الیکشن کمیشن کی سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی امیدواروں سے متعلق غلط بیانی؟

17ecpgaaltbiani.png

الیکشن کمیشن کیجانب سے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب پر صحافیوں نے الیکشن کمیشن کو آئینہ دکھادیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن نے آج سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں جواب جمع کروادیا ہےجس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ امیدوار پی ٹی آئی نظریاتی کے انتخابی نشان سے خود دستبردار ہوگئے، اس کے بعد یہ امیدوار آزاد قرار پائے۔

الیکشن کمیشن کا یہ موقف اپنے ہی ایک آرڈر کی نفی کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے ، یہ آرڈر 13 جنوری 2024 میں صحافی احمد ورائچ نے شیئر کیا تھا جس میں الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی نظریاتی کا نام سامنے آتے ہی ہنگامی طور پر ملک بھر کے ریٹرننگ افسران کو یہ ہدایات دی تھیں کہ ایک سیاسی جماعت سے منسلک کسی رکن کو کسی دوسری جماعت کا انتخابی نشان نا دیا جائے۔

https://twitter.com/x/status/1804483365909020776
صحافی سعید بلوچ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی خلاف ورزیاں شاہراہ دستور پر بکھری پڑی ہیں، دیکھنا ہوگا کہ سپریم کورٹ کےججز توسیع کے جوڈیشل پیکج کیلئے اپنے ضمیر کا سودا کرتے ہیں یا الیکشن کمیشن کی ان بدمعاشیوں کو لگام ڈالتے ہیں اور ایک مستحق سیاسی جماعت کو اس کا حق دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کا فیصلہ کرتے ہوئے ان مخصوص حالات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا جس کا پی ٹی آئی سامنا کررہی ہے، پی ٹی آئی کے امیدوار ایک جماعت سے دوسری اور تیسری جماعت میں کیوں گئے، سپریم کورٹ کو دیکھنا ہوگا۔

https://twitter.com/x/status/1804510533753754025
صحافی عبید بھٹی نے کہا کہ ایسا جھوٹ بولنے پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کے خلاف کوئی محکمہ کارروائی کرے گا؟

https://twitter.com/x/status/1804495139483644215
 

Nice2MU

President (40k+ posts)
کاذی عیسیٰ کے لیے اب بھی یہ فراڈ الیکشن کمیشن بہت زیادہ محترم اور قابل عزت ہے۔۔ اسلیے خاموش