کیا پاکستان ابھی تک انگریز کے تخلیق کردہ بابو کلچر سے نجات حاصل نہ کر سکا؟

Pakistani1947

Minister (2k+ posts)
انگریز ہم پر حکومت کر کے چلے گئے ہیں لیکن غلامی کا جو کلچر انگریز نے رائج کیا تھا وہ ہمارے خوں میں ایسا بسا کہ اب تک ہم اس سے چھٹکارا حاصل نہ کر سکے ہیں- ہمارے جاگیرداروں ،وڈیروں اور سیاستدانوں نے وہی انداز حکمرانی اپنایا جس کی تربیت انہیں انگریز سے ملی- پورے ہندوستان میں انگریز نے صرف بیس ہزار (تقریبا 20،000) برطانوی عہدیداروں اور فوجوں کی ایک چھوٹی سی تعداد نے حکومت کی- یہ کیسے ممکن ہوا؟ انگریز نے ہندوستان کے سر شاہ نواز بھٹو جیسے جاگیرداروں اور وڈیروں کو زمینوں اور اعزازات سے نوازا. سر شاہ نواز بھٹو کو "ہندوستانی سلطنت کے آرڈر کا ساتھی" ، اور "برطانوی سلطنت کا آفیسر ، اور "سر" کا خطاب دیا گیا ، جس کے بدلے انہوں نے پاکستان کے غریب عوام پر انگریز کا خونی نظام نافذ کرنے میں مدد کی۔ انگریز کا بنایا ہوا بیوروکریسی اور پولیس کا کلچر جو انہوں نے پوری قوم کو محکوم بنانے کے لیے تخلیق کیا وہ ابھی تک پاکستان میں اسی طرح نافذ ہےہ

انگریز افسران جنہوں نے ہندوستان میں ملازمت کی، جب واپس انگلینڈ جاتے تو انہیں وہاں پبلک پوسٹ/ ذمہ داری نہ دی جاتی۔ دلیل یہ تھی کہ تم نے ایک غلام قوم پر حکومت کی ہے جس سے تمہارے اطوار اور رویے میں فرق آیا ہوگا۔ یہاں اگر اس طرح کی کوئی ذمہ داری تمہیں دی جائے تو تم آزاد انگریز قوم کو بھی اسی طرح ڈیل کرو گے۔ اس مختصر تعارف کے ساتھ درج ذیل واقعہ پڑھیے۔


ایک انگریز خاتون جس کا شوہر برطانوی دور میں پاک و ہند میں سول سروس کا آفیسر تھا، خاتون نے زندگی کے کئی سال ہندوستان کے مختلف علاقوں میں گزارے۔ واپسی پر اپنی یادداشتوں پر مبنی بہت ہی خوبصورت کتاب لکھی۔ خاتون نے لکھا ہے کہ میرا شوہر جب ایک ضلع کا ڈپٹی کمشنر تھا اس وقت میرا بیٹا تقریباً چار سال کا اور بیٹی ایک سال کی تھی۔ ڈپٹی کمشنر کو ملنے والی کئی ایکڑ پر محیط رہائش گاہ میں ہم رہتے تھے۔ ڈی سی صاحب کے گھر اور خاندان کی خدمت گزاری پر کئی سو افراد معمور تھے۔ روز پارٹیاں ہوتیں، شکار کے پروگرام بنتے۔ ضلع کے بڑے بڑے زمیندار ہمیں اپنے ہاں مدعو کرنا باعث فخر جانتے اور جس کے ہاں ہم چلے جاتے وہ اسے اپنی عزت افزائی سمجھتا۔ ہمارے ٹھاٹھ ایسے تھے کہ برطانیہ میں ملکہ اور شاہی خاندان کوبھی مشکل سے ہی میسر تھے۔ ٹرین کے سفر کے دوران نوابی ٹھاٹھ سے آراستہ ایک عالی شان ڈبہ ڈپٹی کمشنر صاحب کی فیملی کے لیے مخصوص ہوتا تھا۔ جب ہم ٹرین میں سوار ہوتے تو سفید لباس میں ملبوس ڈرائیور ہمارے سامنے آکر دونوں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوجاتا اور سفر کے آغاز کی اجازت طلب کرتا۔ اجازت ملنے پر ہی ٹرین چلنا شروع ہوتی۔ ایک بار ایسا ہو اکہ ہم سفر کے لیے ٹرین میں بیٹھے تو روایت کے مطابق ڈرائیور نے حاضر ہوکر اجازت طلب کی۔ اس سے پہلے کہ میں بولتی میرا بیٹا بول اٹھا جس کا موڈ کسی وجہ سے خراب تھا۔ اس نے ڈرائیور سے کہا کہ ٹرین نہیں چلانی۔ ڈرائیور نے حکم بجالاتے ہوئے کہا جو حکم چھوٹے صاحب۔ کچھ دیر بعد صورتحال یہ تھی کہ اسٹیشن ماسٹر سمیت پورا عملہ جمع ہوکر میرے چار سالہ بیٹے سے درخواست کر رہا تھا، لیکن بیٹا ٹرین چلانے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہوا۔ بالآخر بڑی مشکل سے میں نے کئی چاکلیٹس دینے کے وعدے پر بیٹے سے ٹرین چلوانے کی اجازت دلوائی تو سفر کا آغاز ہوا۔چند ماہ بعد میں دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے واپس برطانیہ آئی۔ ہم بذریعہ بحری جہاز لندن پہنچے، ہماری منزل ویلز کی ایک کائونٹی تھی جس کے لیے ہم نے ٹرین کا سفر کرنا تھا۔ بیٹی اور بیٹے کو اسٹیشن کے ایک بینچ پر بٹھا کر میں ٹکٹ لینے چلی گئی۔ قطار طویل ہونے کی وجہ سے خاصی دیر ہوگئی جس پر بیٹے کا موڈ بہت خراب ہوگیا۔ جب ہم ٹرین میں بیٹھے تو عالی شان کمپائونڈ کے بجائے فرسٹ کلاس کی سیٹیں دیکھ کر بیٹا ایک بار پھر ناراضگی کا اظہار کرنے لگا۔ وقت پر ٹرین نے وسل دے کر سفر شروع کیا تو بیٹے نے باقاعدہ چیخنا شروع کردیا۔ وہ زور زور سے کہہ تھا ’’یہ کیسا اُلو کا پٹھا ڈرائیور ہے، ہم سے اجازت لیے بغیر اس نے ٹرین چلانا شروع کردی۔ میں پاپا سے کہہ کر اسے جوتے لگوائوں گا۔‘‘ میرے لیے اسے سمجھانا مشکل ہوگیا کہ ’’یہ اس کے باپ کا ضلع نہیں ایک آزاد ملک ہے۔ یہاں ڈپٹی کمشنر جیسے تیسرے درجے کے سرکاری ملازم تو کیا وزیراعظم اور بادشاہ کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں کہ اپنی انا کی تسکین کے لیے عوام کو خوار کرسکے۔‘‘ہ

آج یہ واضح ہے کہ ہم نے انگریز کو نکالا ضرور ہے البتہ غلامی کو دیس نکالا نہیں دے سکے۔ یہاں آج بھی کتنے ڈپٹی کمشنرز، ایس پیز، وزرا، مشیران اور سیاست دان او رجرنیل صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے عوام کو گھنٹوں سڑکوں پر ذلیل و خوار کرتے ہیں۔ اس غلامی سے نجات کی واحد صورت یہی ہے کہ ہر طرح کے تعصبات اور عقیدتوں کو بالائے طاق رکھ کر ہر پروٹوکول لینے والے کی مخالفت کرنی چاہیے۔ ورنہ صرف 14 اگست کو جھنڈے لگا کر اور موم بتیاں سلگا کر خود کو دھوکہ دے لیا کیجئے کہ ہم آزاد ہیں۔خرابی آخر ہے کہاں؟ مسئلہ افسران میں ہے یا نظام میں؟ اگر CSS کرنے والے اتنے قابل ہیں تو پاکستان کے ادارے تباہ حال کیوں ہیں؟ اور ٹی سی ایس میں ایک بھی CSS آفیسر کام نہیں کرتا لیکن ٹی سی ایس پاکستان پوسٹ سے زیادہ منافع میں کیوں ہے؟ آپ ریلوے کا حال دیکھ لیں؟ آپ پولیس کا حال دیکھ لیں؟ آپ پاکستان کے تمام بڑے کاروباری اور منافع بخش ادارے دیکھ لیں وہاں کوئی CSS افسر نہیں ہے۔ تمام کامیاب اور منافع بخش اداروں میں آپ کو پروفیشنل لوگ ملیں گے۔ اینکر گروپ، عارف حبیب گروپ، ڈی جی خان سیمنٹ سمیت تمام کامیاب ادارے پروفیشنل لوگ چلارہے ہیں۔ دنیا میں پروفیشنل لوگوں انجینئرز، ڈاکٹرز اور سائنسدانوں اور اساتذہ کی عزت ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ ایک پروفیشنل ڈاکٹر اور انجینئر کے اوپر ڈپٹی کمشنر رعب جماتا ہے۔ جس کی قابلیت صرف انگریزی کا امتحان پاس کرنا ہے۔ اگر انگریزی کو سی ایس ایس سے نکالا جائے تو پاس کرنے والے ہزاروں امیدوار ہوں گے۔ عرب ممالک میں سی ایس یس جیسا امتحان نہیں ہوتا پر وہاں کے مضبوط اداروں کی کارکردگی آپ کے سامنے ہے۔ جاپان اور تائیوان کے پاس کوئی قدرتی وسائل نہیں لیکن وہ ٹیکنالوجی میں دنیا سے آگے ہیں۔ پاکستان کو ترقی کے لیے سرکاری افسرشاہی نہیں بلکہ ڈاکٹرز، سائنسدانوں اور انجینئرنگ پروفیشنلز کی ضرورت ہے۔

یہ ملک کیا ہے؟جب کبھی تجز یہ کر نے بیٹھتا ہو ں تو ایک ہی فیصلے پہ پہنچتا ہو ں کہ یہ ملک سفید پوش بابوئوں کی چرا گا ہ ہے۔یہ سفیدپوش بابو اس ملک کو ا ب تک ا یک محتاط اندا زے کے مطا بق کر پشن کی صورت میں 300ارب ا مر یکی ڈا لر کا نقصا ن پہنچا چکے ہیں۔ ۔ سوال پیدا ہو تا ہے کہ آیا ان لٹیرو ں کو کیا صر ف جیل کی ہوا لگوانا کافی ہو گا ؟ نہیں، ہرگز نہیں یہ ہرگز کا فی نہ ہو گا۔ بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان بابوئوں سے لو ٹے گئے 300ارب ڈ ا لر کی ایک ایک پا ئی و صو ل کی جا ئے۔ کیا کوئی بتا ئے گا کہ پی آ ئی ا ے کا خسارہ جو اب سے قر یباً دس برس پہلے چالیس ارب روپے تھا وہ اب پانچ سو ارب روپے کیسے پہنچ گیا؟ کوئی کیو ں تحقیق نہیں کرتا کہ اس میں کو ن کو ن بابو ملو ث ہیں ؟ لکھنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے کہ یہ کہانی اس ملک کی ہے، جس کے بانی قائد اعظم محمد علیؒ جناح نے ایک جوڑا جرابوں کا اس لیے واپس کردیا تھا کہ وہ مہنگا تھا۔ سرکاری اجلاس میں چائے تک پینے کی ممانعت تھی۔ جب سیکرٹری نے چائے پیش کیے جانے کے بارے میں پوچھا تو الٹا آپ نے پوچھ لیا کہ کیا یہ لوگ اپنے گھر سے چائے پی کر نہیں آتے۔ ان کی ہمشیرہ فاطمہ جناح کو بیکری سے خریدی گئی ڈبل روٹی پہ دکھ ہوتا کہ ہم دو افراد کے لیے پوری ڈبل روٹی فضول خرچی ہے۔ گھر میں تہمد اور بنیان پہنے رکھنے والا حکیم الامت علامہ اقبال کیا بڑی بڑی جائیدادیں نہیں بناسکتے تھے؟ قائد ملت لیاقت علی خان تقسیم سے پہلے کے ہندوستان میں 300 گائوں کے مالک تھے۔ پاکستان بنا تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر خالی ہاتھ کراچی آباد ہوگئے۔ دہلی میں ذاتی حویلی پاکستانی سفارت خانے کو عطیہ کردی۔ جب لیاقت باغ راولپنڈی میں شہید ہوئے تو پائوں میں پھٹی ہوئی جرابیں تھیں اور بینک بیلنس کل 47 ہزار روپے نکلا۔اسی ملک کے با بوئو ں نے لو ٹ ما ر کر کے فرا ر ہو نے کے طر یقے پہلے سے سو چ رکھے ہیں۔ چنا نچہ یہ دہر ی شہریت اختیا ر کیئے ہو ئے ہیں، مگر ظا ہر کر نے سے گر یز کر تے ہیں۔


ماخوز
 
Advertisement
Last edited:

Galaxy

Chief Minister (5k+ posts)
This bureaucracy will not change. It takes 200 years to do away a100 years salavey.So waite another 130 years.
 

atensari

Prime Minister (20k+ posts)
ہم انگریزوں کے سیاسی، عدالتی اور معاشی نظام کی تقلید کر رہے ہیں اور رفتہ رفتہ معاشرت بھی ان جیسی بنانے کی جستجو میں ہے. اس کے باوجود وہ آقا رہیں گے ہم غلام وہ گوری ہم کالی، بھوری، پیلے اقوام
 

shujauddin

Senator (1k+ posts)
ہم انگریزوں کے سیاسی، عدالتی اور معاشی نظام کی تقلید کر رہے ہیں اور رفتہ رفتہ معاشرت بھی ان جیسی بنانے کی جستجو میں ہے. اس کے باوجود وہ آقا رہیں گے ہم غلام وہ گوری ہم کالی، بھوری، پیلے اقوام
انگریز ہم پر حکومت کر کے چلے گئے ہیں لیکن غلامی کا جو کلچر انگریز نے چنا نچہ یہ دہر ی شہریت اختیا ر کیئے ہو ئے ہیں، مگر ظا ہر کر نے سے گر یز کر تے ہیں۔

ماخوز
پاکستان کی بیوروکریسی نے لوٹا ہے پاکستان کو۔ ہر سال بھرتی ہونے والے بھوکے ننگے آفیسر امیر ہونے کے خواب کو رشوت خوری اور حرام خوری سے پورا کرتے ہیں۔
This bureaucracy will not change. It takes 200 years to do away a100 years salavey.So waite another 130 years.
That's because right from the beginning Gandhi, Nehra and Quaid-e-Azam were British loyal subjects. Happily participated and accepted the elections held by their masters. Other nations fight back with military might.
Turkey fought a combined force of UK, France, Italy , Greece and Armenia and won thei independence.
Algerians fought a war against the French and won their independce.
Libyans fought against the Italians.

What did Indian/Pakistani leaders do? they just participated in British held elections as their slaves. That's why we still remain slaves !
 

bigfootyetee

MPA (400+ posts)
کیا پاکستان ابھی تک انگریز کے تخلیق کردہ بابو کلچر سے نجات حاصل نہ کر سکا؟
solution _ This is CSS culture- change CSS /PCS system of appointments.
 

Pakistani1947

Minister (2k+ posts)
اس کا واحد حل یہ ہے کہ پاکستانی عدلیہ ، بیوروکریسی ، سیاست ، صحافت ، پولیس ، فوج، وڈیرے ، جاگیردار ، کاروبار میں تمام کرپٹ افراد کا تعین کرنے کے لئے آئی ایس آئی اور ایف آئی اے (صرف ایماندار افراد کا استعمال کرتے ہوئے) استعمال کریں۔ برطانوی سلطنت کے پاؤں چاٹ کر ان وڈیروں اور جاگیرداروں کی ملکیت والی تمام اراضی کا تعین کریں ،

ایمرجنسی کا اعلان کریں ، تمام اسمبلیاں تحلیل کریں ، تمام مجرموں کو فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلا کر ایک ہفتہ کے اندر پھانسی دیں ، ان تمام زمینوں کو ضبط کریں جو انگریز کی وفاداری اور مسلمانوں سے غداری کے نتیجے میں حاصل کی گئی تھیں- یہ ضبط شدہ زمین حکومت پاکستان کی ملکیت میں ہمیشہ رہے گی تاکہ حکومت چلانے کے لئے ایک مستقل ذریع آمدنی رہے- اور یہ زمین کو صرف کاشتکاری کے لئے کسانوں کو دیا جاے جو ان جاگیرداروں اور وڈیروں کے پاس غلامی کر رہے تھے- اور کسان کو آمدن کا 60 فیصد حصہ لینا چاہئے اور 40 فیصد حصہ کسان حکومت کو زمین استمال کرنے کے حق کی مد میں ادا کرے- صرف اس زمین کو کاشت کیلئے استعمال کیا سکے گا بصورت دیگر حکومت کو چاہئے کہ وہ زمین پر قبضہ کرے اور اسے کاشت کے لئے دے جو کوئی بھی اس پر کاشت کرسکتا ہے۔

اور پھر دوبارہ انتخابات کا اعلان کریں۔ صرف ان شرائط پر جو پوسٹ نمبر ١٩ میں بیان کی گئی ہیں

صرف عمران خان ہی یہ کام کر سکتے ہیں ، کسی اور سے امید نہیں

بدترین صورتحال میں ، پی ٹی آئی انتخابات ہار جاے گی۔ لیکن پاکستان ہزاروں کرپٹ سیاستدانوں اور مجرموں سے پاک ہوگا جو عام پاکستانیوں کا خون چوس رہے ہیں۔

اس طریقہ سے جو فوائد حاصل ہونگے وہ یہ ہیں

پہلا فائدہ
- کرپٹ لوگوں کی مکمل تحقیقات کے بعد، ان لوگوں کی فرہست میں نام ڈالنے جن پر ملٹری کورٹ میں مقدمہ چلنا ہے، ان مجرمان کو ایک ہفتے میں پھانسی دینا ممکن ہو سکے گا اور وہ غیر قانونی طریقے سے ملک سے فرار نہ ہو سکیں گے

دوسرا فائدہ - غیر اخلاقی ذرا ۓ سے حاصل کی گئی زمین ضبط اور ہاریوں اور کسانوں میں کاشت کے مقصد کے لئے تقسیم کرنے کے کی فائدے ہیں - حکومت پاکستان کو ہمیشہ کے لئے مستقل ذریعہ آمدن کی رہ کھلے گی ' وہ زمین جہاں کاشت نہیں ہو رہی وہاں کاشت ہو سکے گی، کیونکہ ہاری کسان اپنی زمین سمجھ کر کاشت کریں گے تو لازمی ہے کہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہوگا ' جاگیردار اور وڈیروں سے زمین واپس لینے سے ان کی قوت میں کمی واقع ہوگی' اس کے علاوہ ہاری کسان زمین کاشت کے لئے ملنے کی خوشی میں اپنے اپنے جاگیرداروں اور وڈیروں کے حق میں ممکنہ احتجاج سے بھی اجتناب کریں گے

تیسرا فائدہ - ملک ہزاروں کرپٹ سیاستدانوں، ججوں، صحافیوں ' جاگیرداروں ، وڈیروں ' بیوروکریٹس جو پاکستان کی بنیادوں کو کھوکلا کر رہے ہیں ان سے ہمشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جا ۓ گا

چوتھا فائدہ - پھانسیوں کے فوری بعد الیکشن کروانے کا اعلان کرنے سے ایک تو عالمی اداروں اور سپر پاورس کو پاکستان کے خلاف نیم فوجی حکومت رکھنے کی بنیاد پر پابندیاں لگانے کا کوئی موقع نہیں ملے گا اور اوپر پوسٹ نمبر ١٩ کی شرائط پر الیکشن کروانے کے نتیجے میں صرف اور صرف وہ اشخاص سامنے آ ئینگے جو واقہی پاکستان کے عوام کی بے لوث خدمت کا جذبہ رکھتے ہونگے

پانچواں فائدہ - اس تمام کاروائی کے بعد عمران خان کو ٹی وی پر آ کر عوام کو اعتماد میں لے کر تفصیلات بتانی چاہیں کہ ان کو یہ قدم ملک کی سلامتی کے لئے کیوں اٹھانا پڑا - پاکستانی عوام عمران خان پر اعتماد کرتے ہیں اور امکانات ہیں کہ ان کی سمجھ میں بات آ جا ۓ گی ' برے سے برا الیکشن کے پی ٹی آئ کو ہار کا سامنا کرنا پڑے گا اور نئی حکومت عمران خان پر مقدمات قائم کرے گی اور زیادہ سے زیادہ سزا ہوگی مگر عمران خان جو کہ تقریبآ اڑھسٹ سال کے ہیں اور بہترین زندگی گزر چکے ہیں اور موجودہ صورت حال میں انتہائی مشکل لگ رہا ہے کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو سیدھے طریقے سے ہٹا نہیں سکیں گے اور ممکن ہے چند اور سال بغیر تبدیلی کے گزر لیں - لیکن اپنی ذات کی قربانی سے وہ پاکستانیوں کے بہتر مستقبل کے راستے کھول سکیں گے

 

atensari

Prime Minister (20k+ posts)
That's because right from the beginning Gandhi, Nehra and Quaid-e-Azam were British loyal subjects. Happily participated and accepted the elections held by their masters. Other nations fight back with military might.
Turkey fought a combined force of UK, France, Italy , Greece and Armenia and won thei independence.
Algerians fought a war against the French and won their independce.
Libyans fought against the Italians.

What did Indian/Pakistani leaders do? they just participated in British held elections as their slaves. That's why we still remain slaves !
آزادی حاصل کرنے کے لئے ہم ماضی میں جا کر انگریزوں سے جنگ کریں یا انھے دوبارہ بلا کر آزادی ہونے کے لئے جنگ کریں. دیکھنا یہ ہے کے ہم آزادی کے بعد کیا کیا

ترکی کے اتا ترک نے انگریزوں کی غلامی میں کیا کچھ نہیں کیا. لیبیا یا الجزائر نے جنگ کرکے آزادی حاصل کرکے کیا کر لیا. آج ترکی کو مقام حاصل ہے تو اس کی وجہ قیادت کا نظریہ ہے. ہماری قیادت کا کیا نظریہ ہے! کوٹہ سسٹم، قیمے والا نان، بریانی کی پلیٹ
 

shujauddin

Senator (1k+ posts)
آزادی حاصل کرنے کے لئے ہم ماضی میں جا کر انگریزوں سے جنگ کریں یا انھے دوبارہ بلا کر آزادی ہونے کے لئے جنگ کریں. دیکھنا یہ ہے کے ہم آزادی کے بعد کیا کیا

ترکی کے اتا ترک نے انگریزوں کی غلامی میں کیا کچھ نہیں کیا. لیبیا یا الجزائر نے جنگ کرکے آزادی حاصل کرکے کیا کر لیا. آج ترکی کو مقام حاصل ہے تو اس کی وجہ قیادت کا نظریہ ہے. ہماری قیادت کا کیا نظریہ ہے! کوٹہ سسٹم، قیمے والا نان، بریانی کی پلیٹ
nahi nahi dandi maat maro. Jiss ka origin ghulami ho wo qom taraqi nahi ker sakti. Give me one speech of Gandhi, Nehru or Jinnah where they spoke against the British Occupation of India and vowed to boycott the elections held under their supervision. When the source is based on slavery, the end result would also be a slave mind. Sach ko qabool kerlo mian !
 

Pakistani1947

Minister (2k+ posts)
nahi nahi dandi maat maro. Jiss ka origin ghulami ho wo qom taraqi nahi ker sakti. Give me one speech of Gandhi, Nehru or Jinnah where they spoke against the British Occupation of India and vowed to boycott the elections held under their supervision. When the source is based on slavery, the end result would also be a slave mind. Sach ko qabool kerlo mian !
جو ہوا سو ہوا اب بتائیں- کرپٹ بھٹو، زرداری، اور شریف خاندان سے پاکستان کی جان کیسے چھڑائی جاۓ؟ اور پولیس اور بیوروکریسی میں کیسے اصلاحات کی جائیں؟ہ
 

atensari

Prime Minister (20k+ posts)
nahi nahi dandi maat maro. Jiss ka origin ghulami ho wo qom taraqi nahi ker sakti. Give me one speech of Gandhi, Nehru or Jinnah where they spoke against the British Occupation of India and vowed to boycott the elections held under their supervision. When the source is based on slavery, the end result would also be a slave mind. Sach ko qabool kerlo mian !
جن کے ذہن میں غلامی وہ ترقی نہیں کر سکتے. ہم ماضی میں جا کر انگریز سے جنگ نہیں لڑ سکتے اور نا ہی. کسی سے مرضی کا بیان دلوا سکتے ہیں. جو ہم کر سکتے ہیں وہ یہ کے غلامانہ ذہنیت کو ترک کریں. "سچ" قبول کرنے کا مطلب ہمیشہ کی غلامی اور سچ سے بغاوت آزادی کی علامت، بولو کیا قبول کرتے ہو
 

Masud Javed

Chief Minister (5k+ posts)
It'll decade before we can depend on our culture
we have a long way to go
how many education books do we have?
 

Pakistani1947

Minister (2k+ posts)
It'll decade before we can depend on our culture
we have a long way to go
how many education books do we have?
پاکستان شرح خواندگی میں انڈیا اور بنگلہ دیش سے بہت پیچھے ہیں۔ دوسری طرف سری لنکا میں شرح خواندگی کی شرح 92 فیصد کے ساتھ بیشتر ممالک سے آگے بڑھ رہی ہے۔ جس وقت 1946 میں سری لنکا نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی تھی ، اس وقت ملک میں خواندگی کی شرح محض 57.8 فیصد تھی۔ صرف 60 سال کے عرصے میں ، باوجود اس کے کہ سری لنکا کا شمار غریب ممالک میں ہوتا ہے اور یہ ملک شوریشوں اور خانہ جنگی میں گھرا رہنے کے باوجود 92٪ شرح خواندگی حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ اس مثال سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان کی تاریخ مخلص لیڈروں سی خالی رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں پاکستان کی ستر فیصد رقبہ آبادی جو کہ زراعت پیشہ ہے اپنے اوپر مسلط جاگیر داروں اور وڈیروں کے رحم و کرم پر رہی اور اس عرصے میں جاگیر داروں اور وڈیروں جاگیر داروں اور وڈیروں کو خوب قدم جمانے کا موقع ملا جو کہ نہیں چاہتے کا ان کا ہاری اور کسان پڑھ لکھ کر ان سے نظر ملا کر بات کرے۔ بھٹو خاندان اس کی بہترین مثال ہیں۔

پاکستانی عوام کو عمران خان کی بے لوث قیادت پر بھرپور اعتماد ہے۔ ٩٠ فیصد خواندگی کی شرح کا خواب بغیر جاگیر داروں اور وڈیروں کی قوت توڑے ممکن نہ ہو گا- یہ جاگیردار اور وڈیرے ناصرف تعلیم کی راہ میں رکاوٹ ہیں بلکہ اس ملک کی ترقی اور سالمیت کے لئے بھی خطرہ ہیں- عمران خان کو چاہئیے کہ پاکستانی عدلیہ ، بیوروکریسی ، سیاست ، صحافت ، پولیس ، فوج، وڈیرے ، جاگیردار ، کاروبار میں تمام کرپٹ افراد کا تعین کرنے کے لئے آئی ایس آئی اور ایف آئی اے (صرف ایماندار افراد کا استعمال کرتے ہوئے) استعمال کریں۔ برطانوی سلطنت کے پاؤں چاٹ کر ان وڈیروں اور جاگیرداروں کی ملکیت والی تمام اراضی کا تعین کریں۔
ہ

ایمرجنسی کا اعلان کریں ، تمام اسمبلیاں تحلیل کریں ، تمام مجرموں کو فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلا کر ایک ہفتہ کے اندر پھانسی دیں ، ان تمام زمینوں کو ضبط کریں جو انگریز کی وفاداری اور مسلمانوں سے غداری کے نتیجے میں حاصل کی گئی تھیں- یہ ضبط شدہ زمین حکومت پاکستان کی ملکیت میں ہمیشہ رہے گی تاکہ حکومت چلانے کے لئے ایک مستقل ذریع آمدنی رہے- اور یہ زمین کو صرف کاشتکاری کے لئے کسانوں کو دیا جاے جو ان جاگیرداروں اور وڈیروں کے پاس غلامی کر رہے تھے- اور کسان کو آمدن کا 60 فیصد حصہ لینا چاہئے اور 40 فیصد حصہ کسان حکومت کو زمین استمال کرنے کے حق کی مد میں ادا کرے- صرف اس زمین کو کاشت کیلئے استعمال کیا سکے گا بصورت دیگر حکومت کو چاہئے کہ وہ زمین پر قبضہ کرے اور اسے کاشت کے لئے دے جو کوئی بھی اس پر کاشت کرسکتا ہے۔

اور پھر دوبارہ انتخابات کا اعلان کریں۔ صرف ان شرائط پر جو پوسٹ نمبر ١٩ میں بیان کی گئی ہیں

صرف عمران خان ہی یہ کام کر سکتے ہیں ، کسی اور سے امید نہیں

بدترین صورتحال میں ، پی ٹی آئی انتخابات ہار جاے گی۔ لیکن پاکستان ہزاروں کرپٹ سیاستدانوں اور مجرموں سے پاک ہوگا جو عام پاکستانیوں کا خون چوس رہے ہیں۔

اس طریقہ سے جو فوائد حاصل ہونگے وہ یہ ہیں

پہلا فائدہ - کرپٹ لوگوں کی مکمل تحقیقات کے بعد، ان لوگوں کی فہرست میں نام ڈالنے جن پر ملٹری کورٹ میں مقدمہ چلنا ہے، ان مجرمان کو ایک ہفتے میں پھانسی دینا ممکن ہو سکے گا اور وہ غیر قانونی طریقے سے ملک سے فرار نہ ہو سکیں گے

دوسرا فائدہ - غیر اخلاقی ذرا ۓ سے حاصل کی گئی زمین ضبط اور ہاریوں اور کسانوں میں کاشت کے مقصد کے لئے تقسیم کرنے کے کی فائدے ہیں - حکومت پاکستان کو ہمیشہ کے لئے مستقل ذریعہ آمدن کی رہ کھلے گی ' وہ زمین جہاں کاشت نہیں ہو رہی وہاں کاشت ہو سکے گی، کیونکہ ہاری کسان اپنی زمین سمجھ کر کاشت کریں گے تو لازمی ہے کہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہوگا ' جاگیردار اور وڈیروں سے زمین واپس لینے سے ان کی قوت میں کمی واقع ہوگی' اس کے علاوہ ہاری کسان زمین کاشت کے لئے ملنے کی خوشی میں اپنے اپنے جاگیرداروں اور وڈیروں کے حق میں ممکنہ احتجاج سے بھی اجتناب کریں گے

تیسرا فائدہ - ملک ہزاروں کرپٹ سیاستدانوں، ججوں، صحافیوں ' جاگیرداروں ، وڈیروں ' بیوروکریٹس جو پاکستان کی بنیادوں کو کھوکلا کر رہے ہیں ان سے ہمشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جا ۓ گا

چوتھا فائدہ - پھانسیوں کے فوری بعد الیکشن کروانے کا اعلان کرنے سے ایک تو عالمی اداروں اور سپر پاورس کو پاکستان کے خلاف نیم فوجی حکومت رکھنے کی بنیاد پر پابندیاں لگانے کا کوئی موقع نہیں ملے گا اور اوپر
پوسٹ نمبر ١٩ کی شرائط پر الیکشن کروانے کے نتیجے میں صرف اور صرف وہ اشخاص سامنے آ ئینگے جو واقہی پاکستان کے عوام کی بے لوث خدمت کا جذبہ رکھتے ہونگے

پانچواں فائدہ - اس تمام کاروائی کے بعد عمران خان کو ٹی وی پر آ کر عوام کو اعتماد میں لے کر تفصیلات بتانی چاہیں کہ ان کو یہ قدم ملک کی سلامتی کے لئے کیوں اٹھانا پڑا - پاکستانی عوام عمران خان پر اعتماد کرتے ہیں اور امکانات ہیں کہ ان کی سمجھ میں بات آ جا ۓ گی ' برے سے برا الیکشن کے پی ٹی آئ کو ہار کا سامنا کرنا پڑے گا اور نئی حکومت عمران خان پر مقدمات قائم کرے گی اور زیادہ سے زیادہ سزا ہوگی مگر عمران خان جو کہ تقریبآ اڑھسٹ سال کے ہیں اور بہترین زندگی گزر چکے ہیں اور موجودہ صورت حال میں انتہائی مشکل لگ رہا ہے کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو سیدھے طریقے سے ہٹا نہیں سکیں گے اور ممکن ہے چند اور سال بغیر تبدیلی کے گزر لیں - لیکن اپنی ذات کی قربانی سے وہ پاکستانیوں کے بہتر مستقبل کے راستے کھول سکیں گے
 
Last edited:

Jadoogar

Voter (50+ posts)
That's because right from the beginning Gandhi, Nehra and Quaid-e-Azam were British loyal subjects. Happily participated and accepted the elections held by their masters. Other nations fight back with military might.
Turkey fought a combined force of UK, France, Italy , Greece and Armenia and won thei independence.
Algerians fought a war against the French and won their independce.
Libyans fought against the Italians.

What did Indian/Pakistani leaders do? they just participated in British held elections as their slaves. That's why we still remain slaves !
A jahala won't understand the meaning of qanooni jadojehad...
 

Pakistani1947

Minister (2k+ posts)
A jahala won't understand the meaning of qanooni jadojehad...
آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں پاکستانی قوم کو دانستہ طور پر جاہل رکھا گیا ہے- پاکستانی جاگیردار اور وڈیرے اس جہالت کے ذمہ دار ہیں - اس جہالت کا ثبوت ہے کہ نواز ڈاکو کے کارکن کہتے ہیں "کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے" جبکہ بھٹو کے کارکن ابھی تک "بھٹو زندہ ہے" کے نعرے لگاتے ہیں جبکہ اس کی جماعت نے سندھ کو ساری دنیا سے زیادہ پسماندہ رکھا ہوا ہے- جب تک تعلیم عام نہ ہوگی کوئی قانونی طریقہ کارگر ثابت نہ ہوگا بلکہ ان کرپٹ سیاستدانوں اور جاگیر داروں کو مزید اس جاہل عوام پر ظلم توڑنے کا سبب بنے گا - اگر آپ مزید جاننا چاہتے ہوں تو نیچے لنک پر کلک کریں :ہ
پاکستان اپنے ساتھ آزاد ہوۓ ممالک کے مقابلے میں تعلیم میں پیچھے کیوں رہ گیا؟
 
Last edited:

Mughal1

Chief Minister (5k+ posts)
musalmaanu ki tabahi aaj se shuroo nahin hui balkeh jis din se khud ko musalmaan kehlwaane waalun ne quraan ko pase pusht daalna shuroo kiya hai ye log barbaadi hi ki taraf gaamzan hen. yahee wajah hai ye log ahista ahista aaj is haalat ko pohnche hen.

quraan se doori ki badi wajah quraan ke ilfaaz ke maani ka badla jaana hai. azaan jo keh deene islam per mabni maashre ke qayaam ki taraf dawat thi is ko pooja paat ki taraf dawat banaa diya gayaa.

yani mehloon main mazhabi leaderoon ki madad se aik aisa islam banaa liya gayaa jis main aakhirat ki fiker se duniya ki fiker hi khatam ker di gayee. lihaaza logoon ne apni aakhirat sanwaarne ke liye duniya ko chhor diya. jab duniya hi ko chhor diya to phir jin ko duniya chahiye thi unhune apni duniya alag banaa li aur mullah ko mazhabi rehnumaa bana diya doosre logoon ke liye.

mazhab logoon ko kia sikhaata hai? yahee keh apne bazurgun yani apne badoon ki ghulaami karo. to phir her koi apne apne bazurg ya bade ki ghulaami ker rahaa hai aur ye ghulaami jaari rahe gi jab tak log aqal nahin seekhte aur us ka drust istemaal nahin kerte.

is ke baraks deene islam kisi ki bhi ghulaami nahin sikhataa. aur to aur khud khudaa bhi insaanu ko apni ghulaami nahin sikhaata. balkeh woh chahta hai log khudmukhtaar hun aur sab aik hi diye ge dastooro qanoon ke mutaabiq zindagi basar karen bhai bhai ban ker apne aur aik doosre ke faaide ke liye.

yahee wajah hai lefze itaat ka manaa quraani context main kisi ki ghulaami nahin hota balkeh kisi ke saath zehni ahamahangi hota hai. itibaa ka manaa kisi ke peechhe chalna nahin hota balkeh kisi ke saath chalna hota hai or saath dena hota hai quraani context main. matlab ye keh khudaa aur us ke bandun maqsad ke mutaabiq aik hi page per hen.

yahee wajah logoon ne jo baaten aur naaten likhi hen khudaa ke paighamber ke baare main woh deene islam se door le jaane waali hen aur door rakhne waali hen. quraan main khudaa ne apne paighambrun ko apne logoon ka aaqaa nahin banaaya balkeh un ka karinda banayaa. in kaarindun ka kaam logoon ki drust rahnumayee kerna tha apni apni wahee ki roshnee main na keh un ko apna ghulaam banaana tha. logoon main zehni ghulaami ki bemaari ki asal mazhabi zehniyat hai jo mullah ne in main koot koot ker bhari hai. For a detailed explanation of things about the quran, deen of islam and pakistan see HERE, HERE, HERE, HERE and HERE.
 
Last edited:

Pakistani1947

Minister (2k+ posts)
musalmaanu ki tabahi aaj se shuroo nahin hui balkeh jis din se khud ko musalmaan kehlwaane waalun ne quraan ko pase pusht daalna shuroo kiya hai ye log barbaadi hi ki taraf gaamzan hen. yahee wajah hai ye log ahista ahista aaj is haalat ko pohnche hen.

quraan se doori ki badi wajah quraan ke ilfaaz ke maani ka badla jaana hai. azaan jo keh deene islam per mabni maashre ke qayaam ki taraf dawat thi is ko pooja paat ki taraf dawat banaa diya gayaa.

yani mehloon main mazhabi leaderoon ki madad se aik aisa islam banaa liya gayaa jis main aakhirat ki fiker se duniya ki fiker hi khatam ker di gayee. lihaaza logoon ne apni aakhirat sanwaarne ke liye duniya ko chhor diya. jab duniya hi ko chhor diya to phir jin ko duniya chahiye thi unhune apni duniya alag banaa li aur mullah ko mazhabi rehnumaa bana diya doosre logoon ke liye.

mazhab logoon ko kia sikhaata hai? yahee keh apne bazurgun yani apne badoon ki ghulaami karo. to phir her koi apne apne bazurg ya bade ki ghulaami ker rahaa hai aur ye ghulaami jaari rahe gi jab tak log aqal nahin seekhte aur us ka drust istemaal nahin kerte.

is ke baraks deene islam kisi ki bhi ghulaami nahin sikhataa. aur to aur khud khudaa bhi insaanu ko apni ghulaami nahin sikhaata. balkeh woh chahta hai log khudmukhtaar hun aur sab aik hi diye ge dastooro qanoon ke mutaabiq zindagi basar karen bhai bhai ban ker apne aur aik doosre ke faaide ke liye.

yahee wajah hai lefze itaat ka manaa quraani context main kisi ki ghulaami nahin hota balkeh kisi ke saath zehni ahamahangi hota hai. itibaa ka manaa kisi ke peechhe chalna nahin hota balkeh kisi ke saath chalna hota hai or saath dena hota hai quraani context main. matlab ye keh khudaa aur us ke bandun maqsad ke mutaabiq aik hi page per hen.

yahee wajah logoon ne jo baaten aur naaten likhi hen khudaa ke paighamber ke baare main woh deene islam se door le jaane waali hen aur door rakhne waali hen. quraan main khudaa ne apne paighambrun ko apne logoon ka aaqaa nahin banaaya balkeh un ka karinda banayaa. in kaarindun ka kaam logoon ki drust rahnumayee kerna tha apni apni wahee ki roshnee main na keh un ko apna ghulaam banaana tha. logoon main zehni ghulaami ki bemaari ki asal mazhabi zehniyat hai jo mullah ne in main koot koot ker bhari hai. For a detailed explanation of things about the quran, deen of islam and pakistan see HERE, HERE, HERE, HERE and HERE.
بھائی کیا آپ آسان الفاظ میں اس بابو کلچر سے نجات کا کوئی طریقہ بیان کر سکتے ہیں ؟ہ
 

Jadoogar

Voter (50+ posts)
Kiss ka Qanoon? Angraiz ka? Ghulam der Ghulam Der Ghulam. Shame on you for supporting slavery and calling it qanooni jadojehed.
U r supposed to tell that to Bhutto family..who used to work for angraiz...
i.e Shah Nawaz Bhutto...
U idiot..
 

Eagle-on-the-green

MPA (400+ posts)
The service in bureacracy and military or judiaciary is a means to one end and that’s enjoy at the cost of tax payers and make wealth at retirement.........thus is the legacy of colonial rule.......how would a a chief buy 190 acres of agricultural land from his salary.....it’s the perks which count not the monthly salary...
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں