To Javed Chaudhry and Talat Hussain.

M Ali Khan

Minister (2k+ posts)
ہینکرز پھینکرز کے ٹوپی ڈرامے

Saturday 27 July 2013​



http://urdu.dawn.com/2013/07/27/hankers-pankers-ke-topi-dramay-am-abid-aq/

آپ سچ پوچھیں تو میں ٹیلی ویژن سکرین پر ظاہر ہونے، ٹی وی پر شکل دکھانے اور اپنی آواز سنانے سے گھبراتا ہوں۔ میری گھبراہٹ کی تین وجوہات ہیں۔


پہلی وجہ میری شخصیت ہے، میں کسی بھی زاویے سے کیمرہ فرینڈلی نہیں ہوں، میری شکل واجبی ہے، میری آواز میں بھی گھن گرج، دبدبہ، طنطنہ، وقار اور گونج نہیں۔ میں ایک عام، سیدھی سادی اور غیر متاثر کن آواز کا مالک ہوں۔ میرے چہرے پر دیہاتیوں کا خوف، کسانوں کی پریشانی اور زمینداروں کا شرمیلا پن ہے۔


ٹیلی ویژن سے گھبرانے کی دوسری وجہ زبان ہے۔ مجھے بولنا نہیں آتا، میں وسطی پنجاب کے دیہاتی علاقے سے تعلق رکھتا ہوں، اس علاقے کا لہجہ بہت خام اور اکھڑ ہے، مجھے زندگی میں کبھی خالص اردو سننے، سیکھنے اور بولنے کا موقع نہیں ملا۔


میری تیسری خامی سیاستدان ہیں، میرے سیاستدانوں کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ میں زندگی میں تین چار سیاستدانوں کے علاوہ آج تک کسی کے گھر، کسی کے دفتر نہیں گیا۔


یہ معصومانہ اعترافات جاوید چوہدری نامی کالم نویس اور اینکر کے ہیں، جو ان کی کتاب کل تک کے تعارف سے لیے گئے ہیں۔ پاکستانی بورژوا طبقے کے اس پسندیدہ لکھاری نے ان الفاظ میں بہت عاجزی اور انکساری کا اظہار کیا ہے، البتہ حقائق ہمیں ایک متضاد تصویر پیش کرتے ہیں۔


شخصیت اور زبان میں موجود خامیوں کے باوجود کئی سال سے ٹی وی سکرین پر براجمان رہنے والے چوہدری صاحب نے پاکستانی میڈیا میں کئی نئے رجحان متعارف کروائے۔ دو ہزار نو میں کئے گئے ایک پروگرام میں فردوس عاشق اعوان اور کشمالہ طارق کی گفتگو نازیبا حد میں داخل ہو گئی اور چوہدری صاحب بیٹھے تماشا دیکھتے رہے۔


دو ہزار دس میں ان کے ایک پروگرام میں مشرف کے لے پالک، جنرل راشد قریشی نے خواجہ آصف کو سخت نازیبا الفاظ سے نوازا اور انہی کے ایک پروگرام کے دوران بیرسٹر سیف نے طلال بگٹی کو قتل کی دھمکی دی۔


اپنی سب خامیوں کا اعتراف کرنے والے جاوید چوہدری نے ان سب واقعات کے دوران ایک خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا اور پاکستانی اینکروں کی خصلت کے پیش نظر عقل استعمال کرنے سے گریز کیا۔


سیاست دانوں سے تعلقات کا رونا رونے والے چوہدری صاحب، ملک ریاض کی شان میں قصیدے لکھتے نہیں تھکتے (حاسدوں کے مطابق ملک ریاض کے نام سے چھپنے والے بہت سے کالم اصل میں چوہدری صاحب نے لکھے تھے)۔ اپنے کالموں میں دنیا جہان سے اکٹھے کئے گئے حقائق (جو کہ بہت دفعہ حقائق نہیں ہوتے) کو اپنی مرضی کے پیرائے میں ڈھالنے میں بھی جناب مہارت رکھتے ہیں۔


ماضی میں یہ صاحب جہادی رسالے ضرب مومن کے لیے یاسر محمد خان کے قلمی نام سے لکھ چکے ہیں۔ نجم سیٹھی صاحب پر سرخ بن مانس نامی مضمون بھی چوہدری صاحب نے ہی لکھا۔


پیروں، فقیروں اور دیگر روحانی شخصیات کا ڈھنڈورا پیٹنا بھی جناب کا خاصہ ہے۔
فکر کی بات یہ ہے کہ اس میدان میں یہ صاحب اکیلے نہیں، بلکہ مشہور اینکروں کی ایک بڑی تعداد اسی روش میں بہہ رہی ہے۔


بورژوا کے ایک اور پسندیدہ اینکر کا تذکرہ بھی سن لیجیے۔ سید طلعت حسین کو عام طور پر ایک غیر جانب دار صحافی تصور کیا جاتا ہے۔ یہ غیر جانب دار صحافی دو ہزار دس میں مسلم امہ کے غم میں غزہ جانے والے ایک چھوٹے بحری جہاز میں سوار ہوئے اور جب وہاں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تو حکومت کو جان بچانے کے لیے مداخلت کرنی پڑی۔


پاکستان میں شائد ہی کوئی بڑا چینل ہو جہاں طلعت صاحب نے کچھ دیر وقت نہ صرف کیا ہو۔ کچھ سال قبل جب اینجلینا جولی پاکستان آئی تو تماشا دیکھنے سید صاحب بھی گئے اور اس کے بعد ایک کالم لکھا جس میں جولی کے کردار پر انگلیاں اٹھائیں اور اس کو رنگ برنگے یتیم بچے حاصل کر کے پالنے والی عورت کے خطاب سے بھی نوازا۔ اسی مضمون میں پاکستانی غیرت بریگیڈ کے پسندیدہ موضوع یعنی آرٹیکل باسٹھ-تریسٹھ کا بھی ذکر کیا گیا۔


فوجی حکمرانوں اور فوج کے ادارے سے سید صاحب کو خاص انسیت ہے۔ دو ہزار سات میں وکلا تحریک کے بوجھ تلے دبے مشرف سے ایک میٹھا انٹرویو جناب نے ہی کیا۔


وکی لیکس کے انکشافات پر فوج کی حمایت میں بھی سب سے پہلے جناب نے ہی کالم لکھا (کیا اسکی وجہ یہ تھی کہ وکی لیکس کے مطابق طلعت حسین، پاکستان میں امریکی جاسوسی ادارے Stratfor کے نمائندے ہیں؟)۔


ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ
کے ظہور کے بعد یہ خبر بھی جناب نے ہی سنائی کہ یہ رپورٹ اصل نہیں بلکہ صرف ایک مسودہ ہے۔ اس موضوع پر لکھے مضمون بعنوان سب اچھا ہے میں رپورٹ لیک کرنے والوں پر نقطہ چینی کی گئی ہے ، البتہ اصل بات (یعنی پاکستانی جاسوسی اداروں کی شرم ناک نااہلی جس کی جانب اس رپورٹ میں واضح اشارے موجود ہیں) پر تبصرہ موجود نہیں۔


گزشتہ دنوں ایک ہندوستانی افسر کے ممبئی حملوں سے متعلق ایک مہمل سے انکشاف پر محترم نے جو کالم لکھا، اسکا ایک اقتباس ملاحضہ کریں:



مگر اصل مسئلہ پاکستان میں موجود بندی گروپ کا ہے۔ کالی ماتا کے جادو کے تحت چلنے والے چند ایک لوگ رمضان مبارک میں بھی محرم کی کیفیت میں ہیں۔ ان کو کتنا دکھ ہوا ہو گا یہ جان کر کہ امریکی چندے سے چلنے والی ان کی پاکستان کش مہم کس طرح متاثر ہوئی ہے۔ حسین حقانی نیٹ ورک کے پیروکار جس میں ایک ریٹائر کیپٹن بھی شامل ہے، جو پنشن تو فوج سے لیتا ہے مگر اسی تھالی میں چھید کرتا ہے، اب کس منہ سے وہ مقدمہ دوبارہ پیش کریں گے جو انہو ں نے پارلیمنٹ اور بمبئی حملوں کے بعد پاکستان کی ریاست کے خلاف بنایا۔


جن افراد کی جانب شاہ صاحب نے طنز و تشنیع کے تیر روانہ کیے ہیں، وہ سب پاکستان اور ہندوستان کے درمیان بہتر تعلقات کے خواہاں اور پاکستانی حساس اداروں کی شر انگیز حرکتوں سے شاکی ہیں۔ سید صاحب نے بین السطور لشکر طیبہ جیسی جماعتوں کے وجود اور ایجنڈے سے انکار کرتے ہوئے ہندو بنیے کی بدنیتی پر جرح کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔


مضحکہ خیز بات تو یہ ہے کہ طلعت صاحب کو اپنے تمام تر اعمال دوسروں میں نظر آتے ہیں۔ ملاحضہ کریں ان کا مضمون بنام میں ایک سورما صحافی ہوں:


میرے اپنے شعبے میں کالی بھیڑیں موجود ہیں۔ بعض نے تو قلم کو سکول کی ویگن کی طر ح کرائے پر دیا ہوا ہے جو ایک مہینے ایک محلے میں گھومتی ہے اور اگلے مہینے کسی اور جگہ متعین ہو جاتی ہے۔ میں امریکہ کے خلاف بھی تسلسل سے نہیں لکھ سکتا، میں تیسری دنیا میں کام کرنے والا چوتھے درجے کا صحافی ہوں اور وہ سوپر پاور۔


پاکستانی میڈیا کے ایک اور سورما سلیم صافی اور انکی گری ہوئی سوچ کے بارے میں ہم پہلے تفصیل سے بات کر چکے ہیں۔


غیرت برگیڈ کے دو نامور کارکنان کے بھی چند افکار سن لیں؛



پاکستان میں غیرت اور اخلاقیات کا چوبیس گھنٹے نوحہ پڑھنے والے انصار عباسی نے ایک حالیہ کالم میں سوال اٹھایا کہ؛ ایک شخص کو شناختی کارڈ کی تصویر کے لیے عمامہ اتارنے کا کیوں کہا گیا۔ کیا یہ پاکستان ہے؟


اسی طرح افسر شاہی میں موجود مودودی کے جانشین اوریا مقبو ل جان نے فرمایا کہ؛ حضرت شعیب کی قوم جس پر عذاب آیا، سرمایہ دارانہ جمہوریت کی بہترین مثال تھی۔


کچھ روز قبل انہوں نے انکشاف کیا کہ کارل مارکس کی کتاب داس کیپٹل پڑھ کر جناب دہریے ہو گئے تھے۔ زیارت ریذیڈنسی کی تباہی پر فرمایا؛ قائد اعظم اسلامی تاریخ کی ایک عظیم علامت ہیں اور زیارت ریذیڈنسی بھی اسلامی تاریخ کی علامت تھی۔


اسی طرح ایک دن لکھا؛


یہ ملک (پاکستان) ہر اس شخص کی آنکھ میں کھٹکتا ہے جو اللہ کی دو قومی تقسیم سے انکار کرتا ہے۔


گورنر سلمان تاثیر پر توہین کے اشتعال انگیز الزامات کی بوچھاڑ کرنے والی مہر بخاری (جن کو سوشل میڈیا پر زہر بخاری کے نام سے جانا جاتا ہے) ابھی تک ٹی وی سکرینوں پر موجود ہے۔ حامد میر (جن کو واٹر کٹ متعارف کرانے کا اعزاز حاصل ہے) اور کامران خان کو اصلی صحافت کیے ہوئے دہائیاں گزر چکی ہیں، اب صرف تماشوں پر زور ہے۔

روز شام کو دنگل سجایا جاتا ہے، پھوٹ ڈلوائی جاتی ہے اور پھر تماشا شروع ہوتا ہے۔ اس ٹوپی ڈرامے میں مبشر لقمان، کاشف عباسی، شاہد مسعود، کامران شاہد وغیرہ برابر کے شریک ہیں۔


اس طرح کے ہینکرز پیھنکرز جب تک ہمارے ذرائع ابلاغ پر چھائے رہیں گے، ترقی یا ایسی کسی اور بہتری کی امید رکھنا بھی ممکن نہیں۔


مزاح پر مبنی پروگرام بھی یک رخے ہو چکے ہیں۔ حسب حال، جو آفتاب اقبال کے قلم سے نوائے وقت میں شائع ہونے والا ایک کالم ہوتا تھا، اب ایک مقبول ترین پروگرام بن چکا ہے۔ پروگرام کے موضوعات اور تبصرے بحرحال ابھی تک نوائے وقت والے ہی ہیں۔


سہیل احمد عرف عزیزی
کے حافظ سعید صاحب سے تعلقات کیوں اور کیسے ہیں، ہمیں کچھ علم نہیں۔ جنید سلیم صاحب کئی برس سے جس اخبار کے مدیر ہیں، وہ روزانہ مودودی صاحب کی تفہیمات کا ایک اقتباس ادارتی صفحے پر چھاپتا ہے۔


ایسے لوگوں سے غیر جانب داری کی توقع بھی کیسے کی جا سکتی ہے۔ مقابلے میں آفتاب اقبال صاحب نے بھانڈ حضرات کو سیاسی تبصرہ نگاروں کا درجہ دے رکھا ہے۔


ڈاکٹر یونس بٹ
نے اپنے کیریئر کا آغاز سیاسی شخصیات کے مزاحیہ خاکے لکھ کر کیا تھا۔ وہ دماغی طور پر ابھی تک وہیں پھنسے ہوئے ہیں اور کئی سال سے ایک ہی نسخے کو مختلف رنگوں میں استعمال کرتے جا رہے ہیں۔


رمضان کے مہینے میں یہ دھینگا مشتی نیا روپ اختیار کرتی ہے اور مذہب کو حسب معمول اپنا سودا بیچنے کے لیے بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔ عامر لیاقت کے شعبدوں نے اس سال سارے ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور حاضرین کو نئے گھروں سے لے کر نومولود بچے تک دیے جا چکے ہیں۔


ان سب حالات میں ہمیں ایک بات سمجھ نہیں آتی، کہ آخر وہ کون لوگ ہیں جو یہ سب ہنسی خوشی دیکھتے رہتے ہیں اور احتجاج بھی نہیں کرتے؟ کیا ہم بحیثیت قوم بےحسی کی ذہنی بیماری کا شکار ہیں؟




عبدالمجید کا تعلق سیالکوٹ سے ہے اور انہیں تاریخ، سیاست اور معاشیات کے مضامین میں دلچسپی ہے۔

 
Advertisement
Last edited by a moderator:

Qureshi sb

Voter (50+ posts)
Eik he thread main sary media anchors ko aap ny lataar diya. bari himat ki hai.

Apky khayalaat sy main kafi hadd tak mutafiq hn. lykin thora bohot Husan E zan main rakhta hn.

Agar ho saky toh kuch Wusat Ullah Khan jo BBC k liye likty hain unn k bary main bhi irshaad farmaye!!

tamam log jin k apny naam liye hain grass root level ki sahafat nahi karty. Except rauf Klasara, Nusrat Javed and Shoukat Paracha.

Islam ka matlab AMAN, Aman sy nikla Momin. Aur Momin ki pehchan Kalma. humary ahel e watan ny wo kalama aur Qurani Ayaat jab talwaar aur AK 47 ki shape main likhna shuro kar di hain to Tableegh o Parchaar bhi toh usi jangi style main he hogi.

Jab deen ki tableegh ka yeh haal hai toh degar Oblaagh e Aama ka kia rona ???

Indeed ur words are harsh but true.
 

Pak1stani

Prime Minister (20k+ posts)
لگتا ہے طلعت حسین نے اس مضمون نگار یا اسکے مالک کی کسی دکھتی رگ پر ہاتھ رکا ہے
 

M Ali Khan

Minister (2k+ posts)
Eik he thread main sary media anchors ko aap ny lataar diya. bari himat ki hai.

Apky khayalaat sy main kafi hadd tak mutafiq hn. lykin thora bohot Husan E zan main rakhta hn.

Agar ho saky toh kuch Wusat Ullah Khan jo BBC k liye likty hain unn k bary main bhi irshaad farmaye!!

tamam log jin k apny naam liye hain grass root level ki sahafat nahi karty. Except rauf Klasara, Nusrat Javed and Shoukat Paracha.

Islam ka matlab AMAN, Aman sy nikla Momin. Aur Momin ki pehchan Kalma. humary ahel e watan ny wo kalama aur Qurani Ayaat jab talwaar aur AK 47 ki shape main likhna shuro kar di hain to Tableegh o Parchaar bhi toh usi jangi style main he hogi.

Jab deen ki tableegh ka yeh haal hai toh degar Oblaagh e Aama ka kia rona ???

Indeed ur words are harsh but true.

Wusatullah Khan is not an anchor or a prime time TV talkshow host.

btw, these are NOT my words but an article I found on Dawn Urdu.
 

ft Nas

New Member
Bohat hi bekar try thi..agar aik topic..aik sahafi..ya aik agenday tuk rehte to acha hota..aise to khichdi bana di.. :/ na sir ka pata hai na paer ka..! lugta hai k zindagi se hi tang ho.......
 

M Ali Khan

Minister (2k+ posts)
Looks like I caused a lot of butthurt here :P

Good. Exposing hypocrisy and ignorance is not a popularity contest.
 
Secular tabqay ke to maan mar rahy hay chand achy sahfiown per..sari story bnai he just talat, oriya maqbool jan , juniad, aziai and insar abassi k laiy hay lnaat hay ais per
 

Adeel Rehman

Chief Minister (5k+ posts)
Uncle ko bohat depression hay.... lagta hy pakoray kha kha ky gas damagh ko char gai hy:lol::lol::lol::lol::lol:

uncle ye try karain [hilar][hilar][hilar]

images
 

the.paki

Senator (1k+ posts)
آپ کے حساب سے تو آپ کے علاوہ کوئی بھی سہی انسان نہیں اگر چہ چند باتیں ٹھیک بھی ہیں
 

amir..

Councller (250+ posts)
Bhai sahab nay bari mahnat say apna time zayya keya hai. Najam shathi,nusrat javed, kamran shafi, marve sarmad, mustaq mihas, ijaz haider,raza rumi,naseem zahra, muhammad malic, deepa, asma jahageer and her sister
.... And list just go on and on. Wo sub to bohat achay hai na. These people will leed us to distruction and ignorance.
 

sewlix

MPA (400+ posts)
FittY moun yar.Dosron ko degrade kar k khud acha writer banna chahty hon.Afsoos hua...Ye to pura perha b nai jata itna fazool ha
 
Sponsored Link