آئی ایم ایف کے مطالبات پر بجٹ میں کون کونسی اشیاء مہنگی ہونے کا امکان ہے؟

imfbdh1i12h1.jpg

آئی ایم ایف کا سیلز ٹیکس چھوٹ کم کرنے کا مطالبہ، بجٹ میں کون کون سی اشیاء مہنگی ہونے کا امکان ہے؟

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے حکومت سے سیلز ٹیکس کی چھوٹ مزید کم کرنے کا مطالبہ کردیا ہے جس کے بعد بجٹ میں اجناس، سولر پینل وغیرہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو آئندہ مالی سال کیلئے 12 ہزار 9سو ارب روپے ٹیکس کے اہداف مقرر کرنےسے متعلق تجاویز پیش کردی گئی ہیں، بریفنگ کے دوران ایف بی آر نے وزیراعظم کو 15 سو ارب روپےسے زائد کے نئے ٹیکسز لگانے کی تجویز دی جس کےبعد وزیراعظم نے تجاویز کو حتمی شکل دینے کی ہدایات کردی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے نئے مالی سال کے بجٹ میں سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کرنے اور رعایتیں محدود کرنے کا مطالبہ کیا ہےجس کے بعد ملک میں مہنگائی کی شرح بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے زیرو ریٹڈ سیل ٹیکس سیکٹر پر 5 فیصد سے10 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کا مطالبہ کیا ہے ، بجٹ کے بعد دودھ، پتی، چینی ، چاول اور آٹا مہنگا ہونے کا امکان ہے۔

حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں درآمدی سامان پر ٹیکس ڈیوٹیز بڑحانے اور فوڈ آئٹمز پر سیلز ٹیکس چھوٹ کو ختم کرکے ود ہولڈنگ ٹیکس یا کسٹم ڈیوٹیز کی شرح بڑھانے کی تجاویز پر کام شروع کردیا ہے اور ساتھ ہی سولر پینل پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

بجٹ میں کسانوں کو سالانہ بھاری نقصان کے پیش نظر زرعی اجناس کے ویئر ہاؤس سروسز دینے والی کمپنیوں کو ٹیکس چھوٹ دینے، انشورنس سیکٹر کیلئے ٹیکس مراعات دینے اور اسٹوریج ویئر ہاؤس کے درآمدی آلات پر دس سال تک کی ٹیکس چھوٹ دینے کا امکان ہے۔