!اب کون اُسے جاتا دیکھے

Arslan

Moderator
صدر زرداری نے آخری ملاقاتیں شروع کر دی ہیں۔ پانچ برسوں تک ایوانِ صدر کے وہ اسیر رہے۔ رسیا اور اسیر کے معنی ایک جیسے ہوگئے۔ اِس دوران صحافیوں کو خود سے اُنہوں نے پرے ہی رکھا۔ بدنامی کے خوف سے خود صحافیوں نے بھی اُن کے زیادہ قریب آنے کی کوشش نہیں کی۔ ایک دو بار اُن سے ملاقات ہوئی تو اُن کے سامنے ٹی وی پر کوئی انگریزی فلم چل رہی تھی۔ ہم نے مہنگائی، کرپشن، دہشت گردی، لاقانونیت اور اِن جیسی دیگر خرابیوں کا ذکر کیا تو بولے یہ تو آپ کہہ رہے ہیں.عرض کیا چینل بدل کر دیکھیں آپ کو یقین آجائے گا ہم غلط نہیں کہہ رہے.اُنہوں نے چینل بدل دیا۔ دوسرے چینل پر پھر کوئی انگریزی فلم چل رہی تھی۔ پتہ چلا وہ کوئی ایسا چینل دیکھتے ہی نہیں جس پر اذیتوں اور ذلتوں سے دو چار عوام کو روتے پیٹتے دِکھایا جاتا ہو۔ نہ ایسے لوگوں سے وہ ملتے ہیں جو ہر وقت عوام کا رونا روتے ہوں۔ ہم نے موضوع بدل دیا اور اُن سے پوچھا بی بی کے قاتلوں کو وہ جانتے ہیں تو عوام کو بتاتے کیوں نہیں؟ .فرمانے لگے سب باتیں عوام کو بتانے والی نہیں ہوتیں. اُنہوں نے ٹھیک ہی فرمایا تھا سب باتیں واقعی عوام کو بتانے والی نہیں ہوتیں۔ کچھ باتیں عوام خود ہی سمجھ جاتے ہیں۔ جیسے یہ بات عوام خود ہی سمجھ گئے تھے کہ بی بی کہ شہادت کا سب سے بڑا فائدہ اُن کے شوہر محترم کو ہی ہوا تھا۔ اور سب سے زیادہ نقصان اُسے ہوا جو سمجھ رہا تھا بی بی کو راستے سے ہٹا کر اقتدار کا جھولا چند برس وہ مزید جھول لے گا۔اُس کے مشیروں نے اُسے مروا دیا۔ اپنے گھر کی جیل میں سوائے بیگم صاحبہ کے اب کوئی نہیں۔ عتیقہ اوڈھو بھی ملنے نہیں آتیں۔چوہدری شجاعت حسین تک اُس کا فون نہیں سنتے۔ بے چارہ کسی کو یہ بھی نہیں بتا سکتا بی بی کو راہ سے ہٹانے کی ضرورت کس کے کہنے پر اُسے محسوس ہوئی تھی؟ صدر زرداری کی سیاست سمجھنے کے لئے واقعی پی ایچ ڈی کی ضرورت ہے!
بہرحال گزشتہ پانچ برسوں میں زرداری نے کھل کر حکومت کی۔ بی بی کے دوسرے دور میں اَنھی ڈالنے کی اُنہوں نے ابتدا کی تھی اور اپنے پہلے دور میں انتہا کر دی۔ چار برس قبل ایوانِ صدر میں ہونے والی ایک ملاقات میں اُنہوں نے فرمایا میں نے جو چاہا حاصل کر لیا . عوام کی بھلائی اُنہوں نے کبھی چاہی ہوتی تو وہ بھی یقینا حاصل کر لیتے۔ اُن کا دھیان اور ہی طرح کے کاموں میں رہا۔ جس کی بنیاد پر پاکستان کے پہلے بڑے نمبر کے دولت مند وہ بن گئے۔ بی بی زندہ رہتی تو یہ اعزاز بھی وہ شاید حاصل نہ کر پاتے۔ اب وہ فرماتے ہیں ایوانِ صدر سے بڑی عزت سے رخصت ہو رہا ہوں ۔ اداکارہ نرگس یاد آگئی۔ دوسری یا شاید تیسری بار فلم انڈسٹری کو خیر باد کہتے ہوئے یہی جملہ اُس نے بھی بولا تھا فلم انڈسٹری سے بڑی عزت سے رخصت ہو رہی ہوں.بطور صدر اُن پر براہ راست کرپشن کا کوئی الزام سامنے نہیں آیا مگر اِس الزام بلکہ حقیقت کو کون جھٹلا سکتا ہے بطور صدر اور بطور پارٹی سربراہ کے ایسے وزرائے اعظم کا اُنہوں نے انتخاب کیا جن کی شہرت یہ تھی گندے نالے میں گرے ہوئے نوٹوں کو منہ سے اُٹھانا پڑے تو اُس سے گریز نہیں کرتے .کوئی حساب اپنے اِن وزرائے اعظم سے اُنہوں نے نہیں لیا تو اِس کا کیا مطلب ہے؟ بغیر مطلب کے تو وہ سیکشن آفیسر کسی کو نہیں بناتے تھے وزیراعظم تو پھر ملک کے سیاہ و سفید کا مالک ہوتا ہے۔ کیسے ممکن ہے اِس ملکیت کا کوئی حصہ وصول نہ کیا گیا ہو؟ نہیں کیا تو یہ انعام بھی اُن کے لئے کم نہیں تھا کہ اُن کے وزرائے اعظم نے سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود سوئس حکام کو خط نہیں لکھا۔ اِن وزرائے اعظم کو مال بنانے کی اجازت اپنے آقا کا مال بچانے کی شرط پر ہی دی گئی ہوگی۔ اور اب موجودہ حکمران اِن سب کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کا کوئی اہتمام نہیں کر رہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کچھ نہ کچھ حصہ اُنہیں بھی ضرور ملا ہوگا۔ یہ حصہ اِس پالیسی کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے کہ ایک دوسرے سے لوٹ مار کا کوئی حساب نہیں لیا جائے گا!
سنا ہے اب محترم وزیراعظم زرداری صاحب کی باعزت رخصتی پر اُن کے اعزاز میں ایک شاندار عشائیے کا اہتمام بھی کر رہے ہیں۔ اُمید ہے چھوٹے وزیراعظم بھی اِس موقع پر موجود ہوں گے اور اپنے اُس روز کے مہمانِ خاص سے کہیں گے آپ ایسے ہی میری اِس بات کو دِل سے لگا لیا کرتے تھے کہ اقتدار میں آکر زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹوں گا۔ دیکھئے آج ہم آپ کو کتنی عزت سے رخصت کر رہے ہیں۔ بلکہ ہمیں تو آج آپ کا شکریہ بھی ادا کرنا چاہئے کہ اتنی آسانی سے آپ نے ہمیں الیکشن جیتنے کا موقع دیا۔ اور اِس مقصد کے لئے ہمارے خلاف ایک بھرپور تشہیری مہم بھی چلائی۔ جس کا ہمیں اتنا فائدہ ہوا ممکن ہے اگلے الیکشن میں ہم آپ سے پھر گزارش کریں ویسی ہی تشہیری مہم ہمارے خلاف پھر چلائی جائے۔ بی بی زندہ ہوتی تو کبھی اتنی آسانی سے ہمیں الیکشن نہ جیتنے دیتی۔ اب ہم کس کس بات پر آپ کا شکریہ ادا کریں۔ جواب میں زرداری صاحب بھی شاید یہ فرمائیں آپ کو ہمارا اس قدر شکر گزار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ پانچ برسوں میں ہم نے جو انھی ڈالی اُس کے خلاف کوئی عملی اقدام آپ نے نہیں کیا۔ یہاں تک کہ ہمارے ایک وزیراعظم کے صاحبزادے کو آپ ہی کے لگائے ہوئے ایک وائس چانسلر کے حکم پر جعلی ڈگری جاری کی گئی تو اُس وائس چانسلر کے خلاف معمولی سی کارروائی بھی نہیں کی۔ حتیٰ کہ بی بی کے قاتلوں کی گرفتاری کے لئے بھی زور نہیں دیا تو آپ کی ہم پر یہ کوئی کم مہربانیاں نہیں ہیں۔ سو اِن مہربانیوں کے بدلے میں آپ کی حکومت ہم نے آسانی سے بننے دی تو یہ آپ کا حق تھا اور ویسے باری بھی آپ کی تھی۔ رہی بات سڑکوں پر گھسیٹنے کی تو وہ آپ مجھے ویسے ہی نہیں گھسیٹ سکتے تھے کیونکہ اُس کے لئے کمر کا ٹھیک ہونا ضروری ہوتا ہے!
بہرحال صدر زرداری کے لئے مقام شکر ہے کہ پانچ برس آسانی سے اُنہوں نے پورے کر لئے۔ اِس سلسلے میں ایک پیر صاحب بھی اُنہوں نے پالے ہوئے تھے جن کا دعویٰ ہے بطور صدر، زرداری کے لئے پیدا ہونے والی ہر آسانی کے پیچھے اُنہی کے کمالات تھے۔ اُن کی بات بھی شاید درست ہو مگر زرداری صاحب کے اپنے کمالات بھی کچھ کم نہیں تھے۔ چالاکی اور ہوشیاری کے اعتبار سے پاکستان کا کوئی سیاستدان اُن کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یہ واقعہ کسی نے شاید گھڑا ہی ہوگا مگر اُن کی شخصیت کا مکمل احاطہ کرتا ہے کہ ایک بار الطاف بھائی اور وہ لندن کے ایک بڑے سٹور پر گئے۔ الطاف بھائی نے دس چاکلیٹیں اُٹھا کر جیب میں ڈال لیں اور باہر نکل کر اُن سے کہا میں نے چاکلیٹیں اُٹھائیں اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلا۔ یہ ہوتی ہے عقل .آپ ایسی عقل کا مظاہرہ کر سکتے ہو؟.زرداری بولے کیوں نہیں کر سکتا؟ الطاف حسین کا اُنہوں نے ہاتھ پکڑا اور دوبارہ سٹور کے اندر چلے گئے۔ سٹور منیجر سے کہا جادو دیکھو گے ؟. جی ضرور، اُس نے جواب دیا تو زرداری دس چاکلیٹیں اُٹھا کر کھا گئے۔ سٹور منیجر نے پوچھا مگر اِس میں جادو والی کون سی بات ہے؟. اب یہ چاکلیٹیں تم میرے ساتھ کھڑے اِ س شخص(الطاف بھائی) کی جیبسے نکال لو. زرداری کے اِس جواب سے الطاف بھائی پھنس گئے اور مان گئے اُستاد، اُستاد ہی ہوتا ہے۔ زرداری صاحب آپ کی اُستادیاں ہمیں بہت یاد آئیں گی!




 

v r imran k

Chief Minister (5k+ posts)
yar chocolate wali bat mian waqiee zardari ka koi ustaaaaaaad nahi..altaf to uss k samny bacha hy
 

Rizwan2009

Chief Minister (5k+ posts)
سندھي بہت ہوشيار ہوتے ہيں اگر معاشي طور پر ان کے مسائل نہ ہوں تو يہ قوم ساري دنيا کو چکرا کر رکھ دے
 

Rizwan2009

Chief Minister (5k+ posts)
شيخ رشيد نے اس قوم کو پہلے ہي زرداري کے حوالے سے آگاہ کرديا تھا مگر يہ قوم جب تک لاتيں نہيں کھاتي اس کي عقل کام نہيں کرتي
 

Believer12

Chief Minister (5k+ posts)
ھمارا ایک دوست ھمیں بھت مجبور کرتا تھا کہ لاھور کی سیر کو چلیں وھاں اس کے بڑے بھای نے اقبال ٹاون میں کوٹھی خریدی ھوی ھے نا رھائش کا مسئلہ نا کھانے پینے کا۔ھم آٹھ نو دوست لالچ میں آکر چلے گئے کوٹھی بلکل بند اور ائرکنڈیشنڈ تھی کارپٹ بچھے ھوے اور مھنگے ڈیکوریشن پیس لیکن سلیقہ نھیں تھا بس دولت کی نمائش تھی کچھ سمجھ نہ آیا جب شام ھوی تو ایک ایک کر کے جواری اکٹھے ھونے لگ گئے جو امیر لگتے تھے۔دروازے بند ھوگئے اور جوا شرووع ھوگیا۔
میں سخت پریشان تھا کہ اتنے میں ھمارے شھر کے پی پی کے وزیر بھی تشریف لے اے وھ ھم سے ایسے ملے جیسے خادم مالک سے ملتا ھے۔ پھر وھ بھی بند کمرے میں چلے گئے