’اہلیہ اور بچے میرے زیر کفالت نہیں‘، جسٹس فائز عیسیٰ

A-Thinker

Minister (2k+ posts)





سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا ہے کہ وہ اہل خانہ کی ملکیتی جائیدادوں کی منی ٹریل دینے کے پابند نہیں کیونکہ اہلیہ اوربچے ان کے زیر کفالت نہیں ہیں۔
صدارتی ریفرنس کے خلاف سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنا جواب الجواب جمع کرادیاجس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں اہلیہ اور بچوں کی زیرملکیت جائیدادوں کی تفصیل سے آگاہ کرنے کا نہیں کہا جاسکتا، کیونکہ اہلیہ اور بچے ان کے زیر کفالت نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ الزام لگا کر ان کی شہرت اور ساکھ کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔

جسٹس فائز عیسیٰ کے مطابق کراچی میں 1600 مربع گز کا گھرہے جو پچھلے 10 سال سے خالی ہے، بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کوئٹہ اور جج سپریم کورٹ اسلام آباد میں رہائش پذیر رہا ہوں، لندن یا بیرون ملک کوئی جائیداد نہیں اور نا ہی اہلیہ کی


Source
 
Advertisement
Last edited by a moderator:

tahirmajid

Minister (2k+ posts)
Khud kahta hay keh meri bivi or bachey marry zer-e-kifalat nahi or phir supreme court mein kahta hay keh Imran Khan apni mojoda or jis ko talaq de di hay us kay asasey bhi bataey
 

ranaji

Prime Minister (20k+ posts)
اسکی بیوی کسی باہر والے کی زیر کفالت ہے یعنی یہ بیغرت لعنتی فراڈیا اپنی بیوی کی کفالت بھی باہر والوں سے کراتا ہے تو باقی حقوق بھی وہی پورے کرتا ہے جو اسکی بیوی کی کفالت کرتا ہے ؟ کتنا بیغرت ہے یہ جھوٹا اور فراڈیا
 

patriot

Minister (2k+ posts)
اگر کل کو یہ کہہ دے کہ اہلیہ اور بچے میرے نہیں تو پھر ؟
 

Munir MUGHAL

Voter (50+ posts)
پاکستان میں بھی بہت سی خواتین اپنا ذاتی کاروبار یا نوکری کرتی ھیں اور اپنا انکم ٹیکس دیتی ھیں۔
 

ranaji

Prime Minister (20k+ posts)
یعنی پرورٹ فیملی ہے جس می بیوی بچوں کی کفالت قاضی کا کوئی بدکار رقیب کرتا ہے ؟
 
Sponsored Link

Latest Blogs Featured Discussion