آڈیو لیکس کیس میں جسٹس بابر ستار کا حکمنامہ سپریم کورٹ میں چیلنج

10shehkhsbjaskjjjbs.png

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی طرف سے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب اور سابق وزیراعظم وبانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی آڈیولیکس کے معاملے پر 25 جون کو اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے جاری کیا گیا حکم نامہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

وفاقی حکومت کی طرف سے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ اداروں کے سربراہوں کی طلبی، رپورٹس منگوانا فیکٹ فائنڈنگ جیسا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے غیرمؤثر درخواست کے نکات سے ہٹ کر کارروائی کی گئی کیونکہ اس کے پاس ازخود نوٹس لینے کا اختیار نہیں ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے حقائق کے منافی فیصلہ کیا اور وہ ریلیف دیا جو مانگا نہیں گیا، یہ اختیارات سے تجاوز ہے۔


حکومت نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ 25 جون کو اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے جاری حکم نامہ کالعدم قرار دیا جائے۔ واضح رہے کہ 25 جون کے جسٹس بابر ستار کے حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ شہریوں کی کسی بھی قسم کی سرویلنس غیرقانونی ہے، ریاستی سرپرستی میں قانونی انٹرسیپشن مینجمنٹ سسٹم سے 40 لاکھ شہریوں کی سرویلنس ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کی سرویلنس کے انفرادی واجتماعی ذمہ داری وزیراعظم وکابینہ ممبران ہے، وزیراعظم انٹیللی جنس ایجنسیوں سے رپورٹ طلب کر کے کابینہ کے سامنے یہ معاملہ رکھیں۔ وزیراعظم لافل مینجمنٹ بارے اپنی رپورٹ 6 کے اندر عدالت میں جمع کروانے کے پابند ہیں اور یہ بھی بتائیں کہ شہریوں کی سرویلنس کون سے قانون کے تحت ہو رہی ہے؟

حکم نامے میں وزیراعظم سے پوچھا گیا تھا کہ سرویلنس سسٹم کا انچارج کون ہے جو شہریوں کی پرائیویسی متاثر کر رہا ہے؟ تمام تیلی کام کمپنیوں کو بھی لا فل انٹرسیپشن مینجمنٹ سسٹم بارے اپنی رپورٹ 5 جولائی تک جمع کروانے کا حکم دیا گیا۔ ٹیلی کام کمپنیاں یقینی بنائیں کہ لا انٹرسیپشن مینجمنٹ سسٹم کی ان کے سسٹمز تک رسائی نہیں ہونی چاہیے، ٹیلی کام کمپنیاں اپنا ڈیٹا صرف تحقیقاتی اداروں سے شیئر کرنے کی مجاز ہیں۔

حکم نامے میں پی ٹی اے اور ان کے ممبران کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا گیا کہ چیئرمین پی ٹی اے وممبران 6 ہفتوں میں توہین عدالت نوتسز کا جواب دیں اور ممبران بتائیں کہ ان کیخلاف توہین عدالتی کارکردگی کیوں شروع نہ کی جائے؟ پی ٹی اے نے بظاہر سرویلنس سٹم سے غلط بیانی کی، لافل انٹرسیپشن مینجمنٹ سسٹم نامی سرویلنس سسٹم سے متعلق رپورٹ پی ٹی اے سربمہر لفافے میں جمع کروائے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی اے سے پوچھا تھ اکہ سروینس کہاں نصب کیا گیا ہے اور اس تک کس کس کو رسائی حاصل ہے، حکومتی ان چیمبر درخواست کر کے اگلی سماعت 4 ستمبر کو مقرر کرنے کا حکم دیا تھا۔

یاد رہے کہ نجم ثاقب کی تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر ابوذر سے گفتگو 29 اپریل 2024ء کو منظرعام پر آئی تھی جس میں انہیں اسمبلی کی ٹکٹوں بارے بات کر رہے تھے۔
مبینہ آڈیو میں پی ٹی آئی امیدوار ابوزر چدھڑ سے کہتے ہیں کہ آپ کی کوششیں کامیاب ہوئیں جس پر نجم ثاقب نے کہا کہ مجھے اطلاع مل گئی ہے۔ نجم ثاقب نے پوچھا اب کیا کرنا ہے؟

جس پر ابوزر نے کہا ٹکٹ چھپوا رہے ہیں، اس میں دیر نہ کریں، وقت بہت تھوڑا ہے۔ مبینہ آڈیو سامنے آنے پر فرانزک تحقیقات سمیت معاملے کی تحقیقات کیلئے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحریک منظور ہونے کے بعد اسلم بھوتانی کی زیربراہی خصوصی کمیٹی قائم کی جس میں افضل خان ڈھانڈلہ، وجیہہ قمر، خالد حسین مگسی، ناز بلوچ، سید حسین طارق، شیخ روحیل اصغر، برجیس طاہر، محمد ابوبکر اور شاہدہ اختر شامل تھے۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق کمیٹی تحقیقات کیلئے کسی ادارے کی بھی تحقیقاتی ادارے کی مدد حاصل کر کے رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرے گی۔

نجم ثاقب نے اس سپیشل کمیٹی کو 30 مئی کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ اس پارلیمانی پینل کی کارروائی روکی جائے کیونکہ یہ باڈی اسمبلی قوانین کی خلاف ورزی کر کے بنائی گئی۔ نجم ثاقب نے دعویٰ کیا تھا کہ کمیٹی نے انہیں طلب نہیں کیا لیکن سیکرٹری پارلیمانی کمیٹی نے انہیں اس کے باوجود پینل کے سامنے پیش ہونے کیلئے کہا تھا۔