یوم پاکستان اقلیتوں کے نام

Alishbah

Voter (50+ posts)
ستتر سال ۔۔۔ پاکستان ۔۔۔ ایک خواب ۔۔۔ ایک لگن ۔۔۔ غلامی کی زنجیریں توڑ کر ہمیشہ کیلیے آزاد ہو جانے کی لگن ۔۔۔ دنیا کے نقشے کو تبدیل کرنے کی آرزو ۔۔۔ اور پھر قربانیوں کا ایک طویل سلسلہ ۔۔ قربانیاں ۔۔ ماوں ، بہنوں ، بیٹیوں کی ،،، قربانیاں سہاگ کی ،، قربانیاں عزتوں کی ،، قربانیاں مال و دولت کی ۔۔۔ پھر کہیں جا کہ وجود میں آئی یہ ریاست ۔۔۔ "ریاست پاکستان"۔۔۔ ستتر سال پہلے کاغذات میں موجود "پاکستان" آج ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے ۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے کسی ایک طبقہ فکر نے بھی آزادی کے حقیقی مطلب کو صحیح معنوں میں کبھی سمجھا ہے ؟ کسی نے کبھی کوشش کی کہ خود کو ، اپنے اندر کو ،، اپنی ذات میں قید پرندے کو ،،اپنی سوچ کو اپنے افکار کو آزاد کرے ؟؟اور دنیا کو ثابت کرے کہ ہم نے آزاد ہونے کا حق ادا کیا ہے ۔۔ ہم نے ان لاکھوں قربانیوں کا قرض اتارا ہے جو اس سرزمین کیلیے دی گیئں۔۔۔اور بغیر کسی جھجھک اور مغالطے کے اس سوال کا جواب کم از کم میرے نزدیک ہے "ہر گز نہیں"۔۔۔۔


آزادی ہوتی کیا ہے ؟؟ آزادی وہ ہوتی ہے جو سانحہ نیوزی لینڈ کے بعد ہمیں دیکھنے کو ملی ۔۔۔۔ سر پر حجاب اوڑھنے سے پارلیمنٹ میں تلاوت قرآن پاک تک اور ٹیلی ویزن سے براہ راست آذان نشر کرنے سے وزیراعظم جسینڈا کے مسلم کمیونٹی سے آج نماز جمعہ پر اظہار یکجحتی تک قدم قدم پر ہمیں احساس ہوتا ہے کہ آزاد قومیں ،، خدشات سے آزاد ، خوف سے آزاد کیسی ہوتی ہیں ۔۔۔ یہ وہ لوگ ہیں جنکے افکار آزاد ہیں جنکے پیروں میں طرح طرح کے خدشات کی بیڑیاں نہیں ہیں ۔۔۔ اقلیتیوں کا تحفظ اور انکی پہچان تسلیم کرنے سے جنکا مذہب خطرے میں نہیں پڑ جاتا ،، جنکو اس بات کا تعصب جانور نہیں بنا ڈالتا کہ وہی اللہ کی محبوب قوم ہیں اور انکے سوا کسی اور کو دنیا میں عزت سے رہنے کا حق نہیں۔۔۔

اور اب ذرا چودہ سو سال پیچھے جائیے اور سوچیے جس ریاست مدینہ کا علم اٹھائے پاکستان وجود میں آیا تھا وہ ریاست کیسی تھی ؟۔۔۔۔۔ عمر فاروق رض کو گرجے میں نماز پڑھنے کی دعوت دی جاتی ہے وہ منع کرتے ہیں ،، عیسائی سمجھتے ہیں کہ وہ انکی عبادت گاہ کو ناپاک سمجھ رہے ہیں ،،عمر فاروق رض تصحیح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں انکو خدشہ ہے کہ اگر انھوں نے یہاں نماز ادا کی تو کل کو مسلمان اس عبادت گاہ کو عقیدت میں مسجد میں تبدیل نہ کر دیں ۔۔۔یہ ایک واقعہ نہیں صرف تاریخ کے اوراق پلٹیں آپکو ایسے بیسیوں واقعات مل جائیں گے جہاں ریاست مدینہ میں اقلیتیوں کی برابر تکریم اور انکے احساسات اور جذبات کی قدر نظر آئے گی ۔۔

اور اس ملک پاکستان کے بنانے کے پیچھے بھی یہی نظریہ سرگرم تھا کہ "ہم آزاد ہوں گے " ، سب کو آزادی ہو گی ،،،قائد اعظم محمد علی جناح نے جا بجا اپنے خطابات میں اس موضوع پر گفتگو فرمائی کہ پاکستان میں بسنے والے تمام مذاہب اور لسانیات کے افراد اب صرف اور صرف پاکستانی ہیں ۔۔۔کیونکہ یہ وہ قوم تھی جو تیسرے درجے کے شہری ہونے کا درد جانتی تھی تو کسی اور کو اس تکلیف میں مبتلا کیسے دیکھ سکتی تھی ۔۔۔

مگر ستتر سال سے صورتحال بلکل مختلف ہے ۔۔۔ہم تو غلام ہیں ۔۔۔خدشات کےغلام ،، وسوسوں کے غلام ،، خوف کے غلام ،،، منٹ منٹ پر ہمارے ایمان کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے ،، کوئی اقلیتی فرد کسی اہم پوزیشن پر لگ جائے تو ہم کفر کے فتوے لگا کہ اسکو نظام سے باہر پھینک دیتے ہیں ، کسی اقلیت پر کوئی بھی مسلمان جھوٹا الزام لگا دے ہم ملعون اور گستاخ کہہ کہ اسکی جان کہ درپے ہو جاتے ہیں ۔۔۔اور تو اور آج تک ہم نے اپنے ملک کی سب سے نمایاں اقلیت کیلیے باقاعدہ "چوڑا" لفظ مختص کیا ہے ۔۔ہم آزاد نہیں ہیں اور نہ ہی آزاد کہلانے کے کسی طور لائق ہیں ۔۔ہم آزاد اس روز ہوں گے جس روز "ریاست مدینہ" اور بانی پاکستان کے اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے اس ملک کے ہر شہری کو وہی تحفظ وہی تکریم اور وہی مواقع دیں گے جو "نیوزی لینڈ" میں مسلمانوں کو حاصل ہیں تب تک کیلیے ہر سال ہمیں تئیس مارچ کو اللہ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں آزادی کی نعمت عطا کرے ۔۔۔
 
Advertisement
Last edited by a moderator:

SaRashid

Minister (2k+ posts)
نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا کرائسٹ چرچ حملے کے بعد بہت خوب صورت اور احسن رد عمل سامنے آیا ہے۔ محترمہ نے مسلم کمیونٹی کی دل جوئی کی اور ان کو اپنائیت کا احساس دیا۔ یہ ایک سمجھ دار اور زیرک انسان کی نشانی ہے۔ مس آرڈرن جیسا رویہ کسی اور یورپی ملک میں دیکھنے کو نہیں ملا جہاں مسلمانوں پر حملے ہوئے، نہ یہ رویہ امریکہ میں دیکھا گیا۔
نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے ایک روشن مثال قائم کی ہے۔ امید ہے عیسائی دنیا اس سے اچھا تاثر لے اور مسلم دنیا میں اپنے تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے ذریعے تجربات کر کے اور کروا کے، ہندوستان کو پاکستان کے خلاف اکسا کے، اسرائیل کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکا کے اور القاعدہ اور داعش جیسی دہشت گرد تنظیمیں پیدا کر کے اپنی شیطانیت اور فسطائیت میں تھوڑی کمی لانے کا سوچے گی۔ تھوڑی شرم اور تھوڑی حیا کرے گی۔
 

muhammadadeel

Minister (2k+ posts)
بلاوجہ یہ لبرل بغیرت عیسایوں ، ہندوں اور سکھوں کا نام استمال کرتے ہیں
جب پچھلے ۲۰ سال سے انکی حکومت تھی پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی صورت میں تب تو اِن کو نہ عورت مارچ نہ اقلیت کا لفظ نظر آیا۔

اُلٹا شراب کی بوتلیں پینی کے لیے ن اور پیپلز پارٹی کے لوگ اکثریت کو اب تک استمال کرتے آئے ہیں۔


اصل حق ہر ایک کو معاشرے میں انصاف دینا ہے نہ کہ عیسائی، ہندو کے نام پر اقلیتوں میں بانٹ کے اُن کے ساتھ فساد والا سلوک کرنا۔

نام نہاد دن سے نہ کچھ اثر ہوتا ہے نہ فرق پڑتا ہے۔ صرف لوگوں میں تفرقا پھیلاتا ہے۔
 

SaRashid

Minister (2k+ posts)
بلاوجہ یہ لبرل بغیرت عیسایوں ، ہندوں اور سکھوں کا نام استمال کرتے ہیں
جب پچھلے ۲۰ سال سے انکی حکومت تھی پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی صورت میں تب تو اِن کو نہ عورت مارچ نہ اقلیت کا لفظ نظر آیا
نہیں جناب۔ پاکستان میں رہنے والی اقلیتیں بلاشبہ ہماری محبت اور ہمدردی کی مستحق ہیں۔ ان کو زندگی کے ہر شعبوں میں مساوی یا مناسب حصہ ملنا چاہیے۔ یہ بھی اتنے ہی پاکستانی ہیں جتنے اس ملک کے اکثریتی عوام۔
دوسری غلط فہمی یہ کہ پاکستان میں اقلیتیں محفوظ نہیں، یہ سراسر جھوٹ ہے۔ میرے خیال میں یہاں اکثریت محفوظ نہیں، اقلیت پھر بھی بہت محفوظ ہے۔ ذرا 10، 20 سالوں، بلکہ 30 سالوں کا ریکارڈ نکلوائیے۔ یہاں مسجدوں، امام بارگاہوں پر زیادہ حملے ہوئے ہیں، مسلمانوں نے مسلمانوں کو فرقہ واریت کے نام پر زیادہ مارا ہے۔ شیعوں سنیوں نے ایک دوسرے کے علماء کو مارا ہے۔ فرقہ واریت میں ویسے تو اہم ترین کردار، ایران، ہندوستان اور سعودی عربیہ کا ہے، تاہم دشمن تب ہی استعمال کرے گا جب اسے بے ضمیر اور جاہل پاکستانی (دہشت گرد) دستیاب ہوں گے۔
کسی احمق انسان نے کہا تھا کہ پاکستان میں احمدی عبادت گاہ میں لوگوں کو مارا گیا، تب پاکستانیوں کی طرف سے یہ رد عمل سامنے نہیں آیا۔ تو بھائی احمدیوں کا ہم مسلمانوں سے کیا مقابلہ؟ کیا نیوزی لینڈ میں رہنے والے مسلمان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا کوئی پنجابی بندہ، جیزس کرائسٹ کے بعد ان کا مسیح، ان کا خدا ہے؟ کیا ہم مسلمانوں نے عیسائیوں کی ڈیش مارنے کے لیے کوئی مرزا غلام قادیانی جیسی چیز پیدا کی ہے؟
اگر ہم مسلمانوں نے عیسائیوں کی ڈیش لینے کے لیے کوئی مرزا غلام قادیانی جیسا فتنہ پیدا کیا ہوتا، تو ہم دیکھتے کہ مس آرڈن کیسے دوپٹہ پہن کر مسلمانوں کی دل جوئی کر رہی ہوتی۔

 

SaRashid

Minister (2k+ posts)
اور یوم پاکستان صرف اقلیتوں کے نام کیوں ہو بھائی؟ ہم اکثریت نے کیا گناہ کیا ہے کہ ہمارا دیس ہمارے ہی نام نہ ہو؟
یہ کہاں لکھا ہے کہ اقلیت کو سر پر بٹھاؤ اور اکثریت کو زمین پر رکھ کر فٹ بال کھیلو؟
مارچ 1940 میں کیا کسی اقلیت نے قرارداد لاہور (قرارداد پاکستان) پیش کی تھی؟ کیا موجودہ پاکستان میں رہنے والے ہندوؤں نے قائد اعظم کی آل انڈیا مسلم لیگ کی حمایت کی تھی؟
کیا پاکستان کی عیسائی برادری نے 1945-46 میں مسلم لیگ کو ووٹ دیا تھا؟
بات وہ کرو، جس کا سر پیر ہو۔ یوں لمبی لمبی بے مقصد چھوڑنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
 

atensari

Prime Minister (20k+ posts)
اُلٹا شراب کی بوتلیں پینی کے لیے ن اور پیپلز پارٹی کے لوگ اکثریت کو اب تک استمال کرتے​
درست فرمایا جو اپنے ہم مذہب، ہم زبان، ہم صوبہ کو اپنے ساتھ بیٹھنے نہیں دیتے وہ اقلیت کو صرف دنیا کو دیکھانے اور شراب کی دستیابی کے لیے بہانے کے لئے استعمال کرتے ہیں
 

ram dar

Politcal Worker (100+ posts)
بلاوجہ یہ لبرل بغیرت عیسایوں ، ہندوں اور سکھوں کا نام استمال کرتے ہیں
جب پچھلے ۲۰ سال سے انکی حکومت تھی پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی صورت میں تب تو اِن کو نہ عورت مارچ نہ اقلیت کا لفظ نظر آیا۔

اُلٹا شراب کی بوتلیں پینی کے لیے ن اور پیپلز پارٹی کے لوگ اکثریت کو اب تک استمال کرتے آئے ہیں۔


اصل حق ہر ایک کو معاشرے میں انصاف دینا ہے نہ کہ عیسائی، ہندو کے نام پر اقلیتوں میں بانٹ کے اُن کے ساتھ فساد والا سلوک کرنا۔

نام نہاد دن سے نہ کچھ اثر ہوتا ہے نہ فرق پڑتا ہے۔ صرف لوگوں میں تفرقا پھیلاتا ہے۔
Pakistan se minorities ko Nikal phenko. Aur musalman ko non Muslim nations se bula lo .
 

fannu

Politcal Worker (100+ posts)
ستتر سال ۔۔۔ پاکستان ۔۔۔ ایک خواب ۔۔۔ ایک لگن ۔۔۔ غلامی کی زنجیریں توڑ کر ہمیشہ کیلیے آزاد ہو جانے کی لگن ۔۔۔ دنیا کے نقشے کو تبدیل کرنے کی آرزو ۔۔۔ اور پھر قربانیوں کا ایک طویل سلسلہ ۔۔ قربانیاں ۔۔ ماوں ، بہنوں ، بیٹیوں کی ،،، قربانیاں سہاگ کی ،، قربانیاں عزتوں کی ،، قربانیاں مال و دولت کی ۔۔۔ پھر کہیں جا کہ وجود میں آئی یہ ریاست ۔۔۔ "ریاست پاکستان"۔۔۔ ستتر سال پہلے کاغذات میں موجود "پاکستان" آج ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے ۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے کسی ایک طبقہ فکر نے بھی آزادی کے حقیقی مطلب کو صحیح معنوں میں کبھی سمجھا ہے ؟ کسی نے کبھی کوشش کی کہ خود کو ، اپنے اندر کو ،، اپنی ذات میں قید پرندے کو ،،اپنی سوچ کو اپنے افکار کو آزاد کرے ؟؟اور دنیا کو ثابت کرے کہ ہم نے آزاد ہونے کا حق ادا کیا ہے ۔۔ ہم نے ان لاکھوں قربانیوں کا قرض اتارا ہے جو اس سرزمین کیلیے دی گیئں۔۔۔اور بغیر کسی جھجھک اور مغالطے کے اس سوال کا جواب کم از کم میرے نزدیک ہے "ہر گز نہیں"۔۔۔۔


آزادی ہوتی کیا ہے ؟؟ آزادی وہ ہوتی ہے جو سانحہ نیوزی لینڈ کے بعد ہمیں دیکھنے کو ملی ۔۔۔۔ سر پر حجاب اوڑھنے سے پارلیمنٹ میں تلاوت قرآن پاک تک اور ٹیلی ویزن سے براہ راست آذان نشر کرنے سے وزیراعظم جسینڈا کے مسلم کمیونٹی سے آج نماز جمعہ پر اظہار یکجحتی تک قدم قدم پر ہمیں احساس ہوتا ہے کہ آزاد قومیں ،، خدشات سے آزاد ، خوف سے آزاد کیسی ہوتی ہیں ۔۔۔ یہ وہ لوگ ہیں جنکے افکار آزاد ہیں جنکے پیروں میں طرح طرح کے خدشات کی بیڑیاں نہیں ہیں ۔۔۔ اقلیتیوں کا تحفظ اور انکی پہچان تسلیم کرنے سے جنکا مذہب خطرے میں نہیں پڑ جاتا ،، جنکو اس بات کا تعصب جانور نہیں بنا ڈالتا کہ وہی اللہ کی محبوب قوم ہیں اور انکے سوا کسی اور کو دنیا میں عزت سے رہنے کا حق نہیں۔۔۔

اور اب ذرا چودہ سو سال پیچھے جائیے اور سوچیے جس ریاست مدینہ کا علم اٹھائے پاکستان وجود میں آیا تھا وہ ریاست کیسی تھی ؟۔۔۔۔۔ عمر فاروق رض کو گرجے میں نماز پڑھنے کی دعوت دی جاتی ہے وہ منع کرتے ہیں ،، عیسائی سمجھتے ہیں کہ وہ انکی عبادت گاہ کو ناپاک سمجھ رہے ہیں ،،عمر فاروق رض تصحیح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں انکو خدشہ ہے کہ اگر انھوں نے یہاں نماز ادا کی تو کل کو مسلمان اس عبادت گاہ کو عقیدت میں مسجد میں تبدیل نہ کر دیں ۔۔۔یہ ایک واقعہ نہیں صرف تاریخ کے اوراق پلٹیں آپکو ایسے بیسیوں واقعات مل جائیں گے جہاں ریاست مدینہ میں اقلیتیوں کی برابر تکریم اور انکے احساسات اور جذبات کی قدر نظر آئے گی ۔۔

اور اس ملک پاکستان کے بنانے کے پیچھے بھی یہی نظریہ سرگرم تھا کہ "ہم آزاد ہوں گے " ، سب کو آزادی ہو گی ،،،قائد اعظم محمد علی جناح نے جا بجا اپنے خطابات میں اس موضوع پر گفتگو فرمائی کہ پاکستان میں بسنے والے تمام مذاہب اور لسانیات کے افراد اب صرف اور صرف پاکستانی ہیں ۔۔۔کیونکہ یہ وہ قوم تھی جو تیسرے درجے کے شہری ہونے کا درد جانتی تھی تو کسی اور کو اس تکلیف میں مبتلا کیسے دیکھ سکتی تھی ۔۔۔

مگر ستتر سال سے صورتحال بلکل مختلف ہے ۔۔۔ہم تو غلام ہیں ۔۔۔خدشات کےغلام ،، وسوسوں کے غلام ،، خوف کے غلام ،،، منٹ منٹ پر ہمارے ایمان کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے ،، کوئی اقلیتی فرد کسی اہم پوزیشن پر لگ جائے تو ہم کفر کے فتوے لگا کہ اسکو نظام سے باہر پھینک دیتے ہیں ، کسی اقلیت پر کوئی بھی مسلمان جھوٹا الزام لگا دے ہم ملعون اور گستاخ کہہ کہ اسکی جان کہ درپے ہو جاتے ہیں ۔۔۔اور تو اور آج تک ہم نے اپنے ملک کی سب سے نمایاں اقلیت کیلیے باقاعدہ "چوڑا" لفظ مختص کیا ہے ۔۔ہم آزاد نہیں ہیں اور نہ ہی آزاد کہلانے کے کسی طور لائق ہیں ۔۔ہم آزاد اس روز ہوں گے جس روز "ریاست مدینہ" اور بانی پاکستان کے اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے اس ملک کے ہر شہری کو وہی تحفظ وہی تکریم اور وہی مواقع دیں گے جو "نیوزی لینڈ" میں مسلمانوں کو حاصل ہیں تب تک کیلیے ہر سال ہمیں تئیس مارچ کو اللہ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں آزادی کی نعمت عطا کرے ۔۔۔
aqliaton ka bura haal hai .
 

Funnay Khan

Politcal Worker (100+ posts)
ستتر سال ۔۔۔ پاکستان ۔۔۔ ایک خواب ۔۔۔ ایک لگن ۔۔۔ غلامی کی زنجیریں توڑ کر ہمیشہ کیلیے آزاد ہو جانے کی لگن ۔۔۔ دنیا کے نقشے کو تبدیل کرنے کی آرزو ۔۔۔ اور پھر قربانیوں کا ایک طویل سلسلہ ۔۔ قربانیاں ۔۔ ماوں ، بہنوں ، بیٹیوں کی ،،، قربانیاں سہاگ کی ،، قربانیاں عزتوں کی ،، قربانیاں مال و دولت کی ۔۔۔ پھر کہیں جا کہ وجود میں آئی یہ ریاست ۔۔۔ "ریاست پاکستان"۔۔۔ ستتر سال پہلے کاغذات میں موجود "پاکستان" آج ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے ۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے کسی ایک طبقہ فکر نے بھی آزادی کے حقیقی مطلب کو صحیح معنوں میں کبھی سمجھا ہے ؟ کسی نے کبھی کوشش کی کہ خود کو ، اپنے اندر کو ،، اپنی ذات میں قید پرندے کو ،،اپنی سوچ کو اپنے افکار کو آزاد کرے ؟؟اور دنیا کو ثابت کرے کہ ہم نے آزاد ہونے کا حق ادا کیا ہے ۔۔ ہم نے ان لاکھوں قربانیوں کا قرض اتارا ہے جو اس سرزمین کیلیے دی گیئں۔۔۔اور بغیر کسی جھجھک اور مغالطے کے اس سوال کا جواب کم از کم میرے نزدیک ہے "ہر گز نہیں"۔۔۔۔


آزادی ہوتی کیا ہے ؟؟ آزادی وہ ہوتی ہے جو سانحہ نیوزی لینڈ کے بعد ہمیں دیکھنے کو ملی ۔۔۔۔ سر پر حجاب اوڑھنے سے پارلیمنٹ میں تلاوت قرآن پاک تک اور ٹیلی ویزن سے براہ راست آذان نشر کرنے سے وزیراعظم جسینڈا کے مسلم کمیونٹی سے آج نماز جمعہ پر اظہار یکجحتی تک قدم قدم پر ہمیں احساس ہوتا ہے کہ آزاد قومیں ،، خدشات سے آزاد ، خوف سے آزاد کیسی ہوتی ہیں ۔۔۔ یہ وہ لوگ ہیں جنکے افکار آزاد ہیں جنکے پیروں میں طرح طرح کے خدشات کی بیڑیاں نہیں ہیں ۔۔۔ اقلیتیوں کا تحفظ اور انکی پہچان تسلیم کرنے سے جنکا مذہب خطرے میں نہیں پڑ جاتا ،، جنکو اس بات کا تعصب جانور نہیں بنا ڈالتا کہ وہی اللہ کی محبوب قوم ہیں اور انکے سوا کسی اور کو دنیا میں عزت سے رہنے کا حق نہیں۔۔۔

اور اب ذرا چودہ سو سال پیچھے جائیے اور سوچیے جس ریاست مدینہ کا علم اٹھائے پاکستان وجود میں آیا تھا وہ ریاست کیسی تھی ؟۔۔۔۔۔ عمر فاروق رض کو گرجے میں نماز پڑھنے کی دعوت دی جاتی ہے وہ منع کرتے ہیں ،، عیسائی سمجھتے ہیں کہ وہ انکی عبادت گاہ کو ناپاک سمجھ رہے ہیں ،،عمر فاروق رض تصحیح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں انکو خدشہ ہے کہ اگر انھوں نے یہاں نماز ادا کی تو کل کو مسلمان اس عبادت گاہ کو عقیدت میں مسجد میں تبدیل نہ کر دیں ۔۔۔یہ ایک واقعہ نہیں صرف تاریخ کے اوراق پلٹیں آپکو ایسے بیسیوں واقعات مل جائیں گے جہاں ریاست مدینہ میں اقلیتیوں کی برابر تکریم اور انکے احساسات اور جذبات کی قدر نظر آئے گی ۔۔

اور اس ملک پاکستان کے بنانے کے پیچھے بھی یہی نظریہ سرگرم تھا کہ "ہم آزاد ہوں گے " ، سب کو آزادی ہو گی ،،،قائد اعظم محمد علی جناح نے جا بجا اپنے خطابات میں اس موضوع پر گفتگو فرمائی کہ پاکستان میں بسنے والے تمام مذاہب اور لسانیات کے افراد اب صرف اور صرف پاکستانی ہیں ۔۔۔کیونکہ یہ وہ قوم تھی جو تیسرے درجے کے شہری ہونے کا درد جانتی تھی تو کسی اور کو اس تکلیف میں مبتلا کیسے دیکھ سکتی تھی ۔۔۔

مگر ستتر سال سے صورتحال بلکل مختلف ہے ۔۔۔ہم تو غلام ہیں ۔۔۔خدشات کےغلام ،، وسوسوں کے غلام ،، خوف کے غلام ،،، منٹ منٹ پر ہمارے ایمان کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے ،، کوئی اقلیتی فرد کسی اہم پوزیشن پر لگ جائے تو ہم کفر کے فتوے لگا کہ اسکو نظام سے باہر پھینک دیتے ہیں ، کسی اقلیت پر کوئی بھی مسلمان جھوٹا الزام لگا دے ہم ملعون اور گستاخ کہہ کہ اسکی جان کہ درپے ہو جاتے ہیں ۔۔۔اور تو اور آج تک ہم نے اپنے ملک کی سب سے نمایاں اقلیت کیلیے باقاعدہ "چوڑا" لفظ مختص کیا ہے ۔۔ہم آزاد نہیں ہیں اور نہ ہی آزاد کہلانے کے کسی طور لائق ہیں ۔۔ہم آزاد اس روز ہوں گے جس روز "ریاست مدینہ" اور بانی پاکستان کے اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے اس ملک کے ہر شہری کو وہی تحفظ وہی تکریم اور وہی مواقع دیں گے جو "نیوزی لینڈ" میں مسلمانوں کو حاصل ہیں تب تک کیلیے ہر سال ہمیں تئیس مارچ کو اللہ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں آزادی کی نعمت عطا کرے ۔۔۔
Minorities are reeling under pain in pakistan, their girls are everyday abducted and raped by Muslims with support of all govt machinery mulla media judiciary. Forceful conversion of Hindu and masihi girls to Islam by criminals is order of the day .police and judiciary do drama for few days then support mulla mafia and poor girls never returned to Hindus .julm ki inteha hai .
 

fannu

Politcal Worker (100+ posts)
Minorities are reeling under pain in pakistan, their girls are everyday abducted and raped by Muslims with support of all govt machinery mulla media judiciary. Forceful conversion of Hindu and masihi girls to Islam by criminals is order of the day .police and judiciary do drama for few days then support mulla mafia and poor girls never returned to Hindus .julm ki inteha hai .
Another hindu girl forced converted

 

SaRashid

Minister (2k+ posts)
No doubt , minorities have very miserable existence in Pakistan.
جو حالت تم لوگوں نے شودروں، عیسائیوں اور مسلمانوں کی ہندوستان میں بنائی ہوئی ہے، ہمارے ملک میں اقلیتیں اس سے ہزار گنا بہتر حال میں ہیں۔
 
Sponsored Link

Featured Discussions