Must Happening in July-Aug 2020 Thumb Certified Prediction By Baba

AzaadAlfaaz1316

Politcal Worker (100+ posts)
Please Comments as many :) cause Youtube comments are Disable ! Baba Gone another Level of Madness !
 
Advertisement
Last edited by a moderator:

Pakistani1947

Minister (2k+ posts)
Pak is full of these baba's. All such people are retards using religion to loot people.
what if it comes true? lolz

کسی کی دل آزاری یا کسی کے عقائد کو ٹھیس پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ، اصل مقصد اس موضوع پر صحیح اسلامی عقیدے کو جاننا ہے۔

مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَىٰ مَا أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ ۗ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَـٰكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَاءُ ۖ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ۚ وَإِن تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ

.(Qur'aan, Sura al-Imran 3, verse 179)
الله مسلمانوں کو اس حالت پر رکھنا نہیں چاہتا جس پر اب تم ہو جب تک کہ ناپاک کو پاک سے جدا نہ کر دے اورالله کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ تمہیں غیب پر مطلع کر دے لیکن الله اپنے رسولوں میں جسے چاہے چن لیتا ہے سو تم الله اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لیے بہت بڑا اجر ہے

قرآن کریم کی کچھ متعلقہ آیات درج ذیل ہیں۔


قُل لَّا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ ۚ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ
(Qur'aan 6:50)
کہہ دو میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس الله کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے کہہ دو کیا اندھا اور آنکھوں والا دونوں برابر ہو سکتے ہیں کیا تم غور نہیں کرتے

وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۚ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ
(Qur'aan 6:59)
اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کےسوا کوئی نہیں جانتا جو کچھ جنگل اور دریا میں ہے وہ سب جانتا ہے اور کوئی پتہ نہیں گرتا مگر وہ اسے بھی جانتاہے اور کوئی دانہ زمین کے تاریک حصوں میں نہیں پڑتا اور نہ کوئی تر اور خشک چیز ہے مگر یہ سب کچھ کتاب روشن میں ہیں

قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ ۚ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ
(Qur'aan 27:65)
کہہ دے الله کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی بھی غیب کی بات نہیں جانتا اور انہیں اس کی بھی خبر نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے

اوپر بیان کی گئی آیات سے مندرجہ ذیل نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے

اول
- االله کے سوا کوئی نہیں جو غیب کو جانتا ہے (غیب) (قرآن 27:65) اور (قرآن کریم 6:59)۔

دوئم - الله جب چاہتا ہے اور جس قدر معلومات چاہتا ہے اپنے رسولوں کو فراہم کرتا ہے (مثال کے طور پر نیچے رسولوں کا واقعہ پڑھیں) حوالہ: (قرآن ، سورہ آل عمران، ، آیت 179) اور (قرآن مجید 6: 50

الله کے نبی صرف غیب علم کی اتنا ہی جانتے ہیں جتنا الله نے نازل کیا ہے۔ مثال کے طور پر ، حضرت یعقوب (ع) کو وحی کے ذریعے قمیض کے بارے میں معلومات دی گئیں (قران 12:96) لیکن حضرت یوسف (ع) کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئی، باوجود اسکے کہ حضرت یعقوب (ع) اس واقعہ کی وجہ سے بیمار ہوگئے تھے، جبکہ حضرت یوسف (ع) کنواں کے اندر تھے ۔

عبد الرحمان بن قاسم ( بن محمد ) نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول الله ﷺ کے ایک سفر میں آپ کے ساتھ نکلے ، جب ہم بیداء یا ذات الجیش کے مقام پر پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا ، رسول الله ﷺ اس کی تلاش کی خاطر ٹھہر گئے ، صحابہ کرام ‌رضی الله ‌عنہ ‌ ‌ بھی آپ کے ساتھ رک گئے ، نہ وہ پانی ( والی جگہ ) پر تھے نہ ان کے پاس پانی ( بچا ہوا ) تھا ۔ لوگ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس آئے اور کہا : کیا آپ کو پتہ نہیں ، عائشہؓ نے کیا کیا ہے؟ رسول اللہﷺ اور آپ کے ساتھ ( دوسرے ) لوگوں کو روک رکھا ہے ، نہ وہ پانی ( والی جگہ ) پر ہیں اور نہ لوگوں کے پاس پانی بچا ہے ۔ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ تشریف لائے ( اس وقت ) رسول اللہﷺ میری ران پر سر رکھ کر سو چکے تھے اور کہا : تم نے رسول الله ﷺ کو اور آپ کے ساتھیوں کو روک رکھا ہے جبکہ نہ وہ پانی والی جگہ پر ہیں اور نہ ان کے پاس پانی ہے ۔ عائشہؓ نے فرمایا : حضرت ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے مجھے ڈانٹا اور جو کچھ الله کو منظور رتھا کہا اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگانے لگے ، مجھے صرف اس بات نے حرکت کرنے سے روکے رکھا کہ رسو ل الله ﷺ کا سر میری ران پر تھا ، رسول الله ﷺ سوئے رہے اور پانی کے بغیر ہی صبح ہو گی ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری تو صحابہ کرام ‌رضی ‌الله ‌عنہم ‌ ‌ نے تیمم کیا ۔ اسید بن حضیر ‌رضی الله ‌عنہ ‌ ‌ نے ، جو نقباء میں سے تھے ، کہا : اے ابو بکر ‌رضی الله ‌عنہ ‌ ‌ کے خاندان! یہ آپ کی پہلی برکت نہیں ہے ۔ حضرت عائشہؓ نے کہا : ہم نے اس اونٹ کو جس پر میں سوار تھی اٹھایا تو ہمیں اس کے نیچے سے ہار مل گیا ۔
Sahih Muslim – 816 – Islam360
 
Last edited:

Imranpak

Chief Minister (5k+ posts)
These old and unemployed baba's will boast of the one in a hundred predictions they get right. They will never mention all the predictions they get wrong. In Pak with so much unemployment the easy way to make money is by becoming a future predicting fakeer.
 

Diesel

Chief Minister (5k+ posts)
baba g frontline par pak foj ko lead karen ge. baba g ki leadership mein kashmir azad ho ga
 

AhsanCA

Councller (250+ posts)

کسی کی دل آزاری یا کسی کے عقائد کو ٹھیس پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ، اصل مقصد اس موضوع پر صحیح اسلامی عقیدے کو جاننا ہے۔

مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَىٰ مَا أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ ۗ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَـٰكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَاءُ ۖ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ۚ وَإِن تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ

.(Qur'aan, Sura al-Imran 3, verse 179)
الله مسلمانوں کو اس حالت پر رکھنا نہیں چاہتا جس پر اب تم ہو جب تک کہ ناپاک کو پاک سے جدا نہ کر دے اورالله کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ تمہیں غیب پر مطلع کر دے لیکن الله اپنے رسولوں میں جسے چاہے چن لیتا ہے سو تم الله اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لیے بہت بڑا اجر ہے

قرآن کریم کی کچھ متعلقہ آیات درج ذیل ہیں۔


قُل لَّا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ ۚ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ
(Qur'aan 6:50)
کہہ دو میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس الله کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے کہہ دو کیا اندھا اور آنکھوں والا دونوں برابر ہو سکتے ہیں کیا تم غور نہیں کرتے

وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۚ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ
(Qur'aan 6:59)
اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کےسوا کوئی نہیں جانتا جو کچھ جنگل اور دریا میں ہے وہ سب جانتا ہے اور کوئی پتہ نہیں گرتا مگر وہ اسے بھی جانتاہے اور کوئی دانہ زمین کے تاریک حصوں میں نہیں پڑتا اور نہ کوئی تر اور خشک چیز ہے مگر یہ سب کچھ کتاب روشن میں ہیں

قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ ۚ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ
(Qur'aan 27:65)
کہہ دے الله کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی بھی غیب کی بات نہیں جانتا اور انہیں اس کی بھی خبر نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے

اوپر بیان کی گئی آیات سے مندرجہ ذیل نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے

اول
- اللہ کے سوا کوئی نہیں جو غیب کو جانتا ہے (غیب) (قرآن 27:65) اور (قرآن کریم 6:59)۔

دوئم - اللہ جب چاہتا ہے اور جس قدر معلومات چاہتا ہے (مثال کے طور پر نیچے حدیث ملاحظہ کریں) اپنے رسولوں کو فراہم کرتا ہے حوالہ: (قرآن ، سورہ آل عمران، ، آیت 179) اور (قرآن مجید 6: 50)


اللہ کے نبی صرف غیب علم کی اتنا ہی جانتے ہیں جتنا اللہ نے نازل کیا ہے۔ مثال کے طور پر ، حضرت یعقوب (ع) کو وحی کے ذریعے قمیض کے بارے میں معلومات دی گئیں (قران 12:96) لیکن حضرت یوسف (ع) کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئی، باوجود اسکے کہ حضرت یعقوب (ع) اس واقعہ کی وجہ سے بیمار ہوگئے تھے، جبکہ حضرت یوسف (ع) کنواں کے اندر تھے ۔

عبد الرحمان بن قاسم ( بن محمد ) نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہﷺ کے ایک سفر میں آپ کے ساتھ نکلے ، جب ہم بیداء یا ذات الجیش کے مقام پر پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا ، رسول اللہﷺ اس کی تلاش کی خاطر ٹھہر گئے ، صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ بھی آپ کے ساتھ رک گئے ، نہ وہ پانی ( والی جگہ ) پر تھے نہ ان کے پاس پانی ( بچا ہوا ) تھا ۔ لوگ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس آئے اور کہا : کیا آپ کو پتہ نہیں ، عائشہؓ نے کیا کیا ہے؟ رسول اللہﷺ اور آپ کے ساتھ ( دوسرے ) لوگوں کو روک رکھا ہے ، نہ وہ پانی ( والی جگہ ) پر ہیں اور نہ لوگوں کے پاس پانی بچا ہے ۔ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ تشریف لائے ( اس وقت ) رسول اللہﷺ میری ران پر سر رکھ کر سو چکے تھے اور کہا : تم نے رسول اللہﷺ کو اور آپ کے ساتھیوں کو روک رکھا ہے جبکہ نہ وہ پانی والی جگہ پر ہیں اور نہ ان کے پاس پانی ہے ۔ عائشہؓ نے فرمایا : حضرت ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے مجھے ڈانٹا اور جو کچھ اللہ کو منظور رتھا کہا اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگانے لگے ، مجھے صرف اس بات نے حرکت کرنے سے روکے رکھا کہ رسو ل اللہﷺ کا سر میری ران پر تھا ، رسول اللہﷺ سوئے رہے اور پانی کے بغیر ہی صبح ہو گی ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری تو صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم ‌ ‌ نے تیمم کیا ۔ اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ، جو نقباء میں سے تھے ، کہا : اے ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے خاندان! یہ آپ کی پہلی برکت نہیں ہے ۔ حضرت عائشہؓ نے کہا : ہم نے اس اونٹ کو جس پر میں سوار تھی اٹھایا تو ہمیں اس کے نیچے سے ہار مل گیا ۔
Sahih Muslim – 816 – Islam360
Jazak Allah Khair
 

Haideriam

Senator (1k+ posts)


پیر صاب ہوراں دلی نا لال قلعہ فتح کری چھوڑیا ؟؟؟

تئے فیر رسگلے مگائی کنآں ؟؟؟

ویڈیو تکن ناں ٹیئم کوئی نئیں
مرزائیوں کے بابا غلام احمد کی بھی پیشنگوئی پوری ہوئی تھی کے میری موت ٹٹی خانے ہو گی
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں