"The Fascist Monks of Myanmar" - Eye Opener Documentary by Western Media about Ethnic Cleansing pf

#1


"The Fascist Monks of Myanmar" - Eye Opener Documentary by Western Media about Ethnic Cleansing of Rohingya Muslims - Must Watch Documentary

"The Fascist Monks of Myanmar" - Eye Opener Documentary by Western Media about Plight of Rohingya Muslims. What our Media is Up to ? Except fighting like dogs with each other ?

 
Advertisement
Featured Thumbs
http://www.blazingcatfur.ca/wp-content/uploads/2015/05/Wirathu-Time1.png
Last edited:

Imran Siddiqi

Well-Known Member
#2
Where is Dalai Lama
Looks like Moodi Group has Taken Over...
Is this really Hindus/Budhists real Face.
Yahya.Khan or some other RAW representative on this forum would like to comment
 

chandaa

Well-Known Member
#3
Who cares as Muslim rulers are busy in crushing fellow Muslims in their own countries. The real terrorism by BHUDISTS ignored by Human Rights Champion western states. Muslims should realize that non-Muslims will never do any justice with them.
 

thinking

Well-Known Member
#4
I feel ashamed to be called Muslim..jitna zulam Burma ke
Musalmano par ho raha ha..shayad hi Insani tareekh mien
kisi musalman par howa ho.lekan hamray Muslims leaders
So called Jihadi.Shiatan TTP..ISIS..Deash.Al Qiada walay apnay hi
bhaio behno ke galay katney mien masroof hain...L..anat in
ki Musalmani par..
 
#5
shame on us Muslims....our brothers and sisters are being persecuted and we are silently watching not even speaking against these atrocities
 
#6
جن کو وہاں جانے کا شوق ہے وہ کراچی کے راستے تیرتے ہوۓجا سکتے ہے، اور اپنے ساتھ ان جماعتیوں کو بھی ساتھ لے جایں
 
#7
غوری ، شاہین، اور غزنوی کی مار چیک کرنے کا بہترین موقع ہے مگر پھر اقتصادی پابندی لگے گی اور حکومت کی عیاشی ختم ہو جائے گی
 
#8
کسی دشمن سے انسان کیا گلہ کرے۔ یہاں اپنوں کو بھی اسوقت تک یاد نہیں آتی جب تک ان کے اپنے نہ مریں۔
جرنل راحیل شریف کا ایک فون برما کی حکومت کو جائے اور انہیں پیار سے کہے کہ اپنی اوقات میں رہو ورنہ تمہاری اوقات یاد دلا دیں گے۔ قسم ہے پیدا کرنے والے کی کہ اتنا ہی کافی ہے برما کی حکومت کی عقل ٹھکانے لگانے کے لیے۔
اگر پھر بھی برما کی حکومت نہ سدھرے یا بھارت کی گود میں بیٹھ جائے تو راحیل شریف کو چینی حکام سے بات کرنی چاہیے کہ پاکستانی فوج کے مسلحہ جہازوں کو برما کی سرحد پر منہ دکھلائی کے لیے جانے دے۔ سارے کے سارے گنجوں نے اپنی لمبی لمبی دھوتیاں وہیں گیلی کردینی ہیں جب پاک فوج کے جہاز ان کو نظر آئیں گے۔
مگر افسوس اس بات کا ہے کہ برما میں کوئی آرمی پبلک سکول نہیں ہے۔



 
#9
میرے بھائی ایک غریب ملک کو کیوں اس مشکل میں کیوں ڈالتے ھو، مجھے حیرت ھوتی ھےکہ کوئی سعودی عرب سے کیوں نہیں کہتا کہ ان بیچارے بےیارومددگارلوگوں کو اپنے ملک کی شہریت دےدے
کسی دشمن سے انسان کیا گلہ کرے۔ یہاں اپنوں کو بھی اسوقت تک یاد نہیں آتی جب تک ان کے اپنے نہ مریں۔
جرنل راحیل شریف کا ایک فون برما کی حکومت کو جائے اور انہیں پیار سے کہے کہ اپنی اوقات میں رہو ورنہ تمہاری اوقات یاد دلا دیں گے۔ قسم ہے پیدا کرنے والے کی کہ اتنا ہی کافی ہے برما کی حکومت کی عقل ٹھکانے لگانے کے لیے۔
اگر پھر بھی برما کی حکومت نہ سدھرے یا بھارت کی گود میں بیٹھ جائے تو راحیل شریف کو چینی حکام سے بات کرنی چاہیے کہ پاکستانی فوج کے مسلحہ جہازوں کو برما کی سرحد پر منہ دکھلائی کے لیے جانے دے۔ سارے کے سارے گنجوں نے اپنی لمبی لمبی دھوتیاں وہیں گیلی کردینی ہیں جب پاک فوج کے جہاز ان کو نظر آئیں گے۔
مگر افسوس اس بات کا ہے کہ برما میں کوئی آرمی پبلک سکول نہیں ہے۔



 
#10
میرے بھائی ایک غریب ملک کو کیوں اس مشکل میں کیوں ڈالتے ھو، مجھے حیرت ھوتی ھےکہ کوئی سعودی عرب سے کیوں نہیں کہتا کہ ان بیچارے بےیارومددگارلوگوں کو اپنے ملک کی شہریت دےدے
آپ کی باتوں سے حسن نثار کے خیالات کی بو آرہی ہے۔


آپ کو ایک مزیدار قصہ سناتا ہوں۔ عرب اور اسرائیل کے درمیان جنگ کی تاریخ کوئی پرانی نہیں۔ اس جنگ میں اسرائیل نے فتح حاصل کی اور مسلمانوں کو شکست ہوئی تھی اور نتیجے میں اسرائیل ایک مضبوط ریاست کے طور پر ابھر کے سامنے آیا۔ اس جنگ کے دوران اسرائیل کی وزیراعظم گولڈا میئر تھی۔
جنگ کے ایک عرصہ بعد واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے گولڈہ مائیر کا انٹرویو لیا اور سوال کیا: ”امریکی اسلحہ خریدنے کے لئے آپ کے ذہن میں جو دلیل تھی، وہ فوراً آپ کے ذہن میں آئی تھی، یا پہلے سے حکمت عملی تیار کر رکھی تھی؟“ گولڈہ مائیر نے جو جواب دیا وہ چونکا دینے والا تھا۔ وہ بولی :”میں نے یہ استدلال اپنے دشمنوں (مسلمانوں) کے نبی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) سے لیا تھا، میں جب طالبہ تھی تو مذاہب کا موازنہ میرا پسندیدہ موضوع تھا۔ انہی دنوں میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح حیات پڑھی۔ اس کتاب میں مصنف نے ایک جگہ لکھا تھا کہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو ان کے گھر میں اتنی رقم نہیں تھی کہ چراغ جلانے کے لئے تیل خریدا جا سکے، لہٰذا ان کی اہلیہ (حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) نے ان کی زرہ بکتر رہن رکھ کر تیل خریدا، لیکن اس وقت بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کی دیواروں پر نو تلواریں لٹک رہی تھیں۔ میں نے جب یہ واقعہ پڑھا تو میں نے سوچا کہ دنیا میں کتنے لوگ ہوں گے جو مسلمانوں کی پہلی ریاست کی کمزور اقتصادی حالت کے بارے میں جانتے ہوں گے لیکن مسلمان آدھی دنیا کے فاتح ہیں، یہ بات پوری دنیا جانتی ہے۔ لہٰذا میں نے فیصلہ کیا کہ اگر مجھے اور میری قوم کو برسوں بھوکا رہنا پڑے، پختہ مکانوں کی بجائے خیموں میں زندگی بسر کرنا پڑے، تو بھی اسلحہ خریدیں گے، خود کو مضبوط ثابت کریں گے اور فاتح کا اعزاز پائیں گے۔“


گولڈا میئر کا بیان سن کر آپ کو شرم کرنی چاہیے کہ کفار بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہیں مگر ایک آپ جیسے حسن نثار ٹائپ بیغیرت بریگیڈ کے نمائندے بھی ہیں جو اتنی ہی ڈھٹائی سے یہ پوچھتے ہیں کہ کھانے کو روٹی نہیں تو ہم جنگ کیسے کریں گے۔ اگر اب بھی شرم نہیں آئی تو اپنا تھوک پھینک کر اسی میں ڈوب مرو۔




 
#12
ہاں بھئی جنگ بھی ہمیں ہی کرنی چاہئیے اورتھوک میں ڈوب کر بھی ہمیں ہی مرنا چاہیئے۔ ان عربوں کو موج کرنے دو اپنے محلوں میں اور گولڈ پلیٹڈ گاڑیوں میں
آپ کی باتوں سے حسن نثار کے خیالات کی بو آرہی ہے۔


آپ کو ایک مزیدار قصہ سناتا ہوں۔ عرب اور اسرائیل کے درمیان جنگ کی تاریخ کوئی پرانی نہیں۔ اس جنگ میں اسرائیل نے فتح حاصل کی اور مسلمانوں کو شکست ہوئی تھی اور نتیجے میں اسرائیل ایک مضبوط ریاست کے طور پر ابھر کے سامنے آیا۔ اس جنگ کے دوران اسرائیل کی وزیراعظم گولڈا میئر تھی۔
جنگ کے ایک عرصہ بعد واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے گولڈہ مائیر کا انٹرویو لیا اور سوال کیا: ”امریکی اسلحہ خریدنے کے لئے آپ کے ذہن میں جو دلیل تھی، وہ فوراً آپ کے ذہن میں آئی تھی، یا پہلے سے حکمت عملی تیار کر رکھی تھی؟“ گولڈہ مائیر نے جو جواب دیا وہ چونکا دینے والا تھا۔ وہ بولی :”میں نے یہ استدلال اپنے دشمنوں (مسلمانوں) کے نبی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) سے لیا تھا، میں جب طالبہ تھی تو مذاہب کا موازنہ میرا پسندیدہ موضوع تھا۔ انہی دنوں میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح حیات پڑھی۔ اس کتاب میں مصنف نے ایک جگہ لکھا تھا کہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو ان کے گھر میں اتنی رقم نہیں تھی کہ چراغ جلانے کے لئے تیل خریدا جا سکے، لہٰذا ان کی اہلیہ (حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) نے ان کی زرہ بکتر رہن رکھ کر تیل خریدا، لیکن اس وقت بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کی دیواروں پر نو تلواریں لٹک رہی تھیں۔ میں نے جب یہ واقعہ پڑھا تو میں نے سوچا کہ دنیا میں کتنے لوگ ہوں گے جو مسلمانوں کی پہلی ریاست کی کمزور اقتصادی حالت کے بارے میں جانتے ہوں گے لیکن مسلمان آدھی دنیا کے فاتح ہیں، یہ بات پوری دنیا جانتی ہے۔ لہٰذا میں نے فیصلہ کیا کہ اگر مجھے اور میری قوم کو برسوں بھوکا رہنا پڑے، پختہ مکانوں کی بجائے خیموں میں زندگی بسر کرنا پڑے، تو بھی اسلحہ خریدیں گے، خود کو مضبوط ثابت کریں گے اور فاتح کا اعزاز پائیں گے۔“


گولڈا میئر کا بیان سن کر آپ کو شرم کرنی چاہیے کہ کفار بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہیں مگر ایک آپ جیسے حسن نثار ٹائپ بیغیرت بریگیڈ کے نمائندے بھی ہیں جو اتنی ہی ڈھٹائی سے یہ پوچھتے ہیں کہ کھانے کو روٹی نہیں تو ہم جنگ کیسے کریں گے۔ اگر اب بھی شرم نہیں آئی تو اپنا تھوک پھینک کر اسی میں ڈوب مرو۔




 
#13
ہاں بھئی جنگ بھی ہمیں ہی کرنی چاہئیے اورتھوک میں ڈوب کر بھی ہمیں ہی مرنا چاہیئے۔ ان عربوں کو موج کرنے دو اپنے محلوں میں اور گولڈ پلیٹڈ گاڑیوں میں
یار میں نے حدیث بیان کی ہے نہ کہ کسی دو ٹکے کے تجزیہ نگار کی بکواس۔


اگر حدیث سن کر بھی آپ خاموشی اختیار نہ کریں تو کیا میں اللہ تعالہ سے درخواست کروں کے جناب زمین پر تشریف لائیے اور آپ جیسے عقلمندوں کی دل جوئی کیجیے۔
جہاں تک بات ہے عربوں کی اور ان کی گاڑیوں یا عیاشیوں کی تو بھئی وہ اپنی قبر میں جائیں گے جبکہ آپ نے اپنی قبر میں جانا ہے۔ اور یاد رہے کہ تھوک میں اسے ڈوبنا چاہیے جو اپنی زمہ داریاں چھوڑ کر دوسروں کے عیب تلاش کرتا ہے بلکہ اپنی ناکامی کا زمہ دار بھی دوسروں کے عیبوں کو ٹہراتا ہے۔
 
#14
یہی مسئلہ ہے مولویوں کا ذاتیات پر اُتر آتے ہیں۔ جب اُن کے پاس کوئی دلیل نہیں ھوتی تو اپنے سے اختلاف کرنے والوں کو کافریا منکر حدیث قرار دے دیتے ہیں۔ میرے بھائی لگے رہو لوگوں کو بسوں سے نکال نکال کر مارو۔ روہنگیا مسلمانوں کو بھی پاکستان لے آئو پھر اُن کو بھی کافر قرار دے کر مار دینا۔
یار میں نے حدیث بیان کی ہے نہ کہ کسی دو ٹکے کے تجزیہ نگار کی بکواس۔


اگر حدیث سن کر بھی آپ خاموشی اختیار نہ کریں تو کیا میں اللہ تعالہ سے درخواست کروں کے جناب زمین پر تشریف لائیے اور آپ جیسے عقلمندوں کی دل جوئی کیجیے۔
جہاں تک بات ہے عربوں کی اور ان کی گاڑیوں یا عیاشیوں کی تو بھئی وہ اپنی قبر میں جائیں گے جبکہ آپ نے اپنی قبر میں جانا ہے۔ اور یاد رہے کہ تھوک میں اسے ڈوبنا چاہیے جو اپنی زمہ داریاں چھوڑ کر دوسروں کے عیب تلاش کرتا ہے بلکہ اپنی ناکامی کا زمہ دار بھی دوسروں کے عیبوں کو ٹہراتا ہے۔
 
#16
Re: The Rohingyas of Myanmar at a Glance A must watch video

Aj kal to lagta hay koi sahi mainey may muslim leader nahi hay is dunya may ......... Itni khamoshi kyoun hay
 

khalid100

Well-Known Member
#17
One way of helping Rohingya Refugees

With Ramadan around the corner, another option to pay your Zakat and charity.
This gentleman is working on ground. I personally don't know but found from friends FB pages.
Seems ok to me but Allah knows the best.

More details can be found on his FB page and his organization.
You can pay via Paypal or Credit Card

If someone knows any other reliable people working on ground please share.

http://ussunnah.org/rohingya
https://www.facebook.com/alicamarata
 
Last edited by a moderator: