کیا واقعی شراب میں مچھلی ڈال دیں تو شراب حلال ہوجاتی ہے؟

sharib111.jpg


کیا واقعی شراب میں مچھلی ڈال دیں تو شراب حلال ہوجاتی ہے؟ سوشل میڈیا صارفین کے دلچسپ تبصرے

جمعیت علمائے اسلام ف کے رکن قومی اسمبلی اور انسداد منشیات کمیٹی کے چیئرمین مولانا صلاح الدین ایوبی نے کہا کہ شراب کو حلال کرنا ہے تو اس میں مچھلی ڈال دیں ، شراب جائز ہوجائے گی۔

تفصیلات کے مطابق مولانا صلاح الدین ایوبی اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے جب انہوں نےکہا کہ اگر شراب میں مچھلی ڈال دیں تو وہ سرکہ بن جاتی ہے جسے پینا حرام نہیں ہوگا۔

ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ اس کے علاوہ اور کیا طریقہ ہے جس کو استعمال کرکے شراب کو حلال کیا جاسکتا ہے ؟ جس پر مولانا نے جواب دیا کہ آپ کسی دن وقت نکال کر مدرسے کا چکر لگائیں آپ کو پورا نظام دکھائیں گے جس سے شراب کو حلال بنایا جاتا ہے۔


ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں ملک میں شراب کو حلال کیا جائے ؟ جس پر جواب دیتے ہوئے مولانا نے کہا کہ جس چیز کو اللہ پاک نے حرام قرار دیدیا ہے ہم اسے کیسے حلال کرسکتے ہیں، میں نے شراب کو جائز کرنے کے طریقے سے متعلق بات ایک مثال کے طور پر کی۔

انہوں نے کہا کمیٹی کے اجلاس میں بات ہورہی تھی کہ مولوی بھنگ کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں آپ لوگ بھنگ کا پیچھا چھوڑ دیں، کوئی حکمت عملی بنا لو کہ حرام کو حلال کردیا جائے، مولوی سے پوچھ ہو، اس پر مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر شراب کے پیالے میں مچھلی ڈال دی جائے تو وہ شراب نہیں سرکہ بن جاتی ہے اور حرام بھی نہیں رہتی۔

احسن جان کا کہنا تھا کہ بات کو غلط رنگ نہ دیں، انگوری شراب میں مچھلی ڈالنے سے وہ سرکہ بن جاتی ہے


ظہیر احمد گوندل نے مولانا کے اس فتوے کو عادی شرابیوں کیلئے خوشخبری قرار دیا


صہیب بلوچ نے تبصرہ کیا کہ سب سے پہلے جہنم میں یہی دین کے ٹھیکیدار ڈالے جائیں گے جو اپنے چسکے کیلئے دین میں گنجائشیں نکالتے ھیں حرام کو حلال کرتے کرتے ھیں۔


درویش کا کہنا تھا کہ میں نے سنا تھا ایک مچھلی پورے تالاب کو گندا کر دیتی ہے، یہاں تو مچھلی تالاب کو صاف اور جائز کر رہی ہے، وہ بھی شراب کی۔


جلیل افغان نے طنز کیا کہ صاحب اب تو شراب پینے دے کیونکہ کے مچلی ڈالنے سے شراب شراب نہیں رہتی۔


قاضی طاہر نامی سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ ہم نے تو فقہ میں پیاز نمک یا دھوپ رکھنے سے سرکہ بنانے کا پڑھا اور سنا تھا لیکن جمعیت علماء اسلام کے پارلیمینٹین ممبر نے مچھلی کو شراب میں ڈال کر پینا جائز قرار دیا


قاضی طاہر کامزید کہنا تھا کہاب کوئ جمعیتی رہنماء ہے کہ اسے جواب طلب کرے یا کوئی مدرسہ مولانا صلاح الدین سے اس مسئلے کی وضاحت طلب کرے؟


مولانا صلاح الدین ایوبی نے اپنے انٹرویو پر وضاحت دی کہ میرا ایک انٹرویو جس کو غلط تعبیر دی گئی ہےجس میں شراب میں مچھلی کےحوالےسےمیرےمؤقف کوغلط طریقے سے پیش کیاگیاہے،میراکہنا تھاکہ شراب میں مچھلی ڈال دی جائےتواس سےشراب کی حقیقت تبدیل ہوجائے گی اور یہ سرکہ بن جائے گا تو وہ سرکہ استعمال کرنا جائز ہے ۔


مولانا کا مزید کہنا تھا کہ باقی اللہ ہدایت دے جو اسطرح علماء کو بدنام کرنے کی کوششوں میں رہتے ہیں
 
Advertisement

Okara

Prime Minister (20k+ posts)
As I have no knowledge about the process so no comment however I don't drink so no need for me to make wine halal.
 

Visionartist

Senator (1k+ posts)
dini bhi aor Chemistry ka sawal hey- Islami qanoon key mutabiq agar kisi cheez kiy heyit tabdeel ho jaye to woh helaal ho jatiy hey. maslan sharab ban ney sey pehley ka marhala sirka ban na hey. Sirka halal hey aor sharab haram hey- lekin meyn ney kabhi sharab ko sierke mey tabdeel hotey nahiyn dekha. Albatta sirka zaroor sharab meyn tabdeel ho jata hey- bar bar dekha hey.
 
Last edited:

Behrouz27

Minister (2k+ posts)
sharib111.jpg


کیا واقعی شراب میں مچھلی ڈال دیں تو شراب حلال ہوجاتی ہے؟ سوشل میڈیا صارفین کے دلچسپ تبصرے

جمعیت علمائے اسلام ف کے رکن قومی اسمبلی اور انسداد منشیات کمیٹی کے چیئرمین مولانا صلاح الدین ایوبی نے کہا کہ شراب کو حلال کرنا ہے تو اس میں مچھلی ڈال دیں ، شراب جائز ہوجائے گی۔

تفصیلات کے مطابق مولانا صلاح الدین ایوبی اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے جب انہوں نےکہا کہ اگر شراب میں مچھلی ڈال دیں تو وہ سرکہ بن جاتی ہے جسے پینا حرام نہیں ہوگا۔

ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ اس کے علاوہ اور کیا طریقہ ہے جس کو استعمال کرکے شراب کو حلال کیا جاسکتا ہے ؟ جس پر مولانا نے جواب دیا کہ آپ کسی دن وقت نکال کر مدرسے کا چکر لگائیں آپ کو پورا نظام دکھائیں گے جس سے شراب کو حلال بنایا جاتا ہے۔


ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں ملک میں شراب کو حلال کیا جائے ؟ جس پر جواب دیتے ہوئے مولانا نے کہا کہ جس چیز کو اللہ پاک نے حرام قرار دیدیا ہے ہم اسے کیسے حلال کرسکتے ہیں، میں نے شراب کو جائز کرنے کے طریقے سے متعلق بات ایک مثال کے طور پر کی۔

انہوں نے کہا کمیٹی کے اجلاس میں بات ہورہی تھی کہ مولوی بھنگ کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں آپ لوگ بھنگ کا پیچھا چھوڑ دیں، کوئی حکمت عملی بنا لو کہ حرام کو حلال کردیا جائے، مولوی سے پوچھ ہو، اس پر مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر شراب کے پیالے میں مچھلی ڈال دی جائے تو وہ شراب نہیں سرکہ بن جاتی ہے اور حرام بھی نہیں رہتی۔

احسن جان کا کہنا تھا کہ بات کو غلط رنگ نہ دیں، انگوری شراب میں مچھلی ڈالنے سے وہ سرکہ بن جاتی ہے


ظہیر احمد گوندل نے مولانا کے اس فتوے کو عادی شرابیوں کیلئے خوشخبری قرار دیا


صہیب بلوچ نے تبصرہ کیا کہ سب سے پہلے جہنم میں یہی دین کے ٹھیکیدار ڈالے جائیں گے جو اپنے چسکے کیلئے دین میں گنجائشیں نکالتے ھیں حرام کو حلال کرتے کرتے ھیں۔


درویش کا کہنا تھا کہ میں نے سنا تھا ایک مچھلی پورے تالاب کو گندا کر دیتی ہے، یہاں تو مچھلی تالاب کو صاف اور جائز کر رہی ہے، وہ بھی شراب کی۔


جلیل افغان نے طنز کیا کہ صاحب اب تو شراب پینے دے کیونکہ کے مچلی ڈالنے سے شراب شراب نہیں رہتی۔


قاضی طاہر نامی سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ ہم نے تو فقہ میں پیاز نمک یا دھوپ رکھنے سے سرکہ بنانے کا پڑھا اور سنا تھا لیکن جمعیت علماء اسلام کے پارلیمینٹین ممبر نے مچھلی کو شراب میں ڈال کر پینا جائز قرار دیا


قاضی طاہر کامزید کہنا تھا کہاب کوئ جمعیتی رہنماء ہے کہ اسے جواب طلب کرے یا کوئی مدرسہ مولانا صلاح الدین سے اس مسئلے کی وضاحت طلب کرے؟


مولانا صلاح الدین ایوبی نے اپنے انٹرویو پر وضاحت دی کہ میرا ایک انٹرویو جس کو غلط تعبیر دی گئی ہےجس میں شراب میں مچھلی کےحوالےسےمیرےمؤقف کوغلط طریقے سے پیش کیاگیاہے،میراکہنا تھاکہ شراب میں مچھلی ڈال دی جائےتواس سےشراب کی حقیقت تبدیل ہوجائے گی اور یہ سرکہ بن جائے گا تو وہ سرکہ استعمال کرنا جائز ہے ۔


مولانا کا مزید کہنا تھا کہ باقی اللہ ہدایت دے جو اسطرح علماء کو بدنام کرنے کی کوششوں میں رہتے ہیں
sharib111.jpg


کیا واقعی شراب میں مچھلی ڈال دیں تو شراب حلال ہوجاتی ہے؟ سوشل میڈیا صارفین کے دلچسپ تبصرے

جمعیت علمائے اسلام ف کے رکن قومی اسمبلی اور انسداد منشیات کمیٹی کے چیئرمین مولانا صلاح الدین ایوبی نے کہا کہ شراب کو حلال کرنا ہے تو اس میں مچھلی ڈال دیں ، شراب جائز ہوجائے گی۔

تفصیلات کے مطابق مولانا صلاح الدین ایوبی اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے جب انہوں نےکہا کہ اگر شراب میں مچھلی ڈال دیں تو وہ سرکہ بن جاتی ہے جسے پینا حرام نہیں ہوگا۔

ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ اس کے علاوہ اور کیا طریقہ ہے جس کو استعمال کرکے شراب کو حلال کیا جاسکتا ہے ؟ جس پر مولانا نے جواب دیا کہ آپ کسی دن وقت نکال کر مدرسے کا چکر لگائیں آپ کو پورا نظام دکھائیں گے جس سے شراب کو حلال بنایا جاتا ہے۔


ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں ملک میں شراب کو حلال کیا جائے ؟ جس پر جواب دیتے ہوئے مولانا نے کہا کہ جس چیز کو اللہ پاک نے حرام قرار دیدیا ہے ہم اسے کیسے حلال کرسکتے ہیں، میں نے شراب کو جائز کرنے کے طریقے سے متعلق بات ایک مثال کے طور پر کی۔

انہوں نے کہا کمیٹی کے اجلاس میں بات ہورہی تھی کہ مولوی بھنگ کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں آپ لوگ بھنگ کا پیچھا چھوڑ دیں، کوئی حکمت عملی بنا لو کہ حرام کو حلال کردیا جائے، مولوی سے پوچھ ہو، اس پر مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر شراب کے پیالے میں مچھلی ڈال دی جائے تو وہ شراب نہیں سرکہ بن جاتی ہے اور حرام بھی نہیں رہتی۔

احسن جان کا کہنا تھا کہ بات کو غلط رنگ نہ دیں، انگوری شراب میں مچھلی ڈالنے سے وہ سرکہ بن جاتی ہے


ظہیر احمد گوندل نے مولانا کے اس فتوے کو عادی شرابیوں کیلئے خوشخبری قرار دیا


صہیب بلوچ نے تبصرہ کیا کہ سب سے پہلے جہنم میں یہی دین کے ٹھیکیدار ڈالے جائیں گے جو اپنے چسکے کیلئے دین میں گنجائشیں نکالتے ھیں حرام کو حلال کرتے کرتے ھیں۔


درویش کا کہنا تھا کہ میں نے سنا تھا ایک مچھلی پورے تالاب کو گندا کر دیتی ہے، یہاں تو مچھلی تالاب کو صاف اور جائز کر رہی ہے، وہ بھی شراب کی۔


جلیل افغان نے طنز کیا کہ صاحب اب تو شراب پینے دے کیونکہ کے مچلی ڈالنے سے شراب شراب نہیں رہتی۔


قاضی طاہر نامی سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ ہم نے تو فقہ میں پیاز نمک یا دھوپ رکھنے سے سرکہ بنانے کا پڑھا اور سنا تھا لیکن جمعیت علماء اسلام کے پارلیمینٹین ممبر نے مچھلی کو شراب میں ڈال کر پینا جائز قرار دیا


قاضی طاہر کامزید کہنا تھا کہاب کوئ جمعیتی رہنماء ہے کہ اسے جواب طلب کرے یا کوئی مدرسہ مولانا صلاح الدین سے اس مسئلے کی وضاحت طلب کرے؟


مولانا صلاح الدین ایوبی نے اپنے انٹرویو پر وضاحت دی کہ میرا ایک انٹرویو جس کو غلط تعبیر دی گئی ہےجس میں شراب میں مچھلی کےحوالےسےمیرےمؤقف کوغلط طریقے سے پیش کیاگیاہے،میراکہنا تھاکہ شراب میں مچھلی ڈال دی جائےتواس سےشراب کی حقیقت تبدیل ہوجائے گی اور یہ سرکہ بن جائے گا تو وہ سرکہ استعمال کرنا جائز ہے ۔


مولانا کا مزید کہنا تھا کہ باقی اللہ ہدایت دے جو اسطرح علماء کو بدنام کرنے کی کوششوں میں رہتے ہیں
مچھلی میں شراب ڈالنے سے مچھلی بھی مزے کی بنتی ہے اور شراب بھی حلال ہو جاتی ہے
 

Bubber Shair

Chief Minister (5k+ posts)
طاہراشرفی بھی شائد اسی ترکیب سے شراب حلال کررہا ہے دیوبندی مکتبہ فکر کو اس نئی ایجاد پر نوبل پرائیز ملنا چاہئے؟
شراب حلال ہونے سے کیا ہوگا مزہ تو تب ہے کہ کوی بھنگ اور کوکین کو حلال کرنے کا فارمولہ ایجاد کرے
🤔
 

Okara

Prime Minister (20k+ posts)
It looks like Hazrat Usma e Ghani RA were not aware of this method and destroyed all his shipment?
 

Okara

Prime Minister (20k+ posts)
dini bhi aor Chemistry ka sawal hey- Islami qanoon hey mutabiq ki agar kisi cheez kiy heyit tabdeel ho jaye to woh helaal ho jatiy hey. maslan sharab ban ney sey pehley ka marhala sirka ban na hey. Sirka halal hey aor sharab haram hey- lekin meyn ney kabhi sharab ko sierke mey tabdeel hotey nahiyn dekha. Albatta sirk zaroor sharab meyn tabdeel ho jata hey- bar bar dekha hey.
R u sure about the process?
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
dini bhi aor Chemistry ka sawal hey- Islami qanoon hey mutabiq ki agar kisi cheez kiy heyit tabdeel ho jaye to woh helaal ho jatiy hey. maslan sharab ban ney sey pehley ka marhala sirka ban na hey. Sirka halal hey aor sharab haram hey- lekin meyn ney kabhi sharab ko sierke mey tabdeel hotey nahiyn dekha. Albatta sirk zaroor sharab meyn tabdeel ho jata hey- bar bar dekha hey.
جس شراب کی بات کہیں پرانی کتابوں میں ہوئی ہے اور جس کے متعلق یہ بیان دے رہے ہیں وہ ’’وائن‘‘ کہلاتی ہے اور اسمیں الکحل کی مقدار دس فیصد کے قریب قریب ہوتی ہے۔ اگر اس شراب کو ویسے ہی کھول کر دو دن دھوپ لگوائی جائے تو اس میں موجود الکحل ہوا میں تحلیل ہوجاتی ہے۔ اگر آپکو جلدی ہو تو آپ اس وائن کو ایک مرتبہ ابال لیجیئے، الکحل کا نقطہ اُبال پانی کے نقطہ ابال سے کم یعنی کوئی ۷۶ ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔

لیکن یہ ترکیب وائن اور بئیر جیسی شرابوں پر ہی کام کرتی ہے۔ جو شراب کشید کی جاتی ہے، اسمیں الکحل کی مقدار پینتیس سے چالیس فیصد ہوتی ہے اور باقی پانی اور کچھ دیگر کیمیات ہوتے ہیں جو کہ سرکے کی خصوصیات نہیں رکھتے۔ لہٰذا ان کے ابالنے سے یا کھلا رکھ دینے سے الکحل تو کم ہوجائے گی، لیکن پیچھے جو بچے گا وہ سرکہ ہرگز نہیں ہوگا۔
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
شراب میں مچھلی ڈال دینے سے شراب سرکہ بن جاتی ہے تو حلال ہے
لیکن شرابی مچھلی حرام ہو جاتی ہے….وہ لڑکھڑا کر چلتی صاف نظر
اتی ہے….. 😁
سمجھدار آدمی ہو، معلوم ہے کہ مولوی صاحب کی مچھلی بھی دو ٹانگوں والی ہوتی ہے۔
 

Visionartist

Senator (1k+ posts)
جس شراب کی بات کہیں پرانی کتابوں میں ہوئی ہے اور جس کے متعلق یہ بیان دے رہے ہیں وہ ’’وائن‘‘ کہلاتی ہے اور اسمیں الکحل کی مقدار دس فیصد کے قریب قریب ہوتی ہے۔ اگر اس شراب کو ویسے ہی کھول کر دو دن دھوپ لگوائی جائے تو اس میں موجود الکحل ہوا میں تحلیل ہوجاتی ہے۔ اگر آپکو جلدی ہو تو آپ اس وائن کو ایک مرتبہ ابال لیجیئے، الکحل کا نقطہ اُبال پانی کے نقطہ ابال سے کم یعنی کوئی ۷۶ ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔

لیکن یہ ترکیب وائن اور بئیر جیسی شرابوں پر ہی کام کرتی ہے۔ جو شراب کشید کی جاتی ہے، اسمیں الکحل کی مقدار پینتیس سے چالیس فیصد ہوتی ہے اور باقی پانی اور کچھ دیگر کیمیات ہوتے ہیں جو کہ سرکے کی خصوصیات نہیں رکھتے۔ لہٰذا ان کے ابالنے سے یا کھلا رکھ دینے سے الکحل تو کم ہوجائے گی، لیکن پیچھے جو بچے گا وہ سرکہ ہرگز نہیں ہوگا۔
agreed
 
Sponsored Link