PM Imran Khan Complete Speech Today | "Tiger Force Day" | Tree Plantation

A.jokhio

Senator (1k+ posts)

Judicary-Media Mafia

MPA (400+ posts)
Pakistan e
And see the sabotage after it...(i dont know whether its current or old video, but shared recently)...https://www.facebook.com/PeshawarX/videos/ضلع-خیبر-اپنی-رائے-ضرور-دیجئیے-آپ-کیا-کہتے-ہیں-/324229042093423/ ....what kind of people are they , that they are not even ready to spare plant in their grudge against Imran Khan...seem they are JUI-F people.
Enemies of Pakistan are every where inside Pakistan and outside Pakistan. The biggest enemy is poor education and poverty corrupt mafias in politics and molvies use them for there benefits.
 

pti 56

Minister (2k+ posts)

Pakistani1947

Minister (2k+ posts)
مجھے یہ ویڈیو لنک واٹس ایپ کے ذریعے موصول ہوا ہے۔ یہ واضح طور پاکستان میں کہیں پر ہو رہا ہے۔ جاہل ہجوم نئے لگائے ہوئے درختوں کو جڑوں سے باہر نکال رہا ہے۔ وہ شاید کسی نورا لیڈر کی نگرانی میں یہ کام کر رہے ہوں گے۔ یہ انتہاہی جہالت کی بات ہے اور اس کے پیچھے جو بھی لیڈر ہے اسے سرعام پھانسی دینا چاہئے اور ہجوم میں جو بھی مجرم پایا جاۓ اسے مناسب سزا ملنی چاہئیے ۔


اپنی زندگی کے دوران ، پیغمبر اکرم ﷺ ماحولیات اور اس کے تحفظ سے بھی فکرمند رہے ہیں ، ان کے تحفظ سے متعلق ان کی زبانی تعلیمات اور اسی محرک کے مطابق اس کے اعمال تھے۔ اس تناظر میں جانچے گئے حدیث (اقوال نبوی) کے ذرائع نے اس موضوع سے متعلق بہت ساری براہ راست اور بالواسطہ احادیث کا انکشاف کیا ہے

ان احادیث میں دریاؤں اور سمندروں کی آلودگی کے خلاف بہت سے انتباہات ہیں۔ مختلف جگہوں پر پیشاب جیسے نہروں ، پھلوں کے درختوں کے نیچے ، سڑکوں اور کنوؤں سے دوری پر کرنے کی مخصوص ہدایات ہیں۔ یہاں تک کہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلام میں یہ حرکتیں حرام ہیں۔ احادیث مساجد کو صاف رکھنے کی ضرورت کی نشاندہی کرتی ہیں ، پانی کے ذرائع ، دریا کے اطراف اور ٹھہرے ہوئے پانی سے پیشاب نہ کیا جاۓ ؛ کیونکہ بعد میں وہ اس پانی سے وضو کرسکتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری دور میں بہت سے جانور (گھوڑے ، بھیڑ ، بکری وغیرہ) ، باغات اور باغات کے مالک تھے ۔ لہذا ، نبی اکرم ﷺ نے ماحول کو ہرے رنگ دینے اور اس کی تشکیل میں کچھ مثالی طرز عمل دکھایا۔
اس تناظر میں ان کی ایک سب سے بڑی کوشش یہ تھی کہ اس نے زورا بوبٹ تویل نامی اس علاقے کو مزید تقویت پہنچائی جہاں اس نے اعلان کیا: "جو یہاں کسی درخت کو کاٹتا ہے اس کے بجائے نیا درخت لگانا چاہئے۔" اس ضابطے کے ساتھ ہی یہ علاقہ جلد ہی جنگل میں تبدیل ہوگیا۔ . پیغمبر نے مدینہ منورہ سے 12 میل کے فاصلے پر حرام (مذہب کی طرف سے منع) قرار دیا اور درختوں کو کاٹنے اور اس کی حدود میں جانوروں کے قتل سے بھی منع کیا۔
بہت سی احادیث کا وجود جو ماحول کو سرسبز و شاداب کرنے کی ترغیب دیتا ہے اس سے پیغمبر اکرم کی تشویش واضح طور پر ظاہر ہوتی ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر کوئی مسلمان کسی درخت کا پودا لگاتا ہے اور اس درخت سے کوئی انسان یا جانور کھاتا ہے تو لگانے والے کے لیے وہ صدقہ ہوتا ہے۔“
Sahih Bukhari – 6012-Islam360

عطاء نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی بھی مسلمان ( جو ) درخت لگاتا ہے ، اس میں سے جو بھی کھایا جائے وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے ، اور اس میں سے جو چوری کیا جائے وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے اور جنگلی جانور اس میں سے جو کھا جائیں وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے اور جو پرندے کھا جائیں وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے اور کوئی اس میں ( کسی طرح کی ) کمی نہیں کرتا مگر وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔
Sahih Muslim - 3968-Islam360

حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : بلا شبہ ابرا ہیم ؑ نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں مدینہ کو جو ان دو سیاہ پتھر یلی زمینوں کے درمیان ہے حرم قرار دیتا ہوں ، نہ اس کے کا نٹے دار درخت کا ٹے جا ئیں اور نہ اس کے شکار کے جا نوروں کا شکار کیا جا ئے ۔
Sahih Muslim - 3317-Islam360

ابو شریح عدوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے عمرو بن سعید سے جب وہ ( ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے خلا ف ) مکہ کی طرف لشکر بھیج رہا تھا کہا : اے امیر ! مجھے اجا زت دیں ۔ میں آپ کو ایک ایسا فرمان بیان کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن ارشاد فر ما یا تھا ۔ اسے میرے دونوں کا نوں نے سنا ، میرے دل نے یا د رکھا اور جب آپ نے اس کے الفا ظ بو لے تو میرے دونوں آنکھوں نے آپ کو دیکھا ۔ آپ نے اللہ تعا لیٰ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا : بلا شبہ مکہ کو اللہ نے حرمت عطا کی ہے، لوگوں نے نہیں ۔ ۔ کسی آدمی کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایما ن رکھتا ہو حلال نہیں کہ وہ اس میں خون بہا ئے اور نہ ( یہ حلال ہے کہ ) کسی درخت کو کا ٹے ۔ اگر کو ئی شخص اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑا ئی کی بنا پر رخصت نکا لے تو اسے کہہ دینا : بلا شبہ اللہ نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجا زت دی تھی تمھیں اس کی اجا زت نہیں دی تھی اور آج ہی اس کی حرمت اسی طرح واپس آگئی ہے جیسے کل اس کی حرمت موجود تھی اور جو حا ضر ہے ( یہ بات ) اس تک پہنچا دے جو حا ضر نہیں ۔ اس پر ابو شریح رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا : ( جواب میں ) عمرو نے تم سے کیا گہا ؟ ( کہا : ) اس نے جواب دیا : اے ابو شریح !میں یہ بات تم سے زیادہ جا نتا ہوں حرم کسی نافرمان ( باغی ) کو خون کر کے بھا گ آنے والے کو اور چوری کر کے فرار ہو نے والے کو پناہ نہیں دیتا ۔
Sahih Muslim - 3304-Islam360

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکہ کو اللہ نے حرمت والا ( محترم ) بنایا ہے، لوگوں نے اسے نہیں بنایا، پس جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اس میں خونریزی نہ کرے، نہ اس کا درخت کاٹے، ( اب ) اگر کوئی ( خونریزی کے لیے ) اس دلیل سے رخصت نکالے کہ مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال کیا گیا تھا ( تو اس کا یہ استدلال باطل ہے ) اس لیے کہ اللہ نے اسے میرے لیے حلال کیا تھا لوگوں کے لیے نہیں، اور میرے لیے بھی دن کے ایک خاص وقت میں حلال کیا گیا تھا، پھر وہ تاقیامت حرام ہے؟ اے خزاعہ والو! تم نے ہذیل کے اس آدمی کو قتل کیا ہے، میں اس کی دیت ادا کرنے والا ہوں، ( سن لو ) آج کے بعد جس کا بھی کوئی آدمی مارا جائے گا تو مقتول کے ورثاء کو دو چیزوں میں سے کسی ایک کا اختیار ہو گا: یا تو وہ ( اس کے بدلے ) اسے قتل کر دیں، یا اس سے دیت لے لیں“۔
Jam e Tirmazi - 1406-Islam360

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ’’اس شہر کو اللہ تعالیٰ نے اس دن حرم (حرمت والا) قرار دیا تھا جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا تھا، لہٰذا یہ اللہ تعالیٰ کے حرام قرار دینے سے قیامت کے دن تک حرام رہے گا۔ اس کے کانٹے دار درخت نہ کاٹے جائیں۔ اور اس کے کسی جانور کو نہ بھگایا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز کو کوئی نہ اٹھائے مگر وہ شخص جو اعلان کرتا رہے۔ اور اس کی گھاس نہ کاٹی جائے۔‘‘ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے گزارش کی۔ اے اللہ کے رسول! مگر اذخر کو۔ آپ نے فرمایا: ’’مگر اذخر کو (کاٹنے کی اجازت ہے)۔‘‘
Sunnan e Nisai - 2877

میں نے ہشام بن عروہ سے جو عروہ کے محل سے ٹیک لگائے ہوئے تھے بیر کے درخت کاٹنے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: کیا تم ان دروازوں اور چوکھٹوں کو دیکھ رہے ہو، یہ سب عروہ کے بیر کے درختوں کے بنے ہوئے ہیں، عروہ انہیں اپنی زمین سے کاٹ کر لائے تھے، اور کہا: ان کے کاٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ حمید نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ ہشام نے کہا: اے عراقی ( بھائی ) یہی بدعت تم لے کر آئے ہو، میں نے کہا کہ یہ بدعت تو آپ لوگوں ہی کی طرف کی ہے، میں نے مکہ میں کسی کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیر کا درخت کاٹنے والے پر لعنت بھیجی ہے، پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔

Sunnan e Abu Dawood - 5241-Islam360

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ( بلا ضرورت ) بیری کا درخت کاٹے گا ۱؎ اللہ اسے سر کے بل جہنم میں گرا دے گا ۔ ابوداؤد سے اس حدیث کا معنی و مفہوم پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ: یہ حدیث مختصر ہے، پوری حدیث اس طرح ہے کہ کوئی بیری کا درخت چٹیل میدان میں ہو جس کے نیچے آ کر مسافر اور جانور سایہ حاصل کرتے ہوں اور کوئی شخص آ کر بلا سبب بلا ضرورت ناحق کاٹ دے ( تو مسافروں اور چوپایوں کو تکلیف پہنچانے کے باعث وہ مستحق عذاب ہے ) اللہ ایسے شخص کو سر کے بل جہنم میں جھونک دے گا۔
Sunnan e Abu Dawood - 5239-Islam360

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر قیامت قائم ہو جائے اور تم میں سے کسی ایک کے ہاتھ میں کھجور کا چھوٹا پودا ہو، اگر وہ کھڑا ہونے سے پہلے اسے لگا سکتا ہوتو وہ ضرور ایسا کرے۔
Musnad Ahmed - 12776-Islam360

۔ سیدنا ابودردا ء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں دمشق میں پودے لگارہاتھا، میرے پاس سے ایک آدمی کا گزر ہوا، اس نے مجھ سے کہا: اے ابو درداء! آپ صحابی ہوکر یہ کام کرتے ہیں؟ میں نے کہا: مجھ پر اعتراض کرنے میں جلد بازی مت کرو، میں نے رسو ل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جوانسان پودا لگاتاہے پھر اس میں سے جو آدمی، بلکہ اللہ تعالی کی کوئی مخلوق جو کچھ کھاتی ہے، اس کے لیے وہ صدقہ ہوتا ہے۔
Musnad Ahmed - 5749-Islam360

سیدہ ام مبشررضی اللہ عنہا، جو کہ سیدنا زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی تھیں، سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ میں ایک باغ میں تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیایہ باغ تمہارا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو کس نے لگایا تھا، مسلمان نے یا کافر نے؟ میں نے کہا: مسلمان نے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان جو کھیتی کاشت کرتا ہے یا کوئی پودا گاڑھتا ہے اور پھر جو پرندہ، انسان، درندہ، چوپایہ اور کوئی بھی چیز اس سے کچھ کھاتی ہے، تو اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔
Musnad Ahmed - 5746-Islam360

شیخ البانی رحمة الله عليه نے نیچے بیان کی گئی احادیث کو حسن کہا ہے
روایت ہے کہ ‘حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” جو لوگ درختوں کو کاٹتے ہیں وہ جہنم کی آگ میں پھینک دیئے جائیں گے۔
رواه البيهقي [6 / 140]- وحسَّنه الشيخ الألباني في " صحيح الجامع " [1696]۔

معاویہ ابن جدہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص ایک درخت کو کاٹتا ہے ، اللہ تعالی اسے سب سے پہلے جہنم کی آگ میں ڈال دیتا ہے۔
رواه البيهقي [ 6 / 141] . وحسَّنه الشيخ الألباني في " السلسلة الصحيحة " [615 ]۔
 

Pakistani1947

Minister (2k+ posts)

مجھے ان مولویوں کی سمجھ نہیں آتی- کیا یہ صرف عید اور رمضان کا چاند اور امّت میں تفرقہ بازی کو ہی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں؟ ایک مسجد پر فوٹو شوٹ پر یہ سارے بلبلا اٹھے اور چودھری برادران نے تو پریس کانفرنس کر ڈالی- لیکن اس خلاف شریعت حرکت پر کسی مولوی کی زبان حرکت میں نہ آئ- انجنیئر علی مرزا صحیح کہتا ہے کہ یہ علماء سو ہیں
 

Nebula

Senator (1k+ posts)
Allah ney insaan bunayaa hay...aur yeh janwar sabit karnaa may lagaa hoay hain. Call the youth something human.....
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں