اسلام پاکستان میں فیل ہوچکا ہے

Mind_Master

MPA (400+ posts)
اسلام باقی تمام مذاہب کی طرح موجودہ حالات سے بلکل مطابقت نہیں رکھتا، کوئی بھی مذہب دنیا میں انسانی ترقی کا ضامن نہیں، صرف ایک متعدل اور منصف انسانی حقوق کا چارٹر انسانی زندگی اور ترقی کا ضامن ہوسکتا ہے، جتنا جلدی پاکستانی اس مذہبی جنونیت سے چھٹکارا حاصل کرلے گا، اتنا جلدی ہی یہاں امن اور سکون اور ترقی مواقع میسّر ہونگے. پاکستان اسلامی جمہوریہ نہیں بلکے ایک سیکولرو لبرل جمہوریہ ہونا چاہیے، جہاں مذہب کا کردار صرف ذاتی زندگی کا ہو اور ریاست اپنے مسائل اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور پر اساس کرتے ہوں. اسلام پاکستان میں فیل ہوچکا ہے، پاکستانیوں کو اسلام سے زیادہ انسانی حقوق اور جان ومال اور عزت کی ضرورت ہے جو اسلام اپنی موجودہ شکل میں دینے سے قاصر ہے

26A6832A00000578-0-image-a-9_1426369392947.jpg


اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ۱۰؍دسمبر ۱۹۴۸ ؁ء کا " انسانی حقوق کا عالمی منشور" منظور کر کے اس کا اعلان عام کیا۔ اگلے صفحات پر اس منشور کا مکمل متن درج ہے۔ اس تاریخی کارنامے کے بعد اسمبلی نے اپنے تمام ممبر ممالک پر زور دیا کہ وہ بھی اپنے اپنے ہاں اس کا اعلانِ عام کریں اور اس کی نشر و اشاعت میں حصّہ لیں۔ مثلاً یہ کہ اسے نمایاں مقامات پر آویزاں کیا جایٔے۔ اور خاص طور پر اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں اسے پڑھ کر سنایا جایٔے اور اس کی تفصیلات واضح کی جایٔیں، اور اس ضمن میں کسی ملک یا علاقے کی سیاسی حیثیت کے لحاظ سے کویٔی امتیاز نہ برتا جایٔے

تمہید

چونکہ ہر انسان کی ذاتی عزت اور حرمت اور انسانوں کے مساوی اور ناقابلِ انتقال حقوق کو تسلیم کرنا دنیا میں آزادی، انصاف اور امن کی بنیاد ہے،

چونکہ انسانی حقوق سے لاپروایٔی اور ان کی بے حرمتی اکثر ایسے وحشیانہ افعال کی شکل میں ظاہر ہویٔی ہے جن سے انسانیت کے ضمیر کو سخت صدمے پہنچے ہیں اور عام انسانوں کی بلندترین آرزو یہ رہی ہے کہ ایسی دنیا وجود میں آیٔے جس میں تمام انسانوں کو اپنی بات کہنے اور اپنے عقیدے پر قایٔم رہنے کی آزادی حاصل ہو اور خوف اور احتیاج سے محفوظ رہیں،

چونکہ یہ بہت ضروری ہے کہ انسانی حقوق کو قانون کی عملداری کے ذریعے محفوظ رکھا جایٔے۔ اگر ہم یہ نہیں چاہتے کہ انسان عاجز آکر جبر اور استبداد کے خلاف بغاوت کرنے پر مجبور ہوں،

چونکہ یہ ضروری ہے کہ قوموں کے درمیان دوستانہ تعلقات کو بڑھایا جایٔے،

چونکہ اقوامِ متحدہ کی ممبر قوموں نے اپنے چارٹر میں بنیادی انسانی حقوق، انسانی شخصیت کی حرمت اور قدر اور مردوں اور عورتوں کے مساوی حقوق کے بارے میں اپنے عقیدے کی دوبارہ تصدیق کردی ہے اور وسیع تر آزادی کی فضا میں معاشرتی ترقی کو تقویت دینے اور معیارِ زندگی کو بلند کرنے کا ارادہ کیا ہے،

چونکہ ممبر ملکوں نے یہ عہد کر لیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے اشتراکِ عمل سے ساری دنیا میں اصولاً اور عملاً انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کا زیادہ سے زیادہ احترام کریں گے اور کرایٔیں گے،

چونکہ اس عہد کی تکمیل کے لیے بہت ہی اہم ہے کہ ان حقوق اور آزادیوں کی نوعیت کو سب سمجھ سکیں، لہٰذا
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اعلان کرتی ہے کہ انسانی حقوق کا یہ عالمی منشور تمام اقوام کے واسطے حصولِ مقصد کا مشترک معیار ہوگا تاکہ ہر فرد اور معاشرے کا ہر ادارہ اس منشور کو ہمیشہ پیش نظر رکھتے ہویٔے تعلیم و تبلیغ کے ذریعہ ان حقوق اور آزادیوں کا احترام پیدا کرے اور انہیں قومی اور بین الاقوامی کارروایٔیوں کے ذریعے ممبر ملکوں میں اور اُن قوموں میں جو ممبر ملکوں کے ماتحت ہوں، منوانے کے لیٔے بتدریج کوشش کر سکے۔

دفعہ ۱ ۔

تمام انسان آزادی اور حقوق و عزت کے اعتبار سے برابر پیدا ہویٔے ہیں۔ انہیں ضمیر اور عقل و دیعت ہویٔی ہے۔ اس لیٔے انہیں ایک دوسرے کے ساتھ بھایٔی چارے کا سلوک کرنا چاہیء۔

دفعہ ۲ ۔

ہر شخص ان تمام آزادیوں اور حقوق کا مستحق ہے جو اس اعلان میں بیان کیٔے گیٔے ہیں، اور اس حق پر نسل، رنگ، جنس، زبان، مذہب اور سیاسی تفریق کا یا کسی قسم کے عقیدے، قوم، معاشرے، دولت یا خاندانی حیثیت وغیرہ کا کویٔی اثر نہ پڑے گا۔

اس کے علاوہ جس علاقے یا ملک سے جو شخص تعلق رکھتا ہے اس کی سیاسی کیفیت دایٔرہ اختیار یا بین الاقوامی حیثیت کی بنا پر اس سے کویٔی امتیازی سلوک نہیں کیا جایٔے گا۔ چاہے وہ ملک یا علاقہ آزاد ہو یا تولیتی ہو یا غیر مختار ہو یا سیاسی اقتدار کے لحاظ سے کسی دوسری بندش کا پابند ہو۔

دفعہ ۳ ۔


ہر شخص کو اپنی جان، آزادی اور ذاتی تحفظ کا حق ہے۔

دفعہ ۴ ۔

کویٔی شخص غلام یا لونڈی بنا کر نہ رکھا جا سکے گا۔ غلامی اور بردہ فروشی، چاہے اس کی کویٔی شکل بھی ہو، ممنوع قرار دی جایٔے گی۔

دفعہ ۵ ۔

کسی شخص کو جسمانی اذیّت یا ظالمانہ، انسایت سوز، یا ذلیل سلوک یا سزا نہیں دی جایٔے گی۔

دفعہ ۶ ۔

ہر شخص کا حق ہے کہ ہر مقام پر قانون اس کی شخصیت کو تسلیم کرے۔

دفعہ ۷ ۔

قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور سب بغیر کسی تفریق کے قانون کے اندر امان پانے کے برابر حقدار ہیں۔ اس اعلان کے خلاف جو تفریق کی جایٔے یا تفریق کے لیٔے ترغیب دی جایٔے، اس سے سب برابر کے بچاؤ کے حقدار ہیں۔

دفعہ ۸ ۔

ہر شخص کو ان افعال کے خلاف جو اس دستور یا قانون میں دیٔے ہویٔے بنیادی حقوق کو تلف کرتے ہوں، بااختیار قومی عدالتوں سے موثّر طریقے پر چارہ جویٔی کرنے کا پورا حق ہے۔

دفعہ ۹ ۔

کسی شخص کو محض حاکم کی مرضی پر گرفتار، نظربند، یا جلاوطن نہیں کیا جایٔے گا۔

دفعہ ۱۰ ۔

ہر ایک شخص کو یکساں طور پر حق حاصل ہے کہ اس کے حقوق و فرایٔض کا تعین یا اس کے خلاف کسی عایٔد کردہ جرم کے بارے میں مقدمہ کی سماعت آزاد اور غیر جانب دار عدالت کے کھلے اجلاس میں منصفانہ طریقے پر ہو۔

دفعہ ۱۱ ۔

ایسے ہر شخص کو جس پر کویٔی فوجداری کا الزام عایٔد کیا جایٔے، بے گناہ شمار کیٔے جانے کا حق ہے تاوقتیکہ اس پر کھلی عدالت میں قانون کے مطابق جرم ثابت نہ ہو جایٔے اور اسے اپنی صفایٔی پیش کرنے کا پورا موقع نہ دیا جا چکا ہو۔

کسی شخص کو کسی ایسے فعل یا فروگذاشت کی بنا پر جو ارتکاب کے وقت قومی یا بین الاقوامی قانون کے اندر تعزیری جرم شمار نہیں کیا جاتا تھا، کسی تعزیری جرم میں ماخوذ نہیں کیا جایٔے گا۔

دفعہ ۱۲ ۔

کسی شخص کی نجی زندگی، خانگی زندگی، گھربار، خط و کتابت میں من مانے طریقے پر مداخلت نہ کی جایٔے گی اور نہ ہی اس کی عزت اور نیک نامی پر حملے کیٔے جایٔیں گے۔ ہر شخص کا حق ہے کہ قانون اسے حملے یا مداخلت سے محفوظ رکھے۔

دفعہ ۱۳ ۔

ہر شخص کا حق ہے کہ اسے ہر ریاست کی حدود کے اندر نقل و حرکت کرنے اور سکونت اختیار کرنے کی آزادی ہو۔
ہر شخص کو اس بات کا حق ہے کہ وہ ملک سے چلا جایٔے چاہے یہ ملک اس کا اپنا ہو۔ اور اسی طرح اسے ملک میں واپس آجانے کا بھی حق ہے۔

دفعہ ۱۴ ۔

ہر شخص کو ایذا رسانی سے دوسرے ملکوں میں پناہ ڈھونڈنے، اور پناہ مل جایٔے تو اس سے فایٔدہ اٹھانے کا حق ہے۔

یہ حق ان عدالتی کارروایٔیوں سے بچنے کے لیٔے استعمال میں نہیں لایا جاسکتا جو خالصاً غیر سیاسی جرایٔم یا ایسے افعال کی وجہ سے عمل میں آتی ہیں جو اقوامِ متحدہ کے مقاصد اور اُصول کے خلاف ہیں۔

دفعہ ۱۵ ۔

ہر شخص کو قومیت کا حق ہے۔

کویٔی شخص محض حاکم کی مرضی پر اپنی قومیت سے محروم نہیں کیا جایٔے گا اور اس کو قومیت تبدیل کرنے کا حق دینے سے انکار نہ کیا جایٔے گا۔

دفعہ ۱۶ ۔

بالغ مردوں اور عورتوں کو بغیر کسی ایسی پابندی کے جو نسل قومیت یا مذہب کی بنا پر لگایٔی جایٔے شادی بیاہ کرنے اور گھر بسانے کا حق ہے۔ مردوں اور عورتوں کو نکاح، ازدواجی زندگی اور نکاح فسخ کرنے کے معاملہ میں برابر کے حقوق حاصل ہیں۔

نکاح فریقین کی پوری اور آزاد رضامندی سے ہوگا۔

خاندان، معاشرے کی فطری اور بنیادی اکایٔی ہے۔ اور وہ معاشرے اور ریاست دونوں کی طرف سے حفاظت کا حق دار ہے۔

دفعہ ۱۷ ۔

ہر انسان کو تنہا یا دوسروں سے مل کر جایٔداد رکھنے کا حق ہے۔

کسی شخص کو زبردستی اس کی جایٔداد سے محروم نہیں کیا جایٔے گا۔

دفعہ ۱۸ ۔

ہر انسان کو آزادیٔ فکر، آزادیٔ ضمیر اور آزادیٔ مذہب کا پورا حق ہے۔ اس حق میں مذہب یا عقیدے کو تبدیل کرنے اور پبلک میں یا نجی طور پر، تنہا یا دوسروں کے ساتھ مل جل کر عقیدے کی تبلیغ، عمل، عبادت اور مذہبی رسمیں پوری کرنے کی آزادی بھی شامل ہے۔

دفعہ ۱۹ ۔

ہر شخص کو اپنی رایٔے رکھنے اور اظہارِ رایٔے کی آزادی کا حق حاصل ہے۔ اس حق میں یہ امر بھی شامل ہے کہ وہ آزادی کے ساتھ اپنی رایٔے قایٔم کرے اور جس ذریعے سے چاہے بغیر ملکی سرحدوں کا خیال کیٔے علم اور خیالات کی تلاش کرے۔ انہیں حاصل کرے اور ان کی تبلیغ کرے۔

دفعہ ۲۰ ۔

ہر شخص کو پُرامن طریقے پر ملنے جلنے اور انجمنیں قایٔم کرنے کی آزادی کا حق ہے۔

کسی شخص کو کسی انجمن میں شامل ہونے لیٔے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔

دفعہ ۲۱ ۔

ہر شخص کو اپنے ملک کی حکومت میں براہِ راست یا آزادانہ طور پر منتخب کیٔے ہویٔے نمایٔندوں کے ذریعے حصہ لینے کا حق ہے۔

ہر شخص کو اپنے ملک میں سرکاری ملازمت حاصل کرنے کا برابر حق ہے۔

عوام کی مرضی حکومت کے اقتدار کی بنیاد ہوگی۔ یہ مرضی وقتاً فوقتاً ایسے حقیقی انتخابات کے ذریعے ظاہر کی جایٔے گی جو عام اور مساوی رایٔے دہندگی سے ہوں گے اور جو خفیہ ووٹ یا اس کے مساوی کسی دوسرے آزادانہ طریقِ رایٔے دہندگی کے مطابق عمل میں آیٔیں گے۔

دفعہ ۲۲ ۔

معاشرے کے رکن کی حیثیت سے ہر شخص کو معاشرتی تحفظ کا حق حاصل ہے اور یہ حق بھی کہ وہ ملک کے نظام اور وسایٔل کے مطابق قومی کوشش اور بین الاقوامی تعاون سے ایسے اقتصادی، معاشرتی اور ثقافتی حقوق کو حاصل کرے، جو اس کی عزت اور شخصیت کے آزاددانہ نشوونما کے لیٔے لازم ہیں۔

دفعہ ۲۳ ۔

ہر شخص کو کام کاج، روزگار کے آزادانہ انتخاب کام کاج کی مناسب و معقول شرایٔط اور بے روزگاری کے خلاف تحفظ کا حق ہے۔

ہر شخص کو کسی تفریق کے بغیر مساوی کام کے لیٔے مساوی معاوضے کا حق ہے۔

ہر شخص جو کام کرتا ہے وہ ایسے مناسب و معقول مشاہرے کا حق رکھتا ہے جو خود اس کے اور اس کے اہل و عیال کے لیٔے باعزت زندگی کا ضامن ہو۔ اور جس میں اگر ضروری ہو تو معاشرتی تحفظ کے دوسرے ذریعوں سے اضافہ کیا جاسکے۔

ہر شخص کو اپنے مفاد کے بچاؤ کے لیٔے تجارتی انجمنیں قایٔم کرنے اور اس میں شریک ہونے کا حق حاصل ہے۔

دفعہ ۲۴ ۔

ہر شخص کو آرام اور فرصت کا حق ہے جس میں کام کے گھنٹوں کی حدبندی اور تنخواہ کے علاوہ مقررہ وقفوں کے ساتھ تعطیلات بھی شامل ہیں۔

دفعہ ۲۵ ۔

ہر شخص کو اپنی اور اپنے اہل و عیال کی صحت اور فلاح و بہبود کے لیٔے مناسب معیار زندگی کا حق ہے جس میں خوراک، پوشاک، مکان اور علاج کی سہولتیں اور دوسری ضروری معاشرتی مراعات شامل ہیں اور بے روزگاری بیماری، معذوری، بیوگی، بڑھاپا یا ان حالات میں روزگار سے محرومی جو اس کے قبضۂ قدرت سے باہر ہوں، کے خالف تحفظ کا حق حاصل ہے۔

زچّہ اور بچّہ خاص توجہ اور امداد کے حق دار ہیں۔ تمام بچے خواہ وہ شادی سے پہلے پیدا ہویٔے ہوں یا شادی کے بعد معاشرتی تحفظ سے یکساں طور پر مستفید ہوں گے۔

دفعہ ۲۶ ۔

ہر شخص کو تعلیم کا حق ہے۔ تعلیم مفت ہوگی، کم سے کم ابتدایٔی اور بنیادی درجوں میں۔ ابتدایٔی تعلیم جبری ہوگی۔ فنّی اور پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرنے کا عام انتظام کیا جایٔے گا اور لیاقت کی بنا پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا سب کے لیٔے مساوی طور پر ممکن ہوگا۔

تعلیم کا مقصد انسانی شخصیت کی پوری نشوونما ہوگا۔ اور وہ انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے احترام میں اضافہ کرنے کا ذریعہ ہوگی وہ تمام قوموں اور نسلی یا مذہبی گروہوں کے درمیان باہمی مفاہمت، رواداری اور دوستی کو ترقی دے گی اور امن کو برقرار رکھنے کے لیٔے اقواہم متحدہ کی سرگرمیوں کو آگے بڑھایٔے گی۔

والدین کو اس بات کے انتخاب کا اوّلین حق ہے کہ ان کے بچوں کو کس قسم کی تعلیم دی جایٔے گی۔

دفعہ ۲۷

ہر شخص کو قوم کی ثقافتی زندگی میں آزادانہ حصّہ لینے، ادبیات سے مستفید ہونے اور سایٔنس کی ترقی اور اس کے فوایٔد میں شرکت کا حق حاصل ہے۔

ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ اس کے اُن اخلاقی اور مادّی مفاد کا بچاؤ کیا جایٔے جو اسے ایسی سایٔنسی، علمی یا ادبی تصنیف سے جس کا وہ مصنف ہے، حاصل ہوتے ہیں۔

دفعہ ۲۸ ۔

ہر شخص ایسے معاشرتی اور بین الاقوامی نظام میں شامل ہونے کا حق دار ہے جس میں وہ تمام آزادیاں اور حقوق حاصل ہوسکیں جو اس اعلان میں پیش کر دیٔے گیٔے ہیں۔

دفعہ ۲۹ ۔

ہر شخص پر معاشرے کے حق ہیں۔ کیونکہ معاشرے میں رہ کر ہی اس کی شخصیت کی آزادانہ اور پوری نشوونما ممکن ہے۔

اپنی آزادیوں اور حقوق سے فایٔدہ اٹھانے میں ہر شخص صرف ایسی حدود کا پابند ہوگا جو دوسروں کی آزادیوں اور حقوق کو تسلیم کرانے اور ان کا احترام کرانے کی غرض سے یا جمہوری نظام میں اخلاق، امن عامّہ اور عام فلاح و بہبود کے مناسب لوازمات کو پورا کرنے کے لیٔے قانون کی طرف سے عایٔد کیٔے گیٔے ہیں۔

یہ حقوق اور آزادیاں کسی حالت میں بھی اقوامِ متحدہ کے مقاصد اور اصول کسے خلاف عمل میں نہیں لایٔی جاسکتیں۔

دفعہ ۳۰ ۔

اس اعلان کی کسی چیز سے کویٔی ایسی بات مراد نہیں لی جاسکتی جس سے کسی ملک، گروہ یا شخص کو کسی ایسی سرگرمیوں میں مصروف ہونے یا کسی ایسے کام کو انجام دینے کا حق پید اہو جس کا منشا ان حقوق اور آزادیوں کی تخریب ہو جو یہاں پیش کی گیٔی ہیں۔

 
Last edited:

Afaq Chaudhry

Chief Minister (5k+ posts)
پاکستان میں اسلام نافذ ہی کب ہوا ہے ، جو آپ نے نتیجہ نکال لیا ہے ، سب کاغذی کاروائیاں ہیں ، صرف آئین میں لکھا ہے ، حکمران تو اس سے ایسے بھاگتے ہیں جیسے یہ بے چارے مسلمان ہی نہیں ، اب تو لبرل بننے کا جنون ہے ، یہ شوق بھی پورا کر لیں

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر


اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

مذہب انسان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے ، اسلام مذہب نہیں ہے ، مذہب اسلام کا حصہ ہے ، اسلام کو مذہب سمجھ کر اس پر تقید کرنے والے نا سمجھ ہیں ، پہلے وہ اپنا تصور دین درست کریں ، پھر اسلام پر مذہب کے حوالے سے بات کریں، روشن خیالی کا چورن بیچنے کے شوق میں ہم اکثر مذہب پر تنقید کر رہے ہوتے ہیں ، الله قران میں ہر مسلمان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے ، جس نے عمل کیا وہ آج ترقی پر ہے ، جس نے چھوڑا وہ ذلت کا شکار ہے

 
Last edited:

values

Chief Minister (5k+ posts)
میری ایڈمن سے گزارش ہے کہ ان جیسے مکاروں کے تھریڈ جواسلام کے خلاف ہیں اور مذہب کو دہست گردی سے جوڑتے ہیں ..ایسے تھریڈ ہٹا دیے جائیں اور ہمارے جذبات کا احترام کیا جاے .
یہی لوگ اصل کے دہشت فرد ہیں جو پہلے را کا ایجنٹ بن کر دھماکے کرواتے ہیں اور پھر اسلام پر برس پڑتے ہیں .
اسلام امن کا دیں ہے .
ان جیسے لوگوں کو فورم پر بین کر دیا جاے .ورنہ یہ سائٹ مذھبی منافرت کا پلیٹ فارم بن جاے گی .
شکریہ
 

There is only 1

Chief Minister (5k+ posts)
اسلام نہیں ، اسلام کا نا خلف ٹھیکیدار فیل ہو چکا ہے

اور اسلام میں عدل کی حکومت کا تصور ہے ، اگر عدل ہے تو حکومت کامیاب اگر نہیں تو ناکام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر آپ کو سیکولر ازم عدل کا نظام لگتا ہے تو مرحبا مرحبا
 

omerbest

MPA (400+ posts)
aap ka column mein nay nahi parha .. lekan aap k subject per mujhay aiteraz hay.. islam religion fail honay k liye nahi aaya .. na hee ye ta qayamat kabhi fail ho sakta hay.. haan ham musalman apni zindagion mein isay lanay mein fail zaroor ho saktay hein..

Allah ka deen qayamat tak qaim rahnay k liye hay...
 

دوسرا_سوال

Minister (2k+ posts)
میری ایڈمن سے گزارش ہے کہ ان جیسے مکاروں کے تھریڈ جواسلام کے خلاف ہیں اور مذہب کو دہست گردی سے جوڑتے ہیں ..ایسے تھریڈ ہٹا دیے جائیں اور ہمارے جذبات کا احترام کیا جاے .
یہی لوگ اصل کے دہشت فرد ہیں جو پہلے را کا ایجنٹ بن کر دھماکے کرواتے ہیں اور پھر اسلام پر برس پڑتے ہیں .
اسلام امن کا دیں ہے .
ان جیسے لوگوں کو فورم پر بین کر دیا جاے .ورنہ یہ سائٹ مذھبی منافرت کا پلیٹ فارم بن جاے گی .
شکریہ

چلو، ایک ہی جملے میں اسلام کے نام پر ہونے والی دہشت گردی کو غیروں کی سازش قرار دے کر بات ہی لپیٹ دی


بھائی، تھریڈ اسٹارٹر نے کوئی گالی نہیں دی، کوئی فتویٰ نہیں دیا، صرف اپنی راۓ دی ہے. آپ دلیل سے اسکا جواب دے دو


یہ تھریڈ بین کرنے کی ریکویسٹ کوئی سمجھ میں نہیں آئی
 

Mind_Master

MPA (400+ posts)
میری ایڈمن سے گزارش ہے کہ ان جیسے مکاروں کے تھریڈ جواسلام کے خلاف ہیں اور مذہب کو دہست گردی سے جوڑتے ہیں ..ایسے تھریڈ ہٹا دیے جائیں اور ہمارے جذبات کا احترام کیا جاے .
یہی لوگ اصل کے دہشت فرد ہیں جو پہلے را کا ایجنٹ بن کر دھماکے کرواتے ہیں اور پھر اسلام پر برس پڑتے ہیں .
اسلام امن کا دیں ہے .
ان جیسے لوگوں کو فورم پر بین کر دیا جاے .ورنہ یہ سائٹ مذھبی منافرت کا پلیٹ فارم بن جاے گی .
شکریہ

کوئی تو شرم ہوتی ہے حیا ہوتی ہے، اسلام امن کا دین ہے؟ جو خود کش کتا معصوم لوگوں کے درمیان جا کر پھٹ گیا وہ کیا بدھ مذہب کا جنونی تھا؟
 

دوسرا_سوال

Minister (2k+ posts)
aap ka column mein nay nahi parha .. lekan aap k subject per mujhay aiteraz hay.. islam religion fail honay k liye nahi aaya .. na hee ye ta qayamat kabhi fail ho sakta hay.. haan ham musalman apni zindagion mein isay lanay mein fail zaroor ho saktay hein..

Allah ka deen qayamat tak qaim rahnay k liye hay...
kash keh koi baat parh kr jawab day yahan pr.
 

sigma192

Politcal Worker (100+ posts)
True...Pakistan main islam to kabhi aya hi nahi...hamaysha secular zehniyat hi ashrafia/ala hukkam main rahi aur media to hay ********* brigade....

baqi constitution ki kon si SHIQ pay amal ho raha hay jo aap nay itni sari dafa'at likh kar page bhar dia hay (jo shayad hi koi parhay)
 

atensari

(50k+ posts) بابائے فورم
مان لو اسلام فیل ہو چکا ہے ورنہ

democracy_is_coming_by_benzine28.jpg

جو نہیں مانتا اقوام منافقه کا انسانی حقوق کا عالمی منشور ناکام ہو جاتا ہے

 
Last edited:

Modest

Chief Minister (5k+ posts)
Ye ignorant thread starter koi western ya Indian agent Lagta hai.

Islam aman aur pyar sekhata hai.
Problem hum musalmano may hai jo Islam ko sahi follow nahi kartay.
 

دوسرا_سوال

Minister (2k+ posts)
اسلام نہیں ، اسلام کا نا خلف ٹھیکیدار فیل ہو چکا ہے

اور اسلام میں عدل کی حکومت کا تصور ہے ، اگر عدل ہے تو حکومت کامیاب اگر نہیں تو ناکام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر آپ کو سیکولر ازم عدل کا نظام لگتا ہے تو مرحبا مرحبا


اچھا اسلام چھوڑیں، کسی ایسی قوم یا ملک کی مثال دیں جو آج کے زمانے میں ترقی کر رہا ہو اور دین کی اتھاہ گہرائیوں کو وہ قوم پراکٹس کر رہی ہو


پوائنٹ یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں دین ایک آبسولیٹ کانسپٹ بن کر رہ گیا ہے، ہاں اگر ایک ہزار سال پہلے کی بات ہو تو پاور پالیٹکس میں دین کا پورا استعمال تھا


پلیز دین سے میرا مطلب صرف اسلام نہ سمجھیے، میں تمام ادیان کی بات کر رہا ہوں
 

sigma192

Politcal Worker (100+ posts)
agar yay baat hay to phir ha gali muhallay main yay kam sawab samjh k log kyn nahi kar rahay....iss ka matlab hay k yay sirf aik khas tabqa APNI MEHROOMI k hathon Dushman k hath main khayl raha hay...

society k jus tabqay ko deewar k sath lagao gay vo utha hi vulnerable ho ja'ay ga aur phir dushman istemal karay ga...chahay FATA main islam k naam pay ya phir KARACHI main qoomiat k naam pay...

its not deen...its that deprivation which provides the fuel for our enemy to execute such acts...

we need to fix the weak links in our society and think about thier welfare....verna jo aap nay BALOCH, BENGALI, MUHAJIR aur PATHAN k sath kia hay to phir dushman nay issi ka faida uthaya aur unn logo k GHUSSA ko aag main bharka dia aur nateeja hamaray samnay hy


کوئی تو شرم ہوتی ہے حیا ہوتی ہے، اسلام امن کا دین ہے؟ جو خود کش کتا معصوم لوگوں کے درمیان جا کر پھٹ گیا وہ کیا بدھ مذہب کا جنونی تھا؟
 

دوسرا_سوال

Minister (2k+ posts)
Ye ignorant thread starter koi western ya Indian agent Lagta hai.

Islam aman aur pyar sekhata hai.
Problem hum musalmano may hai jo Islam ko sahi follow nahi kartay.
So your argument is that 1.6 billion Muslims are at fault and not their religion.


Then my question is why did the Christian nations who are developed let go of their religion from national life and made it a private matter for individual only? Are those 2.2 billion also wrong to let go of their religion?


Can you understand my point? It's a bit difficult to explain what I'm trying to say, so please just don't make fun of my point in word play, rather try to understand what I'm saying and comment on that kindly.
 

Mind_Master

MPA (400+ posts)

اچھا اسلام چھوڑیں، کسی ایسی قوم یا ملک کی مثال دیں جو آج کے زمانے میں ترقی کر رہا ہو اور دین کی اتھاہ گہرائیوں کو وہ قوم پراکٹس کر رہی ہو


پوائنٹ یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں دین ایک آبسولیٹ کانسپٹ بن کر رہ گیا ہے، ہاں اگر ایک ہزار سال پہلے کی بات ہو تو پاور پالیٹکس میں دین کا پورا استعمال تھا


پلیز دین سے میرا مطلب صرف اسلام نہ سمجھیے، میں تمام ادیان کی بات کر رہا ہوں

ہم پاکستانی ابھی تاریخ کے کنوے سے باہر نہیں نکلے، دنیا آگے جانے کی تگدو میں لگی ہوئی ہے اور ہم ہزار سال پیچھے جانا چاہتے ہیں.
 

values

Chief Minister (5k+ posts)

کوئی تو شرم ہوتی ہے حیا ہوتی ہے، اسلام امن کا دین ہے؟ جو خود کش کتا معصوم لوگوں کے درمیان جا کر پھٹ گیا وہ کیا بدھ مذہب کا جنونی تھا؟
کیا را کا نام لیتے ہوے شرم آتی ہے ؟؟؟؟؟؟؟
جس نے اپنے لوگ پال رکھے ہیں
 

دوسرا_سوال

Minister (2k+ posts)
agar yay baat hay to phir ha gali muhallay main yay kam sawab samjh k log kyn nahi kar rahay....iss ka matlab hay k yay sirf aik khas tabqa APNI MEHROOMI k hathon Dushman k hath main khayl raha hay...

society k jus tabqay ko deewar k sath lagao gay vo utha hi vulnerable ho ja'ay ga aur phir dushman istemal karay ga...chahay FATA main islam k naam pay ya phir KARACHI main qoomiat k naam pay...

its not deen...its that deprivation which provides the fuel for our enemy to execute such acts...

we need to fix the weak links in our society and think about thier welfare....verna jo aap nay BALOCH, BENGALI, MUHAJIR aur PATHAN k sath kia hay to phir dushman nay issi ka faida uthaya aur unn logo k GHUSSA ko aag main bharka dia aur nateeja hamaray samnay hy
See, in your point you kind of hint at the answer.


In Karachi, people are exploited in the name of qomiyat to use violence against others. In other parts (like you say in FATA), people are exploited in the name of religion to use violence. So, "mazhab parasti", just like "qoom parasti" leads to violence, and therefore the point is that they must be made a matter of private action and not an obligatory way of life for a whole society.


No reasonable person is against someone practicing whatever religion they want privately and without and fear of violence. I support that. But when it comes to that only Islam or Christianity etc. will be practiced and the state will run after everyone to enforce it, then it will lead to injustice - as we see in our country or countries similar to ours.


Hope you understand my point reasonably and not abuse me in return.
 

Mind_Master

MPA (400+ posts)
کیا را کا نام لیتے ہوے شرم آتی ہے ؟؟؟؟؟؟؟
جس نے اپنے لوگ پال رکھے ہیں

جو کتا معصوم لوگوں میں جا کر پھٹا وہ را کا نہیں بلکے کسی مدرسے سے تعلیم یافتہ تھا، اب انسانیت کا سبق تو نہیں پڑھایا گیا ہوگا بیچارے کو وہاں
 

atensari

(50k+ posts) بابائے فورم

کوئی تو شرم ہوتی ہے حیا ہوتی ہے، اسلام امن کا دین ہے؟ جو خود کش کتا معصوم لوگوں کے درمیان جا کر پھٹ گیا وہ کیا بدھ مذہب کا جنونی تھا؟
تم نہیں پھٹے کیا تم بدھ مت کے جنونی ہو؟
 

دوسرا_سوال

Minister (2k+ posts)

ہم پاکستانی ابھی تاریخ کے کنوے سے باہر نہیں نکلے، دنیا آگے جانے کی تگدو میں لگی ہوئی ہے اور ہم ہزار سال پیچھے جانا چاہتے ہیں.
Sorry, disliked by mistake. I wanted to click like.


You're absolutely right. The other day I made the same point on this forum when someone posted a video on how great the word organisation in Quran Majeed is, and I said that other nations are busy finding what makes dark matter or how to cure cancer and we're stuck in praising poetic value of words in a book. But people started ripping at me and started asking me which nation I belonged to.


Sad is the state of this current religious fever among us.
 
Sponsored Link