آرٹیکل 63 سے متعلق نظرثانی کیس میں نیا بینچ نہیں بن سکتا،سلمان اکرم راجا

13salmanakrmarajanewbech.jpg

سینئر قانون دان سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ آرٹیکل 63 اے سے متعلق کیس پر نظرثانی کی درخواست پر سماعت کیلئے نیا بینچ نہیں بن سکتا۔

تفصیلات کے مطابق سماء نیوز کے پروگرام لائیو ود ندیم ملک میں گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اگر آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے معاملے پر یہ حکم نا دیا جاتا کہ جو ووٹ ڈال دیا گیا وہ شمار ہی نہیں ہوگااگر یہ تشریح نا ہوتی تو 16 اپریل کو حمزہ شہباز وزیراعلی منتخب ہوجاتے ۔

https://twitter.com/x/status/1551607083379867649
انہوں نے کہا کہ اگر وہ فیصلہ نا آتا تو نا ہی رن آف الیکشن کی ضرورت پیش آتی کیونکہ حمزہ شہباز 197 ووٹوں سے جیت گئے تھے، اس وقت اسی کیس میں نظرثانی کا کیس عدالت کے سامنے ہے وہ وہی پانچ رکنی بینچ ہی سنے گا ، نظرثانی کے کیس میں یہ بھی بند ش ہے کہ کیس اسی بینچ کے سامنے لگتا ہے اس کیلئے کوئی نیا بینچ تشکیل نہیں دیا جاسکتا۔

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اس وقت خطرناک صورتحال ہے ، ہمیں بحیثیت قوم اس ساری صورتحال کا تدارک کرنا ہے اور اس میں عدلیہ کو بھی اپنا حصہ ملانا ہے، عدلیہ کی ماضی کی جانب نظریں دوڑائیں تو اس میں حقیقی نوعیت کی شکایات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرے میں اداروں کا اعتماد بحال ہو اور اعتماد ایسے ہی بحال نہیں ہوجاتا اس کیلئےہر کسی کو اپنا حصہ ڈالنا پڑتا ہے۔