Modi Govt Denies the Malaysian PM Right to Fly Over India

naveed

Chief Minister (5k+ posts)


مودی نے ملائیشیا کے وزیراعظم کو بھارتی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت نہیں دی تھی

اسلام آباد(عامر غوری)بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی انتظامیہ نے ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد کو حالیہ دورہ پاکستان کے موقع پر بھارت کی فضائی حدود سے پرواز کی اجازت نہیں دی ۔ذرائع نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ یہ اجازت آخری موقع پر واپس لی گئی تھی ، جس کی وجہ سے ملائیشیا کے وزیر اعظم کو خاصا لمبا فضائی سفر کرنا پڑا اور وہ بحیرہ عرب سے عمان تک گئے اور اس کے بعد اسلام آباد پہنچے۔

عالمی تعلقات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا ہے تو بہت حیرت انگیز ہے کیوں کہ بھارت اور ملائیشیا کے دوستانہ تعلقات کی کئی سالوں سے اچھی تاریخ رہی ہے۔دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 10ارب ڈالرز سے زائد ہے ، جسے 2020تک 25ارب ڈالرز تک لے جانے کی امید کی جارہی ہے۔

بھارتی وزیراعظم مودی کی جانب سے اس غیر معمولی اور غیر سفارتی اقدام کی ایک ممکنہ وجہ وزیراعظم مہاتیر کی جانب سے بھارت پر پاکستان کو ’ترجیح‘ دینا ہوسکتی ہے ۔ ایک بھارتی صحافی ایلزبتھ روش نے 2017ء میں نجیب رزاق کے تیسرے دورہ بھارت کے دوران

لکھا تھا کہ ’حکومت میں بہت سے افراد اور بھارتی اسٹرٹیجک کمیونٹی متفق ہیں کہ 1981ء سے 2003ء تک اقتدار میںرہنے والے (سابق ) وزیراعظم مہاتیر محمد کے دور میں دوطرفہ تعلقات غیر مطمئن تھے اور اس کی وجہ بھارت کے ازلی دشمن پاکستان کی جانب ان کا رجحان ہے‘۔ نجیب رزاق کی حکومت کے دوران ملائیشیا اور بھارت کے تعلقات نئی اونچائیوں پر پہنچے ۔ نجیب رزاق نے کئی بار بھارت کا دورہ کیا اور 2017ء میں اپنے آخری دورہ کے دوران ملائیشین بزنس مینوں نے 36؍ ارب ڈالر کے معاہدے کئے جس میں انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ ، فوڈ سیکورٹی اوراسمارٹ شہروں کی تعمیر شامل تھی۔

پاکستان کے ایک سینئر ریٹائرڈ سفارتکار نے کہا کہ ایسا اقدام ان ممالک کے درمیان بہت ہی مشکل ہوتا ہے جو ایک دوسرے کے خلاف نہ ہوں لیکن ہاں ایسے ’سرگرداں ‘ ماحول میں ایسا ہوسکتا ہے جیسا کہ ماحول پاکستان اور بھارت کےدوران ابھی ہے لیکن اس سب سے مودی انتظامیہ کی ذلالت بھی ظاہر ہوتی ہے ۔ ملائیشیا میں تقریباً 17؍ لاکھ بھارتی نژاد ہندو رہتے ہیں اور ملائیشیا میں مقیم ہندوؤں کا 86؍ فیصد بنتا ہے ۔ وزیراعظم مہاتیر محمد خود بھارتی نژاد ہیں۔ ان کے دادا اسکندر کو برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی 1870ء میں کیرالہ سے کیدے رائل پیلس بطور انگریزی زبان کے ٹیوٹر کے طور پر لے کر آئی تھی۔

 
Advertisement

1234567

Senator (1k+ posts)


مودی نے ملائیشیا کے وزیراعظم کو بھارتی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت نہیں دی تھی

اسلام آباد(عامر غوری)بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی انتظامیہ نے ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد کو حالیہ دورہ پاکستان کے موقع پر بھارت کی فضائی حدود سے پرواز کی اجازت نہیں دی ۔ذرائع نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ یہ اجازت آخری موقع پر واپس لی گئی تھی ، جس کی وجہ سے ملائیشیا کے وزیر اعظم کو خاصا لمبا فضائی سفر کرنا پڑا اور وہ بحیرہ عرب سے عمان تک گئے اور اس کے بعد اسلام آباد پہنچے۔

عالمی تعلقات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا ہے تو بہت حیرت انگیز ہے کیوں کہ بھارت اور ملائیشیا کے دوستانہ تعلقات کی کئی سالوں سے اچھی تاریخ رہی ہے۔دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 10ارب ڈالرز سے زائد ہے ، جسے 2020تک 25ارب ڈالرز تک لے جانے کی امید کی جارہی ہے۔

بھارتی وزیراعظم مودی کی جانب سے اس غیر معمولی اور غیر سفارتی اقدام کی ایک ممکنہ وجہ وزیراعظم مہاتیر کی جانب سے بھارت پر پاکستان کو ’ترجیح‘ دینا ہوسکتی ہے ۔ ایک بھارتی صحافی ایلزبتھ روش نے 2017ء میں نجیب رزاق کے تیسرے دورہ بھارت کے دوران

لکھا تھا کہ ’حکومت میں بہت سے افراد اور بھارتی اسٹرٹیجک کمیونٹی متفق ہیں کہ 1981ء سے 2003ء تک اقتدار میںرہنے والے (سابق ) وزیراعظم مہاتیر محمد کے دور میں دوطرفہ تعلقات غیر مطمئن تھے اور اس کی وجہ بھارت کے ازلی دشمن پاکستان کی جانب ان کا رجحان ہے‘۔ نجیب رزاق کی حکومت کے دوران ملائیشیا اور بھارت کے تعلقات نئی اونچائیوں پر پہنچے ۔ نجیب رزاق نے کئی بار بھارت کا دورہ کیا اور 2017ء میں اپنے آخری دورہ کے دوران ملائیشین بزنس مینوں نے 36؍ ارب ڈالر کے معاہدے کئے جس میں انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ ، فوڈ سیکورٹی اوراسمارٹ شہروں کی تعمیر شامل تھی۔

پاکستان کے ایک سینئر ریٹائرڈ سفارتکار نے کہا کہ ایسا اقدام ان ممالک کے درمیان بہت ہی مشکل ہوتا ہے جو ایک دوسرے کے خلاف نہ ہوں لیکن ہاں ایسے ’سرگرداں ‘ ماحول میں ایسا ہوسکتا ہے جیسا کہ ماحول پاکستان اور بھارت کےدوران ابھی ہے لیکن اس سب سے مودی انتظامیہ کی ذلالت بھی ظاہر ہوتی ہے ۔ ملائیشیا میں تقریباً 17؍ لاکھ بھارتی نژاد ہندو رہتے ہیں اور ملائیشیا میں مقیم ہندوؤں کا 86؍ فیصد بنتا ہے ۔ وزیراعظم مہاتیر محمد خود بھارتی نژاد ہیں۔ ان کے دادا اسکندر کو برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی 1870ء میں کیرالہ سے کیدے رائل پیلس بطور انگریزی زبان کے ٹیوٹر کے طور پر لے کر آئی تھی۔

If the news is correct then we as Pakistani should be tankful to Modi, he is doing good. Thank you Mr Modi, keep it up.
 

jimpack

Minister (2k+ posts)
Well what do you expect from a tiny man in huge office?
Abey apna bhi kuch bol. Why repeat same old crap. Modi ko pakistanioo ki koi zaroorat nahi hai. Don't worry for him. We know how tucked up you Pakistanis are of Modi. Ungli karo gay, bamboo mile gaa
 

stoic

Minister (2k+ posts)
Abey apna bhi kuch bol. Why repeat same old crap. Modi ko pakistanioo ki koi zaroorat nahi hai. Don't worry for him. We know how tucked up you Pakistanis are of Modi. Ungli karo gay, bamboo mile gaa
Bamboo you mean this one?


Seems like your butt is still hurt you modi's ass wipe after this bamboo was lodged in you back side and your pathetic PM and Air chief were squealing like pigs.
Also funny to see a turd faced son of a whore indian talking about obsession/phobia on a Pakistani forum where he spends countless hours of his useless life spreading his smell.
 
Last edited:

fannu

Politcal Worker (100+ posts)


مودی نے ملائیشیا کے وزیراعظم کو بھارتی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت نہیں دی تھی

اسلام آباد(عامر غوری)بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی انتظامیہ نے ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد کو حالیہ دورہ پاکستان کے موقع پر بھارت کی فضائی حدود سے پرواز کی اجازت نہیں دی ۔ذرائع نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ یہ اجازت آخری موقع پر واپس لی گئی تھی ، جس کی وجہ سے ملائیشیا کے وزیر اعظم کو خاصا لمبا فضائی سفر کرنا پڑا اور وہ بحیرہ عرب سے عمان تک گئے اور اس کے بعد اسلام آباد پہنچے۔

عالمی تعلقات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا ہے تو بہت حیرت انگیز ہے کیوں کہ بھارت اور ملائیشیا کے دوستانہ تعلقات کی کئی سالوں سے اچھی تاریخ رہی ہے۔دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 10ارب ڈالرز سے زائد ہے ، جسے 2020تک 25ارب ڈالرز تک لے جانے کی امید کی جارہی ہے۔

بھارتی وزیراعظم مودی کی جانب سے اس غیر معمولی اور غیر سفارتی اقدام کی ایک ممکنہ وجہ وزیراعظم مہاتیر کی جانب سے بھارت پر پاکستان کو ’ترجیح‘ دینا ہوسکتی ہے ۔ ایک بھارتی صحافی ایلزبتھ روش نے 2017ء میں نجیب رزاق کے تیسرے دورہ بھارت کے دوران

لکھا تھا کہ ’حکومت میں بہت سے افراد اور بھارتی اسٹرٹیجک کمیونٹی متفق ہیں کہ 1981ء سے 2003ء تک اقتدار میںرہنے والے (سابق ) وزیراعظم مہاتیر محمد کے دور میں دوطرفہ تعلقات غیر مطمئن تھے اور اس کی وجہ بھارت کے ازلی دشمن پاکستان کی جانب ان کا رجحان ہے‘۔ نجیب رزاق کی حکومت کے دوران ملائیشیا اور بھارت کے تعلقات نئی اونچائیوں پر پہنچے ۔ نجیب رزاق نے کئی بار بھارت کا دورہ کیا اور 2017ء میں اپنے آخری دورہ کے دوران ملائیشین بزنس مینوں نے 36؍ ارب ڈالر کے معاہدے کئے جس میں انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ ، فوڈ سیکورٹی اوراسمارٹ شہروں کی تعمیر شامل تھی۔

پاکستان کے ایک سینئر ریٹائرڈ سفارتکار نے کہا کہ ایسا اقدام ان ممالک کے درمیان بہت ہی مشکل ہوتا ہے جو ایک دوسرے کے خلاف نہ ہوں لیکن ہاں ایسے ’سرگرداں ‘ ماحول میں ایسا ہوسکتا ہے جیسا کہ ماحول پاکستان اور بھارت کےدوران ابھی ہے لیکن اس سب سے مودی انتظامیہ کی ذلالت بھی ظاہر ہوتی ہے ۔ ملائیشیا میں تقریباً 17؍ لاکھ بھارتی نژاد ہندو رہتے ہیں اور ملائیشیا میں مقیم ہندوؤں کا 86؍ فیصد بنتا ہے ۔ وزیراعظم مہاتیر محمد خود بھارتی نژاد ہیں۔ ان کے دادا اسکندر کو برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی 1870ء میں کیرالہ سے کیدے رائل پیلس بطور انگریزی زبان کے ٹیوٹر کے طور پر لے کر آئی تھی۔

ha ha ha .....................chutias in propaganda business.. 😁😁
 

Tirmezi

Politcal Worker (100+ posts)
 

stoic

Minister (2k+ posts)
ha ha ha .....................chutias in propaganda business.. 😁😁
Says a Pakistan obsessed smelly pig shit indian RSS cum rag posting useless crap here and spending countless hours of his useless life on this forum spreading propaganda using multi-nicks while waiting for his maggot infested whore of a mother to finish servicing her RSS clients.
 

fannu

Politcal Worker (100+ posts)
Says a Pakistan obsessed smelly pig shit indian RSS cum rag posting useless crap here and spending countless hours of his useless life on this forum spreading propaganda using multi-nicks while waiting for his maggot infested whore of a mother to finish servicing her RSS clients.
teri ammi ki service to kai bar kar chuka hira mandi me , aur karna hai dallay to bata ? paise le ja ........................... 😁😁😁
 

stoic

Minister (2k+ posts)
teri ammi ki service to kai bar kar chuka hira mandi me , aur karna hai dallay to bata ? paise le ja ........................... 😁😁😁
Your obsession with heera mandi shows your roots in that place where your whore of a mother spreads her legs day and night and gets humped while you lick the remains from her maggot infested arse you slime covered smelly shit consuming indian. Yet you typical shameless coward slimy vile indian continue to enjoy your insults but no surprise there it runs in you ratty blood.
 

stoic

Minister (2k+ posts)
teri ammi ki service to kai bar kar chuka hira mandi me , aur karna hai dallay to bata ? paise le ja ........................... 😁😁😁
Like a typical smelly slimy cum rag RSS troll accepting his ass drilling with smileys
 

Beef.Bhaijan

Minister (2k+ posts)
Buri baat ...Guys ...lets make one thing clear.

Teri ammi aur abbu - meray ammi aur abbu .

LETS KEEP AMMI ABBU OUT OF THIS !

You want to badmouth each other go ahead

teri ammi ki service to kai bar kar chuka hira mandi me , aur karna hai dallay to bata ? paise le ja ........................... 😁😁😁
 
Sponsored Link

Featured Discussions