیہ السلام) کی تصدیق کرنے والا ہو گا اور سردار ہو گا اور عورتوں (کی رغبت) سے بہت محفوظ ہو گا اور (ہمارے) خاص نیکوکار بندوں میں سے نبی ہو گا

میں نے ابھی تھریڈ کو مزید اپ ڈیٹ کرنا ہے۔ انشاءاللہ جس بات کی آپ نے نشاندھی کی ہے اس کا تذکرہ بھی آئے گا۔
 
Last edited:

Zoq_Elia

Senator (1k+ posts)
سید کے لفظی معنی کیا ہیں؟

سَيّد ( اسم ) : جَنْتِلْمان
gentleman
-
- monsieur


سَيّد : ذُو سِيَادَة
independent ; sovereign
-
- independent
- autonomous, self-governing
- without limit; independent


سَيّد
a descendant of Prophet Muhammad
-
- a offspring
- progeny of Prophet Mohammad


سَيّد
Mr.
-
- herr
- the title of a German man; Mr.
- the full form of MR, used to address a man you do not know
- a way of addressing or speaking to a Frensh-speaking man


سَيّد : مَوْلىً
chief ; head ; leader ; lord ; master
-
- chief
- leader;ruler or highest official; head of a department
- ruling commanding person
- person or thing that leads; person followed by others
- master or ruler or leader
- the leader or person in charge of a group or organization


سيد
Sayyid Leader or chief. - (over)lord ; boss ; distinguished ; eminent ; emir ; emperor ; generous ; high-ranking ; king ; leading personality ; magnanimous ; magnate ; monarch ; noble ; noble(man) ; notable ; peer ; person of distinction ; president ; prince ; principal ; senior ; sir ; superior ; supreme ruler

Source

پس سید لفظ کے معنی اُسکے فقرے میں استمعال پر منحصر ہیں کہ اُنھیں فقرے میں کیسے استمعال کیا گیا ہے۔
 

Zoq_Elia

Senator (1k+ posts)
Dear Members, please try to avoid quoting Hadeeths from books other than "Siha Sitta Books" of Hadeeths........

محترم یہ آپکی بات اصولی نہیں۔
اصولی بات یہ ہے کہ حدیث سنداً صحیح ہو۔ اور قرآن اور متفق علیہ سُنت کے خلاف نہ ہو۔
اگر آپ کا یہ دعوٰی ہو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تمام سُنت ان 6 کتابوں میں درج ہے تو پھر آپ کا یہ بیان ٹھیک ہے۔ اور ایسا ہے نہیں۔
ان 6 کتابوں کو پریفرنس دینے کی وجہ یہی ہے کہ ان میں موجود روایات زیادہ تعداد میں ٹھیک ہیں۔ پس معیار یہ کتابیں نہیں بلکہ روایت یا حدیث کا ٹھیک ہونا ہے چاہے وہ کسی کتاب میں ہو۔
پھر ایسا بھی نہیں کہ ان کتابوں میں موجود روایات سب کی سب ٹھیک ہیں بلکہ کُچھ روایات ضعیف اور موضوع بھی ہیں۔ پس وہ روایات دلائل کے ساتھ رد کر دیں جائیں گی نہ کہ قبول کی جائیں گی۔ چاہے وہ ان کتابوں میں موجود بھی ہوں۔
پس اصل معیار روایت کا ٹھیک ہونا اور قرآن اور دوسری ثابت شدہ سُنت سے نہ ٹکرانا ہے۔ چاہے وہ کسی کتاب میں ہو۔
آپ کیلیے ایک مثال ہے۔ آپ اس تھریڈ کا مطالعہ کریں

رسول اللہ کے والدین اور دین ابراھیمی

اور اس پر علمی بحث کریں۔ اس میں کُچھ ایسی روایات پر ہی بحث کی گئی ہے جو قرآن اور ثابت شدہ سُنت سے ٹکراتی ہیں مگر وہ روایات ان 6 کتب میں بھی موجود ہیں۔ شکریہ
 

Zoq_Elia

Senator (1k+ posts)
Islam came and destroyed the concept of hereditary (موروثی) rank. The Quran declares that people are created inherently equal and differ only based on their Taqwa (piety):

..................................

After reading above verses of Quraan and hadith it would be accusation on Prophet Muhammad
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) if some insists that Prophet Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) praised and exalted his progeny (آل اولاد) and lineage (حسب نسب). After all, how could the Prophet Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) praise and exalt (مرتبہ) his progeny (آل اولاد) and lineage (حسب نسب) whilst forbidding anyone else from glorifying their lineage?

محترم آپ کی پوسٹ پڑھی۔ لیکن آپ کے مؤقف کی صحیح طرح سمجھ نہیں آئی۔ آپ نے یہ پوسٹ میری تھریڈ کے اندر کیوں لکھی؟؟؟

اگر آپ قرآن حدیث سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اللہ کے نزدیک کسی کا مقام اُس کے ایمان اور تقوٰی کی بدولت ہے نہ کہ خونی رشتے کی بنیاد پر۔۔۔ تو میں بحث کو سمیٹنے کیلیے آپ سے اتفاق کر لیتا ہوں۔ کہ کسی کا مقام صرف اور صرف ایمان اور تقوٰی کی بنیاد پر ہے۔

میں نے بھی اپنے تھریڈ میں صحیح احادیث رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی سے استدلال کیا ہے۔ پس ان احادیث سے جہاں اُن ہستیوں کا مقام اور مرتبہ ظاہر ہوتا ہے وہاں پر بدیہی طور پر یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ ہستیاں تقوٰی اور ایمان میں سب سے بڑھ کر تھیں اسی لیے اللہ نے انھیں یہ مقام عطا کیا ہے۔ اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبانی اُس نے امت کی ھدایت کیلیے اسکا اعلان کروایا ہے۔ اب تقوٰی اور ایمان ایک پوشیدہ چیز ہے اور اسے صرف اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون ایمان اور تقوٰی میں کس مقام پر ہے۔ ہم اور آپ ظاہراً دیکھ کر اِسکا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ پس اللہ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان سے اس پوشیدہ بات کا اعلان کروایا ہے جس میں امت کیلیے بھی ایک ھدایت ہے۔

اگر بات صرف اور صرف رشتہ داری کی ہوتی تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رشتہ دار صرف یہی ہستیاں ہی نہ تھیں اور بھی تھیں۔ تو اُن سب کو بھی رشتی داری کی وجہ سے اس بات میں (سید) شامل کرلیتے۔ پس آپ کو اپنے سوچنے کا انداز بدلنے کی ضرورت ہے۔۔۔ اور صحیح احادیث پر یوں اپنے بے جا تخیل کی بنیاد پر اس طرح اعتراض کرنا کوئی اچھے تدبر کا مظاہرہ نہیں۔

پس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان ہستیوں کو اھل جنت کا سید اس لیے قرار دیا کہ وہ اس امت میں ایمان اور تقوٰی میں سب سے بڑھ کر تھے۔ اب اگر وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رشتہ دار ہیں تو اس میں کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعیینہ ایسے ہی اور بھی رشتہ دار تھے مگر اُن کا ایسا مقام بیان نہیں فرمایا۔

 

Zoq_Elia

Senator (1k+ posts)
ماشا اللہ! ذوق ایلیا صاحب
ان تمام متفق علیہ احادیث کی روشنی میں یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ محمد (صل اللہ علیہ وآل وسلم)وآل محمد (علیہ السلام )کی عظمت اور بزرگی میں کوئی ہمسر نہیں ہے دعاء ہے کہ اللہ ہمیں در محمد (ص)وآل محمد (ع)سے وابسطہ رکھے آمین! مگر افسوس ان بدبخت مسلمانوں نے بعد وفات رسول(ص) آل محمد پر مظالم کی انتہا کردی حتی' کہ نوجوانان جنت کے سردار امام حسن علیہ السلام کو زہر دے کر شہید کیا گیا اوروقت تدفین ان کے جنازے پر تیر برسائے گئے امام حسین علیہ السلام کا سجدے میں سوکھا گلا کاٹا گیا ان کی لاش پر گھوڑے دوڑائے گئے نبی زادیوں کو یزیدی فوج نے قیدی بنا کر رسن بستہ کوچہ و بازار میں پھرایا ایک عرصہ تک یہ نبی زادیاں اور امام زین العابدین علیہ السلام دمشق میں یزید ملعون کی قید میں رہے

شامیاں بستند بازو زینب وکلثوم را

اے فلک آں ابتدا ایں انتہا ئے اہلبیت


محترم علی بابا برادر
یقیناً محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اُن کی آل پاک سے وابستگی ہی ھدایت کا ذریعہ ہے۔ حدیث ثقلین اس پر گواہ ہے۔ اور یقیناً ان پاک ہستیوں نے بہت سے مظالم برداشت کیے ہیں جن میں ہم جیسوں کیلیے عبرت، ھدایت، نمونہ اور قربانی کے جذبے کی بڑھوتری موجود ہے۔ ان پاک ہستیوں کو جو بھی فضیلت ملی ہے وہ اللہ پاک نے ہی عطا کی ہے۔

 
Last edited: