یہ ہیں عمران خان کے اثاثے

راجہ نوید اقبال

Senator (1k+ posts)
عمران خان کے دادا کا نام ڈاکٹر عظیم احمد خان نیازی تھا۔وہ ایک بہت بڑے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور انہوں نے برطانیہ سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی تھی لیکن بعد ازاں سیاست کے میدان میں قدم رکھ لیا تھا۔مسلم لیگ اور تحریک پاکستان کے اہم ترین رہنماؤں میں شامل تھے۔نواب آف کالاباغ کے خلاف الیکشن لڑا کرتے تھے اور نواب آف کالاباغ کے ساتھ ان کی دشمنیاں خاندانی شکل اختیار کر چکی تھیں.(عمران خان کے والد سیاست میں نا آئے پر ان کے بھائی امان اللہ خان نیازی جو کہ پیشے سے ایک وکیل تھے سیاست میں ہی رہے)۔ان کی حویلی اپنے ہی نام یعنی عظیم منزل کے نام سے شرمان محلہ میانوالی میں 10 کنال اراضی پر تعمیر شدہ تھی۔ یہ حویلی آجکل عمران خان کے کزن انعام اللہ خان نیازی کو وراثت میں ملی ہوئی ہے۔

عمران خان کے والد اکرام اللہ خان نیازی نے 1946 میں برطانیہ کے امپیریل کالج لندن سے انجیرئینگ کی تعلیم حاصل کی تھی۔ pwd میں چیف انجینئر کی پوسٹ پر فائز تھے جو کہ 22 ویں گریڈ کی پوسٹ ہے۔ جب نواب آف کالاباغ کو مغربی پاکستان کا گورنر بنایا گیا تو اس نے نیازی خاندان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا شروع کر دیا جس کے خلاف انہوں نے چیف انجینئر کی پوسٹ سے اور عمران خان کے نانا احمد حسن خان نے ضلعی کمیشنر کے عہدے سے احتجاجا استعفی دے دیا تھا۔ اسکے بعد انہوں نے ریپبلک انجینئرنگ کارپوریشن کے نام سے ایک انجینئرنگ کنسلٹنسی کی کمپنی بنائی۔اسکے بعد وہ واپڈا کے ساتھ بطور کنسلٹنٹ بھی کام کرتے رہے۔وہ پاکستان ایجوکیشنل سوسائٹی نام کا ایک فلاحی ادارہ بھی چلاتے تھے جو کہ معاشرے کے غریب مگر ہونہار طالب علموں کے یونیورسٹی کی تعلیم کا خرچہ اٹھاتی تھی۔

عمران خان کی بڑی بہن روبینہ خانم لندن سکول آف اکونامکس سے تعلیم یافتہ ہیں اور اقوام متحدہ میں بھی ایک بڑے عہدے پر فائز رہی ہیں۔

دوسری بہن علیمہ خان نے 1989 میں لمز یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا تھ جو کہ غالبا لمز کا پہلا بیچ تھا اور وہ ایک بزنس وومن ہیں۔ انکی ایک ٹیکسٹائیل کمپنی لاہور میں (Cotcom Sourcing Pvt Ltd) کے نام سے ہے جس کے نمائندہ دفاتر کراچی، دبئی اور نیو یارک میں بھی موجود ہیں۔اس کمپنی کے ذریعے وہ دنیا بھر سے ٹیکسٹائل امپورٹرز اور ایکسپورٹرز کے آرڈرز مینج کرتی ہیں۔اس کے علاوہ وہ بہت سی این جی اوز جیسے کہ حمید مگو ٹرسٹ،سارک ادارہ برائے گھر بیٹھے مزدور کے بھی بورڈ آف ڈاریکٹرز کی ممبر ہیں۔ ان کے علاوہ وہ شوکت خانم کی مارکیٹنگ ڈائریکٹر بھی ہیں ۔علاوہ ازیں وہ شوکت خانم میموریل ٹرسٹ،عمران خان فاؤنڈیشن اور نمل ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکرز کی بھی ممبر ہیں۔

لنکڈ ان پر (Cotcom Sourcing Pvt Ltd) کمپنی کے ڈاریکٹر شیراز خان کے مطابق "کوٹ کوم سورسنگ پرایئویٹ کمپنی" کا ٹوٹل ریوینو سالانہ 38 ملین ڈالر ہے- اب مصیبت پٹواریوں کو 38 ملین ڈالر کا پتہ نہیں ہونا تو بتادوں کہ 38 ملین ڈالر کا مطلب 3 اعشاریہ 8 کروڑ ڈالر اور اگر اس کو روپوں میں تبدیل کریں تو یہ تقریبا سالانہ 5 ارب روپے بنتا ہے-

ٹاولز(تولیوں) اور لینن کی آسٹریلیا میں 15 فیصد مارکیٹ علیمہ خان کی کمپنی کے پاس ہے- جبکہ علیمہ خان کی کمپنی کا سمبا گلوبل کمپنی سے اشتراک ہے جس کے بعد نیوزی لینڈ اور آسڑیلیا میں دونوں کے اشتراک سے 70 فیصد لینن کی مارکیٹ سمبا گلوبل اور کوٹ کوم کمپنی کے پاس ہے-

علیمہ خان لمز یونیورسٹی لاہور سے ایم بی اے پاس ہے- علیمہ خان نے 1989 میں ایم بی اے کیا اور اس کے بعد 5 سال اینٹرپرینر کے طور پر کام کیا-1994 میں یہ کمپنی بنائی- اور اپنی کمپنی کو خاموشی سے ترقی دیتی گئی-

عمران خان کی تیسری بہن عظمہ خانم لاہور میں ایک کوالیفائیڈ سرجن ہیں۔

جبکہ چوتھی بہن روبینہ خانم یونیورسٹی گریجیویٹ ہیں۔

جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں نا کہ ان کا کوئی بڑا بزنس ہے نا ان کے باپ دادا کوئی بڑے لوگ تھے پھر یہ کروڑوں کی جائدادیں کہاں سے آگئی ان کے لئے عرض ہے کہ عمران خان ایچیسن ، رائل گرائمر سکول اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے پڑھا ہوا ہے کبھی پتا کرو ان تعلیمی اداروں کی فیسیں کیا ہیں۔انعام اللہ نیازی لوگ 4 بھائی ہیں۔ ان کے پاس اتنی زرعی اراضی موجود ہے کہ چاروں ٹھاٹھ کی زندگی گزاررہے ہیں۔عمران اکیلا بھائی ہے، اس کے پاس جتنی خآندانی اراضی ہے دو تین ارب کچھ بھی نہیں۔

یہ عمران خان کے اثاثوں کی وہ لسٹ ہے جو اس نے 2013 الیکشن سے پہلے تحریک انصاف کی ویب سائٹ پر ڈالے تھے۔ان میں سے صرف بنی گالہ کا گھر اور گرینڈ حیات والا فلیٹ عمران خان نے خریدا تھا باقی سب اسے وراثت میں ملے تھے..اور کہا جاتا ہے۔عمران خان کے دادا 40000 کنال کا مالک تھے۔
 
Advertisement
Last edited by a moderator:

Urdu speaking

Minister (2k+ posts)
عمران خان کے دادا کا نام ڈاکٹر عظیم احمد خان نیازی تھا۔وہ ایک بہت بڑے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور انہوں نے برطانیہ سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی تھی لیکن بعد ازاں سیاست کے میدان میں قدم رکھ لیا تھا۔مسلم لیگ اور تحریک پاکستان کے اہم ترین رہنماؤں میں شامل تھے۔نواب آف کالاباغ کے خلاف الیکشن لڑا کرتے تھے اور نواب آف کالاباغ کے ساتھ ان کی دشمنیاں خاندانی شکل اختیار کر چکی تھیں.(عمران خان کے والد سیاست میں نا آئے پر ان کے بھائی امان اللہ خان نیازی جو کہ پیشے سے ایک وکیل تھے سیاست میں ہی رہے)۔ان کی حویلی اپنے ہی نام یعنی عظیم منزل کے نام سے شرمان محلہ میانوالی میں 10 کنال اراضی پر تعمیر شدہ تھی۔ یہ حویلی آجکل عمران خان کے کزن انعام اللہ خان نیازی کو وراثت میں ملی ہوئی ہے۔

عمران خان کے والد اکرام اللہ خان نیازی نے 1946 میں برطانیہ کے امپیریل کالج لندن سے انجیرئینگ کی تعلیم حاصل کی تھی۔ pwd میں چیف انجینئر کی پوسٹ پر فائز تھے جو کہ 22 ویں گریڈ کی پوسٹ ہے۔ جب نواب آف کالاباغ کو مغربی پاکستان کا گورنر بنایا گیا تو اس نے نیازی خاندان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا شروع کر دیا جس کے خلاف انہوں نے چیف انجینئر کی پوسٹ سے اور عمران خان کے نانا احمد حسن خان نے ضلعی کمیشنر کے عہدے سے احتجاجا استعفی دے دیا تھا۔ اسکے بعد انہوں نے ریپبلک انجینئرنگ کارپوریشن کے نام سے ایک انجینئرنگ کنسلٹنسی کی کمپنی بنائی۔اسکے بعد وہ واپڈا کے ساتھ بطور کنسلٹنٹ بھی کام کرتے رہے۔وہ پاکستان ایجوکیشنل سوسائٹی نام کا ایک فلاحی ادارہ بھی چلاتے تھے جو کہ معاشرے کے غریب مگر ہونہار طالب علموں کے یونیورسٹی کی تعلیم کا خرچہ اٹھاتی تھی۔

عمران خان کی بڑی بہن روبینہ خانم لندن سکول آف اکونامکس سے تعلیم یافتہ ہیں اور اقوام متحدہ میں بھی ایک بڑے عہدے پر فائز رہی ہیں۔

دوسری بہن علیمہ خان نے 1989 میں لمز یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا تھ جو کہ غالبا لمز کا پہلا بیچ تھا اور وہ ایک بزنس وومن ہیں۔ انکی ایک ٹیکسٹائیل کمپنی لاہور میں (Cotcom Sourcing Pvt Ltd) کے نام سے ہے جس کے نمائندہ دفاتر کراچی، دبئی اور نیو یارک میں بھی موجود ہیں۔اس کمپنی کے ذریعے وہ دنیا بھر سے ٹیکسٹائل امپورٹرز اور ایکسپورٹرز کے آرڈرز مینج کرتی ہیں۔اس کے علاوہ وہ بہت سی این جی اوز جیسے کہ حمید مگو ٹرسٹ،سارک ادارہ برائے گھر بیٹھے مزدور کے بھی بورڈ آف ڈاریکٹرز کی ممبر ہیں۔ ان کے علاوہ وہ شوکت خانم کی مارکیٹنگ ڈائریکٹر بھی ہیں ۔علاوہ ازیں وہ شوکت خانم میموریل ٹرسٹ،عمران خان فاؤنڈیشن اور نمل ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکرز کی بھی ممبر ہیں۔

لنکڈ ان پر (Cotcom Sourcing Pvt Ltd) کمپنی کے ڈاریکٹر شیراز خان کے مطابق "کوٹ کوم سورسنگ پرایئویٹ کمپنی" کا ٹوٹل ریوینو سالانہ 38 ملین ڈالر ہے- اب مصیبت پٹواریوں کو 38 ملین ڈالر کا پتہ نہیں ہونا تو بتادوں کہ 38 ملین ڈالر کا مطلب 3 اعشاریہ 8 کروڑ ڈالر اور اگر اس کو روپوں میں تبدیل کریں تو یہ تقریبا سالانہ 5 ارب روپے بنتا ہے-

ٹاولز(تولیوں) اور لینن کی آسٹریلیا میں 15 فیصد مارکیٹ علیمہ خان کی کمپنی کے پاس ہے- جبکہ علیمہ خان کی کمپنی کا سمبا گلوبل کمپنی سے اشتراک ہے جس کے بعد نیوزی لینڈ اور آسڑیلیا میں دونوں کے اشتراک سے 70 فیصد لینن کی مارکیٹ سمبا گلوبل اور کوٹ کوم کمپنی کے پاس ہے-

علیمہ خان لمز یونیورسٹی لاہور سے ایم بی اے پاس ہے- علیمہ خان نے 1989 میں ایم بی اے کیا اور اس کے بعد 5 سال اینٹرپرینر کے طور پر کام کیا-1994 میں یہ کمپنی بنائی- اور اپنی کمپنی کو خاموشی سے ترقی دیتی گئی-

عمران خان کی تیسری بہن عظمہ خانم لاہور میں ایک کوالیفائیڈ سرجن ہیں۔

جبکہ چوتھی بہن روبینہ خانم یونیورسٹی گریجیویٹ ہیں۔

جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں نا کہ ان کا کوئی بڑا بزنس ہے نا ان کے باپ دادا کوئی بڑے لوگ تھے پھر یہ کروڑوں کی جائدادیں کہاں سے آگئی ان کے لئے عرض ہے کہ عمران خان ایچیسن ، رائل گرائمر سکول اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے پڑھا ہوا ہے کبھی پتا کرو ان تعلیمی اداروں کی فیسیں کیا ہیں۔انعام اللہ نیازی لوگ 4 بھائی ہیں۔ ان کے پاس اتنی زرعی اراضی موجود ہے کہ چاروں ٹھاٹھ کی زندگی گزاررہے ہیں۔عمران اکیلا بھائی ہے، اس کے پاس جتنی خآندانی اراضی ہے دو تین ارب کچھ بھی نہیں۔

یہ عمران خان کے اثاثوں کی وہ لسٹ ہے جو اس نے 2013 الیکشن سے پہلے تحریک انصاف کی ویب سائٹ پر ڈالے تھے۔ان میں سے صرف بنی گالہ کا گھر اور گرینڈ حیات والا فلیٹ عمران خان نے خریدا تھا باقی سب اسے وراثت میں ملے تھے..اور کہا جاتا ہے۔عمران خان کے دادا 40000 کنال کا مالک تھے۔
اور آخر میں تمہارا قلم ڈگ مگا گیا یہ لکھتے ہوۓ کہ علمیہ خان ایک ٹیکس چور ہے جس کو سپریم کورٹ سے ٹیکس چوری پر ٨٨ ملین روپے جرمانہ پڑا
 

راجہ نوید اقبال

Senator (1k+ posts)
دنیا بھر میں دھندہ کر رہی تھی اور تو کہتا ہے کتے کہ اسکو معلوم نہیں تھا ٹیکس پے کرنا چل بھگ سالہ چاپلوسی کتا
ابے او بڑوے خنزیر ساری دنیا میں دھندہ تو قطری فراری،آصفہ،بلو رانی،اور الطاف کتا کر رہے ہیں،ان سے پوچھ کبھی انھوں نے ٹیکس دیا ہے خنزیر کی اولاد
 

3rd_Umpire

Minister (2k+ posts)
دنیا بھر میں دھندہ کر رہی تھی اور تو کہتا ہے کتے کہ اسکو معلوم نہیں تھا ٹیکس پے کرنا چل بھگ سالہ چاپلوسی کتا
یار باقی سب چھوڑ۔۔۔
یہ بتا تیرے غیر قانونی کھوکھے کا کیا بنا، جس میں تم پان بیڑی بیچا کرتے تھے
بلدیہ نے گرانے کے بعد کوئی دوسری جگہ دی ہے کہ نہیں؟؟؟
 

LeezaKhan

Minister (2k+ posts)
دنیا بھر میں دھندہ کر رہی تھی اور تو کہتا ہے کتے کہ اسکو معلوم نہیں تھا ٹیکس پے کرنا چل بھگ سالہ چاپلوسی کتا
تمہاری ماں یا بہن کام کرتی ہے، کمپنی ہیڈ کرتی ہے تو وہ دھندہ ہوتا ہے؟
کوئی شک نہیں تم لوگوں پر اللہ کی مار ہے
 

Urdu speaking

Minister (2k+ posts)
تمہاری ماں یا بہن کام کرتی ہے، کمپنی ہیڈ کرتی ہے تو وہ دھندہ ہوتا ہے؟
کوئی شک نہیں تم لوگوں پر اللہ کی مار ہے
ابے چوٹیا کراچی میں دھندہ کاروبار کو کہتے عام زبان میں جو کے الفاظ کے اس کے اصل معنی ہیں جو میں نے بھی اس ہے سینس میں لکھا ... پنجاب میں جسم فروشی کو دہندہ کہتے ہیں کیونکہ کتوں تم لوگوں کے ذہنوں میں ہی صرف مجرا بسا ہوا ہے
 

Urdu speaking

Minister (2k+ posts)
aby mader chood Karachi main kidher rahta hay tu ya bata
آجا چوزے کل رات عزیزآباد جاوید نہاری ٹھوک کے تیرا مغز نکل کر نہاری میں کھاؤں گا سالہ ڈگا چوپایہ آیا بڑا کراچی
 

راجہ نوید اقبال

Senator (1k+ posts)
آجا چوزے کل رات عزیزآباد جاوید نہاری ٹھوک کے تیرا مغز نکل کر نہاری میں کھاؤں گا سالہ ڈگا چوپایہ آیا بڑا کراچی
الطاف کتا بھی ایسے ہی بھونکتا تھا،دیکھ لے کیا حال ہوا ہے اس کا اور آنے والے دنوں میں کیا ہو گا
 

LeezaKhan

Minister (2k+ posts)
ابے چوٹیا کراچی میں دھندہ کاروبار کو کہتے عام زبان میں جو کے الفاظ کے اس کے اصل معنی ہیں جو میں نے بھی اس ہے سینس میں لکھا ... پنجاب میں جسم فروشی کو دہندہ کہتے ہیں کیونکہ کتوں تم لوگوں کے ذہنوں میں ہی صرف مجرا بسا ہوا ہے
اوہ یاد آیا تم تو اردو سپیکنگ کے اس نسل سے تعلق رکھتے ہو جو صرف بتہ خوری، قتل، دنگا فساد اور انسانوں کے سروں میں ڈرل کرتی ہے۔
وہی تو دھندہ کہلاتا ہے
اور ہاں میرے سات پشتوں کا بھی پنجاب سے کوئِ تعلق نہیں
 
Sponsored Link

Latest Blogs Featured Discussion