Journalist who made rented crowed video in Bilawal's Train march, murdered

Wake up Pak

Chief Minister (5k+ posts)


پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے ضلع نوشہروفیروز میں سندھی زبان کے ٹیلیویژن چینل ’کے ٹی این نیوز‘ اور روزنامہ کاوش کے صحافی 56 سالہ عزیز میمن کے لاش ایک نہر سے برآمد کی گئی۔

مقامی پولیس کے مطابق انھیں کسی تار سے گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا ہے۔ محراب پور تھانے کے ایس ایچ او عظیم راجپر کے مطابق سینئرصحافی عزیز میمن کی لاش شہر سے باہر ہندوؤں کے شمشان گھاٹ کے نزدیک روہڑی کینال سے نکلنے والی نہر گودو شاخ سے ملی۔

ایس ایچ او کے مطابق ’مقتول صحافی کے گلے میں کیبل کی تارپھنسی ہوئی تھی۔ خدشہ ہے کہ انہیں مذکورہ تار سے گلا گھونٹ کرقتل کرنے کے بعد نہر میں پھینکا گیا ہے، نعش پوسٹ مارٹم کے لیے تحصیل ہسپتال منتقل کر دی گئی ہے اور پولیس تفتیش جاری ہے۔‘

تحصیل ہسپتال کے میڈیکل آفیسرنے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ ابتدائی طور کچھ بتانا قبل از وقت ہوگا کہ عزیز میمن کی موت گلا گھٹنے سے ہوئی ہے یا حرکت قلب بند ہونے یا کسی اور وجہ سے ہوئی۔ ان کے گلے میں پائی گئی تار کے نشانات گلے پر نہیں ملے ہیں۔

مقامی صحافی سلیم مغل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’جس علاقے سے لاش ملی وہ شہر سے باہر ایک نواحی گاؤں ہے۔ صبح وہ ایک شخص کے ساتھ وہاں گئے اور اپنے ساتھ آنے والے نوجوان کو واپس بھیج دیا تھا، جس کے بعد ان کی لاش ملنے کی اطلاع آئی۔ سمجھ میں نہیں آرہا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہوگا۔‘

عزیز میمن 35 سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ تھے اور پچھلے 27 برس سے سندھی روزنامہ کاوش اور کے ٹی این نیوز چینل کے رپورٹر تھے۔ ان کے پسماندگان میں بیوہ، دو بیٹے اور دوبیٹیاں شامل ہیں۔

واضح رہے ایک روز قبل اسی ضلع میں سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپیلز پارٹی کی رکن سندھ اسمبلی کو ملکیت کے تکرار پر گولیاں مارکر ہلاک کردیا گیا تھا۔

کی ٹی این نیوز کی سیئنر اینکر اور نیوزکاسٹر ناجیہ میر نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا ’ہم اپنے ساتھی صحافی عزیز میمن کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔ نوشہروفیروز میں جنگل راج قائم ہے۔‘




 
Advertisement
Last edited by a moderator:

Moula Jutt

Minister (2k+ posts)
جنگلی۔ جاھل۔ باندر۔قلندر بھرے ھوئے ھیں سندھ میں۔ن اپنے کریمنلز آقاوں۔ بھٹو۔ زرداری کے اشاروں پر ناچنے والے کسی غلام نے کاروائی ڈال دی ھو گی حسب سابق۔
 

desan

Prime Minister (20k+ posts)


 

desan

Prime Minister (20k+ posts)
سندھی زبان کے ٹیلیویژن چینل ’کے ٹی این نیوز‘ اور روزنامہ کاوش کے صحافی 56 سالہ عزیز میمن کے لاش ایک نہر سے برآمد کی گئی۔


مقامی پولیس کے مطابق انھیں کسی تار سے گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا ہے۔ محراب پور تھانے کے ایس ایچ او عظیم راجپر کے مطابق سینئرصحافی عزیز میمن کی لاش شہر سے باہر ہندوؤں کے شمشان گھاٹ کے نزدیک روہڑی کینال سے نکلنے والی نہر گودو شاخ سے ملی۔


ایس ایچ او کے مطابق ’مقتول صحافی کے گلے میں کیبل کی تارپھنسی ہوئی تھی۔ خدشہ ہے کہ انہیں مذکورہ تار سے گلا گھونٹ کرقتل کرنے کے بعد نہر میں پھینکا گیا ہے، نعش پوسٹ مارٹم کے لیے تحصیل ہسپتال منتقل کر دی گئی ہے اور پولیس تفتیش جاری ہے۔‘


تحصیل ہسپتال کے میڈیکل آفیسرنے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ ابتدائی طور کچھ بتانا قبل از وقت ہوگا کہ عزیز میمن کی موت گلا گھٹنے سے ہوئی ہے یا حرکت قلب بند ہونے یا کسی اور وجہ سے ہوئی۔ ان کے گلے میں پائی گئی تار کے نشانات گلے پر نہیں ملے ہیں۔


مقامی صحافی سلیم مغل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’جس علاقے سے لاش ملی وہ شہر سے باہر ایک نواحی گاؤں ہے۔ صبح وہ ایک شخص کے ساتھ وہاں گئے اور اپنے ساتھ آنے والے نوجوان کو واپس بھیج دیا تھا، جس کے بعد ان کی لاش ملنے کی اطلاع آئی۔ سمجھ میں نہیں آرہا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہوگا۔‘


عزیز میمن 35 سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ تھے اور پچھلے 27 برس سے سندھی روزنامہ کاوش اور کے ٹی این نیوز چینل کے رپورٹر تھے۔ ان کے پسماندگان میں بیوہ، دو بیٹے اور دوبیٹیاں شامل ہیں۔


واضح رہے ایک روز قبل اسی ضلع میں سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپیلز پارٹی کی رکن سندھ اسمبلی کو ملکیت کے تکرار پر گولیاں مارکر ہلاک کردیا گیا تھا۔


کی ٹی این نیوز کی سیئنر اینکر اور نیوزکاسٹر ناجیہ میر نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا ’ہم اپنے ساتھی صحافی عزیز میمن کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔ نوشہروفیروز میں جنگل راج قائم ہے۔‘


کے ٹی این سے وابستہ سینئر صحافی اور اینکرپرسن ناز سہتو نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ’بالکل سمجھ میں نہیں آرہا کہ یہ واقعہ کیسے پیش آیا۔ میں نے بہت لوگوں سے بات کی مگر کوئی اندازہ نہیں۔‘


ان کی لاش ملنے کے بعد سوشل میڈیا پر دیکھی جانے والی ان کی ایک وائرل ویڈیو میں وہ بتا رہے ہیں کہ گزشتہ سال جب پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ’ٹرین مارچ‘ کا آغاز کیا تب انھیں محراب ریلوے سٹیشن بھی آنا تھا۔ وہاں عزیز میمن نے ایک ویڈیو ریکارڈ کی جس میں انھوں مارچ میں شرکت کرنے والوں کے انٹرویو کیے تھے جس میں جیالوں کی شکل میں آنے والے لوگوں نے انھیں بتایا تھا کہ انھیں ایم این اے ابرار علی شاہ نے دہاڑی دے کر بلایا ہے۔ ان کی جانب سے مقامی لوگوں کو 25 ہزار روپے دے کر دہاڑی پر پارٹی کارکن بن کر آنے کو کہا گیا اور ہر ایک کو دو ہزار ملنے تھے مگر بعد میں پیسے بھی نہیں دیے۔‘


وائرل ویڈیو میں عزیز میمن بتا رہے تھے کہ ’اس ویڈیو کے بعد ایس ایس پی نوشہرو فیروز اور مقامی جیالوں نے میرا جینا حرام کردیا ہے۔ وہ مجھے اور میرے بچوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اس لیے پناہ لینے اسلام آباد پہنچا ہوں۔‘


اس خبر کے بعد مقامی جیالوں نے ان پر الزام لگایا کہ ان کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے اور انھوں نے یہ خبر سیاسی مخالفت کی بنا پر لگائی تھی مگر اسلام آباد میں ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں عزیز میمن کا کہنا تھا کہ ’میرا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں ایک غیرجانب دار بندہ ہوں۔ میں ایک صحافی ہوں۔ بلاول والی سٹوری کے بعد ایس ایس پی نے میرا جینا حرام کردیا ہے۔ مجھے تحفظ دیا جائے۔‘


کراچی یونین آف جرنلسٹس نے عزیز میمن کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ کے یو جے کے صدر حسن عباس، جنرل سیکرٹری عاجز جمالی اور ایگزیکٹو کونسل کے اراکین کی جانب سے جاری شدہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’نوشہرو فیروز پولیس کی جانب سے صحافی کو تحفظ دینے کے بجائے تنگ کرنے اور دن دہاڑے صحافی کا قتل ہونا پولیس کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ نوشہروفیروز ضلع میں ایک ہی دن حکمران پارٹی کی خاتون ایم پی اے قتل ہوگئیں اور دوسرے دن سینئر صحافی قتل ہوگئے۔‘


کے یو جے نے مطالبہ کیا ہے کہ ’عوام کے تحفظ میں ناکام پولیس افسران کو گرفتار کیا جائے۔ صحافی عزیز میمن نے خود اپنی ویڈیو میں ایس ایس پی نوشہرو فیروز پر الزام عائد کیا تھا اور نشاندہی کی تھی کہ انہیں قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ بالآخر اتوار کے روز صحافی کو قتل کرنے کے بعد نعش نہر میں پھینک دی گئی۔‘


’کے یو جے صحافی کے قتل پر شدید احتجاج کرتی ہے اور سندھ حکومت کو متنبہ کرتی ہے کہ اگر تین دن کے اندر صحافی عزیز میمن کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا گیا تو صحافتی تنظیموں کے ہمراہ ملک بھر میں عزیز میمن کے قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔‘


اس سلسلے میں انڈپینڈنٹ اردو نے فیروز جمالی صدر پیپلز پارٹی نوشہرو فیروز سے رابطہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ واقعہ ایک سال پرانا ہے۔ اس وقت کوئی ری ایکشن کیوں نہیں آیا۔ اب کوئی ایسا کیوں کریں گے؟ مرحوم جرنلسٹ ہمارے ساتھی تھے۔ اس طرح کی باتیں کرنے والے اس قتل کو غلط سمت میں لے کر جا رہے ہیں۔ یہ ایک جرنلسٹ کے خون کو غلط ڈائریکشن میں لے جانے کی کوشش ہے۔‘


انڈپینڈنٹ اردو نے اس بارے میں میڈیا کوآرڈینیٹر بلاول بھٹو زرداری، عثمان غازی سے ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کے ٹی این کے رپورٹر عزیز میمن کا قتل ایک افسوس ناک واقعہ ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی خود میڈیا ورکرز کی پارٹی ہے اور ہمیشہ میڈیا ورکرز کے حقوق کی بات کرتی ہے۔ یہ نامناسب ہے کہ بغیر کسی انکوائری کے معاملے کو کسی سیاسی جماعت یا سیاسی شخصیت سے جوڑ دیا جائے۔‘


انہوں نے مزید کہا کہ ’صحافی عزیز میمن گزشتہ تین مہینوں کے دوران چھ بار نوشہروفیروز کے ایس ایس پی فاروق سے ملے، ان کے قتل کو ایک سال پہلے کی ایک خبر کے تناظر میں پاکستان پیپلزپارٹی سے جوڑنا محض سیاسی مہم جوئی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔‘


ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’صحافی عزیز میمن کے قتل میں پولیس مختلف افراد پر شبہے کا اظہار کررہی ہے، تمام افراد سے تفتیش جاری ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ معاملے کی شفاف انکوائری ہونا چاہیے تاکہ قاتل کیفرکردار تک پہنچیں۔‘

 

khan_11

Minister (2k+ posts)
May Allah swt do his mughafarat and sabr to his family, and I also pray for all poor Sindhi's May Allah swt give them freedom from all criminal and immoral wadayra's and specially Zardari and fake bhutto family.
 

ranaji

Prime Minister (20k+ posts)
کیا حامد میر صحافی برادری کے ٹھکیدار اس کے قتل پر آواز بلند کریں گیں
حامد میر جعفر حرام کا نطفہ بدذات نسل کا گشتی زاد اپنی ما کے خصم کے کے خلاف کیسے بھونک سکتا ہے فراڈیا
 

Citizen X

Prime Minister (20k+ posts)
Aint that something, the officer for Ayaan Ali's money smuggling case gets murdered and now this.

Mere coincidence? Perhaps not!
 

ranaji

Prime Minister (20k+ posts)
کھسرا تو پھر کھسرا ہی ہوتا ہے چاہے جعلی بھٹو ہی کیوں نا ہو
 

khwahish

Councller (250+ posts)
He is on the same way like his Father and his Grandfather "Bhutto".
Zardari must be convicted in 16 Murders from Murtaza Bhutto till Aziz Memon
 
Sponsored Link

Currently Infected Patients
76 (5%)
Total Recovered

21 (2%)
Total Deaths

Latest Blogs Featured Discussion اردوخبریں