Who is Behind Fatima Sohail(Ex-Wife of Mohsin Abbas)'s Fake Video? Fatima Sohail replies

Kashif Rafiq

Chief Minister (5k+ posts)

پاکستانی میڈیا انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی خاتون فاطمہ سہیل نے سوشل میڈیا پر نازیبا وائرل ویڈیو سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی ویڈیو وائرل کرنے والاشخص سب جانتے ہیں کہ وہ شخص کون ہے، مجھ اسکا نام لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

بول نیوز پرپروگرام ’ایسا نہیں چلے گا ود ڈاکٹر فضااکبر‘میں فاطمہ سہیل نےواضح الفاظ میں بیان دیتے ہوئے کہاکہ لوگوں کوبتادینا چاہتی ہوں میں وائرل ہونے والی غیر اخلاقی ویڈیو میں میں نہیں ہوں، میرا اس ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں۔


انہوں نے کہا کہ تین چاردن سے جس سے جس قسم کے گھٹیا کمنٹس، گندی باتیں اور مجھے گالیاں دی جارہی ہیں،میں اکیلے اپنے بچے کے ساتھ کھڑی ہوئی ہوں، میں اور بھی کئی جنگیں لڑ رہی ہوں، مجھے ایک اور مصیبت میں دھکیلا جارہاہے۔

انہوں نے کہا کہ افسوس اس بات کاہےکہ اگر ان باتوں میں اس شخص کاہاتھ نہیں بھی ہے تو کم از کم جس آدمی کے ساتھ 6،7 سال گزار دیے وہ ایک بار بھی میرے حق میں نہیں بولاکہ ویڈیو میں میں نہیں ہوں۔ مردانگی یہ نہیں، مردانگی یہ ہے کہ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد وہ یہاں آکے میرے حق میں بولتا۔

فاطمہ نےانٹرویو کے دوران بتایاکہ ایف آئی اے کی رپورٹ شئیرکرچکی ہوں جس میں واضح طورپر لکھا ہواہے کہ جس عورت کے ساتھ مجھے منسوب کیاجارہا ہے وہ فاطمہ نہیں بلکہ کوئی اور ہے۔ نوٹیفکیشن میں ویڈیو ہٹانے کی درخواست بھی درج ہے۔

انٹرویو میں اپنے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے پرفاطمہ سہیل روہانسی ہوگئیں اور انہوں نے کہا کہ شاید مجھے عورت ہوکر آواز اٹھانے کی سزا مل رہی ہے۔ اور بظاہر پیغام یہی دیا جارہاہے کہ ’شادی شدہ زندگی میں شوہر جیسا بھی ہو، مار کھائیں لیکن آواز نہ اٹھائیں‘ کیونکہ اگر آپ نکلیں گی تو آپکو ایسی بھیانک سزا ملے گی۔

انہوں نےسوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ تمام لوگ جنہوں نے اس ویڈیو کودھڑا دھڑ شئیر کیااور مجھے گندی گالیاں دیں، کیاان کے اپنے گھر مائیں بہنیں نہیں۔


’ان لوگوں کوشرم آنی چاہیئے جو گندی ویڈیو میرے نام کے ساتھ منسوب کررہے ہیں، میرے بیٹے کی شناخت پر سوال اٹھا رہے ہیں، اس شخص کو بھی شرم سے ڈوب مرنا چاہیئے جسکا یہ بیٹاہے۔ اس شخص کوایک بار ضرور بولناچاہیئے تھا کہ ویڈیو میں جو عورت ہے وہ میری بیوی نہیں، جس نے خود یہ حرکت کی ہو وہ کیوں بولے گا‘۔

فاطمہ سہیل جو اپنے کرئیر کادوبارہ آغاز کرنے جارہی ہیں، اینکرفضا اکبر کےایک سوال پر کہا کہ اب اس شخص کو یہ مسئلہ ہورہاہے کہ یہ زندہ ہی کیوں ہے، یہ اپنے بچے کیلئے اسٹینڈ کیوں لے رہی ہے، یہ اپنے بچےکیلئے کام کیوں کررہی ہے۔ وہ شخص اپنے بیٹے کوایک روپیہ تک نہیں دیتا۔کیا مجھے اپنے بیٹے کوپالنا نہیں؟

ان کا کہناتھا کہ لوگوں کی جانب سے اس کمنٹ پر شدید دکھ ہوا کہ یہ عورت میڈیا میں آنا چاہتی تھی،کیا میں نے پہلے میڈیا پر کبھی کام نہیں کیایا کبھی کیمرہ فیس نہیں کیا،کیا کبھی اسکرین پر نہیں آئی۔ لوگ بولنے سے پہلے ایک بار بھی نہیں سوچتے۔

’میرا کچھ دن بعد بول ٹی وی پر شوآن ائیر ہونے والاہے، مجھ سے بدلہ لینے کیلئے میری عزت پر سوال اٹھایا جارہاہے،میں نے اکتوبر میں سائبر کرائم سے رابطہ کیا تھاکیونکہ میرے شوہرکی گرل فرینڈ کی جانب سے مجھے دھمکی آمیز پیغامات موصول ہورہےتھے، اس کی جانب سے پیغامات پرمجھے ہراساں کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ وہ مجھ سے ان دونوں کو چہرہ نقاب کرنے کا بدلہ لے رہی ہے‘۔

’میرا 6 ماہ کا بچہ ہے، میں ابھی اس اذیت سے باہر نہیں نکلی تھی، مجھے مزید چوٹ پر چوٹ پہنچائی جارہی ہے‘۔

فاطمہ سہیل نےکہا کہ صرف انہیں ہی نہیں بلکہ ان کے پورے خاندان کوتکلیف پہنچائی جارہی ہے، ’میرے خلاف ایک مہم سرگرم ہے، ایسےپیجز بھی ہیں جو بغیر تصدیق کیے خبر چلا دیتے ہیں۔ یہ لوگوں کو خود کشی پرمجبور کردیں گے‘۔

انہوں نےبتایاکہ ’26 ستمبر کومیری خلا ہوچکی ہے اور اب بچے کی تحویل کاکیس چل رہاہ ہے اور پہلے جو کیس ڈومیسٹک وائلنس اور دھوکا دہی کاتھا، وہ بھی زیر سماعت ہے‘۔

آخر میں انہوں نےپیغام دیتے ہوئے کہاکہ ’میرا یہ پیغام ان لوگوں کیلئے ہے جو مجھے توڑنا چاہتے ہیں، یہ ان لوگوں کی بھول ہے کہ میں پیچھے ہٹوں گی،میں تمام عورتوں کیلئے مثال بنوں گی کہ انہیں اپنے اور اپنے بچوں کیلئے اسٹینڈ لیناہے اور ایسے لوگوں سے ڈرنا نہیں ہےجو پیٹھ پیچھے گری ہوئی حرکتیں کرتے ہیں۔


 
Advertisement

Dilvaly

Politcal Worker (100+ posts)
اصل مجرموں کو پکڑنا چاہیے جو اس ننگی فلم میں تھے اور انھوں نے اس کو وائرل کیا۔
 
Sponsored Link

Latest Blogs Featured Discussion اردوخبریں