اسد قیصر کی ضمانت کے بعد دوبارہ گرفتاری،پشاور ہائیکورٹ کے سخت ریمارکس

11asadqiaiapshhchsreamrks.png

اسد قیصر مقدمات میں نامزد ہیں اس لیے ضمانت ملنے کے بعد گرفتار ہوتے ہیں: سرکاری وکیل

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو بار بار گرفتار کرنے پر پشاور ہائیکورٹ نے جواب طلب کر لیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما وسابق وسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو ان پر قائم کیے گئے پہلے سے درج کیے گئے مقدموں میں گرفتار نہ کرنے کی درخواست پر آج پشاور ہائیکورٹ میں کیس سماعت ہوئی۔

جسٹس صاحبزادہ اسدال اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔


پی ٹی آئی رہنما وسابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو بار بار گرفتار کیے جانے پر پشاور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیا مذاق ہے؟ انہیں ضمانت ملنے پر کسی دوسرے مقدمے میں گرفتار کر لیا جاتا ہے؟ اس بارے میں قانون کیا کہتا ہے؟ یہ دیکھیں گے۔درخواست گزار اسد قیصر کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ کسی مقدمے میں ضمانت ملتی ہے تو کسی دوسرے مقدمے میں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

وکیل کا کہنا تھا کہ میرے موکل کے خلاف پہلے سے درج کیے گئے مقدمات میں گرفتار نہ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ کیس کی سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ اسد قیصر پہلے سے مقدمات میں نامزد ہیں اس لیے کسی مقدمے میں ضمانت ملنے کے بعد گرفتار ہوتے ہیں۔

اسد قیصر کے وکیل کی طرف سے عدالت میں استدعا کی گئی کہ میرے موکل کی درخواست ضمانت پر کل سماعت ہونا ہے، عدالت احکامات جاری کرے کے کل ضمانت ملنے پر انہیں کسی دوسرے مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیا مذاق ہے؟ ضمانت ملتی ہے تو کسی دوسرے مقدمے میں گرفتار کر لیا جاتا ہے، اس بارے قانون کیا کہتا ہے دیکھیں گے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اسد قیصر کے وکیل کو ہدایت کی کہ آپ اپنی تیاری کریں اور حکومت اس حوالے سے اپناجواب جمع کروائے، کیس اب آئندہ سماعت پر سنا جائے گا۔ عدالت کی طرف سے اس بارے جواب طلبی کرتے ہوئے کیس کی سماعت کو 7 دسمبر تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔