The Reality of Magic (The Contract between Jinn and Human)

The_Choice

Senator (1k+ posts)
#1

"The Day when He will gather them together, "O company of jinn, you have [misled] many of mankind." And their allies among mankind will say, "Our Lord, some of us made use of others, and we have [now] reached our term, which you appointed for us." He will say, "The Fire is your residence, wherein you will abide eternally, except for what Allah wills. Indeed, your Lord is Wise and Knowing." (The Noble Quran 6:128)
 
Advertisement
Featured Thumbs
https://i.ytimg.com/vi/iQvSfAPFmAc/maxresdefault.jpg

Mughal1

Chief Minister (5k+ posts)
#2
insaanu ko infiraadi aur ijtamai tor per mukhtalif wajuhaat ki bunyaad per mukhtalif naam diye jaate hen. yahee baat quraan ker rahaa hai insaanu ke baare main. is baat ko achhi tarah se samajhna bahot hi zaroori hai tohamaat parasti se nikalne ke liye.

mullah ne jinno ko insaanu ki tarah ki aik aur makhlooq banaa daala aur us per tarah tarah ki behuda kitaaben likh maarin aur yoon unjaan aur laa ilm logoon ko tohamaat parasti main daal diya.

 

Qalumkar

MPA (400+ posts)
#3
اِس کلپ کے آغاز میں سورۃ البقرہ کی آیت 102 کی تلاوت سنائی گئی اور تلاوت کے دوران ترجمہ نہیں بتایا گیا اور موصوف نے بعد میں ایک فرضی کہانی کو آیت کی تفسیر کے طور پر بیان کیا اور اُس من گھڑت افسانے کے مطابق پھر آیت کا ترجمہ کیا۔ جو افسانے شیاطین نے لوگوں کو حضرت سُلیمانؑ کی نبوت سے گمراہ کرنے کے لئےمشہور کر رکھے تھے۔ تفسیر بتانے والے نے اُس من گھڑت افسانے کو حقیت کے طور پر پیش کیا۔ اللہ کا ہاروت اور ماروت کو نازل کرنا اور لوگوں کو جادو سکھانا سب اُس افسانے کا حصہ ہیں جو شیاطین لوگوں کو سناتے تھے۔ جبکہ تفسیر بتانے والے کا دعوی ہے کہ اللہ نے حقیقت میں ہاروت اور ماروت کو نازل کیا ۔ کون سا ایسا مسلمان ہے جو یہ سوچ بھی سکتا ہےکے اللہ تعالی لوگوں کو جادو سکھانے کے لئے فرشتے نازل کر سکتاہے۔ یہ تو اللہ پر سراسر بہتان ہے ۔ تفسیر سنانے والا اِس افسانے کو جادو کا آغاز قرار دے رہا ہے۔اِس طرح کے اور بے بنیاد افسانے قرآن سے منسوب کر کے ملاوں نے قرآن کو طلسماتی کہانیوں کا مجموعہ بنا دیا ہے جبکہ اللہ تعالٰی نے قرآن کو تمام جہانوں کے لئے رحمت اور نصیحت کہا ہے۔
اِس آیت کے تین حصے ہیں پہلے حصے میں اللہ تعالی بتا رہا ہے کے لوگوں نے شیطان کی من گھڑت کہانیوں کا اتباع کیا ۔ اِس میں حضرت سُلیمانؑ کا کوئی قصور نہیں تھا بلکہ سب کا سب قصور فتنہ پردازوں کا تھا جو لوگوں کی عقل کو ماؤف کر دینے والی باتیں سکھاتے تھے

دوسرے حصے میں وہ من گھڑت کہانی بیان کی ہے جو فتنہ پرداز لوگوں کو حضرت سُلیمانؑ سے گمراہ کرنے کے لئے سناتے تھے۔

تیسرے حصے میں اُن لوگوں کا انجام بتایا ہے جو مَن گھڑت افسانے لوگوں کو سُنا کر بھٹکاتے ہیں ۔ اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جادو، ٹونے اور تعویذ گنڈے سے اُن کے کام کر دیں گے لیکن وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ ہو گا وہی جو اللہ کے قانون کے مطابق ہے۔وہ لوگ دنیا میں تو کچھ کما لیں گے لیکن آخرت میں اُن کے لئےکچھ بھی نہیں ہے۔
 

brohiniaz

MPA (400+ posts)
#5

شیاطین سے مراد شیاطینِ جِنّ اور شیاطینِ اِنس دونوں ہوسکتے ہیں اور دونوں ہی یہاں مراد ہیں۔ جب بنی اسرائیل پر اخلاقی ہ مادّی انحطاط کا دَور آیا اور غلامی، جہالت، نَکبَت و اِفلاس اور ذِلَّت و پستی نے ان کے اندر کوئی بلند حوصلگی و اُولواالعزمی نہ چھوڑی، تو ان کی توجہّات جادُو ٹونے اور طلسمات و ”عملیات“ اور تعویذ گنڈوں کی طرف مبذول ہونے لگیں۔وہ تو ایسی تدبیریں ڈھونڈنے لگے، جن سے کسی مشَقّت اور جدّوجہد کے بغیر محض پُھونکوں اور منتروں کے زور پر سارے کام بن جایا کریں۔ اس وقت شیاطین نے ان کو بہکانا شروع کیا کہ سلیمان ؑ کی عظیم الشان سلطنت اور ان کی حیرت انگیز طاقتیں تو سب کچھ چند نقوش اور منتروں کا نتیجہ تھیں، اور وہ ہم تمہیں بتائے دیتے ہیں۔ چنانچہ یہ لوگ نعمت غیر مترقبہ سمجھ کر اِن چیزوں پر ٹوٹ پڑے اور پھر نہ کتاب اللہ سے ان کو کوئی دلچسپی رہی اور نہ کسی داعی حق کی آواز انہوں نے سُن کردی۔

اس آیت کی تاویل میں مختلف اقوال ہیں، مگر جو کچھ میں نے سمجھا ہے ہو یہ ہے کہ جس زمانے میں بنی اسرائیل کی پُوری قوم بابل میں قیدی اور غلام بنی ہوئی تھی، اللہ تعالیٰ نے دو فرشتوں کو انسانی شکل میں ان کی آزمائش کے لیے بھیجا ہوگا۔ جس طرح قومِ لُوط کے پاس فرشتے خوبصورت لڑکوں کی شکل میں گئے تھے، اسی طرح ان اسرائیلیوں کے پاس وہ پیروں اور فقیروں کی شکل میں گئے ہوں گے۔ وہاں ایک طرف انہوں نے بازارِ ساحری میں اپنی دکان لگائی ہوگی اور دُوسری طرف وہ اتمامِ حُجَّت کے لیے ہر ایک کو خبردار بھی کردیتے ہوں گے کہ دیکھو، ہم تمہارے لیے آزمائش کی حیثیت رکھتے ہیں، تم اپنی عاقبت خراب نہ کرو۔ مگر اس کے باوجود لوگ ان کے پیش کردہ عملیات اور نقوش اور تعویزات پر ٹوٹے پڑتے ہوں گے۔

فرشتوں کے انسانی شکل میں آکر کام کرنے پر کسی کو حیرت نہ ہو۔ وہ سلطنتِ الٰہی کے کار پرداز ہیں۔ اپنے فرائضِ منصبی کے سلسلے میں جس وقت جو صُورت اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے وہ اسے اختیار کرسکتے ہیں۔ ہمیں کیا خبر کہ اس وقت بھی ہمارے کردوپیش کتنے فرشتے انسانی شکل میں آکر کام کرجاتے ہوں گے۔
رہا فرشتوں کا ایک ایسی چیز سِکھانا جو بجاے خود بُری تھی، تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے پولیس کے بے وردی سپاہی کسی رشوت خوار حاکم کو نشان زدہ سِکّے اور نوٹ لے جاکر رشوت کے طور پر دیتے ہیں تاکہ اسے عین حالتِ ارتکابِ جُرم میں پکڑیں اور اس کے لیے بے گناہی کے عذر کی گنجائش باقی نہ رہنے دیں۔

مطلب یہ ہے کہ اس منڈی میں سب سے زیادہ جس چیز کی مانگ تھی وہ یہ تھی کہ کوئی ایسا عمل یا تعویذ مِل جائے جس سے ایک آدمی دُوسرے کی بیوی کو اس سے توڑ کر اپنے اوپر عاشق کر لے۔ یہ اخلاقی زوال کا وہ انتہائی درجہ تھا، جس میں وہ لوگ مبتلا ہو چکے تھے۔ پست اخلاقی کا اس سے زیادہ نیچا مرتبہ اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ ایک قوم کے افراد کا سب سے زیادہ دلچسپ مشغلہ پرائی عورتوں سے آنکھ لڑانا ہو جائے اور کسی منکوحہ عورت کو اس کے شوہر سے توڑ کر اپنا کر لینے کو وہ اپنی سب سے بڑی فتح سمجھنے لگیں۔

ازدواجی تعلق در حقیقت انسانی تمدّن کی جڑ ہے۔ عورت اور مرد کے تعلق کی درستی پر پورے انسانی تمدّن کی درستی کا اور اس کی خرابی پر پورے انسانی تمدّن کی خرابی کا مدا ر ہے۔ لہٰذا وہ شخص بدترین مُفْسِد ہے جو اُس درخت کی جڑ پر تیشہ چلاتا ہو جس کے قیام پر خود اُس کا اور پوری سوسائٹی کا قیام منحصر ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ابلیس اپنے مرکز سے زمین کے ہر گوشے میں اپنے ایجنٹ روانہ کرتا ہے ۔ پھر وہ ایجنٹ واپس آکر اپنی اپنی کارروائیاں سُناتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے : میں نے فلاں شر کھڑا کیا۔ مگر ابلیس ہر ایک سے کہتا جاتا ہے کہ تُو نے کچھ نہ کیا۔ پھر ایک آتا ہے اور اطلاع دیتا ہے کہ میں ایک عورت اور اس کے شوہر میں جُدائی ڈال آیا ہوں۔ یہ سُن کر ابلیس اس کو گلے لگا لیتا ہے اور کہتا ہے کہ تُو کام کر کے آیا ہے۔ اس حدیث پر غور کرنے سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے کہ بنی اسرائیل کی آزمائش کو جو فرشتے بھیجے گئے تھے، انہیں کیوں حکم دیا گیا کہ عورت اور مرد کے درمیان جدائی ڈالنے کا ”عمل“ ان کے سامنے پیش کریں۔
دراصل یہی ایک ایسا پیمانہ تھا جس سے ان کے اخلاقی زوال کو ٹھیک ٹھیک ناپا جا سکتا تھا۔

تفہیم القرآن
 
Sponsored Link

Featured Discussions